متفرق

قرآن شریف اور عورت کے حقوق اور گورنمنٹ کا قانون

’’حضرت خلیفۃ المسیحؓ نے ایک مضمون عورتوں کے متعلق تحریر فرمایا ہےجس کا انگریزی ترجمہ ہو کر برادرم مکرم خواجہ کمال الدین صاحب کے رسالہ مسلم انڈیا میں شائع ہو گا ۔اور اردو مضمون حضور نے الفضل کے لیے مرحمت فرمایا ہے ۔چونکہ مختصر نوٹ ہیں اس لیے ان میں مناسب طور پر ایسا اضافہ کر کے جس سے ہر شخص فائدہ اٹھا سکے حضرت صاحب کو دکھانے کے بعد الفضل میں شائع کرتا ہوں اگر ناظرین اور ناظرین اخبار سے کوئی مستفید ہو‘‘…ایڈیٹر

عورت کے اعمال اور اس پر جزا سزا

اسلام سے پہلے مختلف مذاہب نے عورت کو ایسا بے قدر قرار دیا تھا کہ انہوں نے فیصلہ کر دیا تھا کہ عورت میں کچھ نہیں ہے۔ رانی درو پدی عظیم الشان راجہ کی لڑکی اور عظیم الشان خاوند کی بی بی سکنتلا جیسی جوئے میں ہار گئیں اور پھر جیتنے والوں نے درباروں میں علی رؤس الاشہا دزانو پر بٹھا نا چاہا آہ!آہ!!آہ!!!کیسا حیرت بخش درد انگیز درد ناک نظارہ ہو گا ۔سیتا جی جیسی وفادار غمگسار کو …بالکل چھوڑ دینا پسند کیا گیا اور عورتیں اس درندگی کے بعدبجائے دوبارہ زندگی پانے کے بالکل فنا ہو جائیں گی ۔یہ عقیدہ ابتداءًمسیحیوں میں بھی رائج تھا ۔چنانچہ حواریوں کے مکتوبات کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بھی مسیحوں میں عورت کی کیسی بے قدری کی جاتی تھی ۔اسلام نے آکر اس عقیدہ کا رد کیا ۔ اور قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ

وَ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤۡمِنٌ فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ یُرۡزَقُوۡنَ فِیۡہَا بِغَیۡرِ حِسَابٍ(المومن:41)۔

جو کوئی بھی نیک عمل کرے خواہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہو پس ایسے لوگ جنت میں داخل کئے جائیں گے ۔اور انہیں بغیر حساب وہاں رزق دیا جائے گا ۔اس آیت سے عورت کے اعمال اور ان پر جزا سزا ثابت ہے ۔ اور بجائے اس کی روح کے فنا کرنے کے اعمال کی صورت میں اس کے لیے بڑے بڑے نیک بدلوں کا وعدہ ہے ۔ اس عام قاعدہ کے بعد خاص طور پر فرماتا ہے

اِنَّ الۡمُسۡلِمِیۡنَ وَ الۡمُسۡلِمٰتِ وَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الۡخٰشِعِیۡنَ وَ الۡخٰشِعٰتِ وَ الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ وَ الۡمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیۡنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الۡحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمۡ وَ الۡحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا۔(الاحزاب:36)

مسلمان مرد ہوں یا مسلمان عورتیں مومن مرد ہوں یا مومن عورتیں فرمانبردار مرد ہوں یا فرمانبردار عورتیں سچ بولنے والے مرد ہوں یا سچ بولنے والی عورتیں صبر کرنے والے مرد ہوں یا صبر کرنے والی عورتیں منکسر المزاج متواضع مرد ہوں یا منکسر المزاج متواضع عورتیں صدقہ و خیرات کرنے والے مرد ہوں یا صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد ہوں یا عورتیں اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرنے والے مرد ہوں یا عورتیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم کے سامان تیار کئے ہیں۔ اس آیت میں کھول کھول کر بتا دیا ہے کہ دینی معاملات میں عورت مرد کے حقوق برابر ہیں ۔اور جس طرح مرد کو نیک اعمال کا بدلہ ملے گا عورت بھی اس سے کم نہیں رہے گی پھر فرمایا

اَنِّیۡ لَاۤ اُضِیۡعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنۡکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ اَوۡ اُنۡثٰی(آل عمران:196)

