متفرق مضامین

عربی زبان میں خدا داد فصاحت و بلاغت کا عظیم الشان نشان (قسط سوم)

(محمد طاہر ندیم۔مربی سلسلہ عربک ڈیسک یوکے)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام كا فصیح وبلیغ عربی زبان سیكھنے كا دعویٰ ،اس كے دلائل اور ممكنہ اعتراضات كا علمی ردّ

صرف ونحو كی حقیقت

معترضين اپنی كم علمی اور جہالت كی بنا پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام كی عربی زبان كو آجكل كے معدودے چند معروف قواعد كے میزان میں تولنا چاہتے ہیں۔ اور بہت سے اعتراضات كی اصل وجہ ان كی یہی كم فہمی ہے۔

حضور علیہ السلام كو ان صرف ونحو كے قواعد كی حقیقت كا بھی گہرا علم تھا اس لیے آپ نے عربی قواعد اور صرف ونحو كے بارے میں ایسی رائے درج فرمائی جس كی تصدیق آج كے محققین بھی كررہے ہیں۔

آپؑ نے فرمایا :

’’لغت عرب جو صرف نحو کی اصل کنجی ہے وہ ایک ایسا ناپیدا کنار دریا ہے جو اس کی نسبت امام شافعی رحمۃ اﷲ کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے کہ

لَا یَعْلَمُهُ إلَّا نَبِیٌّ

یعنی اس زبان کو اوراس کے انواع اقسام کے محاورات کو بجز نبی کے اور کوئی شخص کامل طور پر معلوم ہی نہیں کرسکتا۔‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد18صفحہ437)

اس پیرا گراف میں آپ علیہ السلام نے نہایت اختصار كے ساتھ ایسی عظیم الشان دلیل پیش فرمائی ہے كہ آ پ كے محض ایك فقرے میں ساری نام نہاد صرف ونحو كا جنازه نكل جاتا ہے۔ آپؑ نے فرمایا ہے كہ صرف ونحو لغت عرب كے مطابق بنائی گئی ہے۔ چنانچہ صرف ونحو كی كنجی لغت عرب میں ہے۔ اور چونكہ لغت عرب دریائے نا پیدا كنار ہے اس لیے عقل كی بات یہی ہے كہ محدود قواعدِ صرف ونحو میں دریائے نا پیدا كنار كیونكر سما سكتا ہے؟!!

علاوه ازيں حضور علیہ السلام نے صرف ونحو كے فلسفہ پر بھی سیر حاصل بحث فرمائی ہے اور اس كے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں :

’’صرف اور نحو ایک ایسا علم ہے جس کو ہمیشہ اہل زبان کے محاورات اور بول چال کے تابع کرنا چاہئے اور اہل زبان کی مخالفانہ شہادت ایک دم میں نحو وصرف کے بناوٹی قاعدہ کو رد کردیتی ہے۔ ہمارے پر اللہ اور رسول نے یہ فرض نہیں کیا کہ ہم انسانوں کے خود تراشیدہ قواعد صرف و نحو کو اپنے لئے ایسا رہبر قرار دیدیں کہ باوجودیکہ ہم پر کافی اور کامل طور پر کسی آیت کے معنے کھل جائیں اور اس پر اکابر مومنین اہل زبان کی شہادت بھی مل جائے تو پھر بھی ہم اس قاعدہ صرف یا نحو کو ترک نہ کریں۔ اس بدعت کے الزام کی ہمیں حاجت کیا ہے۔ کیا ہمارے لئے کافی نہیں کہ اللہ اور رسول اور صحابہ کرام ایک صحیح معنے ہم کو بتلاویں۔ نحو اور صرف کے قواعد اطراد بعد الوقوع ہے اور یہ ہمارا مذہب نہیں کہ یہ لوگ اپنے قواعد تراشی میں بکلی غلطی سے معصوم ہیں اور ان کی نظریں ان گہرے محاورات کلام الٰہی پر پہنچ گئی ہیں جس سے آگے تلاش اور تتبع کا دروازہ بند ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ بھی ان کو معصوم نہیں سمجھتے ہوں گے۔ آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں إِنْ هٰذَانِ لَسَاحِرَانِبھی آیت موجود ہے۔ لیکن کیا آپ نظیر کے طور پر کوئی قول عرب قدیم کا پیش کرسکتے ہیں جس میں بجائے إِن هَذَينِ کے إِنْ هَذَانِ لکھا ہو۔ کسی نحوی نے آج تک یہ دعویٰ بھی نہیں کیا کہ ہم قواعد صرف و نحو کو ایسے کمال تک پہنچا چکے ہیں کہ اب کوئی نیا امر پیش آنا یا ہماری تحقیق میں کسی قسم کا نقص نکلنا غیر ممکن ہے۔ غرض التزامِ قواعدِ مخترعہ صرف و نحو کا حُجَجِ شرعیہ میں سے نہیں۔ یہ علم محض از قبیل اطراد بعد الوقوع ہے اور ان لوگوں کی معصومیت پر کوئی دلیل شرعی نہیں مل سکتی۔ خواص ِعلمِ لغت ایک دریا ناپیدا کنار ہے۔ افسوس کہ ہماری صرف و نحو کے قواعد مرتب کرنے والوں نے بہت جلد ہمت ہار دی اور جیسا کہ حق تفتیش کا تھا بجا نہیں لائے۔ اور کبھی انہوں نے ارادہ نہیں کیا اور نہ کرسکے کہ ایک گہری اور عمیق نظر سے قرآنی وسیع المفہوم الفاظ کو پیش نظر رکھ کر قواعد تامہ کاملہ مرتب کریں اور یوں ہی ناتمام اپنے کام کو چھوڑ گئے۔ ہمارے ایمان کا تقاضا یہ ہونا چاہئے کہ ہم کسی طرح قرآن کریم کو ان کا تابع نہ ٹھہراویں بلکہ جیسے جیسے خواص وسیع المفہوم قرآن کریم کے الفاظ کے کھلنے چاہئیں اسی کے مطابق اپنی پرانی اور ناتمام نحو کو بھی درست کر لیں۔ یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ ہر یک زبان ہمیشہ گردش میں رہتی ہے اور گردش میں رہے گی۔ جو شخص اب ملک عرب میں جا کر مشاہدہ کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ کس قدر پہلی زبانوں سے اب عربی زبان میں فرق آگیا ہے یہاں تک کہ اقعدکی جگہ اگد بولا جاتا ہے۔ ایسا ہی کئی محاورات بدل گئے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ جس زمانہ میں صرف و نحو کے قواعد مرتب کرنے کیلئے توجہ کی گئی وہ زمانہ کس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ سے فرق کر گیا تھا اور کیا کچھ محاورات میں تبدل واقعہ ہوگیا تھا۔ نحوی اور صرفی اس بات کے بھی تو قائل ہیں کہ باوجود ترتیبِ قواعد کے ایک حصہ کثیرہ خلاف قیاس الفاظ اور خلاف قیاس ترتیب الفاظ کا بھی ہے جس کی حد ابھی غیر معلوم ہے، جو ابھی تک کسی قاعدہ کے نیچے نہیں آسکا۔ غرض یہ صرف اور نحو جو ہمارے ہاتھ میں ہے صرف بچوں کو ایک موٹی قواعد سکھلانے کیلئے ہے۔ اس کو ایک رہبر معصوم تصور کر لینا اور خطا اور غلطی سے پاک سمجھنا انہیں لوگوں کا کام ہے جو بجز اللہ اور رسول کے کسی اور کو بھی معصوم قرار دیتے ہیں۔ اللہ جلّ شانہٗ نے ہمیں یہ فرمایا ہے

فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ إِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُولِ

یعنی اگر تم کسی بات میں تنازع کرو تو اس امر کا فیصلہ اللہ اور رسول کی طرف رد کرو اور صرف اللہ اور رسول کو حَکم بناؤ نہ کسی اور کو۔ اب یہ کیونکر ہوسکے کہ ناقص العلم صرفیوں اور نحویوں کو اللہ اور رسول کو چھوڑ کر اپنا حَکم بنایا جائے۔ کیا اس پر کوئی دلیل ہے۔ تعجب کہ متبع سنت کہلا کر کسی اور کی طرف بجز سر چشمہ طیبہ مطہرہ اللہ رسول کے رجوع کریں۔ آپ کو یاد رہے کہ میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قواعد موجودہ صرف و نحو غلطی سے پاک ہیں یا بہمہ وجوہ متمم و مکمل ہیں۔ اگر آپ کا یہ مذہب ہے تو اس مذہب کی تائید میں تو کوئی آیت قرآن کریم پیش کیجئے یا کوئی حدیث صحیح دکھلائیے ورنہ آپ کی یہ بحث بے مصرف فضول خیال ہے، حجت شرعی نہیں۔ میں ثابت کرتا ہوں کہ اگر فی الحقیقت نحویوں کا یہی مذہب ہے کہ نون ثقیلہ سے مضارع خالص مستقبل کے معنوں میں آجاتا ہے اور کبھی اور کسی مقام اور کسی صورت میں اس کے برخلاف نہیں ہوتا تو انہوں نے سخت غلطی کی ہے۔ قرآن کریم ان کی غلطی ظاہر کررہا ہے اور اکابر صحابہ اس پر شہادت دے رہے ہیں۔ حضرت انسانوں کی اور کوششوں کی طرح نحویوں کی کوششیں بھی خطا سے خالی نہیں۔ آپ حدیث اور قرآن کو چھوڑ کر کس جھگڑے میں پڑ گئے۔ ‘‘

(الحق مباحثہ دہلی، روحانی خزائن جلد4صفحہ 183-184)

قواعد صرف ونحو كے بارے میں حضور علیہ السلام کےاس اقتباس میں مذكور فلسفہ كا خلاصہ یہ ہے كہ

٭…علمائے قواعد وصرف غلطی سے مبّرا یا خطا سے معصوم نہیں ہیں۔

٭…عربی زبان كے قواعد قطعی نہیں ہیں نہ ہی اس معنی میں جامع ومانع ہیں كہ ہر قسم كے تمام امور كو ان میں سمٹا ہوا تصور كیا جائے۔ اس لیے بہت سے ایسے امور ہو سكتے ہیں جو ان میں سے كسی قاعدے كے تحت نہ آتے ہوں۔

٭…علمائے قواعد وصرف كے بنائے ہوئے قواعد كی پابندی كوئی حجت شرعی نہیں كہ جس كا ہر حال میں التزام كیا جائے۔

٭…صرف ونحو كی كنجی لغت عرب میں ہے۔ اور چونكہ لغت عرب دریائے نا پیدا كنار ہے اس لیے عقل كی بات یہی ہے كہ محدود قواعد صرف ونحو میں دریائے نا پیدا كنار کا سمانا محال ہے؟

٭…عربی زبان كا مكمل احاطہ سوائے نبی كے كوئی نہیں كرسكتا۔

٭…نحویوں كا عربی زبان كے قواعد بنانے كا عمل ناقص اور نامكمل ہے۔

٭…فہم قرآن كی بناصرف آج كل كے معروف قواعدپر نہیں ہونی چاہیے بلكہ قرآن كریم كو ان تمام قواعد پر مہیمن ہے۔ اس امر کو مدِ نظر رکھ كر قرآن كریم كو سمجھنے كی ضرورت ہے یعنی اگر ان میں تبدیلی سے قرآن كریم كے خواص اور مفاہیم ظاہر ہوتے ہیں توایسے قاعده كو تبدیل كرنا عین درست ہو گا۔ اسی طرح اگر كوئی قاعده قرآن كریم كے نئے مفاہیم ظاہر كرنے والا ہو تو اسے ضرور عربی زبان كے مضبوط قواعد میں سے ایك قاعده قرار دیا جانا چاہیے۔

٭…نحوی اس بات كا اعتراف كرتے ہیں كہ عربی زبان میں بہت سے ایسے الفاظ بھی موجود ہیں جو عربی زبان كے معروف قواعد كے تحت نہیں آتے۔

