اداریہ

یومِ مسیح موعود کیسے منایا جائے…

اللہ اور اس کے پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکی پیشگوئیوں کے موافق اسلام کی نشأۃِ ثانیہ اور اس کی اشاعت کے لیے موعود مسیح اور مہدی کا ظہور ہوا۔ اس کی خدمت میں حاضر ہونے اور اس سے فیض پانے کی اس قدر تاکید تھی کہ فرمایا

فَإِذَا رَأَيْتُمُوْهُ فَبَايِعُوْهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ فَإِنَّهُ خَلِيْفَةُ اللّٰهِ الْمَهْدِيُّ

کہ جب تم اس مہدی کو دیکھو تو اس کی بیعت کرنا خواہ گھٹنوں کے بل برف پر چل کر جانا پڑے کیونکہ وہ خدا کا خلیفہ مہدی ہے۔ نیز فرمایا

مَنْ اَدْرَکَ مِنْكُمْ عِیْسٰی ابْنَ مَرْیَمَ فَلْيَقْرَأْهُ مِنِّي السَّلَامَ

کہ تم میں سے جو عیسیٰ بن مریم کو پائے وہ اسے میرا سلام پہنچائے۔ چنانچہ پیشگوئیوں کے مصداق مسیح کی آمد کی خبر پاتے ہی سعید روحیں سفروں کے ’عذابوں‘ سے بے پروا اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے ارشادات پر کما حقہ عمل کرتے ہوئے دیوانہ واراس خلیفۃ اللہ المہدی کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور فیض پاتیں۔

صوبہ بہار سے تعلق رکھنے والے سید محمود عالم صاحبؓ (بیعت:1905ء) دو سال کی متواتر اور خطرناک بیماری سے پوری طرح صحت یاب بھی نہیں ہوئے تھے کہ انہیں قادیان جانے کا شوق بلکہ جنون پیدا ہوا۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ مَیں نے چلتے وقت ایک کارڈ حضرت مسیح موعودؑ کو لکھا کہ میرے لئے دعا کی جائے۔ میرے حالات سفر یہ ہیں۔ میں بہت کمزور اور نحیف ہوں اور ایک کارڈ اپنے بھائی سید محبوب عالم صاحب کو لکھا کیونکہ اس وقت وہ دوسری جگہ پر تھے کہ میں جارہا ہوں۔ اگر قادیان پہنچا تو خط لکھوں گا اور اگر راستہ میں مر گیا تو میری نعش کا بھی کسی کو پتہ نہ لگے گا۔ پھر اپنے سفر کی صعوبتوں کا بیان کرتے ہوئے روایت کرتے ہیں کہ کمزور بہت تھا اورمسافت دور کی تھی۔ پچاس ساٹھ میل تک ریل کا سفر کیا تاکہ اگر صحت کمزوری دکھائے تو لوٹنے کی ہمت نہ ہو اور بجائے واپس ہونے کے آگے آگے ہی چلتا رہوں۔ میں اس سفر میں تیس تیس میل روزانہ چلتا رہا۔ جہاں رات ہوتی ٹھہر جاتا۔ کبھی سٹیشن پر اور کبھی گمٹیوں میں۔ پائوں کے دونوں تلوے زخمی ہوگئے تھے۔ جب رات بسر کرنے کے لئے کسی جگہ ٹھہرتا تو شدت درد کی وجہ سے پائوں اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا تھا۔ صبح ہوتی نماز پڑھتا اور چلنے کے لئے قدم اٹھاتا تو پائوں اپنی جگہ سے ہلتے نہیں تھے۔ بہ ہزار دشواری انہیں حرکت دیتا اور ابتدا میں بہت آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اور چند منٹ بعد اپنی پوری رفتار میں آجاتا۔ پائوں جوتا پہننے کے قابل نہیں رہے تھے کیونکہ چھالوں سے پُر تھے۔ بلکہ چمڑا اتر کر صرف گوشت رہ گیا تھا۔ اس لیے کبھی روڑے اور کبھی ٹھیکریاں چبھ چبھ کر بدن کو لرزا دیتیں۔ کبھی ریل کی پٹری پر چلتا اور کبھی عام شاہراہ پر اتر آتا۔بڑے بڑے ڈرائونے راستہ سے گزرنا پڑا ۔ ہزاروں کی تعداد میں بندروں اور سیاہ مونہہ والے لنگوروں سے واسطہ پڑا جن کا خوفناک منظر دل کو دہلا دیتا۔ علی گڑھ شہر سے گزرا۔ مگر مجھے خبر نہیں کہ کیسا ہے اور کالج وغیرہ کی عمارتیں کیسی ہیں۔ ……دہلی شہر سے گزرا اور ایک منٹ کے لئے بھی وہاں نہ ٹھہرا۔ کیونکہ میرا مقصود کچھ اور تھا۔ وہاں کے بزرگوں کی زیارت میرا مقصود نہ تھا۔ اس لئے میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی اپنے مقصود سے باہر نہیں ہونا چاہتا تھا۔ زخمی پیروں کے ساتھ قادیان پہنچا اور مہمان خانہ میں ٹھہرا۔ ……پھر حضرت مسیح موعودؑ سے ملا۔ حضورؑ حالات دریافت کرتے رہے۔ لوگ بیعت کرنے لگے تو حضورؑ نے خود ہی مجھے بھی بیعت کے لیے کہا۔ میں اس وقت حضورؑ کے پائوں دبا رہا تھا۔ یہی ایک جنون تھا جو کام آگیا۔ ورنہ آج صحابیوں کی فہرست میں میرا نام کس طرح آتا۔(رجسٹر روایات صحابہ (غیرمطبوعہ) رجسٹر نمبر 4صفحہ 25تا 28۔ روایت حضرت سید محمود عالم صاحبؓ بحوالہ خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ24؍ اگست 2012ء)

