متفرق مضامین

بنیادی مسائل کے جوابات (نمبر7)

(ظہیر احمد خان۔ مربی سلسلہ، انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

٭…حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد سے کیا مراد ہے کہ’’ قرآن کریم میں چور کے ہاتھ کاٹنے اورزانی کو رجم کرنے کا واضح حکم آیا ہے‘‘؟

٭… کیا پاکستان کے بینکوں میں جمع کرائی جانےوالی رقم پر ملنے والے منافع کو اپنے ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے؟

٭…کیا ارتداد اختیار کرنے والے افراد کے نام اور ان کی خدمات کو تاریخ احمدیت سے حذف کر دینا مناسب ہے؟

٭…حضرت مسیح موعود علیہ السلام کالہام ’’پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہو گی‘‘ کے متعلق حضور انور کیا فرماتے ہیں ؟

٭…جو لوگ خود کو مسلمان تو کہتے ہیں، لیکن اسلام کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، ان لوگوں کو کس طرح تبلیغ کی جائے؟

٭…دَور اسیری کے متعلق حضور انور کی کیا یادیں ہیں ؟

٭… حضور انور کی خدمت میں ’’اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے حضور بنگلہ دیش کےلیے کوئی ایسی دعا کر دیں، جس سے ہماری کایا پلٹ جائے۔ ‘‘کی درخواست پیش ہونےپر حضور انور کا جواب

سوال:ایک دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کہ’’ قرآن کریم میں چور کے ہاتھ کاٹنے اورزانی کو رجم کرنے کا واضح حکم آیا ہے‘‘کے حوالے سے تحریر کیا کہ قرآن کریم میں چور کے ہاتھ کاٹنے کا تو ذکر موجود ہے لیکن زانی کو رجم کرنے کا کسی آیت میں ذکر نہیں ؟اس بارے میں رہ نمائی کی درخواست ہے۔ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 15؍ اکتوبر 2018ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطافرمایا:

جواب: اسلامی سزاؤں کے عموماً دو پہلو ہیں ایک انتہائی سزا اور ایک نسبتاً کم سزا۔ اور ان سزاؤں کا بنیادی مقصد برائی کی روک تھام اور دوسروں کےلیے عبرت کا سامان کرنا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضورﷺ اور خلفائے راشدین کے عہد مبارک میں ہر قسم کے چور کو ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں دی گئی مثلاً کھانے پینے کی اشیاء کی چوری پر کبھی ہاتھ نہیں کاٹا گیا۔ لیکن اگر کوئی چور کسی عورت کا زیور چھینتے ہوئے اس کے ہاتھ کان زخمی کر دیتا ہے یا اس کے کسی Organکو ایسا نقصان پہنچا دیتا ہے کہ وہ کسی معذوری کا شکار ہو جاتی ہے تو ایسے چور کو پھر اس کے جرم کے مطابق سزا دی جاتی ہے جس میں ہاتھ کاٹنے کی بھی سزا شامل ہے۔

اسی طرح جو زنا باہمی رضامندی سے ہوا ہو اگر وہ اسلامی طریقۂ شہادت کے ساتھ ثابت ہو جائے تو فریقین کو سو کوڑوں کی سزا کا حکم ہے۔ لیکن جس زنا میں زبردستی کی جائے اور اس میں نہایت وحشیانہ مظالم کا جذبہ پایا جاتا ہو۔ یا کوئی زانی چھوٹے بچوں کو اپنے ظلموں کا نشانہ بناتے ہوئےاس گھناؤنی حرکت کا مرتکب ہوا ہو تو ایسے زانی کی سزا صرف سوکوڑے تو نہیں ہو سکتی۔ ایسے زانی کو پھر قرآن کریم کی سورۃ المائدۃ آیت 34 اور سورۃ الاحزاب کی آیت 61تا 63 میں بیان تعلیم کی رو سے قتل اور سنگساری جیسی انتہائی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ لیکن اس سزا کا فیصلہ کرنے کا اختیار حکومت وقت کودیا گیا ہے اور اس تعلیم کے ذریعہ عمومی طور پر حکومت وقت کےلیے ایک راستہ کھول دیا گیا۔