حضور علیہ السلام كے اس موقف كی تائیددَور حاضر كے بڑے بڑے نحوی بھی كرتے ہیں۔ النحو الوافی كے مصنف عباس حسن صاحب نحو كے بارے میں لكھتے ہیں کہ نحو كے بارے میں سب سے پہلے جو كسی محقق كو پڑھنے كو ملتا ہے وه كسی نحوی مسئلہ میں مختلف آرا اور ان آرا كی بنا پر کسی بھی ایک مسئلہ میں مختلف نحویوں كے مختلف احكام يا قواعد ہیں۔ یہاں تك ان میں سے اگر كوئی كسی رائے كے بارے میں اس یقین پر بھی پہنچ جائے كہ وه رائے سب سے زیاده درست ہے تب بھی اسی معاملہ میں كوئی عام آدمی بغیر تحقیق كیے بآسانی كہہ سكتا ہے كہ ایك رائے اس موقف كے خلاف بھی ہے۔ كیونكہ وه جانتا ہے كہ نحو اور اس كے قواعدمیں سے كوئی قاعده بھی دو یا اس سے زیاده متضاد آرا سے خالی نہیں ہے۔

(ملخص از صريح الرأي في النحو العربي داؤه و دواؤه المقالة الأولی للأستاذ عباس حسن)

علم نحوكے اصول كے بارے میں بہت زیاده اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں دو معروف مدرسے بصری اور كوفی میں بھی حد درجہ اختلاف ہے۔ كوفی تو ہر چیز كو لے لیتے ہیں چاہے اس كے بارے میں صرف ا یك مثال ہی مذكور ہوئی ہو، اس لیے انہوں نے قرآن كریم كی قراءات كو بھی بطور حجت اخذ كیا ہے۔ لیكن بصری كہتے ہیں كہ محض ایك مثال سے كوئی لغت فصیح نہیں كہلا سكتی۔ لیكن اس كے ساتھ ساتھ انہوں نے كوئی معیار یا تعداد بھی مقرر نہیں كی جس كی بنا پر كسی لغت كو فصیح یا غیر فصیح قرار دیا جاسكے۔

یہ اختلاف بذات خود حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام كے اقوال كی صداقت كا اعتراف ہے كہ قواعد صرف ونحو كوئی شرعی حجت نہیں ہیں كہ جسے آنكھیں بند كر كے قبول كر لیا جائے۔ نہ ہی یہ تمام لغات اوراستعمالات پر نظر كر كے بنائے گئے ہیں۔ بلكہ جب تمام علمائے لغت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بہت سا ادب اور لغات اور علم ضائع ہو گیا تو پھر باقی ادب اور علم كی بنا پر بننے والے قواعدبھی ناقص ہی رہیں گے۔

اس سارے مضمون كی مزید وضاحت كرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:

’’جب تک زبان عرب میں پورا پورا توغل نہ ہو اورجاہلیت کے تمام اشعار نظر سے نہ گذر جائیں اور کتب قدیمہ مبسوطہ لغت جو محاورات عرب پر مشتمل ہیں غور سے نہ پڑھے جائیں اور وسعت علمی کا دائرہ کمال تک نہ پہنچ جائے تب تک عربی محاورات کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا اور نہ اُن کی صرف اور نحو کا باستیفاء علم ہو سکتا ہے۔ ‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد18صفحہ436)

اگر كسی كا علم اس سے كم ہے تو ہو سكتا ہے کہ عربی زبان كے صرف ونحو وغیره كے كچھ قواعد اور ادب كے كچھ محاورات اور تراكیب واستعمالات اس كی نظر سے اوجھل ره گئے ہوں اور وه جہالت كی بنا پر اعتراض كر بیٹھے۔

جہاں تك آج كل كے محدود قواعدصرف ونحو كا تعلق ہے تو وه محض بنیادی معلومات اور روز مره كی سطحی زبان كے لیے استعمال ہو سكتے ہیں۔ كامل وسعت علمی كو آج كے محدود قواعد كے اندر ركھ كر جانچنا جہالت متصور ہو گا۔

یہاں تك ہم نے حضور علیہ السلام كے عربی زبان میں بسطت كاملہ كے دعویٰ كو اجمالی طورپر اورلغات عرب كے بارے میں قدرے تفصیل كے ساتھ بیان كیا ہے۔

