الفضل ڈائجسٹ

الفض ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

مکرم خواجہ سرفراز احمد صاحب ایڈووکیٹ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ربوہ 28؍فروری 2013ء میں مکرم خواجہ سرفراز احمد صاحب ایڈووکیٹ کے بارے میں مکرم محمود احمد ملک صاحب کا ایک مختصر مضمون شائع ہوا ہے۔

احمدیوں پر جتنے بھی مقدمات بنائے گئے مکرم خواجہ صاحب ان کی پیروی کے لحاظ سے صف اوّل میں شامل تھے۔ آپ کوکسی رسمی اطلاع کی ضرورت نہ تھی۔ جیسے ہی آپ کو علم ہوتا خود رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو پیش کردیتے۔ ہر تاریخ پر مقررہ وقت سے پہلے ہی کمرۂ عدالت میں موجود ہوتے جیسے وہ اسی کام کے لیے بنے تھے۔

حافظ آباد کے امیرجماعت اور چند دیگر افراد کے خلاف ایک بےبنیاد مقدمہ بنایا گیا۔ مکرم خواجہ صاحب ہر تاریخ پر سیالکوٹ سے حافظ آباد تشریف لاتے۔ دونوں شہروں کے درمیان اُس وقت سنگل سڑک تھی اور سفر کافی دشوار تھا۔ ایک بار مَیں نے پوچھا کہ آپ اتنا لمبا سفر کرکے عدالت پہنچتے ہیں اور جاتے ہی آپ کو علم ہوتا ہے مقدمے کی کارروائی مُلتوی ہوگئی ہے تو آپ کے احساسات کیا ہوتے ہیں؟ حسب معمول دلفریب مسکراہٹ سے بولے کہ مَیں تو اس وقت خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے خدمت کا ایک اَور موقع عطا کردیا۔

مضمون نگار لکھتے ہیں کہ میرے خلاف کلمہ طیبہ کے تین مقدمات درج ہوئے۔ جتنے سال بھی چلتے رہے مکرم خواجہ صاحب ہر تاریخ پر وقت کی پابندی کے ساتھ گوجرانوالہ آتے رہے۔ کبھی بھی آپ کو یاددہانی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ایک بار خاکسار نے پوچھا کہ آپ سلسلے کے مقدمات کے سلسلے میں عموماً اپنے شہر سے باہر رہتے ہیں تو کیا اس کا آپ کی وکالت پر کوئی منفی اثر تو نہیں پڑتا؟ یہ سن کر آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپ کھڑے ہوگئے۔ فرمایا کہ مَیں سلسلے کی خاطر جاؤں اور میرا نقصان ہوجائے! یہ کیسے ممکن ہے۔ میرے شہر سے باہر ہونے کی صورت میں میرے سائل آٹھ آٹھ دن فیس ہاتھوں میں پکڑے ہوئے میرے دفتر میں انتظار کرتے رہتے ہیں۔

1988ء میں تلونڈی موسیٰ خان میں ایک جلسہ ہوا جس میں دو مرکزی نمائندگان اور نو مقامی افراد پر 295-C کا مقدمہ بنادیا گیا جس کا ٹرائل کافی عرصہ چلتا رہا۔ مجھے بھی اس دوران آپ کی معاونت کی توفیق ملی۔آپ کا استدلال انتہائی خوبصورت اور مدلّل ہوا کرتا۔ جس عدالت میں بھی پیش ہوتے عدالت کا رویہ آپ کے ساتھ دوستانہ رہتا۔ آپ نہایت ہی مختصر اور To the point بحث کرتے۔ کبھی مَیں نے کسی بھی جج کو آپ کو ٹوکتے نہیں دیکھا۔ ایسا بھی ہوتا کہ آپ کی بحث کے بعد مخالف فریق بحث سے معذرت کرلیتا۔

آپ انکساری کا پیکر تھے۔ کبھی اپنے کام کا احسان کسی پر نہیں دھرا بلکہ جیسے کام کرکے بھول جاتے۔ درویشانہ زندگی ایسی گزاری کہ بھرپور مصروف زندگی کے باوجود کوئی ذاتی سواری نہیں تھی۔ جب بھی آپ گوجرانوالہ تشریف لاتے اور خاکسار درخواست کرتا کہ مَیں اپنی کار میں آپ کو واپس لاہور یا سیالکوٹ چھوڑ آتا ہوں تو آپ یہ درخواست قبول نہ کرتے اور ہمیشہ فلائنگ کوچ پر جانے کا فیصلہ کرتے۔

حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کو مکرم خواجہ صاحب سے خاص محبت تھی۔ 1984ء میں لندن روانگی سے پہلے حضورؒ نے جن اکابرین کو مشورے کے لیے ربوہ طلب کیا تھا آپ اُن میں سے ایک تھے۔ وداع کے موقع پر حضورؒ نے معانقے کے دوران اپنی کلائی سے راڈو گھڑی اتار کر آپ کو دے دی۔ (خلیفہ وقت کا ادب اتنا کہ)آپ نے بتایا کہ وہ گھڑی میرے لیے مسئلہ بن گئی کیونکہ اگر اتارتا تو بند ہوجاتی اور کیسے اُس کو اپنی کلائی پر پہن سکتا تھا جو خلیفۂ وقت کی کلائی کے لیے مخصوص تھی۔

