متفرق

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر 67)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

یکم اگست 1902ء

دارالامان کی ایک شام

ماسٹر عبد الرحمٰن صاحب نے ایک لڑکے کا خواب بتلایا۔ حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ

ہر شخص کی خواب اس کی ہمت اور استعدا د کے موافق ہوتی ہے معبرّین نے یہی لکھا ہے۔ ضمناً میاں جان محمد صاحب مرحوم امام مسجد قادیان کی ایک رویاء کا تذکرہ فرمایا۔ پھر فرمایا۔

خدا تعالیٰ کا فیضان ظرف اور استعداد کے موافق ہوتاہے۔ خدا تو ایک ہی ہے لیکن جیسے روشنی صاف اور روشن چیز پر جیسے شیشہ ہے بہت صفائی سے پڑتی ہے۔ اسی طرح پر خدا تعالیٰ کے فیضان کا حال ہے۔ ہمارے نبی کریمﷺ کی ہمت بہت ہی بلند تھی۔ اس لئے قرآن شریف جیسا کلام آپ پر نازل ہوا۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کی صاف تصویر نظر آتی ہے۔ اور کتابوں میں دھندلی سی روشنی پڑتی ہے۔ مسیح ہی کو دیکھ لو۔ کہ اسرائیل کی قوم ہی پیش نظرہے۔ مگر قرآن شریف کسی خاص قوم کو خطاب نہیں کرتا۔ شروع ہی سے الحمدللہ رب العالمین کہتا ہے اور رسول کریمﷺ کی کیسی بلند ہمت اور عام دعوت ہے کہ کہتے ہیں

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَۨا۔(الاعراف:159)

مگر انجیل میں اسرائیل ہی کا ذکر ہے۔ جو پیشگوئیاں ہیں وہ بھی ان ہی کے متعلق ہیں۔ اسی سبب سے یہودیوں کو ٹھوکر لگی اور خدا کے وعدوں کے مصداق اپنی ہی قوم کو سمجھ کر تمام قومو ں سے بے تعلق اور غافل ہوگئے۔ اور خدا کے وعدوں کے ایفاء کی آخری منزل اسی دنیا کو خیال کرکےقیامت سے بے خبر اور بہتیرے منکر ہوگئے۔ اور فرمایا:

’’ہمت بلند ہونی چاہیئے۔ چنانچہ لکھا ہے۔ ہمت بلند دار کہ دادار کردگار ‘‘

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 302-303)

اس حصہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فارسی کا یہ مصرع استعمال فرمایا ہے۔

ہِمَّت بُلَنْد دَارْ کِہ دَادَارِ کِرْدِگَار

*۔ عبدالحق محدث دہلوی کی کتاب اخبارالاخیار فی اسرارالابرارمیں پورا شعر اس طرح ملتاہے جس کو خواجہ نور محمد تیراہی بانی آستانہ عالیہ چورہ شریف جنہیں عرف عام میں ’’باباجی صاحب ‘‘اور ’’باباجیو ‘‘کہا جاتا ہے کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ انہوں نےایک سوال کے جواب میں یہ شعر پڑھا۔

ھِمَّت بُلَنْددَارْ کِہ دَادَارِ کِرْدِگَار

بَرْھِمَّتِ بُلَنْدکُنَدْ فَضْلِ خُود نِثَار

ترجمہ:۔ تو عالی حوصلہ بن، کیونکہ اللہ تعالیٰ اولو العزم لوگوں پر اپنے فضلوں کی بارش کرتاہے۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Check Also
Close
Back to top button
Close