حضرت مصلح موعود ؓ

فضائل القرآن (2) (قسط ہفتم)

ایک سوال کا جواب

یہاں ایک سوال ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ دلائل سے تو یہ ثابت ہو گیا کہ قرآن کریم دوسری انسانی کتابوں سے منبع کے لحاظ سے فضیلت رکھتا ہے مگر یہ کیونکر ثابت ہوا کہ دوسری الہامی کتابوں سے بھی افضل ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ الہامی کتب سے بھی قرآن کریم افضل ہے اس لئے کہ گو وہ کتب اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں لیکن بعض صفات کا ظہور ان کے زمانہ میں نہ ہوا تھا۔ مثلاً ایک زمانہ میں اگر خیانت زیادہ پھیلی ہوئی تھی تو اس زمانہ کے نبی پر اس بدی کو دور کرنے کی صفت ظاہر ہوئی۔ اگر لوگوں میں خشونت اور سختی زیادہ پائی جاتی تھی تو اس زمانہ کے نبی پر رحم اور محبت اور نرمی اور شفقت کی صفت کا ظہور ہوا۔ لیکن کوئی پہلی کتاب ایسی نہیں جو ربّ العٰلمین کی صفت کی مظہر ہو۔ کوئی کتاب دو صفات کی یا چار صفات کی یا پانچ صفات کی مظہر تھی مگر کوئی کتاب ربّ العٰلمین کی صفت کی مظہر نہ تھی۔ اسی طرح کوئی کتاب قرآن کریم کی طرح اکملیت کی مظہر نہ تھی۔ کوئی کتاب خدا تعالیٰ کی صفت قیوم کی مظہر نہ تھی کیونکہ قرآن کریم سے پہلی ہر ایک کتاب منسوخ ہونے والی تھی لیکن قرآن کریم چونکہ ہمیشہ رہنے والی کتاب تھی اس لئے یہ تینوں صفات قرآن کریم میں ظاہر ہوئیں۔ جو صفات پہلی کتب میں ظاہر ہو چکی ہیں وہ بھی سب کی سب تمام کتب میں ظاہر نہ ہوئی تھیں بلکہ بعض ایک میں اور بعض دوسری میں بیان کی گئی تھیں۔ لیکن قرآن کریم میں وہ بھی سب جمع ہیں۔ پس قرآن کریم منبع کے لحاظ سے بھی افضل ہے۔

اس مضمون کو قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا ہے۔

اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ جَاعِلِ الۡمَلٰٓئِکَۃِ رُسُلًا اُولِیۡۤ اَجۡنِحَۃٍ مَّثۡنٰی وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ ؕ یَزِیۡدُ فِی الۡخَلۡقِ مَا یَشَآءُؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ (فاطر: 2)

یعنی آسمان اور زمین کے کمالات ظاہر کرنے والے خدا کا شکر اور اس کی حمد ہے۔ وہ اپنے ملائکہ کو اظہار کمالات کے لئے نازل کرتا رہتا ہے اور ان کے کئی پر ہوتے ہیں۔ یعنی وہ کئی رنگ کی پناہیں اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ جناح عربی زبان میں پناہ اور حمایت کو بھی کہتے ہیں۔ اور فرشتے جو نازل کئے جاتے ہیں وہ دو دو تین تین چار چار پروں والے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے اپنی پیدائش میں اضافہ کر دیتا ہے۔ یعنی جیسا موقع ہوتا ہے اتنے ہی پر زیادہ کر دیتا ہے۔

یہاں بتایا کہ سب تعریفیں اللہ کی ہیں جو زمین اور آسمانوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ قرآن کریم کے نزول میں آسمان و زمین کے کمالات کے ظہور کے سامان رکھے گئے ہیں اور اسی کے لحاظ سے ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔ پس قرآن کریم کا نزول ان تمام صفات پر مشتمل ہے جن سے یہ دنیا وابستہ ہے اور فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ کی صفت کا ظہور اس کے ذریعہ سے ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک ایک مرکز پر ساری دنیا جمع نہ ہو خدا تعالیٰ کی ہر لحاظ سے تعریف نہیں کی جا سکتی۔ الحمد للہ تبھی کہا جا سکتا ہے جب ساری دنیا کے لحاظ سے رب العالمین کی صفت کا اظہار ہو۔ اسی لئے فرمایا کہ اب جو تعلیم آئی ہے یہ یَزِیۡدُ فِی الۡخَلۡقِ مَا یَشَآءُ کے مطابق آئی ہے۔ پہلے صرف دو دو تین تین چار چار کمالات ظاہر کرنے کے لئے آئی تھی پس قرآن کریم کے نزول میں زمین و آسمان کے کمالات کے ظہور کے سامان رکھے گئے ہیں۔

