متفرق

والدین کا احترام

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:

’’پہلی حالت انسان کی نیک بختی کی ہے کہ والدہ کی عزت کرے۔ اویس قرنی ؓ کے لئے بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم یمن کی طرف کومنہ کر کے کہا کرتے تھے کہ مجھے یمن کی طرف سے خدا کی خوشبو آتی ہے۔ آپؐ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ وہ اپنی والدہ کی فرمانبرداری میں بہت مصروف رہتا ہے اور اسی وجہ سے میرے پاس بھی نہیں آسکتا۔ بظاہر یہ بات ایسی ہے کہ پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم موجود ہیں، مگر وہ ان کی زیارت نہیں کر سکتے۔ صرف اپنی والدہ کی خدمت گزاری اور فرمانبرداری میں پوری مصروفیت کی وجہ سے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے دو ہی آدمیوں کو السلام علیکم کی خصوصیت سے وصیت فرمائی۔یا اویس ؓ کو یا مسیحؑ کو۔ یہ ایک عجیب بات ہے، جو دوسرے لوگوں کو ایک خصوصیت کے ساتھ نہیں ملی۔ چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت عمر ؓ ان سے ملنے کو گئے، تو اویس نے فرمایا کہ والدہ کی خدمت میں مصروف رہتا ہوں اور میرے اونٹوں کو فرشتے چرایا کرتے ہیں۔ ایک تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے والدہ کی خدمت میں اس قدر سعی کی اور پھر یہ قبولیت اور عزت پائی۔ ایک وہ ہیں جو پیسہ پیسہ کے لئے مقدمات کرتے ہیں اور والدہ کا نام ایسی بری طرح لیتے ہیں کہ رذیل قومیں چوہڑے چمار بھی کم لیتے ہوںگے۔ ہماری تعلیم کیا ہے؟ صرف اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پاک ہدایت کا بتلا دینا ہے۔ اگر کوئی میرے ساتھ تعلق ظاہر کرکے اس کو ماننا نہیں چاہتا، تو وہ ہماری جماعت میں کیوں داخل ہوتا ہے؟ ایسے نمونے سے دوسروں کو ٹھوکر لگتی ہے اور وہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں جو ماں باپ تک کی بھی عزت نہیں کرتے۔‘‘

فرمایا:’’میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ مادر پدر آزاد کبھی خیرو برکت کا منہ نہ دیکھیں گے۔ پس نیک نیتی کے ساتھ اور پوری اطاعت اور وفاداری کے رنگ میں خدا رسول کے فرمودہ پر عمل کرنے کو تیار ہو جاؤ۔ بہتری اسی میں ہے، ورنہ اختیار ہے۔ ہمارا کام صرف نصیحت کرنا ہے۔ ‘‘

(ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر195، 196۔ ایڈیشن 2003ء)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک شخص کو فرمایا کہ

’’… سب سے زیادہ خواہشمند بیٹے کے گھر کی آبادی کی والدہ ہوتی ہے اور اس معاملہ میں ماں کو خاص دلچسپی ہوتی ہے۔ بڑے شوق سے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے خدا خدا کر کے بیٹے کی شادی کرتی ہے تو بھلا اس سے ایسی امید وہم میں بھی آسکتی ہے کہ وہ بے جا طور سے اپنے بیٹے کی بیوی سے لڑے جھگڑے اور خانہ بربادی چاہے۔… ایسے بیٹے کی بھی نادانی اور حماقت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ والدہ توناراض ہے مگر میں ناراض نہیں ہوں۔… والدہ اور بیوی کے معاملہ میں اگر کوئی دینی وجہ نہیں تو پھر کیوں یہ ایسی بے ادبی کرتا ہے۔ اگر کوئی وجہ اور باعث اور ہے تو فوراً اسے دور کرنا چاہئے۔… بعض عورتیں اوپر سے نرم معلوم ہوتی ہیں مگر اندر ہی اندر وہ بڑی بڑی نیش زنیاں کرتی ہیں۔ پس سبب کو دور کرنا چاہیے اور جو وجہ ناراضگی ہے اس کو ہٹا دینا چاہئے اور والدہ کو خوش کرنا چاہیے۔ دیکھو شیر اور بھیڑئیے اور اور درندے بھی تو ہلائے سے ہل جاتے ہیں اور بے ضرر ہو جاتے ہیں۔ دشمن سے بھی دوستی ہو جاتی ہے اگر صلح کی جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ والدہ کو ناراض رکھا جاوے۔ ‘‘

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ نمبر498۔ایڈیشن 2003ء)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ

’’اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ والدین کی عزت کرو۔ دنیا داروں میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو والدین کی پورے طور پر عزت کرتے ہیں اور زمینداروں اور تعلیم یافتہ طبقہ دونوں میں یہی حالات نظر آتے ہیں۔ اسی طرح بعض نوجوان اپنی ماؤں کی خبرگیری ترک کردیتے ہیں اور جب پوچھا جاتا ہے تو اُن کا جواب یہ ہوتا ہے کہ اماں جی کی طبیعت تیز ہے اور میری بیوی سے اُن کی بنتی نہیں ۔یہ کوئی بات نہیں ہے کیونکہ ماں کا بھی بہرحال ایک مقام ہے۔ پس اس خطرناک نقص کو دورکرو اور اپنے والدین کی خدمت بجالاؤ۔ ورنہ تم اس جنت سے محروم ہوجاؤ گے۔ جو تمہارے ماں باپ کے قدموں کے نیچے رکھی گئی ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ593)

اس سلسلہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

’’مرد تو چونکہ مضبوط اعصاب کا ہوتاہے، قوام ہے اس لئے اگرگھر میں کسی اختلاف کی وجہ بن بھی جائے تو پیار سے محبت سے سمجھاکر حالات کو سنبھالیں۔ اسی طرح جوان بچیاں اور بہوئیں بھی ان کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ بوڑھوں کے اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں اور ان سے اگر کوئی سخت بات بھی ہوتو برداشت کر لیں اور اس وجہ سے برداشت کرلیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنی ہے توپھر خدا طاقت اور ہمت بھی دیتاہے اور حالات میں سدھار پیدا ہوتاہے اور ان شاءاللہ ہوتاچلا جائے گا۔‘‘

(خطبہ جمعہ 16؍ جنوری 2004ء)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Check Also
Close
Back to top button
Close