امریکہ (رپورٹس)

مجلس اطفال الاحمدیہ یو ایس اے کی امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے (آن لائن) ملاقات

(سید شمشاد احمد ناصر۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل امریکہ)

ڈاکٹر عدیل عبداللہ صاحب (صدر مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ) کی جانب سے موصولہ رپورٹ کے مطابق مورخہ 11؍فروری 2021ء کو مجلس اطفال الاحمدیہ یوایس اے کو یہ خوش کن اطلاع موصول ہوئی کہ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہماری درخواست برائے virtual ملاقات منظور فرما لی ہے، جو کہ 28؍مارچ 2021ء کو مسجد بیت الرحمٰن، میری لینڈ (نیشنل مرکز جماعت امریکہ) میں منعقد ہوگی۔ ملاقات کی منظوری ان اطفال کے لیے لی گئی تھی جو مرکز کے گرونواح میں مقیم ہیں۔

چنانچہ حضور انور کی طرف سے آن لائن ملاقات کی منظوری ملتے ہی مجلس اطفال الاحمدیہ نے اس ضمن میں کام شروع کردیا اور مرکز کے گرد چار علاقوں میں سے اطفال کا انتخاب کیا جن میں مندرجہ ذیل صوبوں کی مجالس شامل ہیں:

٭… میری لینڈ

٭… نیوجرسی

٭ …نیو یارک

٭…نارتھ کیرولائنا

٭… پینسلوینیا

٭… ورجینیا

ان صوبوں کے تقریباً دو سو اطفال نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ اس کلاس میں شرکت کرنے کی درخواست دی جن میں سے ساٹھ اطفال کا انتخاب کیا گیا۔

کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کی وجہ سے اطفال اور کلاس کی انتظامیہ کو کلاس سے پہلےتیاری وغیرہ کرنے کا موقع نہ مل سکا اس لیے والدین اور رضاکاران کے ساتھ آن لائن سیشن منعقد کیے گئے۔ اسی طرح کینیڈا، آسٹریلیا اور جرمنی کی جماعتوں کی حضور انور کے ساتھ آن لائن کلاسز کی ریکارڈنگ بھی تیاری میں مفید ثابت ہوئیں۔ ملاقات سے ایک ہفتہ قبل تمام اطفال کی rehearsal ہوئی جنہوں نے کلاس کے دوران تلاوت، نظم وغیرہ پیش کرنی تھی۔

اس مواصلاتی ملاقات کا آغاز مورخہ 28؍مارچ کو دوپہر کو تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو کہ عزیزم آنوش احمد آف مجلس کوینز نے پیش کی۔ تلاوت کی جانے والی آیات کا ترجمہ عزیزم الامین ادویسی آف مجلس بالٹی مور نے پیش کیا۔ اس کے بعد مجلس مقامی کے عزیزم ایقان ملک نے حدیث نبویﷺ پیش کی جس کا ترجمہ عزیزم حمزہ قمر آف مجلس سینٹرل ورجینیا نے پیش کیا۔ پھر عزیزم قاسم ملک آف مجلس مقامی نے حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے منظوم کلام میں سے چند اشعار پیش کیے جن کا ترجمہ عزیزم کامران اصغر آف مجلس ولنگ برونے پیش کیا۔

پروگرام کے ابتدائی حصہ کے بعد حضورِانور نے ازراہ شفقت اطفال کو سوال پوچھنے کا موقع دیا۔ متعدد اطفال نے تقریباً 45منٹ تک مختلف موضوعات کے بارے میں سوالات پوچھےجن کے حضورِ انور نے تفصیلی جوابات عنایت فرمائے۔

تمام اطفال نے حضورِانور کے زیر سایہ ایک نہایت پُرشفقت ماحول میں وقت گزارا اور ان یادگار لمحات کو سامانِ زیست بنا لے گئے۔

خلافت کی برکات پر ہم اللہ تعالیٰ کے نہایت شکر گزار ہیں اوران مواقع پر حضورِ انور کی نوجوانوں کی تربیت کے لیےہدایات پر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔

حاضرین کے تاثرات

عزیزم الامین ادویسی جن کی عمر 10 سال ہے اور وہ مجلس بالٹی مور سے تعلق رکھتے ہیں، بیان کرتے ہیں کہ جب میں قرآن کریم کی تلاوت کا ترجمہ پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا تو حضور انو ر نے مجھے پوچھاکہ کیا میں گھانا سے ہوں؟ اس پر میں نے نفی میں جواب دیا اور بتایا کہ میں کانو (Kano) نائیجیریا سے ہوں۔ حضور انور نے پھر محبت بھرے انداز میں میرے نام کا تلفظ پوچھا، جو کہ میرے لیے ایک بڑا خاص لمحہ تھا۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جب میں واپس گھر جا کر اپنے اہل خانہ کو اس کی تفصیل بتاؤں گا تو وہ بہت خوش ہوں گے۔

عزیزم قاسم ملک جن کی عمر 13 سال اور مجلس میری لینڈ سے ان کا تعلق ہے وہ لکھتے ہیں کہ میری حضور انو ر سے یہ خاص درخواست تھی کہ مجھے اُس نظم کے کچھ اشعار پڑھنے کی اجازت دی جائے جو میں نے اور میری والدہ نے حضور انور کے لیے لکھے تھے۔ حضور انور نے فرمایا کہ اگر صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کی اجازت ہو تو پڑھ سکتے ہو۔ میں نے صدر صاحب کی طرف دیکھا تو انہوں نے اجازت دے دی۔ میں تھوڑا پریشان بھی تھا لیکن حضور انور سے اپنی محبت کے اظہار کا موقع ملنے پر بہت خوش بھی تھا۔ نظم سننے کے بعد حضور انور نے فرمایا کہ میں ایک اچھا شاعر ہوں۔ حضور کی اس بات سے میں اتنا خوش ہوا جس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ یہ ایک ناقابل فراموش لمحہ تھا جسے میں ہمیشہ یاد رکھوں گا۔

مکرم محمد اقبال خان، نیشنل سیکرٹری صنعت و تجارت مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ لکھتے ہیں کہ ایک اور ایسا موقع تھا جو میرے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا۔ ایک طفل نے حضور انور سے اپنی آمین کرانے کی درخواست کی۔ حضور انور نے ازراہ شفقت فرمایا کہ جب یہ وبا ختم ہو جائے گی تو پھر میں خود آپ کی آمین کراؤں گا۔ اور اگر تعلیم القرآن ڈیپارٹمنٹ والے کہیں گے کہ آپ کی عمر زیادہ ہے تو تب میں آپ کی آمین اپنے گھر میں کراؤں گا۔ حضور انور نے ازراہِ شفقت اس بچے کو سورۃ اخلاص کی تلاوت اُسی وقت کرنے کو کہا۔ اس طرح کے خوشگوار لمحات ہمیں بتاتے ہیں کہ حضور انور کا احمدیوں سے کس قسم کا تعلق ہے۔ خواہ چھو ٹا ہو یا بڑا، لڑکا ہو یا لڑکی ہر ایک سے حضور انور کا یکساں محبت کا رشتہ ہے۔ ہمارے حضور ہمیں بہت ہی پیارے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک سے محبت کا برتاؤ کرتے ہیں۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close