متفرق مضامین

بنیادی مسائل کے جوابات (نمبر 11)

(ظہیر احمد خان۔ مربی سلسلہ، انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

٭…کیا سنت نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے ساتھ قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھنا ضروری ہے؟

٭…کیا اس زمانے میں رجم کی سزا کانفاذ کیا جا سکتا ہے؟

٭…ایک ہی وقت میں دی جانے والی تین طلاقوں، غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق نیز طلاق کے لیے گواہی کے مسائل کے متعلق کیا رہ نمائی ہے؟

٭…کیا تلاوت قرآن کریم کے بعد ’’صَدَقَ اللّٰہُ العَظِیْم ‘‘پڑھنادرست ہے؟

٭…مسافر کے لیے رمضان کے روزے کی رخصت کے متعلق حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کی کیا تطبیق ہے؟

٭…کیا نکاح کے موقع پر لڑکی خود ایجاب و قبول کر سکتی ہے نیز اعلان نکاح کے موقع پر حق مہر کا اعلان کرنا ضروری ہے؟

٭…اسلام مخالف گروپ کی طرف سے سویڈن میں قرآن کریم کے نسخہ کو جلانے کی مذمت،

اس کی وجہ سے اس پر ایک احمدی مسلمان کے ردّ عمل کے بارے میں حضور انور کی رہ نمائی

٭…کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کی موجودہ صورت حال میں تبلیغ کا کام کس طرح کیا جا سکتا ہے؟

سوال: ایک دوست نے سنت نمازوں کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے ساتھ قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھنے کے بارے میں رہ نمائی چاہی۔ جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 14؍مارچ 2019ءمیں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انورنے فرمایا:

جواب: احادیث میں جس طرح فرض نمازوں کی پہلی دو رکعات میں سورت فاتحہ کے بعد قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھنے کی بابت صراحت پائی جاتی ہے۔ اس طرح احادیث اور خصوصاً صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ کہیں وضاحت نہیں ملتی کہ سنتوں کی چاروں رکعات میں سورت فاتحہ کے ساتھ قرآن کا کچھ حصہ ضرور پڑھا جائے۔

فقہاء کا بھی اس بارے میں اختلاف ہے۔ چنانچہ مالکی اور حنبلی مسالک والے سنتوں کی تمام رکعات میں سورت فاتحہ کے ساتھ قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھتے ہیں جبکہ حنفی اور شافعی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورت فاتحہ کے بعد قرآن کریم کا کوئی حصہ نہیں پڑھتے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس معاملہ میں فرض اور سنت نماز میں کوئی فرق نہیں۔ جس طرح فرض نمازوں کی صرف پہلی دو رکعات میں سورت فاتحہ کے بعد قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھا جاتا ہے اسی طرح سنت نمازوں کی بھی صرف پہلی دورکعات میں ہی سورت فاتحہ کے بعد قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھا جائے گا اور تیسری اور چوتھی رکعات میں صرف سورت فاتحہ پر ہی اکتفا کیا جائے گا۔ اور یہی میرا موقف ہے۔

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں حال ہی میں کسی ملک میں رجم کی سزا کے نفاذ کا ذکر کر کے دریافت کیا ہے کہ کیا اس زمانہ میں بھی رجم کی سزا کا نفاذ کیا جا سکتا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 14؍مارچ 2019ءمیں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب:اسلام کی تعلیمات جس میں سزائیں بھی شامل ہیں، کسی زمانہ یا ملک کے ساتھ مختص نہیں بلکہ عالمگیر اور دائمی ہیں۔ لیکن اسلامی سزاؤں کے بارے میں یہ بات ہمیشہ مدنظر رہنی چاہیے کہ ان کے عموماً دو پہلو ہیں ایک انتہائی سزا اور ایک نسبتاً کم سزا اور ان سزاؤں کا بنیادی مقصد برائی کی روک تھام اور دوسروں کےلیے عبرت کا سامان کرنا ہے۔

پس اگر زنا فریقین کی باہمی رضامندی سے ہو اور وہ اسلامی طریقۂ شہادت کے ساتھ ثابت ہو جائے تو فریقین کو سو کوڑوں کی سزا کا حکم ہے۔ لیکن جس زنا میں زبردستی کی جائے اور اس میں نہایت وحشیانہ مظالم کا جذبہ پایا جاتا ہو۔ یا کوئی زانی چھوٹے بچوں کو اپنے ظلموں کا نشانہ بناتے ہوئےاس گھناؤنی حرکت کا مرتکب ہوا ہو تو ایسے زانی کی سزا صرف سوکوڑے تو نہیں ہو سکتی۔ ایسے زانی کو پھر قرآن کریم کی سورۃ المائدہ آیت 34 اور سورۃ الاحزاب کی آیت 61تا 63 میں بیان تعلیم کی رو سے قتل اور سنگساری جیسی انتہائی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ لیکن اس سزا کا فیصلہ کرنے کا اختیار حکومت وقت کودیا گیا ہے اور اس تعلیم کے ذریعہ عمومی طور پر حکومت وقت کےلیےایک راستہ کھول دیا گیا۔

