اختلافی مسائل

امّت محمدیہؐ کا نبی امّت محمدیہؐ میں سے کیوں نہیں آسکتا؟

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں امت محمدیہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتاہے:

کُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ … (آل عمران:111)

ترجمہ:تم بہترىن امّت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لیے نکالى گئى ہو تم اچھى باتوں کا حکم دىتے ہو اور برى باتوں سے روکتے ہو…

احادیث میں ذکر موجود ہے کہ امت محمدیہ کی فضیلت حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے بیان کی گئی تو ان کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ انہیں امت محمدیہ کا نبی بنایا جائے۔ حدیث کچھ اس طرح ہے کہ

قال اجعلنی نبی تلک الامۃ قال نبیھا منھا قال اجعلنی من امۃ ذالک النبی قال استقدمت واستاخر ولکن ساجمع بینک وبینہ فی دار الجلال

(الخصائص الکبریٰ تالیف الحافظ جلا ل الدین السیوطی الجزء الاول صفحہ نمبر 33دارالکتب الحدیثہ )

اس مکمل روایت کاترجمہ کچھ یوں ہے:

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :بنی اسرائیل کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرمائی کہ جو شخص مجھ سے اس حال میں ملے کہ وہ احمد مجتبیٰﷺ کا منکر ہے تو میں اسے جہنم میں داخل کروں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا :اے ربّ! احمد کون ہے ؟فرمایا :

’’میں نے کسی مخلوق کو ان سے بڑھ کر مکرم نہیں بنایا اور میں نے ان کا نام تخلیق آسمان و زمین سے پہلے عرش پر لکھا۔ بلاشبہ میری تمام مخلوق پر جنت حرام ہے جب تک وہ ان کی امت میں داخل نہ ہو۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا ان کی امت کیسی ہے؟ فرمایا :وہ بہت زیادہ حمد کرنے والی امت ہے جو چڑھتے ہوئے اور اترتے ہوئے ہر حال میں خدا کی حمد کرنے والی ہے۔ وہ اپنی کمریں باندھیں گے اور اعضاء کو پاک کریں گے۔ وہ دن میں روزہ دار اور رات کو ذکر واذکار اور عبادت میں گزار دیں گے۔ ان کے قلیل عمل کو قبول کروں گا اور لا الہ الا اللّٰہکی شہادت پر ان کو جنت میں داخل کروں گا۔

عرض کیا اس امت کا نبی مجھے بنا دے ؟فرمایا :اس امت کا نبی انہیں میں سے ہوگا۔ عرض کیا مجھے اس نبی کا امتی بنا دے؟ فرمایا تمہارا زمانہ پہلے ہے اور ان کا زمانہ آخر میں ‘‘۔

(الخصائص الکبریٰ از علامہ جلا ل الدین سیوطی رحمہ اللہ ترتیب وتدوین مولانا عبد الاحد قادری جلد اول صفحہ نمبر30ممتاز اکیڈمی اردو بازار لاہور )

دیوبندی عالم مولانا اشرف علی تھانوی اپنی کتاب میں اس روایت کو درج کرتے ہیں کہ

’’حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا :اے رب ! مجھ کو اس امت کا نبی بنا دیجئے۔ ارشاد ہوا ! اس امت کا نبی اسی میں سے ہوگا۔ عرض کیا ! تو مجھ کو ان (محمدﷺ )کی امت میں سے بنا دیجئے۔ ارشاد ہوا!تم پہلے ہوگئے۔ وہ بعد میں آئیں گے۔ ‘‘

(تذکرۃ الحبیبﷺ تسہیل نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیبﷺ تالیف مولانا اشرف علی تھانوی کاوش مولانا ارشاد احمد فاروقی صفحہ نمبر 281، 282زمزم پبلشرز )

’’حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا خداوندا ! مجھے اس امّت کا نبی بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس امت کا نبی ان کی قوم سے ہی ہوگا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا۔ الٰہی مجھے اس امّت کا نبی بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے کہا آپ کو پہلے بھیجا گیا ہے جب کہ انہیں میں بعد میں مبعوث کروں گا۔ ہاں میں تمہیں اور ان کو دارا لجلال میں اکٹھا کردوں گا۔‘‘

(جواہر البحار فی فضائل النبی المختار (اردو )جلد سوم از علامہ امام محمد یوسف بن اسمٰعیل نبہانی مترجم احمد دین توگیروی صفحہ نمبر 112، 113ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور 1999ء )

غور طلب امر

امّت محمدیہ کی فضیلت کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خواہش کہ انہیں اس امت کا نبی بنایا جائے، پوری نہیں ہوتی اور یہ کہا گیا کہ اس امت کا نبی اسی میں سے ہوگا لیکن آج کل کے مسلمان علماء یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس امت محمدیہ میں سےتو اب کوئی نبی نہیں ہوسکتا لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس امت محمدیہ میں نبی کے طور پر آئیں گے حالانکہ قرآن کریم انہیں

وَرَسُوْلًا إِلٰى بَنِي إِسْرَائِيْلَ (آل عمران: 50)

(اور وہ رسول ہوگا بنى اسرائىل کى طرف) کے طورپربیان فرماتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ان علماء کے عقیدہ کے مطابق جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس دنیا میں آئیں گے تو وہ قرآن کریم کی اس آیت وَرَسُوْلًا إِلٰى بَنِي إِسْرَائِيْلَکی تلاوت کرنے کے بعدامت محمدیہ کی طرف رسول بن کر آنے کو قرآن کریم کی روشنی میں کیسے بیان کریں گے نیز وہ اس حدیث کی کیا تشریح بیان کریں گے جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خواہش کے باوجودان کو اس امت محمدیہ کا نبی نہیں بنایا گیا تھا۔

(مرسلہ:ابنِ قدسی)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close