چنانچہ انہیں آیات قرآنیہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اسی قسم کے زانی کےلیے سنگساری کی سزا کے قرآن کریم میں بیان ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔

سوال:ایک دوست نےحضورانورایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت اقدس میں پاکستان کے بینکوں میں جمع کرائی جانےوالی رقوم پر ملنے والے منافع کو اپنے ذاتی استعمال میں لانے کی بابت مسئلہ دریافت کیا ہے۔ جس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 26؍نومبر2018ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطافرمایا:

جواب:پاکستان کے بینک عموماً PLSیعنی نفع نقصان میں شراکت کے طریق کار کے تحت رقوم جمع کرتے ہیں۔ اس سسٹم کے تحت جمع کرائی جانے والی رقوم پر ملنے والی زائد رقم سود کے زمرہ میں نہیں آتی۔ اسی طرح حکومتی بینکوں میں جمع کروائی جانے والی رقوم پر ملنے والی زائد رقم بھی سود شمار نہیں ہوتی۔ کیونکہ حکومتی بینک اپنے سرمایہ کو رفاہی کاموں پر لگاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ملکی باشندوں کی سہولتوں کےلیے مختلف منصوبے بنائے جاتے ہیں، معیشت میں ترقی ہوتی ہے اور افراد ملک کےلیے روز گار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے بینکوں سے ملنے والے منافع کو ذاتی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

جہاں تک سود کا تعلق ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی یہ تعریف فرمائی ہے کہ ایک شخص اپنے فائدہ کےلیے دوسرے کو روپیہ قرض دیتا ہے اور فائدہ مقرر کرتا ہے۔ یہ تعریف جہاں صادق آوے گی وہ سود کہلائے گا۔

اسلام نے جس سود سے منع فرمایا ہے اس میں غرباء کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں قرض دیتے وقت اس پر پہلے سے سود کی ایک رقم معین کر لی جاتی تھی اور غریب اس سود در سود کے بوجھ تلے دبتا چلا جاتا تھا اور یہ قرض اور سود کبھی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔ جبکہ موجودہ زمانہ میں اگر کوئی قرض لی ہوئی رقم واپس کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو اور اس کا دیوالیہ نکل جائے تو Bankruptcy کے تحت وہ قرض ختم بھی ہو جاتا ہے۔

اسی لیے اس زمانہ کے حکم و عدل سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ’’اب اس ملک میں اکثر مسائل زیر و زبر ہو گئے ہیں۔ کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔ اس لئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔‘‘ اور حضور علیہ السلام کے اس ارشاد کی روشنی میں جماعت احمدیہ اس بارے میں مختلف معاملات اور مسائل سامنے آنے پر تحقیق کرتی رہتی ہے۔ اور اب بھی اس پر مزید تحقیق ہو رہی ہے۔

سوال:ایک دوست نے ’’فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام‘‘ کے Revised ایڈیشن کے بارے میں تحریر کیا کہ اس کتاب کے پبلشر فخر الدین ملتانی صاحب نے چونکہ ارتداد اختیار کر لیا تھا اس لیے ان کے نام اور ان کے تحریر کردہ دیباچہ کو اس ایڈیشن سے حذف کر دینا چاہیے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 26؍ نومبر 2018ء میں اس کا جماعتی اقدار و روایات کے مطابق نہایت خوبصورت درج ذیل جواب عطافرمایا:

جواب:مذکورہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتاویٰ پر مشتمل ہے او رفخر الدین ملتانی صاحب نے 1935ء میں اسے مرتب کیا تھا۔ یہ کتاب جماعتی لٹریچر میں کافی عرصہ استعمال ہوتی رہی ہے۔ لیکن اس میں کتابت اور حوالہ جات کی بہت زیادہ غلطیاں تھیں۔