آپ کو دل کی تکلیف تھی اور ڈاکٹروں نے بائی پاس تجویز کیا تھا لیکن آپ جماعتی مصروفیات کی بِنا پر اسے مُلتوی کرتے جاتے تھے۔ مکرم ناظر صاحب اعلیٰ نے کئی مرتبہ اس طرف توجہ دلائی لیکن آپ ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ بس جماعت کے یہ اہم کیسز ختم کروالیں۔ لیکن جب آپریشن کا ارادہ کیا تو بہت دیر ہوچکی تھی۔

آپ کی وفات پر سیالکوٹ میں اعلیٰ عدلیہ کے ایک غیراحمدی جج صاحب نے فرمایا کہ آپ کو اندازہ نہیں کہ آپ کی کمیونٹی کا آج کتنا بڑا نقصان ہوگیا ہے۔

………٭………٭………٭………

مکرم پروفیسر عبدالرشید غنی صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 15؍مارچ 2013ء میں مکرم پروفیسر عبدالرشید غنی صاحب کا ذکرخیر مکرم پروفیسر محمد شریف خان صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

مکرم پروفیسر عبدالرشید غنی صاحب انبالہ میں 16؍ستمبر 1934ءکو مکرم بابو عبدالغنی صاحب کے گھر پیدا ہو ئے۔ بابو صاحب نے 1909ء میں حضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ آپ کے نانا حضرت چو دھری سربلندخان صاحبؓ اور نانی حاکم بی بی صا حبہؓ دو نوں صحابہ میں شامل تھے۔ آپ کی عمر چھ سال ہوئی تو والدہ کا انتقال ہوگیا۔

قیام پاکستان کے بعد یہ گھرانہ لو دھراں شفٹ ہو گیا جہاں سے آپ نے میٹرک کیا۔ B.Scتک تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں تعلیم حاصل کی اور شعبہ فزکس میں ڈیمانسٹریٹر کی حیثیت سے کام شروع کر دیا۔ پیارو محبت سے سمجھانے کے سادہ انداز کے باعث آپ ہمارے چہیتے استادوں میں سے تھے۔ کلاس میں مہر با نی سے پیش آتے اور کلاس سے باہر مسکراتے ہو ئے چہرے سے سلام اور حال پرسی میں پہل کرتے۔ ہم اگر مذاق بھی کرتے توخوبenjoyکرتے اور احسن پیرائے میں جواب دیتے۔

والد صاحب کی وفات کے بعد اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ مشفقانہ سلوک رہا۔ آپ کی زیر نگرانی اور رہبری میں بہن نے بی اے، بی ایڈ کیا۔ پھر اس کی شادی کی۔ جبکہ آپ کے دونوں چھوٹے بھائیوں نے تعلیم الاسلام کالج سے ایف ایس سی کرنے کے بعد ڈاکٹری کی تعلیم مکمل کی۔

مجھے آپ کے ساتھ بارہا جلسہ ہائے سالانہ کی ڈیوٹی کالج ہال میں مہمان نوازی سے لے کر شعبہ مکانات، معلومات، گوشت وغیرہ میں دینے کا موقع ملا۔ آپ ڈیوٹی پر وقت سے دس منٹ پہلے پہنچ جاتے۔ لیٹ آنے والوں کو محبت سے مسکراتے ہو ئے سرزنش کرتے۔ہر کو ئی آپ سے ہر قسم کی بات بلاجھجک کرلیتا، کسی بات کا برا نہ مناتے ۔

میں1959ء میں مزید تعلیم کے لیے لاہور چلا گیا اور 1963ء میں واپس آکر تعلیم الاسلام کالج میں پڑھانا شروع کیا تو پروفیسر عبدالرشید صاحب پشاور یونیورسٹی سے 1961ء میں حساب میں ایم ا یس سی کرکے آ چکے تھے۔ آپ کے چہرے پر وہی پُرکیف محبت سے بھری ہوئی مسکراہٹ مزید نکھر آئی تھی۔ colleague ہونے کے ناطے آپ کی وسعتِ قلب اور معمولاتِ زندگی سے مزید آگا ہی ہو ئی۔ کالج میں پڑھانے کے علاوہ آپ نے مختلف حیثیتوں میں وائس پرنسپل سے لے کر کنٹرولر امتحانات، رجسٹرار، نگران لا ئبریری وغیرہ کے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کیے۔ آپ حسنِ اخلاق کے باعث اساتذہ اور طلباء میں ہر دلعزیز تھے۔ کالج ہاکی کلب کے انچارج بھی تھے۔ کالج کےnationalized ہو نے کے بعد حالات یکسربدل گئے تھے، اس پیار اور خلوص سے عاری ماحول میں آپ جیسے مخلص چہرے احمدی طلباء کے لیے سہارا بنے رہے۔ جنہوں نے اس متعصب ماحول میں طلباء کے جائز حقوق کے لیے حکمت سے طلباء کی پشت پناہی کی۔