آپ کے اس دعویٰ كا ثبوت آپ كی كتب ہیں جن میں نہ صرف لغاتِ عرب كی بہت سی مثالیں ہیں بلكہ سیرة الابدال جیسی تصنیف میں عربی كے ایسے مفردات، تراكیب اور مادےبھی استعمال ہوئے ہیں جن كو عرب بھلا بیٹھے ہیں۔

اب ہم حضور علیہ السلام كی عربی دانی پر مخالفین كے اعتراضات كا جائزه لیتے ہیں اور ان كے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام كے ایك ایك جملے میں چھپے معانی كے سمندر كی طرف اشاره كرنے كی كوشش كرتے ہیں۔ كیونكہ حضور علیہ السلام نے اپنے جوابات كے دوران عربی زبان كے بارے میں اپنے دعویٰ كے بعض نہایت اہم اور عظیم الشان پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

حضور علیہ السلام كی تحریرات پر ممكنہ  اعتراضات ان كے مآخذ كا بیان اور ان كے ردّ كا طریق

معترضین كے اعتراضات پر حضور علیہ السلام كے جوابات كا مطالعہ كرنے سے معلوم ہوتا ہے كہ حضور علیہ السلام كو مخالفین كے اعتراضات كی نوعیت كا بھی علم تھا اوراپنے خداداد علم كے كما ل پر بھی ایسا یقین كامل تھا كہ جو آپ نے لكھا ہے وه حقیقی اغلاط سے مبّرا ہے كیونكہ وه خدائی تصرف سے لكھا گیا ہے اس لیے آپ كی تحریر یا اسلوب میں جس بات پر اعتراض كیا جاتا ہے اس قاعده یا اسلوب كی مثال عربی لٹریچر میں كہیں نہ كہیں ضرور مل جائے گی۔ مثلاً فرمایا:

’’ایک نادان نکتہ چینی کرتا ہے کہ فلاں صلہ درست نہیں یا ترکیب غلط ہے، اور اسی قسم کا صلہ اور اسی قسم کی ترکیب اور اسی قسم کا صیغہ قدیم جاہلیت کے کسی شعرمیں نکل آتا ہے۔ ‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18صفحہ436)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام كی عربی تحریرات پر اعتراضات كے جواب میں آج تك جو كام جماعت نے كیا ہے وه بعینہٖ حضور علیہ السلام كے بتائے ہوئے طریق كے مطابق ہے یعنی ایسے استعمالات جن پر اعتراض كیا جاتا ہے اس كی مثال اور دلیل كسی نہ كسی پرانی كتاب سے یا پرانی لغات یا قاعده سے تلاش كی جاتی ہے اور وه مل جاتی ہے۔

اس بیان سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے كہ حضور علیہ السلام نے جو كچھ لكھا اس كی حقیقت كے بارے میں بھی آپ كو گہرا علم تھا اورآپ نے اس كے مصادر وغیره كی طرف بھی اپنی تحریرات میں اشارے فرمادیے تھے۔

صرفی نحوی قواعد كے خلاف عبارتوں كی تطبیق كا طریق

آپ علیہ السلام كی تحریرات میں جہاں بظاہر صرفی نحوی قواعد كی پابندی نظر نہیں آتی وه كوئی سہو نہیں بلكہ اس كے بارے میں بھی حضور علیہ السلام كو علم تھا اور آپ نے اس كے جواب دینے كے لیے بھی خود راه دكھا ئی تھی۔ فرمایا:

’’یہ عجیب بات ہے کہ بعض اوقات بعض فقروں میں خداتعالیٰ کی وحی انسانوں کی بنائی ہوئی صرفی نحوی قواعد کی بظاہر اتباع نہیں کرتی مگر ادنیٰ توجہ سے تطبیق ہوسکتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض نادانوں نے قرآن شریف پر بھی اپنی مصنوعی نحو کو پیش نظر رکھ کر اعتراض کئے ہیں مگر یہ تمام اعتراض بیہودہ ہیں۔ ‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد18صفحہ436)

پھر فرمایا:

