متفرق مضامین

(Unitarianism) یونیٹیرین فرقہ

(ثاقب احمد)

مؤحد مسیحی فرقہ جس سے امریکہ کے سابقہ پانچ صدور تعلق رکھتے تھے

سولہویں صدی عیسوی، مسیحیت کے لیے خوشکن ثابت نہ ہو سکی۔ اس میں علاوہ اصلاحی تحریکات کے بعض ایسی تحریکوں نے بھی جنم لیا، جنہوں نے کلیسا کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ انہوں نے تثلیث کو ایک افترا قرار دیا۔ اور اس بات پر زور دیا کہ خدا صرف ایک ہی ہے۔ انہوں نے مسیح کو بھی خدائی کے تخت سے اتارا اور کلیۃً نبی کے لقب سے سرفراز فرمایا۔ انہیں موحدین کا نام دیا گیا۔ ان لوگوں نے بڑی حد تک اصل مسیحیت کی شناخت کی کوشش کی ہے۔ اوراولین موحد عیسائیوں کی طرح سچائی کی تلاش میں سخت مشکلات بھی برداشت کی ہیں۔ یونیٹیرین فرقہ سے تعلق رکھنے کی پاداش میں کئی افراد کو صرف عقائد کی بنیاد پر پھانسی کا پھندہ قبول کرنا پڑا۔ ان کے سرکردہ رہنماؤں کو زندہ آگ میں جلنے کی اذیت دے کے بھی مارا گیا۔ اور یہ سب آج کے روشن خیال یورپی ممالک میں ہوتا رہا۔ 1697ء میں Thomas Aikenhead نامی میڈیکل کے طالب علم کو ایڈنبرا میں صرف یونیٹیرین عقائد رکھنے کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ تب اس نوجوان کی عمر صرف 20 سال تھی۔ کہا جاتا ہے کہ آخری وقت میں بھی بائبل ہاتھوں میں تھامے اس نوجوان نے بڑی خوشی سے موت کو گلے لگا لیا۔

یونیٹیرینز کا ذکر کرتے ہوئے Lexicon Universal Encyclopediaلکھتا ہے:

’’Unitarianism is a form of Christianity that asserts that God is one person, the Father, rather than three persons in one, as the doctrine of the Trinity holds.‘‘

(Lexicon Universal Encyclopedia,Vol. 19, page 399, New York, 1987)

یونیٹیرین ازم، مسیحیت کی ہی ایک شاخ ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ خدا صرف ایک ہی وجود ہے، جو کہ باپ ہے۔ یہ نظریہ تثلیث یعنی تین خداؤں کے ایک ہی ذات میں ظہور کا انکار کرتے ہیں۔

مسیح کے مقام و مرتبہ، عقیدہ تثلیث اور انسانی نجات کے بارے میں ان کے عقائد کے بارے میں لکھا ہے:

’’Considering the dogma of the Trinity a corruption of Christianity, they believe in the unity of God and view Jesus as strictly human.The name Unitarian derives from this opposition to the Trinitarians.Unitarians accept Jesus as one of humanity‘s great teachers and generally hold an optimistic view concerning the ability of man to achieve his own salvation.‘‘

(Colliers Encyclopedia vol. 22 page 637, Maxwell Macmillan publishing group Oxford)

یہ لوگ عقیدہ تثلیث کو مسیحیت میں جعلسازی تصور کرتے ہیں۔ خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں اور مسیح کو فقط ایک انسان تصور کرتے ہیں۔ ان کا یہ نام ان کے بالمقابل ٹرینٹیرینز کی وجہ سے یونیٹیرین اخذ کیا گیا۔ یونیٹیرینز کے مطابق مسیح انسانیت کا ایک عظیم استاد تھا۔ اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ انسان اپنی نجات خود حاصل کر سکتا ہے۔

یونیٹیرین تحریکات کچھ تھوڑے بہت وقفے کے ساتھ مختلف ممالک میں ابھریں اور اپنا جداگانہ تشخص قائم کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ ان میں پہلی تحریک نے سولہویں صدی میں جنم لیا، جس کے سرکردہ رہ نماؤں میں Faustus Socinusتھے۔ اس تحریک نے ہنگری اور پولینڈ میں قدم جمائے۔ Martin Cellarius اورMichael Servetusنے تثلیث کے خلاف پہلی آواز اٹھائی اور 1527ء میں سٹراس برگ(MartinCellarius۔1499-1564) میں اپنا تحقیقاتی کام شائع کروا کرنظریہ تثلیث پر کاری ضرب لگائی۔

یونیٹیرین ہسٹری میں میخائل سر ویطس کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ آپ نے 1531ء میں اپنی شہرہ آفاق تصنیفThe Errors of Trinity لکھی اور عقیدہ تثلیث کی دھجیاں اڑ ا دیں۔ آپ نے حضرت مسیح ناصری کو خدا کی بجائے نبی قرار دیا۔ آپ کے ان اقدامات سے کلیسائی بھیڑیے مشتعل ہو گئے۔ اور آپ کو زندہ جلا دیا گیا۔ آپ کے نظریات بہت سے مسیحی افراد کی اصلاح کا باعث بنے۔ میخائل سرویطس کو یونیٹیرین تحریک کا پہلا شہید مانا جاتا ہے۔

