حضرت مصلح موعود ؓ

فضائل القرآن (2) (قسط دوم)

قرآنی فضیلت کے چھبیس وجوہ

جب میں نے اس رنگ میں غور کیا تو قرآن کریم کا سمندر میری آنکھوں کے سامنے آ گیا اور مجھے معلوم ہوا کہ ہر فضیلت کی وجہ جو دنیا میں پائی جاتی ہے اور جس کی بناء پر ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دی جاتی ہے وہ بدرجہ اتم قرآن کریم میں پائی جاتی ہے اور فضیلت دینے والی خوبیوں کے سارے رنگ قرآن کریم میں موجود ہیں۔ میں نے اس وقت سرسری نگاہ سے دیکھا تو قرآن کریم کی فضیلت کی چھبیس وجوہات میرے ذہن میں آئیں۔ بالکل ممکن ہے کہ یہ وجوہات اس سے بہت بڑھ کر ہوں اور میں پھر غور کروں یا کوئی اور غور کرے تو اور وجوہات بھی نکل آئیں۔ مگر جتنی وجوہات اس وقت میرے ذہن میں آئیں ان میں مَیں نے قرآن کریم کو تمام کتب سے افضل پایا۔

منبع کی افضلیت

(1) پہلی وجہ کسی چیز کے افضل ہونے کی اس کے منبع کی افضلیت ہوتی ہے۔ جیسے گورنمنٹ کی ملازمت میں باپ نے جو گورنمنٹ کی خدمات کی ہوتی ہیں ان کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور ایک دوسرے شخص کو جو تعلیم اور قابلیت کے لحاظ سے بالکل مساوی ہوتا ہے اس پر ایسے شخص کو ترجیح دے دی جاتی ہے جس کے باپ دادا نے گورنمنٹ کی خدمات کی ہوتی ہیں۔ یہ منبع کے لحاظ سے فضیلت ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک شخص جو امیر باپ کے گھر پیدا ہوتا ہے وہ امارت اپنے ساتھ لاتا ہے اور اسے یہ خوبی منبع کے لحاظ سے حاصل ہوتی ہے۔ میں نے قرآن کریم کو اس فضیلت کے لحاظ سے بھی دوسری کتب سے افضل پایا۔

ذاتی قابلیت کے لحاظ سے فضیلت

دوسری وجہ فضیلت میرے ذہن میں یہ آئی کہ اندرونی اور ذاتی قابلیت اور طاقت کی وجہ سے بھی ایک چیز کو دوسری پر فضیلت حاصل ہوتی ہے۔ جیسے دوائیں اپنے اندر طاقت رکھتی ہیں۔ اس وجہ کے لحاظ سے بھی میں نے قرآن کریم کو سب سے بڑھ کر پایا۔

نتائج کے لحاظ سے فضیلت

تیسری وجہ فضیلت نتائج کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ اس وجہ سے بھی ایک چیز کو ہم دوسری پر فضیلت دے دیتے ہیں۔ بعض چیزیں اپنی ذات میں اچھی ہوتی ہیں مگر دوسری چیزوں سے مل کر ان کا اچھا نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ جیسے ڈاکٹر جرمز(GERMS) کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ٹیکہ سے مر جاتے ہیں۔ گویا انسان کے جسم میں جرمز اور ٹیکہ کا مادہ ملنے سے الٹا اثر ہوتا ہے۔ تو کبھی ایک چیز کو نتائج کے لحاظ سے فضیلت حاصل ہوتی ہے اور جو چیز اس میں بڑھ جاتی ہے اس کی برتری تسلیم کر لی جاتی ہے۔ اسی طرح بعض تعلیمیں یوں بڑی اچھی اور مفید نظر آتی ہیں لیکن ان کے نتائج ایسے اعلیٰ پیدا نہیں ہوتے۔ میں نے اس لحاظ سے بھی قرآن کریم کو دوسری کتب سے افضل پایا۔

شدت فائدہ کے لحاظ سے فضیلت

چوتھی وجہ فضیلت شدت فائدہ کے لحاظ سے ہوتی ہے۔ فائدے تو سب چیزوں میں ہوتے ہیں مگر ایک میں زیادہ ہوتے ہیں اور دوسروں میں کم۔ قرآن کریم میں شدت فوائد کے لحاظ سے بھی فضیلت پائی جاتی ہے۔