’’زبان کا علم وسیع خدا کو ہے نہ کسی اور کو۔ اور زبان جیسا کہ تغیر مکانی سے کسی قدر بدلتی ہے ایسا ہی تغیر زمانی سے بھی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ آج کل کی عربی زبان کا اگر محاورہ دیکھاجائے جو مصر اور مکّہ اور مدینہ اور دیارِ شام وغیرہ میں بولی جاتی ہے تو گویا وہ محاورہ صَرف و نحو کے تمام قواعد کی بیخ کنی کر رہاہے اور ممکن ہے کہ اسی قسم کا محاورہ کسی زمانہ میں پہلے بھی گذر چکا ہو۔ پس خدا تعالیٰ کی وحی کو اس بات سے کوئی روک نہیں ہے کہ بعض فقرات سے گذشتہ محاورہ یا موجودہ محاورہ کے موافق بیان کرے۔ اِسی وجہ سے قرآن میں بعض خصوصیات ہیں۔ ‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18صفحہ436)

پرانی عربی لغات اورمختلف قبائل اور علاقوں كے مختلف لہجے سارے فصیح عربی زبان كا حصہ تھے۔ لیكن آج كل كے عربی لہجے بہت بگڑ گئے ہیں اورحضور علیہ السلام كی یہ بات سو فیصد درست ہے كہ آج كل دیار عربیہ میں بولی جانے والی عربی زبان صرف ونحو كے تمام قواعد كی بیخ كنی كررہی ہے۔ ہو سكتا ہے ایسا كوئی لہجہ پہلے بھی گزرا ہو اور خدا نے جواسلوب حضور علیہ السلام كو سكھایا ہے یا جو وحی فرمائی ہے وه اس پرانے محاوره كے مطابق ہو۔

اس كلام سے واضح ہوتا ہے كہ حضور علیہ السلام كو اپنی وحی پر كس قدر یقین تھا اور كتنے وثوق سے آپ فرماتےہیں كہ یہ كسی نہ كسی پرانے محاوره كے مطابق درست ہو گی، صرف تلاش كرنے كی ضرورت ہے۔

آج جو بھی معترضین كے جواب دینے كی كوشش كرتا ہے اس كی تحقیق كا ما حصل یہی ایك جملہ ہے كہ ’’ادنیٰ توجہ سے تطبیق ہوسکتی ہے۔ ‘‘كیونكہ تھوڑی سی محنت سے ہر مقام اعتراض كی مثال پرانی كتب سے مل جاتی ہے۔

كیا حضور كی كتب میں سہو وغیره كی كوئی غلطی نہیں؟!

مذكوره بالا ساری بحث كا یہ مطلب نہیں كہ حضور علیہ السلام كی عربی كتب میں نظر آنے والی ہر غلطی كے بارے میں ہمارا یہی موقف ہونا چاہیے كہ كسی نہ كسی قاعده كی رو سے یہ درست ہوگی۔ كیونكہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود بعض ایسی غلطیوں كی موجودگی كا ذكرفرمایا ہے تو ہمیں بھی اس سے انكار نہیں ہے۔ لیكن حضور علیہ السلام كے بیان میں جو اس كی تصریح ہے اسے ہمیشہ سامنے ركھنا چاہیے۔ آپؑ نے فرمایا ہے كہ

’’جوشخص عربی یا فارسی میں مبسوط کتابیں تالیف کرے گا ممکن ہے کہ حسب مقولہ مشہورہ

قَلَّمَا سَلِمَ مِکْثَارٌ

کے کوئی صرفی یا نحوی غلطی اُس سے ہو جائے اور بباعث خطاء نظر کے اُس غلطی کی اصلاح نہ ہوسکے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ سہو کاتب سے کوئی غلطی چھپ جائے اوربباعثِ ذہولِ بشریت، مؤلف کی اسپر نظر نہ پڑے۔ ‘‘

(كرامات الصادقین روحانی خزائن جلد7 صفحہ47)

نیز فرمایا:

’’إِنّ كُتُبِي مُبَرَّأَةٌ مِمَّا زَعَمْتَ، وَمُنَزَّهَةٌ عَمَّا ظَنَنْتَ، إِلَّا سَهْوَ الكاتِبِيْنَ، أَوْ زَيْغَ القَلَمِ، بِتَغَافُلٍ مِنِّي لَا كَجَهْلِ الْجَاهِلِيْنَ‘‘

(مَكْتوب أَحْمَد، روحانی خزائن جلد11صفحہ241-242)