میں تم سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کروں گا ۔خواہ مرد ہویا عورت اور فرمایا ہے کہ

وَ لَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ (البقرۃ:229)۔

عورتوں کے حقوق بھی اسی طرح ہیں جس طرح ان پرمردوں کے مناسب حقوق ہیں ۔

عورت کی قدر افزائی

بجائے اس کے کہ عورت کو نا پاک یا گنہگار اور قابلِ اجتناب قرار دیا جاتا اسلام نے عورت کی ایسی فضیلت بیان فرمائی ہے جسے کسی اَور مذہب نے بیان نہیں کیا

خَلَقَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا لِّتَسۡکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحۡمَۃً(الروم:22)

تمہارے لئے ہم نے تمہاری بیویاں نفیس ترین بنائی ہیں ۔ تاکہ تم ان کی جانب سے آرام حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت کا رشتہ بنایا ہے ۔ عورت کی جسمانی کمزرویاں اور نزاکت دنیاوی کاروبار میں عورت کو مرد کے برابر اور یکساں نہیں ہونے دیتیں اس لئے فرمایا کہ تم ان سے رحمت کا سلوک کرو ۔

عورت کی سفارش

پھر اللہ تعالیٰ عورت کی سفارش فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ

وَ عَاشِرُوۡہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ

عورتوں سے عمدہ پسندیدہ اور نیک سلوک کرو

فَاِنۡ کَرِہۡتُمُوۡہُنَّ فَعَسٰۤی اَنۡ تَکۡرَہُوۡا شَیۡئًا وَّ یَجۡعَلَ اللّٰہُ فِیۡہِ خَیۡرًا کَثِیۡرًا(النساء:20)

اور اگر تم کوئی بات ان کی بری مناؤ تو کچھ بعید نہیں تم کسی بات کو برا مناؤلیکن اللہ تعالیٰ اس میں زیادہ سے زیادہ بھلائیاں رکھ دے ۔ کیا معنے عورتوں میں بعض نقصوں کا پایا جانا خواہ وہ ارضی ہوں یا سماوی جسمانی ہوں یا اخلاقی فطری ہوں یا عارضی ظاہر یا مخفی ممکن ہےلیکن اللہ تعالیٰ ان کی سپارش فرماتا ہے کہ تم ان سے پسندیدہ نیک سلوک کئے جاؤاور اگر اس سفارش کو قبول کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے تعلقات کے نہایت نیک ثمرات اور نتائج مرتب فرمائے گا ۔یہ فقرہ ایک فلسفی تو بول نہیں سکتا کیونکہ اس کے اختیار میں نہیں اور جو الٰہی کتب مجھے پڑھنے کا موقع ملا ہے اس میں لکھا ہوا مجھے نظر نہیں پڑا ۔ہاں یہ بھی حکم دیا ہے کہ

فَانۡکِحُوۡا مَا طَابَ لَکُمۡ مِّنَ النِّسَآءِتم

ایسی عورتوں سے نکاح کرو جنہیں اچھی طرح سے پسند کر لو تاکہ آئندہ کے بہت سے فساد رک جائیں ۔

کیا کوئی دنیاوی طاقت یا حکومت یا کوئی بادشاہ بلکہ دنیاوی سلاطین اور ڈاکٹر ایسی سفارش کر سکتا ہے اور کیا اس کی تسلی دینے سے کسی آدمی کی تشفی ہو سکتی ہے کسی انسانی حکومت کی یہ طاقت نہیں کہ وہ کہہ سکے کہ تم عورتوں کے نقائص کو پس انداز کر دو تو ہم تمہیں بہت کچھ نیک بدلہ دیں گے یہ خدا ہی کا کام ہے اور اسی کے لائق ہے ۔