صفات الٰہیہ اور ان کی مظہریت

یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کسی کتاب میں کسی صفت کا ذکر ہونا یہ اور امر ہے اوراس صفت کا مظہر ہونا اور امر ہے۔ یوں تو ربّ العٰلمین کی صفت اور کتب میں بھی ہے مگر وہ اس صفت کا مظہر ہونے کی مدعی نہیں ہیں۔ قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ واضح الفاظ میں فرماتا ہے

وَاِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ(الشعراء:193)

یہ کتاب رب العالمین کی صفت کے ماتحت نازل ہوئی ہے۔ چونکہ یہ سارے جہان کو مخاطب کرتی ہے اس لئے ساری کی ساری صفات اس میں ظاہر کی گئی ہیں۔ پس قرآن کریم خدا تعالیٰ کی تمام صفات کا مظہر ہے۔

ظاہری حسن میں برتری

ایک اور وجہ فضیلت (جسے میں نے بارھویں نمبر پر بیان کیا تھا) کسی چیز کا ظاہری حسن میں دوسری اشیاء پر فائق ہونا ہوتا ہے۔ کیونکہ ایک ہی قسم کی چیزوں میں سے انسان طبعی طور پر ظاہری حسن میں فائق چیز کو منتخب کرتا ہے۔ بلکہ سب سے پہلے یہی چیز انسان کی دلکشی کا موجب بنتی ہے۔ میں نے جب اس لحاظ سے دیکھا تو قرآن کریم کو ظاہری طور پر بھی خوبصورت پایا۔ بلکہ ایسا خوبصورت پایا کہ گو یورپ نے اس خوبصورتی کو مٹانے کے لئے اپنا سارا زور صرف کر دیا مگر پھر بھی وہ ناکام رہا۔ اس خوبصورتی کو مٹانے کے لئے یورپ نے چار طریق اختیار کئے ہیں۔

عیسائیوں کے چار اعتراضات

اول۔ یہ کہا گیا کہ قرآن کریم کا سٹائل (نعوذ باللہ) نہایت بھدا ہے۔

دوم۔ یہ کہا گیا کہ اس میں بہت سے غیر عربی الفاظ داخل ہیں۔

سوئم۔ یہ کہ اس میں فضول تکرار ہے یونہی ایک بات کو دہراتا چلا جاتا ہے۔

چہارم۔ یہ کہ اس کے مضامین میں کوئی ترتیب نہیں۔ کہیں احکام شروع ہیں تو ساتھ ہی وعظ کیا جاتا ہے۔ پھر لڑائیوں کا ذکر آ جاتا ہے تو ساتھ ہی منافقوں کو ڈانٹا جاتا ہے۔

لیکن یہ اعتراض جیسا کہ میں ابھی بتائوں گا درست نہیں بلکہ قرآن کریم کا ظاہری حسن بھی اسے کل دنیا کی کتب پر افضل قرار دیتا ہے اور یہ فضیلت دس خوبیوں سے ثابت ہے۔

قرآنی زبان کی فصاحت

اول زبان کی فصاحت۔ قرآن کی یہ خوبی اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ دشمن سے دشمن نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے اور عربوں نے تو اس کے آ گے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور بڑے بڑے ادیب اس کے کمال کے آگے عاجز آ گئے ہیں۔ میں اس کے متعلق دوستوں کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔

لبید عرب کا ایک مشہور شاعر تھا جو سات بڑے مشہور شاعروں میں سے ایک تھا۔ پہلے وہ اسلام کا مخالف تھا مگر بعد میں ایمان لے آیا۔ اسلام لانے کے بعد وہ ہر وقت قرآن کریم پڑھتا رہتا۔ اور اس نے شعر کہنے ترک کر دیئے۔ حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ اپنے زمانہ خلافت میں کوفہ کے گورنر مغیرہ بن شعبہ کو چٹھی لکھی کہ اپنے علاقہ کے مشہور شاعروں سے اچھے اچھے اشعار لکھوا کر مجھے بھیجو۔ مغیرہ نے اس کام کے لئے دو شاعر اغلب اور لبید پسند کئے اور انہیں کہا گیا خلیفہ وقت کا حکم آیا ہے کہ کچھ شعر لکھ کر بھیجو۔ اس پر اغلب نے تو قصیدہ لکھا لیکن لبید نے کہا۔ جب سے میں اسلام لایا ہوں میں نے شعر کہنے چھوڑ دیئے ہیں۔ جب انہیں مجبور کیا گیا تو وہ سورۂ بقرہ کی چند آیتیں لکھ کر لے آئے اور کہا کہ ان کے سوا مجھے کچھ نہیں آتا۔ مغیرہ نے لبید کو سزا دی اور اغلب کی حضرت عمرؓ کے پاس سفارش کی۔ لیکن حضرت عمرؓ کو لبید کی بات کی اتنی لذت آئی کہ انہوں نے کہا لبید نے جو کچھ کہا ہے اس سے اس کے ایمان کا ثبوت ملتا ہے کہ اتنا قادر الکلام ہونے کے باوجود شرماتا ہے کہ قرآن کے سوا کچھ اور اپنی زبان سے نکالے۔

مسیحیوں نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ کیا لبید نے پہلے کبھی قرآن نہ سنا تھا جبکہ وہ اسلام کا مخالف تھا۔ وہ دراصل لالچ کے لئے اس طرح کہتا تھا۔ لیکن اس دلیل سے عیسائیت پر بھی اعتراض وارد ہوتا ہے کیونکہ بعض دفعہ ایک انسان کئی بار انجیل پڑھتا اور عیسائیوں کے وعظ سنتا ہے مگر عیسائیت کو نہیں مانتا۔ لیکن پھر ایک وقت مان لیتا ہے تو کیا وہ لالچ سے ایمان لاتا ہے؟ یہ ایک طبعی بات ہے کہ انسان بعض اوقات ایک بات کا انکار کر دیتا ہے لیکن جب اس پر صداقت کھلتی ہے تو اسے مان لیتا ہے۔ ایسا ہر مذہب میں ہوتا ہے۔ کئی لوگ ہندو ہو جاتے ہیں۔ اب کیا انہیں کہا جاتا ہے کہ اتنے سال تو تم ہندو مذہب کا ذکر سنتے رہے اور ہندو نہ ہوئے؟ اب جو ہندو ہوئے ہو تو کسی لالچ کی وجہ سے ہوئے ہو؟ دراصل یہ بہت بودی دلیل ہے اور سوائے اس کے جو خود لالچی ہو اور کوئی پیش نہیں کر سکتا۔

یوں تو دنیا میں بڑی اچھی اچھی کتابیں لکھی جاتی ہیں اور ان کی قبولیت بھی ہوتی ہے۔ مگر دیکھنا یہ چاہئے کہ کیا کوئی ایسی کتاب لکھی گئی ہے جس کے لکھنے والے نے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا ہو کہ یہ سب سے افضل اور اعلیٰ ہو گی اور اس کی قبولیت لوگوں میں پھیل جائیگی۔ یورپین لوگ کہتے ہیں شیکسپیئر جیسا کلام کوئی نہیں لکھ سکتا۔ گو خدا کی قدرت ہے جب سے قرآن پر یورپین اعتراض کرنے لگے ہیں ایسی سوسائٹیاں بھی بن گئی ہیں جو شیکسپیئر کی تحریروں پر اعتراض کرتی ہیں۔ لیکن اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ اچھا لکھنے والا تھا تو دیکھنا یہ چاہئے کہ کیا لکھتے وقت اس نے کہا تھا کہ اس کا کلام تمام کلاموں سے افضل رہے گا۔ اس نے یقیناً ایسا نہیں کہا۔ مگر قرآن نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اس کتاب کا مقابلہ کرنے سے دنیا عاجز رہے گی۔ میں نے بینٹ کی ایک کتاب پڑھی ہے۔ جس میں اس نے لکھا ہے کہ جب میں نے یہ کتاب لکھی تو سمجھا کہ بہت مقبول ہو گی مگر چھاپنے والوں نے اس کی اشاعت میں لیت ولعل کیا اور پبلک نے بھی قدر نہ کی۔ پس کوئی لکھنے والا نہیں جانتا کہ اس کی کتاب مقبول ہو گی یا نہیں۔ مگر قرآن نے پہلے سے کہہ دیا تھا کہ یہ کتاب تمام کتب سے افضل ہے اور ہمیشہ افضل رہے گی۔

