متفرق

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر 64)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

طاعون سے عیسائیوں پر حُجّت

فرمایا : عیسائیوں نے جو شور مچایا تھا کہ عیسیٰ مُردوں کو زندہ کرتا تھا۔اور وہ خدا تھا۔ اس واسطے غیرت الٰہی نے جوش مارا کہ دنیا میں طاعون پھیلائے اور ہمارے مقام کو بچائے تاکہ لوگوں پر ثابت ہو جائے کہ اُمت محمدی کا کیا شان ہے کہ احمدؐ کے ایک غلام کی اس قدر عزت ہے۔ اگر عیسیٰ مُردوں کو زندہ کرتا تھا، تو اب عیسائیوں کے مقامات کو اِس بَلا سے بچائے۔ اس وقت غیرت الٰہی جوش میں ہے۔تا کہ عیسیٰ کی کسر شان ہو۔ جس کو خدا بنایا گیا ہے۔ ؎

چہ خوش ترانہ زد ایں مطرب مقام شناس

کہ درمیان غزل قولِ آشنا آورد

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 271)

اس حصہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فارسی کا یہ شعر استعمال کیا ہے ۔

چِہ خُوْش تَرَانِہ زَدْ اِیْںْ مَطْرَبْ مَقَامْ شَنَاسْ

کِہ دَرْمِیَانْ غَزَل قَوْلِ آشِنَا آوَرْدْ

ترجمہ:۔ اس موقع شناس گویے نے کتنا اچھا راگ گایا،کہ غزل کے اندر محبوب کی بات بھی لے آیا۔

*۔حافظ محمد شیرازی کے دیوان میں شعر اس طرح ملتا ہے

چِہ رَاہ مِیْ زَنَدْاِیْن مَطْرَبْ مَقَام شَنَاس

کہ دَرْمِیَان غَزَل قَوْلِ آشِنَاآوَرْد

اس ماہر اورمقام شناس موسیقار نے کیاخوب ساز بجایاہے کہ غزل کے اندرمحبوب کی بات بھی لے آیا۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Check Also
Close
Back to top button
Close