عورتوں کے حقوق کی حفاظت

کوئی دنیاوی قانون نہیں جو عورتوں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہو اور کسی حکومت نے خواہ پچھلی ہو یا موجودہ سلطنتوں میں سے کوئی ہو عورتوں کے حقوق کی پوری تو کیا ادھوری بھی نگہداشت نہیں کی حتی کہ انگریزی گورنمنٹ کے قوانین بھی جو نہایت درجہ محتاط ہے اس امر میں ناقص ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے عورت کے حقوق کے لئے مفصل قوانین جاری فرمائے ہیں۔ اگر کوئی خاوند عورت کو نہ بسائے ۔اور خرچ دے تو عدالتیں اس مظلومہ کی اسی قدر مدد کرتی ہیں کہ اسے خرچ دلواتی ہیں لیکن وہ بھی عدالتوں میں مدتوں روپیہ خرچ کرنے کے بعد اور اگر خاوند مفلس ہو تو کچھ فائدہ نہیں اٹھاتی ۔ زیادہ سے زیادہ قید کرائے تو وہ بھی چند روز تو اس کا خرچہ دے اگر حسین جمیل ہو تو کچہریوں میں اس کی وہ گت بنے جو وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔ لیکن اسلام فرماتا ہے کہ

اَسۡکِنُوۡہُنَّ مِنۡ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ وُّجۡدِکُمۡ وَ لَا تُضَآرُّوۡہُنَّ لِتُضَیِّقُوۡا عَلَیۡہِنَّ(الطلاق:7)۔

تم جہاں رہتے ہو ان کو رکھو اور اپنی حیثیت کے مطابق رکھو اور انہیں تنگ کرنے کے لئے کسی قسم کا دکھ نہ پہنچاؤ۔گویا نہ صرف خاوند کو خرچ کا ذمہ دار قرار دیا ہے بلکہ اسے اس بات کا بھی پابند کیا ہے کہ وہ اس کے پاس رہے اور اس کی نگرانی اور نگہداشت کرے اور کسی طرح اسے تنگ نہ کرے۔ کیا کوئی دنیاوی حکومت ہے جو خاوند کو ا س حد تک مجبور کر سکے ۔فتنہ تو ہوتے ہی ہیں ایسے موقعوں کے لئے بجائے عدالتوں میں بھیجنے کے شریعت اسلام نے حکم دیا ہے کہ

وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا فَابۡعَثُوۡا حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہَا(النساء:36)۔

اگر تم ڈرو کہ ان میں آپس میں جھگڑا ہو گا تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے تاکہ جھگڑے کے باعث معلوم کر کے اس کے دور کرنے کی کوشش کریں نہ یہ کہ عدالتوں کی مشکلات میں پھنسیں ۔

عورتوں کی اصلاح

جس طرح کسی کا حق مارنا ظلم ہے اسی طرح اس کی اصلاح میں کوتاہی کرنا اور اس کو خرابی سے بچانے میں غفلت سے کام لینا بھی ظلم ہے ۔ اس لئے جہاں عورتوں کے ساتھ نرمی برتنے کا اسلام نے حکم دیا ہے وہاں یہ بھی بتایا ہے کہ ان کو نیکی کی تعلیم دو اور ان کی اصلاح کرو اگر نہ مانیں تو

فَعِظُوۡہُنَّ وَ اہۡجُرُوۡہُنَّ فِی الۡمَضَاجِعِ (النساء:35)

نصیحت کرو اگر زبان سے نہ مانیں تو انہیں کچھ مدت کے لئے علیحدہ کر دو یعنی ان سے ملنا جلنا کم کر دو ۔اور اگر با وجود ان علاجوں کے عورتیں بدکاری کی طرف راغب ہوں تو وَ اضۡرِبُوۡہُنَّ انہیں مارو تاکہ وہ گندوں سے بچیں لیکن شرارت سے کام نہ لو اور

فَاِنۡ اَطَعۡنَکُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَیۡہِنَّ سَبِیۡلًا (النساء:35)

اگر تمہاری اطاعت کرنے لگیں اور بد کاری سے بچ جائیں تو خبر دار ان پر الزام نہ لگاتے رہنا اور ہمیشہ رحم سے ہی کام لیتے رہو ۔

وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَ الۡاَرۡحَامَ(النساء:2)۔

اللہ سے ڈرو جس کے نام سے تم اپنی حاجتوں کے متعلق سوال کرتے ہو اور رحمی تعلقات کا بھی بہت لحاظ کرو ۔