سوال: ایک دوست نے ایک وقت میں دی جانے والی تین طلاقوں، غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق اور طلاق کےلیے گواہی کے مسائل کی بابت بعض استفسار حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں عرض کیے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ یکم جون 2019ءمیں ان سوالات کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب:جب کوئی شخص اپنی بیوی کو پورے ہوش و حواس سے طلاق دے تو طلاق خواہ زبانی ہو یا تحریری، ہر دو صورت میں مؤثر ہو گی۔ البتہ ایک نشست میں تین مرتبہ دی جانے والی طلاق صرف ایک ہی طلاق شمار ہوتی ہے۔ چنانچہ کتب احادیث میں حضرت رکانہؓ بن عبد یزید کا واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایک وقت میں تین طلاقیں دےدیں۔ جس کا انہیں بعد میں افسوس ہوا۔ جب یہ معاملہ آنحضرتﷺ کے پاس پہنچا تو آپؐ نے فرمایا کہ اس طرح ایک طلاق واقع ہوتی ہے اگر تم چاہو تو رجوع کرسکتے ہو۔ چنانچہ انہوں نے اپنی طلاق سے رجوع کر لیا اور پھر اس بیوی کو حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں دوسری اور حضرت عثمانؓ کے زمانہ خلافت میں تیسری طلاق دی۔

(سنن ابی داؤد کتاب الطلاق باب فِي الْبَتَّةِ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں :

’’طلاق ایک وقت میں کامل نہیں ہو سکتی۔ طلاق میں تین طہر ہونے ضروری ہیں۔ فقہاء نے ایک ہی مرتبہ تین طلاق دےدینی جائز رکھی ہے مگر ساتھ ہی اس میں یہ رعایت بھی ہے کہ عدت کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو وہ عورت اسی خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور دوسرے شخص سے بھی کر سکتی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ17۔ مطبوعہ 2016ء)

اسی طرح جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اس کی کسی ناقابل برداشت اور فضول حرکت پر ناراض ہو کر یہ قدم اٹھاتا ہے۔ بیوی سے خوش ہو کر تو کوئی انسان اپنی بیوی کو طلاق نہیں دیتا۔ اس لیے ایسے غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق بھی مؤثر ہو گی۔ البتہ اگر کوئی انسان ایسے طیش میں تھا کہ اس پر جنون کی کیفیت طاری تھی اور اس نے نتائج پر غور کیے بغیر جلد بازی میں اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر اس جنون کی کیفیت کے ختم ہونے پر نادم ہوا اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اسی قسم کی کیفیت کےلیے قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ

لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّغۡوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمۡ وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا کَسَبَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ حَلِیۡمٌ۔ (سورۃالبقرۃ:226)

یعنی اللہ تمہاری قسموں میں (سے) لغو (قسموں ) پر تم سے مؤاخذہ نہیں کرے گا۔ ہاں جو (گناہ) تمہارے دلوں نے (بالارادہ) کمایا اس پر تم سے مؤاخذہ کرے گا اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بردبار ہے۔

جہاں تک طلاق کےلیے گواہی کا مسئلہ ہے تو یہ اس لیے ہے کہ تنازعہ کی صورت میں فیصلہ کرنے میں آسانی رہے۔ لیکن اگر میاں بیوی طلاق کےاجرا پر متفق ہوں اور ان میں کوئی اختلاف نہ ہو تو پھر گواہی کے بغیر بھی ایسی طلاق مؤثر شمار ہو گی۔ پس طلاق کےلیے گواہی کا ہونا مستحب ہے لازمی نہیں۔ چنانچہ قرآن کریم نے طلاق اور رجوع کے سلسلہ میں جہاں گواہی کا ذکر کیا ہے وہاں اسے نصیحت قرار دیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا:

