متفرق

کووِڈ- 19 ویکسین

(محمد فاروق سعید۔ لندن)

ماہرین کے مطابق سائنسدان کورونا کی ویکسین کو گولی کی شکل میں تیار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اوراویکس (Oravax) نے جو کہ اِس مقصد کے لیے کام کر رہی ہے ایک پریس ریلیز جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جون 2021ء تک وہ انسانوں پر تجرباتی طور پر گولی کے استعمال کا آغاز کریں گے۔ اُن کے مطابق یہ سب ابھی ابتدائی مراحل میں ہے جہاں پر کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اوراویکس (Oravax) دراصل ایک امریکن اسرائیلی کمپنی آرامیڈ (Oramed) اور ایک بھارتی کمپنی پریمس بائیوٹیک (Premas Biotech) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ آرامیڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ناڈو کیڈرون (Nadav kidron) کے مطابق گولی کی شکل میں کورونا ویکسین بنانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ عمومی طور پر اسے اپنے گھروں میں استعمال کر سکیں اور لوگ جنہیں سوئیوں سے خوف ہے ان کے لیے کورونا سے بچاؤ کی دوا کا حصول آسان ہو جائے۔ یہ ویکسین ایک عام فریج میں دُنیا میں کہیں بھی ارسال کی جا سکے گی اور گھروں میں عام درجہ حرارت پر محفوظ رکھی جا سکے گی۔

(Marianne Guenot, Business insider 23 march 2021)

آسٹرا زینیکا AstraZeneca

امریکہ میں ہونے والے تجربات کے بعد آسٹرازینیکا ویکسین کے اثر پذیری کے درجہ کو 79 فیصد سے گھٹا کر 76 فیصد کردیا گیا ہے۔ تازہ ترین نتائج کے مطابق کووِڈ 19کی علامات کے خلاف آسٹرا زینیکا ویکسین 76 فیصد کامیاب ہے۔ اس سے قبل قریباً 32000 افراد پر اِس ویکسین کے تجربات کر کے 79 فیصد کامیابی کے نتائج حاصل کیےگئےتھے۔ ویکسین بنانے والی کمپنی کے مطابق 65 سال سے زائد عمر کے لوگوں پر اس ویکسین کی افادیت ابھی بھی 85 فیصد سے زائد ہے اور ہر عمر کے لوگوں کو شدید بیماری سے بچانے میں 100 فیصد کامیاب علاج ہے۔

‏(Catherine Schuster-Bruce, Business Insider 25 March 2021)

یورپی یونین اور کووڈ- 19 ویکسین

یورپین میڈیکل ایجینسیEMA نے 18؍مارچ 2021ء کو اعلان کیا کہ آسٹرازینیکا کی کووڈ- 19ویکسین کے خلاف بلڈ کلاٹ بننے کی جو خبریں آرہی ہیں یہ بے بنیاد ہیں اور تجربات اور مشاہدات کے بعد یہ ویکسین استعمال کے لیے محفوظ ہے اور لوگوں کو کووڈ- 19 سے بچانے میں نہایت پُراثر بھی ہے۔

11؍مارچ 2021ء کو بہت سے ملکوں نے جن میں بیشتر یورپی ممالک تھےآسٹرازینیکا ویکسین کے استعمال پر جب پابندی لگائی اس وقت تک یورپی یونین اور برطانیہ میں قریباً 17 ملین لوگوں کو یہ ویکسین لگائی جا چکی تھی۔ اِن میں سے قریباً 470 لوگوں کی جانب سے یہ رپورٹ موصول ہونے پر کہ اس ویکسین لگنے کے کچھ دنوں بعد انہیں جسم میں بلڈ کلاٹ بننے کی شکایت پیدا ہوئی ہے یورپ میں اس ویکسین پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ EMA کے مسٹر سابین سٹراس کے مطابق اتنی زیادہ تعداد میں سے صرف 470 افراد کو بلڈ کلاٹ کی شکایت کا موصول ہونا انتہائی معمولی ہے اور اُن کے مطابق روزمرہ زندگی میں عام لوگ اِس سے زیادہ بلڈ کلاٹ کا شکار بنتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت WHO نے بھی بلڈکلاٹ بننے کی اِن خبروں کی تحقیق کی ہے اور مارچ کے اپنے ایک بیان میں یہی کہا ہے کہ آسٹرا زینیکا ویکسین استعمال میں محفوظ اور پُراثر ہے۔

(AFP 18 March 2021)

کووڈ ویکسین اور حاملہ خواتین

ایک تحقیق کے مطابق پفائزر اور موڈرنا ویکسینز حاملہ خواتین میں بہت مفید ثابت ہو رہی ہیں اور بعض صورتوں میں یہ قبل از پیدائش بچوں میں اینٹی باڈیز بھی بنانے میں بہت کامیاب ہو رہی ہیں۔ یہ تحقیق American Journal of Obstetricsand Gynecology میں شائع ہوئی۔ اس کے مطابق ایک سو اکتیس عورتوں کو دسمبر اور مارچ کے دوران ویکسین لگائی گئی جن میں سے چوراسی خواتین حاملہ تھیں۔ اور اکتیس دودھ پلانے والی مائیں تھیں۔

ناک میں اسپرے والی ویکسین

یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں اٹھارہ سے چالیس سال کے درمیان عمر رکھنے والے تیس صحت مند افراد کو بھرتی کیا جا رہا ہے جن کو کووڈ ویکسین اسپرے کی صورت میں ناک کے ذریعہ دی جائے گی۔ ریسرچرز کا ماننا ہے کہ ناک میں کی جانے والی اسپرے (Intranasal spray) انجیکشن کے مقابلے میں زیادہ مؤثرثابت ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر سینڈی ڈگلس (Dr Sandy Douglas) جو کہ اِس تحقیق کے سربراہ ہیں کاماننا ہے کہ ناک میں اسپرے کی صورت میں دوا دیے جانے کے زیادہ فوائد ہیں اور ایسے اسپریز برطانیہ کے سکولوں میں فلو کی دوا دینے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ اِس تحقیق میں سائنسدان اِس بات کا جائزہ لیں گے کہ ناک کے ذریعہ ویکسین جسم میں کس قدر محفوظ ہے اور یہ کہ اس کی کتنی خوراکیں محفوظ ہیں نیز یہ کہ اس کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ بھی ہوگا کہ نہیں۔ ڈاکٹر ڈگلس کا کہنا ہے کہ ماہرینِ مناعیات (Immunologists) کے مطابق بیماری کے آغاز میں ایسا اسپرے نہ صرف بیماری کو روکنے میں زیادہ فائدہ مند ہوگا بلکہ یہ بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے میں بھی کامیاب ہوگا۔

(Sky News 25 March 2021)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Check Also
Close
Back to top button
Close