چنانچہ کتابت اورحوالہ جات کی غلطیوں کو اس نئے ایڈیشن میں درست کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ اس کتاب کے پبلشر اور مؤلف فخرالدین ملتانی صاحب تھے، اب اگر ہم ان کے نام اور ان کے تحریر کردہ دیباچہ کو اس نئے ایڈیشن میں سے حذف کردیں تو یہ درست بات نہیں ہو گی۔ کیونکہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض رفقاء جو حضور کی وفات کے بعد اپنی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے جماعت سے الگ ہو گئے تھے لیکن انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں مختلف کاموں میں جماعت کی خدمت کی توفیق پائی اور ان کے نام تاریخ احمدیت میں شامل ہیں۔ آپ کی اس تجویز کے مطابق تو پھر ہمیں ان سب احباب کے نام اور ان کی خدمت کو بھی تاریخ احمدیت سے نکال دینا چاہیے۔ لیکن یہ بات جماعتی اخلاقیات اور روایات کے خلاف ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جماعت کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتاویٰ پر مشتمل’’ فقہ المسیح‘‘کے نام پر بھی ایک کتاب شائع ہو چکی ہے جس میں ’’فتاویٰ حضرت مسیح موعود‘‘سے بھی زیادہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اور فتاویٰ شامل کر دیے گئے ہیں۔

سوال:حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ بنگلہ دیش کے مربیان کی Virtualملاقات مورخہ 08؍نومبر 2020ء میں ایک مربی صاحب نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک الہام ہوا تھا کہ ’’پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب ان کی دلجوئی ہو گی‘‘اس بارے میں ہم حضور انور کی زبان مبارک سے کچھ سننا چاہتے ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس بارے میں درج ذیل ارشاد فرمایا:

جواب: اب ایک سو تیس سال ہوگئے دلجوئی کرتے کرتے، اب اہل بنگالہ کوئی کام کریں گے تو پھر دلجوئی ہو گی۔ اب کام کریں اور کام کر کے دکھائیں۔ اپنے اندر تقویٰ کا معیار بلند کریں، اپنے اندر خدمت دین کے شوق کا معیار بلند کریں اور پھر اسے عملی جامہ پہنائیں۔ اور ملک میں ایک انقلاب پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

جتنی مخالفت ہوتی ہے، مخالفت تو ایک کھاد اور بیج کا کام دے رہی ہے، جماعت کا اتنا ہی تعارف ہو رہا ہے۔ جتنے احمدیوں کو مار پڑتی ہے اتنا ہی تعارف ہو رہا ہے۔ پاکستان میں احمدیوں کو مار پڑ رہی ہے تو اتنا باہر کی دنیا میں جماعت کا تعارف ہو رہا ہے، بلکہ اب ملک میں بھی ہو رہا ہے۔ پہلے تو پاکستان میں صرف شہروں میں جماعت کی مخالفت ہوتی تھی اور شہر والوں کو پتہ تھا، اب دیہاتوں میں اور چھوٹی چھوٹی جگہوں پربھی مخالفت ہوتی ہے، ہر جگہ پتہ لگ گیا ہے۔ اس تعارف ہونے کی وجہ سے باہر کی دنیا کو بھی پتہ لگ رہا ہے اور اندر بھی بعض نیک فطرت اور سعید فطرت لوگ ہیں، وہاں ان کو احساس پیدا ہو رہا ہے کہ ہم تحقیق کریں کہ جماعت احمدیہ کیا چیز ہے؟اسلام کے بارے میں ان کے کیا خیالات ہیں ؟ اسلام کو یہ کیا سمجھتےہیں ؟ آنحضرتﷺ کا مقام ان کی نظر میں کیا ہے؟خدا تعالیٰ کے کلام کو یہ کس طرح مانتے ہیں ؟ جب وہ تحقیق کرتے ہیں تو پھر اس تجسس کی وجہ سےان کو پھر جماعت کے قریب آنے کا موقع ملتا ہے۔