فَاِذَا بَلَغۡنَ اَجَلَہُنَّ فَاَمۡسِکُوۡہُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ فَارِقُوۡہُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ وَّ اَشۡہِدُوۡا ذَوَیۡ عَدۡلٍ مِّنۡکُمۡ وَ اَقِیۡمُوا الشَّہَادَۃَ لِلّٰہِؕ ذٰلِکُمۡ یُوۡعَظُ بِہٖ مَنۡ کَانَ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ۔ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا۔(سورۃ الطلاق:3)

یعنی پھر جب عورتیں عدت کی آخری حد کو پہنچ جائیں تو انہیں مناسب طریق پر روک لو یا انہیں مناسب طریق پر فارغ کردو۔ اور اپنے میں سے دو منصف گواہ مقرر کرو۔ اور خدا کےلئے سچی گواہی دو۔ تم میں سے جو کوئی اللہ اور یوم آخر پر ایمان لاتا ہے اس کو یہ نصیحت کی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ نکال دے گا۔

چنانچہ فقہاء اربعہ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص بغیر گواہوں کے طلاق دےدے یا رجوع کر لے تو اس کی طلاق یا رجوع پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں قرآن کریم کی تلاوت کے بعد ’’صَدَقَ اللّٰہُ العَظِیْم ‘‘کے الفاظ پڑھنے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کر کے رہ نمائی چاہی ہے۔ اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 11؍ جون 2019ءمیں درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: میں نے اس بارے میں تحقیق کروائی ہے۔ علماء میں دونوں قسم کے نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ جو اس کے جواز کے قائل ہیں انہوں نے بعض قرآنی آیات اور احادیث سے استدلال کر کے اس کے جواز کی راہ نکالی ہے۔

میرے نزدیک بھی اگر کوئی تلاوت کرنے کے بعد یہ الفاظ پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ کیونکہ اس میں کوئی برائی تو بہرحال نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے سچا ہونے کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ لیکن ان الفاظ کا مطلب جانے بغیر صرف ایک رسم کے طور پر انہیں دوہرادینا ایک بےمعنی فعل شمار ہو گا۔

سوال:ایک دوست نے مسافر کےلیے رمضان کے روزوں کی رخصت کے بارے میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے بعض ارشادات حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں پیش کر کے ان کی باہم تطبیق کی بابت رہ نمائی چاہی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 11؍ جون 2019ءمیں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب:آپ کے خط میں بیان دونوں قسم کے ارشادات میں کوئی تضاد نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ دونوں ہی کا قرآن کریم کے واضح حکم کی روشنی میں یہی ارشاد ہے کہ مسافر اور مریض کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ اور اگر کوئی شخص بیماری میں یا سفر کی حالت میں روزہ رکھتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے واضح حکم کی نافرمانی کرتا ہے۔

جہاں تک حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ارشاد’’روزہ میں سفر ہے۔ سفر میں روزہ نہیں ‘‘کا تعلق ہے تو اگر اس سارے خطبہ کو غور سے پڑھا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضور دراصل اس میں مختلف مثالیں بیان فرما کر سمجھا رہے ہیں کہ ایسا سفر جو باقاعدہ تیاری کے ساتھ، سامان سفر باندھ کرسفر کی نیت سے کیا جائے وہ سفر خواہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو اس میں شریعت روزہ رکھنے سے منع کرتی ہے۔ لیکن ایسا سفر جو سیر کی غرض سے یا کسی Trip اور Enjoyment کےلیے کیا جائے، وہ روزہ کے لحاظ سے سفر شمار نہیں ہو گا اور اس میں روزہ رکھا جائے گا۔ چنانچہ سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں آپ کے دیگر ارشادات بھی آپ کے اسی نظریہ کی تائید کرتے ہیں۔

سوال: ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار بھجوایا کہ کیا لڑکی اپنے نکاح کے موقعہ پر خود ایجاب و قبول کر سکتی ہے، نیز یہ کہ اعلان نکاح کے موقعہ پر حق مہر کا ذکر کرنا ضروری ہے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 22؍جولائی 2019ءمیں اس کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب:اللہ تعالیٰ نےقرآن کریم میں جہاں مسلمان مردوں کو مومن عورتوں کے ساتھ اور مسلمان عورتوں کو مومن مردوں کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم دیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نےمرد و خواتین دونوں کےلیے الگ الگ الفاظ استعمال کیے ہیں۔ چنانچہ مردوں کےلیے فرمایا’’وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ‘‘کہ تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو۔ اورعورتوں کےلیے فرمایا’’وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِين ‘‘کہ تم (اپنی لڑکیاں ) مشرک مردوں سے نہ بیاہا کرو۔

گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ولیوں پر ان کے نکاح کے انعقاد کی ذمہ داری ڈالی ہے۔ اسی لیے اعلان نکاح کے موقعہ پر لڑکی کی طرف سے اس کا ولی ایجاب و قبول کرتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’عورت خود بخود نکاح کے توڑنے کی مجاز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود بخود نکاح کرنے کی مجاز نہیں بلکہ حاکم وقت کے ذریعہ سے نکاح کو توڑا سکتی ہے جیسا کہ ولی کے ذریعہ سے نکاح کو کرا سکتی ہے۔ ‘‘

(آریہ دھرم صفحہ 32، روحانی خزائن جلد 10صفحہ 37)

پس اعلان نکاح میں ایجاب و قبول کے وقت لڑکی کی طرف سے اس کا ولی یہ ذمہ داری ادا کرے گا اور یہی جماعتی روایت ہے۔

جہاں تک اعلان نکاح میں حق مہر کے تذکرہ کی بات ہے تو یہ ضروری نہیں، کیونکہ قرآن کریم کے احکامات کے مطابق حق مہر کے تقرر کے بغیر بھی نکاح ہو سکتا ہے جیسا کہ فرمایا:

لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ اِنۡ طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمۡ تَمَسُّوۡہُنَّ اَوۡ تَفۡرِضُوۡا لَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ۚۖ وَّ مَتِّعُوۡہُنَّ ۚ عَلَی الۡمُوۡسِعِ قَدَرُہٗ وَ عَلَی الۡمُقۡتِرِ قَدَرُہٗ ۚ مَتَاعًۢا بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۚ حَقًّا عَلَی الۡمُحۡسِنِیۡنَ۔ (سورۃ البقرۃ:237)

یعنی تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو اس وقت بھی طلاق دے دو جبکہ تم نے ان کو چھو ٔا تک نہ ہو یا مہر نہ مقرر کیا ہو۔ اور (چاہیے کہ اس صورت میں ) تم انہیں مناسب طور پر کچھ سامان دے دو (یہ امر) دولت مند پر اس کی طاقت کے مطابق (لازم ہے) اور نادار پر اس کی طاقت کے مطابق (ہم نے ایسا کرنا) نیکوکاروں پر واجب (کر دیا) ہے۔

سوال:حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ نیشنل مجلس عاملہ سویڈن کی Virtual ملاقات مورخہ 29؍ اگست 2020ء میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس ملاقات سے ایک روز قبل اسلام مخالف گروپ کی طرف سے سویڈن میں قرآن کریم کے نسخہ کوجلانے کی مذمت، اس کی وجہ اور اس پر ایک احمدی مسلمان کے ردّ عمل کے بارے میں رہ نمائی کرتے ہوئے فرمایاکہ یہاں توسنا ہے کہ کل رات فساد بھی ہوئے ہیں، اس کا اثر توآپ کے شہریا علاقہ میں نہیں ہے؟محترم امیر صاحب سویڈن کے جواب پر کہ رات کو یہ فسادات ہوئے تھے لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے حالات ٹھیک ہیں۔ حضور انور نے فرمایا:

اب یہ جو اسلام کے بارے میں Misconception ہے، اس کو آپ نے ہی دور کرنا ہے۔ یہ جو شخص کھڑا ہوا ہے کہ میں قرآن جلا دوں گا۔ اور اس کو ٹھیک ہے پولیس نے نہیں اجازت دی لیکن ساتھ ہی اسے یہ بھی کہہ دیا کہ اسے اپیل کرنےکا Rightہے، وہ اپیل کر سکتا ہے۔ اور بعض اس کے جو Followers تھے یا اس کے گروپ کے لوگ تھے، انہوں نے پارک میں جا کر کل رات کو قرآن کریم جلا بھی دیا۔ تو یہ کیوں ہو رہا ہے؟

اس لیے کہ انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے، قرآن کریم کی تعلیم کیا ہے۔ اور اس لیے کہ مسلمانوں کے جو دہشت گرد عمل ہیں وہ ان کو یہی بتاتے ہیں کہ ہاں یہ شاید قرآن میں ہی ہوگا۔ وہ ایک آیت کو تو پکڑ لیتے ہیں کہ قتال کرو یا جنگ کرو۔ جو باقی دوسرے حکم ہیں کہ کن حالات میں کرو، اس کا ان لوگوں کو کوئی نہیں پتہ۔ تو یہ چیزیں ان لوگوں کو پتہ ہونی چاہئیں۔ اس لحاظ سے بھی آپ تبلیغ کا Planکریں۔

سوال:اسی ملاقات میں اس سوال پر کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کی موجودہ صورت حال میں تبلیغ کا کام کس طرح کیا جائے؟حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