کثرت فوائد کے لحاظ سے فضیلت

پانچویں کثرت فوائد کے لحاظ سے بھی ہم ایک چیز کو دوسری پر فضیلت دیتے ہیں۔ ایک دوائی ایک بیماری میں بڑا فائدہ دیتی ہے۔ مگر ایک اور دوائی ہوتی ہے جو اتنا فائدہ اس بیماری میں نہیں دیتی، مگر پچاس اور بیماریوں میں مفید ہوتی ہے۔ اسے پہلی دوائی پر کثرت فوائد کے لحاظ سے فضیلت حاصل ہوگی۔ قرآن کریم کو میں نے اس لحاظ سے بھی دوسری کتب سے افضل پایا۔

وسعت نفع کے لحاظ سے فضیلت

چھٹے۔ کبھی وسعت نفع کے لحاظ سے بھی فضیلت دی جاتی ہے۔ مثلاً ایک دوائی کے متعلق یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کتنی بیماریوں میں نفع دیتی ہے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کتنی طبائع پر اثر ڈالتی ہے اور کتنے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ قرآن کریم اس لحاظ سے بھی مجھے افضل نظر آیا۔

میعاد نفع کے لحاظ سے فضیلت

ساتویں۔ نفع کے وقت کے لحاظ سے بھی کہ کتنے عرصہ تک کوئی چیز نفع پہنچاتی ہے ہم بعض دفعہ ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دے دیتے ہیں۔ جب ایک قسم کے دو کپڑے سامنے ہوں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک کپڑا کتنی مدت تک چلتا ہے اور دوسرا کتنی مدت تک۔ ایک اگر ایک سال چلنے والا ہو اور دوسرا چھ ماہ تو ایک سال چلنے والے کو دوسرے پر فضیلت دے دی جائے گی۔ قرآن کریم کی اس لحاظ سے بھی مجھے فضیلت نظر آئی۔

نفع اٹھانے والوں کے مقام کے لحاظ سے فضیلت

آٹھویں۔ پھر فضیلت کی ایک وجہ ان لوگوں کی عظمت کے لحاظ سے بھی ہوتی ہے جن کو وہ نفع پہنچاتی ہے۔ یعنی دیکھا جاتا ہے کہ کس پایہ کے لوگ اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ جن چیزوں کے متعلق یہ معلوم ہو کہ بڑے پایہ کے انسانوں کو نفع پہنچاتی ہیں ان کو دوسری چیزوں پر مقدم کر لیا جاتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ قرآن کریم اس لحاظ سے بھی افضل ہے۔

نفع اٹھانے والوں کی اقسام کے لحاظ سے فضیلت

نویں۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کتنی اقسام کی چیزوں کو کوئی چیز نفع پہنچاتی ہے کیونکہ علاوہ افراد کے اقسام بھی ایک درجہ رکھتی ہیں۔ ایک چیز ایسی ہے جو ایک کروڑ انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے اور ایک اور ہے کہ وہ بھی ایک کروڑ انسانوں کو ہی نفع پہنچاتی ہے لیکن ان میں فرق یہ ہو کہ ایک صرف ایک قسم کے لوگوں کو نفع پہنچائے۔ مثلاً عیسائیوں یا ہندوئوں کو مگر دوسری ایک کروڑ انسانوں کو ہی نفع پہنچائے۔ لیکن عیسائیوں، ہندوئوں، یہودیوں اور مسلمانوں سب کو نفع پہنچائے تو اسے افضل قرار دیا جائے گا۔ غرض وسعت اقسام افراد کے لحاظ سے بھی ایک چیز افضل قرار دی جاتی ہے اس میں بھی مجھے قرآن کریم کی دوسری کتب پر فضیلت نظر آئی۔

کھوٹ سے مبرا ہونے کے لحاظ سے فضیلت

دسویں۔ اس لحاظ سے بھی کسی چیز کی فضیلت کو دیکھا جاتا ہے کہ اس میں کوئی کھوٹ تو نہیں ملا ہوا۔ جس چیز میں کھوٹ نہ ہو اسے دوسری چیزوں پر فضیلت دی جاتی ہے۔ اس میں بھی قرآن کریم تمام کتب الٰہیہ سے افضل پایا گیا۔