ان میں ایک اورنمایاں نامFaustus Socinusکا ہے۔ آپ نےبھی مسیح علیہ السلام کو مکمل طور پر عام انسان قرار دیا۔ آپ نے بتایا کہ واقعہ صلیب میں مسیح علیہ السلام نے تکالیف برداشت کر کے عزم وہمت کی مثال قائم کی۔ اور انسانیت کے لیے نیک نمونہ قائم کر دیا کہ وہ اپنے مصائب اور مشکلات کا سامنا کیسے کریں۔

سترھویں صدی میں جان بڈل (John Biddle)

(1615-1662) نے انگلینڈ میں تثلیث کے خلاف علم بغاوت بلند رکھا اور اس طرح انگلینڈ میں یونیٹیرین فرقہ کی بنیاد رکھ دی گئی۔ 1647ء میں بڈل نے روح القدس کی خدائی کی تردید میں اپنی مشہور کتاب بارہ دلائل(Twelve Arguments) تصنیف کی۔ عقیدہ تثلیث کے بارے میں اس کے نظریات کا ذکر کرتے ہوئے Lexicon Encyclopedia لکھتا ہے:

’’His study of the Bible concinced him that the doctrine of the Trinity as commonly believed was incorrect.‘‘

(Lexicon Universal Encyclopedia, vol 3 page 247,New York, 1987)

بائبل کے مطالعہ نے اسے اس بات پر قائل کر دیا کہ عقیدہ تثلیث جسے عام تسلیم کیا جاتا ہے ہر گز درست نہیں ہے۔

کتاب کی تصنیف کے بعد اسے متعدد بار جیل بھیجا گیا، جرمانے لگائے گئے۔ اس کی کتا بوں پرپابندی لگائی گئی۔ انہیں جلایا جاتا۔ بڈل کی وفات جیل میں ہی ہوئی۔ جان بڈل کو انگلش یونیٹیرین کا باپ مانا جاتا ہے۔

یونیٹیرین کی تیسری تحریک امریکہ میں اس وقت شروع ہوئی جب 1755ء میں Jonathan Mayhewنے نظریہ تثلیث کو چیلنج کر دیا۔ پھر امریکہ میں یونیٹیرینز کو Channing جیسے مدبر لیڈر کی قیادت مل گئی۔ چیننگ 1825ء میں (American Unitarian Association)کا قیام عمل میں لایا۔ اس نے یونیٹیرین تحریک کو امریکہ میں بہت فعال کیا۔

1961ء میں امریکن یونیٹیرین ایسوسی ایشن نے یونیورسل چرچ امریکہ سے الحاق کر لیا اور ایک نئی تنظیم (Unitarian Universalist Association) معرض وجود میں آئی۔ ان کا ہیڈ کوارٹر Boston میں ہے۔ یونیٹیرین عقائد کے پرچار میں Beacon Press of Boston کا بڑا اہم کر دار رہا ہے۔ گو کہ دوسرے مسیحی فرقوں کے مقابلے میں ان کی تعداد کافی کم ہے۔ لیکن ان میں پڑھے لکھے اور اعلیٰ عہدوں پر سرفراز لوگوں کی تعداد کافی ہے۔ جس کا اندازہ اس سے بخوبی ہو جاتا ہے کہ امریکہ کے سابقہ پانچ صدرMillard Fillmore,John Adams,Thomas Jefferson, John Quinay AdamsاورWilliam Howard یونیٹیرین فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ گیارہ نوبل انعام یونیٹیرین فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اپنے نام کیے ہیں۔ مشہور امریکی شاعرہ Sylvia Plath کا تعلق بھی یونیٹیرین فرقہ سے تھا۔

World Wide Web کے بانی Berness Leeبھی یونیٹیرین فرقہ سے تعلق رکھتےہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :

’’جس حال میں عیسائیوں میں ایسے فرقے بھی موجود ہیں جو مسیح کی الوہیت اور خدائی کے قائل ہیں اور نہ تثلیث ہی کو مانتے ہیں۔ جیسے مثلاً یونیٹیرین۔ تو کیا وہ اپنے دلائل اور وجوہات انجیل سے بیان نہیں کرتے۔ وہ بھی تو انجیلہی پیش کرتے ہیں۔ اب اگر صراحتاً بلا تاویل انجیل میں مسیح کی الوہیت یا تثلیث کا بیان ہوتا تو کیا وجہ ہے کہ یونیٹرین فرقہ اس سے انکار کرتا ہے۔ حالانکہ وہ انجیل کو اسی طرح مانتا ہے جس طرح دوسرے عیسائی۔ ‘‘

(ملفوظات جلد 2، صفحہ 93، جدید ایڈیشن)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close