کالج میں ریاضی جیسے دقیق مضمون کی تدریس کے علاوہ آپ کا علمی ذوق وسیع تھا، جس کی غمازی آپ کے وہ متعدد مضامین کرتے ہیں جو الفضل میں گاہے بگاہے اسلام اور سائنس کی طرح کے دقیق مو ضوعات پرچھپتے رہے۔ فضل عمر فاؤنڈیشن سے ’’اسلام کے ورا ثتی نظام‘‘ پر مبسوط مقالہ لکھ کر انعام حاصل کیا۔ یہ مقالہ کتابی شکل میں چھپا اور ملک کے مختلف لاء کالجوں اور جامعات کے نصاب میں ایک عرصے تک شامل رہا۔ اس کے سرسری مطالعہ سے مصنف کی عرق ریز محنت کا پتہ چلتا ہے۔ اس میں آپ نے قرآنِ کریم ، احادیث اور جماعتی لٹریچر کے گہرے مطالعہ کا نچوڑ پیش کردیاہے۔ آپ نے ایک رسالہ ’’ نماز‘‘ شائع کیا جس میں نماز سے متعلقہ تمام معلومات یکجا کردی تھیں۔

آپ باقاعدگی سے نمازِ تہجد کے لیے اٹھتے، کوشش سے نمازیں باجماعت ادا کرتے اور بچوں کو بھی نماز کی تلقین کرتے۔ نمازِ فجر کے بعد صحن میں بلند آ واز سے تلا وتِ قرآنِ کریم کرتے۔ درود شریف کا ورد کرتے ہوئے اپنے والدین، بچوں اور عزیزو اقارب کے لیے دعائیں کر تے۔ آپ کا یہ معمول آخر عمر تک قا ئم رہا۔

ملازمت اور عیالداری کے ساتھ سالہا سال (1961ء سے 2004ء تک) خدام الاحمدیہ اور انصاراللہ کی مرکزی مجالس عاملہ میں خدمت کی توفیق پاتے رہے۔ قائد مال انصاراللہ، مجلس افتا اور قضا بورڈ کے کافی عرصہ ممبر رہے۔ سلسلے کی ہر طرح کی خدمت کے لیے حاضر رہتے۔ جن دنوں ربوہ میں گھڑ دوڑ ہوا کرتی تھی، آپ کی نگرانی میں قصرِخلافت سے گھوڑے میدان میں لے جائے جاتے تھے۔

1994ء میں کالج سے ریٹائر ہو نے کے بعد آپ کا تقرر بطور ایڈیشنل و کیل المال اول تحریکِ جدید ہوا۔2003ء تک یہ خدمت بجالائے۔ تحریک جدید اور الفضل کی خریداری کے سلسلے میں آپ نے متعددجماعتوں کے دورے کیے۔ آپ محنت اور لگن سے کام کرنے کے عادی تھے۔ جس شعبہ میں کام کیا وہاں کے کارکنان کے ساتھ تعاون اور خوش خُلقی کی فضا قائم رکھی اور جو خدمت سپرد ہو ئی اسے نیک نیتی سے ادا کیا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کو بلڈ پریشر اور سا نس کی تکلیف رہنا شروع ہوگئی تھی۔ ایک بار دل کے دورے سے بیمار بھی ہوئے۔ آخر 29؍مارچ 2004ء کو70سال کی عمر میں وفات پاکر بہشتی مقبرہ ربوہ میں سپردِخاک ہو ئے۔

………٭………٭………٭………

براعظم انٹارکٹیکا

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ ستمبر 2012ء میں دنیا کے پانچویں براعظم انٹارکٹیکا کے تعارف میں لکھا ہے کہ یہ براعظم تین بڑے سمندروں بحرالکاہل، بحر ہند اور بحر اوقیانوس کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ مجموعی طور پر ان پانیوں کو بحر منجمد جنوبی کہتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ برف اسی براعظم میں پائی جاتی ہے اور قطب جنوبی اسی براعظم کے درمیان میں ہے۔ اس براعظم میں انسانی آبادی نہیں ہے اور اس علاقے کو صرف تجربات کے لیے مخصوص رکھا گیا ہے۔ معاہدات کی رُو سے انٹارکٹیکا میں کوئی ملک نہ کان کنی کرسکتا ہے اور نہ ہی معدنیات کی تلاش کرسکتا ہے۔ 1991ء میں پاکستانی سائنس دانوں نے بھی یہاں اپنا تحقیقی مرکز ’جناح اسٹیشن‘ قائم کیا تھا۔

………٭………٭………٭………

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close