عورتوں کی صحت کا خیال رکھو

اسلام نے جہاں عورت کی روحانی خبر گیری کا حکم دیا ہے وہاں ان کی جسمانی تکالیف کا بھی خیال رکھا ہے اور مردوں کو حکم دیا ہے کہ عورت کو دکھ نہ دو اور کسی ایسی بات کو اختیار نہ کرو جس سے اسے جسمانی تکلیف پہنچے چنانچہ حیض کے دنوں میں جماع کرنے سے چونکہ مختلف قسم کی بیماریوں کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے فرمایا کہ

وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡمَحِیۡضِ ؕ قُلۡ ہُوَ اَذًی(البقرۃ:223)

تجھ سے حیض والی عورتوں کی نسبت سوال کرتے ہیں ان کے ساتھ صحبت کرنا دکھ کا باعث ہے اس سے پرہیز کرو ۔

عورت جائیداد کی مالک ہے

مالی پہلو سے جہاں دیگر مذاہب اور حکومتوں نے عورت کی جائداد کا مالک اس کے خاوند کو قرار دیا ہے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

لِلرِّجَالِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبُوۡا ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا اکۡتَسَبۡنَ(النساء:33)

مردوں کا وہ حصہ ہے جسے انہوں نے کمایا اور عورتوں کا وہ حصہ ہے جسے انہوں نے کمایا یعنی ایسا نہ کرو کہ اس کے مال میں بھی تصرف شروع کردو کہ یہ ہماری بیوی کا مال ہے جو اس کا مال ہے وہ اسی کا ہے اس سے مرد کو کچھ تعرض نہیں کرنا چاہئے ۔

عورت وارث ہے

عورتوں کو دنیا میں وراثت سے بالکل خارج کردیا گیا ہے اور ان غریبوں کو اپنے ماں باپ یا خاوند یا اولاد کسی کی جائیداد سے کچھ وراثت نہیں ملتی ۔گویا ان کا کچھ تعلق ہی نہ تھا خاوند کے مرتے ہی یا والدین کے فوت ہوتے ہی عورتیں دوسرے لوگوں کی دست نگر ہو جاتی ہیں اور ان کی زندگی دوسروں کے رحم پر منحصر ہو جاتی ہے ۔لیکن اسلام کا حکم ہے کہ

وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیۡبٌ مِّمَّا تَرَکَ الۡوَالِدٰنِ وَ الۡاَقۡرَبُوۡنَ مِمَّا قَلَّ مِنۡہُ اَوۡ کَثُرَ(النساء:8)۔

عورتوں کا بھی حصہ ہے اس مال میں کہ جو والدین چھوڑ مریں یا دوسرے قریبی رشتہ دار (مثلاً خاوند بیٹا بھائی)خواہ وہ تھوڑاہو یا بہت یعنی ایسا نہ ہو کہ تم کہہ دو کہ مرنے والے نے ایساتھوڑا مال چھوڑاہے کہ یہ تو مرد حصہ داروں کے لئے بھی کافی نہ ہو گا ۔خواہ کتنا ہی تھوڑا ہو انہیں حصہ دو اور بہت مال دیکھ کر بھی لالچ نہ کرو ان کے حق ادا کرو ۔

عورت کو طلاق

بعض دفعہ میاں بیوی میں ایسی نا چاقی ہو جاتی ہےکہ وہ کسی طرح دور نہیں ہوتی ۔ایسی صورت میں ان کا اکٹھا رکھنا گویا دونوں کو جہنم میں ڈالنا ہے جہاں دونوں ایک دوسرے سے متنفر ہوں وہاں سُکھ کہاں سے آئے گا اس لئے اسلام نے انہیں جُدا ہونے کی اجازت دی ہے لیکن نہایت کڑی شرائط کے ساتھ اور ایک دفعہ کی طلاق کافی نہیں رکھی بلکہ تین دفعہ موقعہ دیا ہے تاکہ شاید پھر اصلاح ہوجائے اور طلاق دینے کے بعد بھی جب تک کامل طور پر جدائی نہ ہو ان کے حقوق کو تسلیم کیا ہے اور فرمایا ہے کہ

اَسۡکِنُوۡہُنَّ مِنۡ حَیۡثُ سَکَنۡتُمۡ مِّنۡ وُّجۡدِکُمۡ (الطلاق:7)

جہاں تک تمہاری طاقت ہے اس کے مطابق ان کو آرام و آسائش سے جہاں اور جس طرح تم رہتے ہو رکھو اور