تو یہ جو مخالفت ہےیہ تو آپ کےلیے کھاد کا کام دے رہی ہے، اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اور جب آپ قربانیاں دیں گے تو اس کے بعد دلجوئی بھی آپ کی کی جائے گی۔ اور اس کےلیے اللہ کے فضل سے آپ نے قربانیاں دی ہیں۔ مسجدوں میں بم بھی پھٹے، ہمارے مربی کی ٹانگ بھی ضائع ہوئی، زخمی بھی ہوئے، شہید بھی ہوئے۔ تو وقتاً فوقتاً ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اور میں اللہ تعالیٰ سے حالات کی بہتری کےلیے دعا بھی کرتا رہتا ہوں۔ فکر بھی رہتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دلجوئی کا مقام حاصل کرنے کےلیے آپ کو بھی کوشش کرنی پڑے گی۔

اس لیے ہر مربی اور معلم یہ عہد کرےکہ اس نے ڈرتے ڈرتے دن گزر کرنا ہے اور تقویٰ سے رات بسر کرنی ہے۔ اور احمدیت کا پیغام پہنچانے کی جو ذمہ داری اس پرڈالی گئی ہے، اس کوایک خاص ولولہ اور جوش سے ملک کے کونے کونے میں پھیلانا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے عملی نمونے دکھانے ہیں، اپنے اندر قناعت پیدا کرنی ہے۔ جو بھی تھوڑا بہت گزارہ ملتا ہے، اور جو بھی تھوڑی بہت سہولیات جماعت کی طرف سے ملتی ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے۔ اور ان کو بہت سمجھنا ہے۔ اور اپنی قربانی کے معیار کو بلند سے بلند تر کرتے چلے جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں بڑھنا ہے۔ اپنی راتوں کو زندہ کرنا ہے۔ ہر مربی اور معلم کا کام ہے کہ کم از کم ایک گھنٹہ تہجد کی نمازپڑھے۔ اپنے جائزے لیں کہ کیا آپ لوگ ایک گھنٹہ تہجد پڑھتے ہیں ؟کیا آپ لوگ رات کو اٹھ کے ایک گھنٹہ نفل میں اللہ تعالیٰ کے حضور رو رو کے دعا کرتے ہیں ؟ کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرے اور جماعت کی ترقی کے سامان پیدا فرمائے۔

پھر قرآن کریم پہ تدبر اور غور کرنے کی عادت ڈالیں۔ صرف چند ایک بنے بنائے مضمون ہیں، ان کو پڑھنے سے آپ کو کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اپنے علم کو بڑھائیں، اور وسیع تر کرنے کی کوشش کریں۔ یہی چیز ہےجو آپ کےلیے آگے ان شاء اللہ کام بھی آئے گی اور آپ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئےدوسرے علماء سے بحث کرنے کے بھی قابل ہوں گے اور عوام الناس کو بھی بتانےکے قابل ہوں گے۔

ظاہری فقہ اور حدیث اور قرآن کی بعض تفسیریں تو بعض غیر احمدی علماء نے آپ سے زیادہ پڑھی ہوں گی اور وہ پڑھ کے اس کو بیان بھی کر سکتے ہیں لیکن آپ نے وہ حقیقت بیان کرنی ہے جو اس زمانہ کے حکم ا ور عدل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں بتائیں اور سمجھائی ہیں۔ اوروہی فقہ ہے جو ہم نے جاری کرنا ہے۔ وہی قرآن کریم کی تفسیر ہے، وہی حدیث کی تشریح ہے جو ہم نے دنیا کوبتانی ہے۔ اور اس کےلیے آپ کو محنت کرنی پڑے گی، اپنے علم میں اضافہ کرنا پڑے گا اور پھر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی ہو گی۔ اپنے علم میں اضافہ کےلیے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں، اپنی روحانی ترقی کےلیے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ اور اس ملک میں جماعت احمدیہ کے پیغام کو پہنچانے کےلیے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ اور مخالفت کے دور ہونے کےلیے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ اپنے ملک کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کےلیے بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔ تو بہت ساری دعائیں ہیں جوانسان نے کرنی ہوتی ہیں، وہ آپ کریں۔ ایک جوش اور جذبے اور تڑپ سے یہ دعائیں کریں گے تو پھر دیکھیں کہ کس طرح ایک انقلاب آپ بنگلہ دیش میں لے آتے ہیں۔ اور پھر جب آپ پر تھوڑی بہت سختیاں بھی آئیں گی تو پھر اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ان لوگوں نے سختیاں برداشت کی ہیں اب ان کی دلجوئی بھی کرو۔ تب یہ دلجوئی ہو گی۔