جواب:جو آن لائن تبلیغ ہےوہ بہت زیادہ شروع ہو گئی ہے، واٹس ایپ پر، سوشل میڈیا پر۔ یہاں دیکھیں کہ لوگوں کے پاس کیا کیا سوال ہیں ؟ کیا کیا Issues اٹھتے ہیں ؟مختلف سائیٹس ہیں، ان میں جا کےان کو بتائیں کہ ان حالات میں ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ جھکنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کی طرف آنا چاہیے، اس کو پہچاننا چاہیے۔ نہ یہ کہ Atheist بن جائیں اور خدا تعالیٰ کو چھوڑ دیں۔ یا یہ سمجھیں کہ خدا تعالیٰ دعائیں قبول نہیں کرتا یا خدا تعالیٰ نہیں ہے یا دنیا ہی سب کچھ ہے۔ اگر دنیا کو بچانا ہے تویہ کرو۔ کیونکہ اس کے بعدپھرجو Crisisآئے گا، اس بیماری کے بعد دنیا کی Economy جب Shatter ہوتی جائے گی تو اگلا Crisis پھر یہ آئے گا کہ پھر ایک دوسرے کے مال پہ قبضہ کرنےکی کوشش کریں گے اور جب مال پہ قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے تو جنگیں شروع ہو جائیں گی، جس کےلیے بلاک بنتے ہیں اور بلاک بننے شروع ہو چکے ہیں۔ تو اس سے بچنے کےلیے یہی طریقہ ہے کہ خدا کی طرف آؤ اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو۔ لیکن جو بھی میڈیا ہے، آخر لوگوں کا دنیا سے رابطہ ہو ہی رہا ہےناں ؟اس میڈیا کو آپ بھی استعمال کریں، اور اس طریقہ کو آپ بھی استعمال کریں جودنیا استعمال کر رہی ہے۔

میرا خیال ہےکہ آج جو باتیں ہو گئی ہیں انہی پرآپ کام کر لیں، اورجو بعض ضروری باتیں تھیں وہ میں نے کہہ دی ہیں کہ ان(نیشنل عاملہ) کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔ اور جونیشنل عاملہ سے میں باتیں کر رہا ہوں تو جو متفرق مجالس ہیں ان کے متعلقہ سیکرٹریان جو ہیں، ان کےلیے بھی یہی باتیں ہیں، ان کو بھی یہ یاد رکھنی چاہئیں اور اس کے مطابق اپنی Policy بنانی چاہیے اور عمل کروانا چاہیے۔ اگر Grassroots Level پر سارے کام ہونے شروع ہو جائیں، آپ کی مجالس کے ہر شعبہ کے جو متعلقہ سیکرٹریان ہیں وہ اپنا اپنا کام کریں، ذمہ داری کو سمجھیں تو نیشنل عاملہ کا بھی کام آسان ہو جاتا ہے اور اس مقصد کو بھی آپ پورا کرنے والے بن جاتے ہیں جس کےلیے آپ کو عہدیدار بنایا گیا ہے اور اس طرح آپ خلیفۂ وقت کے مدد گار بھی بن جاتے ہیں اور جماعت کی خدمت کا جو کام ہے اس کو بھی صحیح طرح سرانجام دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی پھر آپ کی خدمت جو ہے وہ مقبول ہوتی ہے۔ لیکن اگر صرف عہدہ رکھنا ہے اور عہدہ رکھ کے پھر کام نہیں کرنا اور اپنے غلط نمونے قائم کرنے ہیں، دعاؤں کی طرف توجہ نہیں دینی، آپس میں شعبوں میں تعاون نہیں کرنا، مرکزی شعبوں میں اور ذیلی تنظیموں کے شعبوں میں تعاون نہیں ہونا تو ایسے عہدوں کا کوئی فائدہ نہیں، ایسی تنظیم کو کوئی فائدہ نہیں۔ اور یہ آپ لوگ مجھے تو دھوکا دے سکتے ہیں، یا نظام جماعت کو دھوکا دے سکتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے ہمیشہ یاد رکھیں، ہر کام کرتے ہوئے، ہر وقت یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ ہمارے ہر قول اور فعل کو دیکھتا اور سنتا ہے۔ اس لیے ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر کام کرنا ہے اور اس کےلیے اپنی تمام صلاحیتیں، اپنی تمام Potentialsکو استعمال میں لانا ہے تا کہ ہم جماعت کے صحیح فعال رکن بھی بن سکیں اور جماعت کی صحیح رنگ میں خدمت بھی کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close