یقینی فوائد کے لحاظ سے فضیلت

گیارھویں۔ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کھوٹ سے تو پاک ہوتی ہیں مگر ان کے نفع کے متعلق اطمینان نہیں ہوتا۔ یہ احتمال ہوتا ہے کہ ان کے استعمال میں کوئی غلطی نہ ہو جائے جس کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑے۔ لیکن جس کے استعمال کے متعلق غلطی کا کوئی احتمال نہ ہو اور اس کے فوائد کے متعلق کسی قسم کا شک و شبہ نہ ہو اسے اختیار کر لیا جاتا اور اس کی فضیلت تسلیم کر لی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے بھی قرآن کریم کو فضیلت حاصل ہے۔

ظاہری حسن کے لحاظ سے فضیلت

بارھویں۔ ظاہری حسن کی وجہ سے بھی ایک چیز کو دوسری پر فضیلت دے دی جاتی ہے۔ قرآن کریم اپنے ظاہری حسن کے لحاظ سے بھی دوسری کتب سے افضل پایا گیا۔

ضروری امور کو نقصان نہ پہنچانے کے لحاظ سے فضیلت

تیرھویں۔ ایک چیز کو دوسری پر اس لئے بھی فضیلت دے دی جاتی ہے کہ اس کا استعمال دوسری ضروری اشیاء کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ مثلاً ایک شخص دو بیماریوں میں مبتلا ہو۔ اس کی ایک بیماری کے لئے ایک ایسی دوا ہو جو بہت فائدہ دیتی ہو لیکن دوسری بیماری کو بڑھا دیتی ہو۔ تو اس کی نسبت وہ دوائی استعمال کی جائے گی جو نفع کم دیتی ہو لیکن دوسری بیماری کو نقصان نہ پہنچاتی ہو۔ اس لحاظ سے بھی قرآن کریم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔

فوائد کے سہل الحصول ہونے کے لحاظ سے فضیلت

چودھویں۔ اس لئے بھی ایک چیز کو دوسری پر فضیلت دی جاتی ہے کہ اس کے فوائد سہل الحصول ہوتے ہیں۔ یعنی آسانی سے اس کے فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ قرآن کریم اس لحاظ سے بھی افضل ہے۔

ضروریات پوری کرنے میں یکتا ہونے کے لحاظ سے فضیلت

پندرھویں۔ اس لحاظ سے بھی ایک چیز کو دوسری چیز پر فضیلت دی جاتی ہے کہ وہ ایسی ضرورت کو پورا کرتی ہے جسے اور کوئی چیز پورا نہیں کر سکتی۔ یہ فضیلت بھی قرآن کریم کو دوسری کتب کے مقابلہ میں حاصل ہے۔ کیونکہ وہ ایسی ضرورتیں پوری کرتا ہے جنہیں اور کوئی کتاب پوری نہیں کر سکتی۔

اہم ضروریات کو پورا کرنے کے لحاظ سے فضیلت

سولہویں۔ اس لحاظ سے بھی ایک چیز کو دوسری چیزوں پر مقدم کیا جاتا ہے کہ جس ضرورت کو وہ پورا کرتی ہے وہ ایسی ضرورت ہوتی ہے کہ اسے ہم کسی صورت میں بھی ترک نہیں کر سکتے۔ کئی ضرورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے نقصان تو ہوتا ہے مگر پھر بھی انہیں چھوڑا نہیں جا سکتا۔ لیکن بعض ضرورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں ہم چھوڑیں، تو گئے۔ قرآن کریم ایسی ضرورتوں کو بھی پورا کرتا ہے اس لئے وہ دوسری کتب سے افضل ہے۔

حفاظت میں آسانی ہونے کے لحاظ سے فضیلت

سترھویں۔ اس امر کے لحاظ سے بھی ایک چیز کو دوسری پر فضیلت حاصل ہوتی ہے کہ اس کی حفاظت میں کس قدر کوشش کرنی پڑتی ہے۔ ایک ایسی چیز جسے ہم آسانی اور سہولت سے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اسے ہم ایسی چیز پر مقدم کر لیتے ہیں جس کی حفاظت مشکل ہوتی ہے میں نے دیکھا کہ قرآن کریم اس لحاظ سے بھی افضل ہے۔

٭…٭…(جاری ہے)…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close