یعنی میری كتب تمہاری مزعومہ غلطیوں اورمظنونہ اخطاسے مبّرا ہیں سوائے اس غلطی كے جو كاتبین كی سہو ہو، یا لغزشِ قلم ہو، یا میری غفلت سے ره گئی ہو، نہ كہ جہالت كی وجہ سے صادر ہوئی ہو۔

اسی طرح ایك مقام پر فرمایا:

’’اکثر جلد باز نکتہ چین خاص کر شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی جو ہماری عربی کتابوں کو عیب گیری کی نیت سے دیکھتے ہیں بباعث ظلمت تعصب، کا تب کے سہو کو بھی غلطی کی مد میں ہی داخل کر دیتے ہیں۔ ‘‘

(سرّ الخلافہ، روحانى خزائن جلد 8 صفحہ 316)

اس كا مطلب ہے حضور علیہ السلام نے بعض نكالی گئی غلطیوں كو چیك كر كےدیكھا كہ وه كاتب كی غلطی ہے اور پھر یہ جواب دیا كہ كاتب كی غلطی كو میری غلطی شمار نہ كیا جائے۔ آگے اس كی مزید وضاحت ہو جاتی ہے كہ بعض لوگوں نے سہو كاتب والی غلطیاں نكال كر حضورعلیہ السلام كو بھیجیں اور حضور علیہ السلام كے چیلنج كے مطابق ان پر انعام حاصل كرنے كا مطالبہ كیا۔ اس بارے میں حضور علیہ السلام نے خود تحریر فرمایا:

’’بعض خوش فہم آدمی چند سہو کاتب یا کوئی اتفاقی غلطی نکال کر انعام کے امیدوار ہوئے۔ ‘‘

(سرّ الخلافہ، روحانى خزائن جلد 8 صفحہ 316)

اس كا مطلب ہے اتفاقی غلطی اور سہو كاتب ہوا، اور حضورعلیہ السلام كے سامنے آیا۔ اورجہاں واضح طور پر اس كا پتہ چلا وہاں حضور علیہ السلام نے اسے خود تسلیم فرمایا ہے۔لیكن اس كے لیے بھی حضور علیہ السلام نے خود ایك شاندار قاعده بنا دیا۔

كتابت كی غلطیوں اور سہو كاتب كے بارے میں اصولی ہدایت

یہ سوال ہو سكتا تھا كہ یوں تو ہر غلطی كے بارے میں كہا جاسكتا ہے كہ سہو كاتب یا لغزش قلم ہے۔ لیكن آپ علیہ السلام نے اس كے بارے میں بھی اصولی ہدایت بھی دے دی اور وضاحت بھی فرما دی۔ فرمایا:

’’درحقیقت ہماری صرفی یا نحوی غلطی صرف وہی ہو گی جس کے مخالف صحیح طور پر ہماری کتابوں کے کسی اور مقام میں نہ لکھا گیا ہو۔ مگر جب کہ ایک مقام میں کسی اتفاق سے غلطی ہو اور وہی ترکیب یا لفظ دوسرے دس بیس یا پچاس مقام میں صحیح طور پر پایا جاتا ہو تو اگر انصاف اور ایمان ہے تو اس کو سہو کاتب سمجھنا چاہیئے نہ غلطی۔ ‘‘

(سرّ الخلافہ، روحانی خزائن جلد8صفحہ 316)

اس بیان سے بھی ثابت ہوتا ہے كہ حضورعلیہ السلام خود بعض سہو كاتب وغیره كی قسم كی غلطیوں كو تسلیم فرماتے ہیں لیكن اگر وه لفظ یا تركیب دیگر مقامات پر حسب قواعد درست طور پر تحریر ہے تو لازم آتا ہے كہ اسے سہو كاتب تسلیم كیا جائے۔ چنانچہ كسی بھی سمجھی جانے والی غلطی كے بالمقابل حضورعلیہ السلام كی كتب سے اس كے درست استعمالات نكال كر پیش كردیے جائیں تو حضور علیہ السلام كے بتائے ہوئے طریق كے مطابق خود بخود ایسے اعتراضات كا ردّ ہو جائے گا۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close