لَا تُخۡرِجُوۡہُنَّ مِنۡۢ بُیُوۡتِہِنَّ وَ لَا یَخۡرُجۡنَ(الطلاق:2)

انہیں ان کے گھروں سے نکالو نہیں اور وہ خود بھی نہ نکلیں ۔یورپ نے اس کے مقابلہ میں سوائے زنا کے طلاق کی اجازت نہیں دی لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہزاروں مقدمات زنا کے ہوئے ہیں اور بالکل جھوٹے تاکہ ایک دوسرے سے کسی طرح چھٹکارا ہو ۔

دین کے احکام میں عورت آزاد ہے

دین کے احکام میں عورت کو آزاد رکھا گیا ہے ۔اگر وہ یہودی یا عیسائی ہے تو اسے اپنے مذہب کو بجا لانے کی کافی آزادی ہو گی ۔ اور وہ بغیر اپنے مذہب کے تبدیل کرنے کے مسلمان کےگھر میں رہ سکتی ہے ۔

مہر

عورتوں کے مالی پہلو کو مضبوط کرنے کے لئے اور خاوند کے ظلموں سے بچانے کے لئے شریعتِ اسلام نے مہر کا مسئلہ رکھا ہے اور ہر ایکشخصکو نکاح کے وقت اپنی حیثیت کے مطابق ایک رقم مقرر کرنی پڑتی ہے کہ علاوہ اس کے روز مرہ کے اخراجات کی کفالت کے میں اس قدر رقم اسے ادا کروں گا ۔

کیسی پاک اور صاف یہ تعلیم ہے اور کس طرح بجائے فسادات کے بڑھانے کے محبت اور پیار کا اس میں لحاظ رکھا گیا ہے ۔کیا یورپ اپنی تمام ترقیوں کے باوجود اس کے مقابلہ میں اپنے مرتب کردہ حقوق نسواں کو پیش کر سکتا ہے ؟ کبھی نہیں۔ ہم دور کہاں جائیں ۔پنجاب میں عورتیں ارث سے محروم اپنے اموال سے محروم ابھی گھر کی مالک ابھی شریر میاں نے ہاتھ پکڑا اور گھر سے نکال دیا ۔باپ کی خبر ہی نہیں، باپ کے اموال زمینوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں گویا وہ باپ کی بیٹی ہی نہیں۔ میں نے ایک شریف خاندانی کو نصیحت کی تمہاری پھوپھیاں بعض بہت غریب ہیں ۔تم لوگوں کے پاس زمین ہے۔ اس کا بھی حق ہے۔ تم اللہ سے ڈرو ۔دوڑتا ہوا پھوپھی کے پاس گیا۔تُو حصہ مانگتی ہے تجھ کو گوہ دیں گے۔ایک اور بی بی نے مجھے لکھا مسیح ومہدی بھی آئے ہمارا کیا بنایا میرا خاوند نہ طلاق دیتا ہے نہ آباد کرتا ہے نہ نان نہ نفقہ، ہم کیا کریں ۔شریف زادی ہوں کچہریوں سے نا واقف ہوں پولیس سے خائف ہوں اور ممکن ہے اگر وہاں تک جانے کا ارادہ کروں تو قتل کی جاؤں ۔آخر میں نے اس کو کہا کہ تم استغفار دعا سے کام لو ۔

ایک ملاں نے جب دیکھا کہ لڑکی اب حد سے زیادہ تنگ آگئی ہے تو لڑکی کو باضابطہ مسیحی بنایا پھر علماء سے فتویٰ لیا تو انہوں نے فتویٰ دیا مرتدہ کا نکاح باطل ہو گیا ۔اس طرح سے نجات دلاتے ہوئے مشنریوں میں لڑکی پھنسا بیٹھا ۔

یہ ہیں دکھ نمونہ از خروارے

وَ لَا تُمۡسِکُوۡہُنَّ ضِرَارًا(البقرۃ:232)

کا حکم ہوتا تو مشکلات کے وقت اس کو الگ کیا جا تا ۔ مگر قانون نے بے دست و پا کر رکھا ہے اور گورنمنٹ کرے بھی تو کیا کرے ۔

(الفضل قادیان دارالامان مورخہ 9؍جولائی 1913ء)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Check Also
Close
Back to top button
Close