ایک صحابی حضرت عنایت اللہ صاحب از شہر سیالکوٹ کے بارے میں بھی آتا ہےکہ جب انہوں نے 1901ء میں بیعت کی تو پیدل سفر کر کے قادیان حضرت اقدسؑ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔ غیرمطبوعہ۔ جلد1 صفحہ 139۔ روایات حضرت عنایت اللہ صاحبؓ بحوالہ خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس فرمودہ 19؍ اکتوبر 2012ء)۔ حضرت ملک غلام حسین صاحب مہاجرؓ کے دل میں جہلم سے قادیان جانے کی تحریک پیدا ہوئی مگر خرچ نہیں تھا۔ روایت کرتے ہیں کہ دل چاہتا تھا کہ پیدل ہی چلنا پڑے تو چلنا چاہئے۔ دو روپے میرے پاس تھے۔ مَیں رہتاس سے جہلم باوجود گاڑی ہونے کے پیدل آیا۔ پھر خیال آیا کہ آگے بھی پیدل ہی چلنا چاہئے۔ جیسے تیسے لاہور پہنچے۔ اور پھر پیدل سفر کرتے کرتے قادیان پہنچ کر حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ(غیر مطبوعہ) رجسٹر نمبر10صفحہ نمبر319تا321 روایت حضرت ملک غلام حسین صاحب مہاجرؓ۔ بحوالہ خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ 4؍ مئی 2012ء)

بعض ایسے فدائی تھے کہ جمعے کے روز محض جمعہ ادا کرنے قادیان حاضر ہوتے۔ یقیناً وہ صحیح معنوں میں ہر جمعے کو عید مناتے ہوں گے۔ حاجی محمد موسیٰ صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ میرا کئی سال یہ دستور العمل رہا کہ ’نیا سٹیشن‘ پر ایک جمعدار کے پاس ایک بائیسکل ٹھوس ٹائروں والا رکھا ہوا تھا۔ جمعہ کے روز مَیں لاہور سے بٹالہ تک گاڑی پر جاتا اور وہاں سے سائیکل پر سوار ہو کر قادیان جاتا اور جمعہ کی نماز کے بعد واپس سائیکل پر بٹالہ آ جاتا۔ یہاں سے گاڑی پر سوار ہو کر لاہور آ جاتا۔ (رجسٹر روایات صحابہ(غیر مطبوعہ) رجسٹر نمبر11صفحہ نمبر11-12روایت حضرت حاجی محمد موسیٰ صاحبؓ بحوالہ خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ 4؍ مئی 2012ء)

آج ہماری خوش نصیبی ہے کہ خَلِيْفَةُ اللّٰهِ الْمَهْدِيُّ کے خلیفہ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ حضرت اقدسؑ کے صحابہ کی روش پر چلتے ہوئے احمدی بھی ہر قسم کی قربانی کر کے، اپنا پیٹ کاٹ کر، پیسہ پیسہ جوڑ کر خلیفۂ وقت کی خدمت میں حاضر ہونے کو باعث ہزار سعادت سمجھتے ہیں۔ پھر ایسے نیک بخت احمدی بھی ہیں جو محض حضورِ انور ایّدہ اللہ کی اقتدا میں جمعہ کی ادائیگی کے لیے دیگر شہروں، دیگر ممالک بلکہ دیگر براعظموں سے بھی حاضر ہوتے رہتے ہیں۔وبائی حالات میں ہمارے لیے خلیفۂ وقت کی خدمت میں ظاہری طور پر حاضر ہونا ممکن نہیں اور اس بات کا ہر احمدی کو شدّت سے احساس بھی ہے۔ لیکن یہ بھی اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ جس بابرکت چہرے کے دیدار اور اس کے منہ سے جھڑتے موتیوں کو اکٹھا کرنے کی خاطر صحابہ کو عظیم الشان قربانیاں دینی پڑیں آج ان کے خلیفہ ہمارے گھروں میں بذریعہ ایم ٹی اے رونق افروز ہوکر ہماری روحوں کو سیراب کرنے کا سامان فرماتے ہیں۔

23؍ مارچ کو یومِ مسیح موعودؑ منانا اس وقت سود مند ثابت ہو گا جب ہم جماعت احمدیہ مسلمہ کے قیام کی اغراض و مقاصد پورے کرنے والے ہوں گے اور ان مقاصد عالیہ کو پورا کرنے کی بابت خلیفۂ وقت سے بہتر ہماری کوئی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ پس ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے پیش رو جو نعمتیں حاصل کرنے کے لیے ہزاروں تکالیف برداشت کرتے تھے جبکہ آج وہ محض ایک جنبش کی دوری پر ہمیں میسر ہیں تو ان سے جتنا ممکن ہو فیض اٹھایا جائے۔ خلیفۂ وقت کے خطبات و خطابات اورمجالسِ عرفان وغیرہ کو توجہ سے سن کر ان میں بیان فرمودہ قیمتی موتیوں کو سمیٹا جائے، ان پر عمل کیا جائے کہ یہی جماعت احمدیہ کے قیام کی غرض اور اسکامقصد ہے، یہی حقیقی اسلام کی اشاعت کی بنیادی اکائی ہے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close