پھر عرب وہ ملک تھا جس کا تمام کمال زبان دانی پر تھا۔ اس ملک میں قرآن آیا اور ان لوگوں کی زبان میں آیا۔ اور پھر اس نے ایسا تغیر پیدا کر دیا کہ عربوں کا طرز کلام ہی بدل ڈالا۔ اور انہوں نے قرآن کی طرز اختیار کر لی۔ ان کی طرز تحریر بدل گئی۔ پرانا سٹائل جاتا رہا اور قرآن کریم کے سٹائل پر ہی سب چلنے لگے۔

بعض لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ قرآن کریم کو ماننے والوں نے ایسا کرنا ہی تھا۔ میں کہتا ہوں بائیبل، انجیل اور ویدوں کے ماننے والوں نے کیوں ایسا نہ کیا۔ وہ بھی تو ان کتابوں کو خدا کی طرف سے مانتے تھے۔

قرآن کریم میں غیر زبانوں کے الفاظ

یہ اعتراض کہ قرآن میں غیر زبانوں کے الفاظ آ گئے ہیں یہ بھی درست نہیں۔ کوئی زبان خواہ وہ نئی ہو یا پرانی غیر زبانوں کے الفاظ سے پاک نہیں ہو سکتی۔ اعتراض تب ہوتا جب عربی زبان میں وہ الفاظ جاری نہ ہوتے اور عرب کہتے کہ ہم ان الفاظ کو سمجھ نہیں سکتے۔ جب عرب قرآن کے الفاظ کو سمجھ جاتے تھے اور مکہ والے سمجھ لیتے تھے عرب میں وہ الفاظ جاری تھے اور وہ الفاظ عربی زبان کا ایک حصہ ہو چکے تھے تو خواہ وہ غیر زبان کے ہی ہوں کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں اگر قرآن نے ہی وہ الفاظ عربی میں داخل کئے ہوں تب بھی یہ قرآن کی بہت بڑی طاقت کی علامت ہے کہ وہ الفاظ عربوں میں رائج ہو گئے۔ کیونکہ جو قادر الکلام نہ ہو اس کی بات چل نہیں سکتی۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ اگر کوئی قادر الکلام اپنے کلام میں غلطی بھی کرے تو اسے ایجاد کہیں گے غلطی نہیں کہیں گے۔ کیونکہ وہ زبان پر عبور رکھتا ہے۔ پس اگر قرآن میں نئے الفاظ آئے اور وہ عربی زبان کا جزو بن گئے تو یہ قرآن کا اور زیادہ معجزہ ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ غیر زبانوں کے الفاظ قرآن میں آئے ہیں۔ دراصل یہ دھوکا اس وجہ سے لگا ہے کہ عربی اور عبرانی زبان کے بعض الفاظ آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ بلکہ بعض محاورات بھی آپس میں مل گئے ہیں۔ اس سے یہ غلط طور پر سمجھ لیا گیا کہ قرآن میں غیر زبانوں کے الفاظ آ گئے ہیں۔ مثلاً فرقان ایک لفظ ہے۔ اس کے تمام مشتقات عربی میں موجود ہیں۔ اس کے متعلق یہ کہنا کہ قرآن نے یہ لفظ باہر سے لیا ہے غلط ہے۔ اسی طرح رحمٰن کے متعلق اعتراض کرتے ہیں حالانکہ یہ بھی عربی لفظ ہے۔

٭…٭…(جاری ہے)…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close