سوال: اسی ملاقات میں ایک اور مربی صاحب نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ میرے علاقہ میں لوگ خود کو مسلمان تو کہتے ہیں، لیکن اسلام کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، ان لوگوں کو کس طرح تبلیغ کی جائے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس سوال کا درج ذیل الفاظ میں جواب عطا فرمایا۔ حضورانور نے فرمایا:

جواب:ان کو بتائیں کہ تم لوگ مسلمان ہو۔ قطع نظر اس کے کہ تم جماعت احمدیہ کے پیغام کو قبول کرتے ہو یا نہیں کرتےلیکن تم اپنے آپ کومسلمان کہلاتے ہوتو اللہ اور رسول کا یہ حکم ہے کہ جو قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے، وہ تمہیں پڑھنا آنا چاہیے، تمہیں پانچ وقت نماز پڑھنی آنی چاہیے۔ ارکان اسلام ہیں ان پریقین ہونا چاہیے اور ان پرعمل بھی ہونا چاہیے۔ تو ان کو آپ سمجھائیں کہ دیکھو تم مسلمان کہلاتے ہوتو اللہ کے رسول پرتمہارا ایمان کامل اس وقت ہوتا ہے جب تم اس کی سنت پہ عمل کرو۔ پھر جو شریعت اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی صورت میں اتاری ہے، تم اسے پڑھنا سیکھو۔ اور اگر تمہیں ضرورت ہے کہ تمہیں قرآن کریم پڑھنا نہیں آتا اور تم نے سیکھنا ہے تو ہم تمہیں قرآن کریم پڑھانے کےلیے حاضر ہیں۔ اور پھر اللہ اور رسول کی باتیں انہیں بتائیں۔ قرآن کریم انہیں پڑھائیں۔ اور انہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تم احمدی ہو جاؤ کہ نہ ہو۔ جب وہ اس طرح اسلام کی تعلیم کے بارے میں جانیں گےتو پھر وہ خوداگلا قدم اٹھائیں گے۔ وہ آپ سے پوچھیں گے کہ اچھا بھئی ہمارے مولوی تو ہمیں کچھ نہیں پڑھاتے تھے، تم لوگ ہمیں یہ پڑھا رہے ہو، تم کون ہو؟ پھر آگے بات چلتی ہے، پھر تبلیغ کے رستے بھی کھل جائیں گے۔ دوسرا یہ کہ ان کےلیے دعا بھی کریں۔ مسلم امہ کےلیے دعا بھی کریں۔

یہی تو زمانہ تھا جس زمانہ میں اسلام کا صرف نام ہونا تھا۔

رہا دین باقی نہ اسلام باقی

اک اسلام کا رہ گیا نام باقی

تبھی تو مسیح موعود علیہ السلام نے آنا تھا۔ تبھی تو اس مہدی اور مسیح نے آنا تھا، جس نے لوگوں کو دوبارہ پھر خدا تعالیٰ کے قریب کرنا تھا۔ اور ان کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ دلانی تھی۔ تو یہ چیزیں لوگ بھول گئے ہیں۔ تبھی تو مسیح موعود آئے تھے۔ اور یہی مسیح موعود کا زمانہ تھا۔ یہی مسیح موعود کا کام ہے۔ یہی مسیح موعود کے ماننے والوں کا کام ہے۔ اور یہی ان لوگوں کا کام ہے جنہوں نے تَفَقُّہ فِی الدِّیْن کر کے اپنے آپ کو دین کی خدمت کےلیے، وقف کرنے کےلیے، تبلیغ کرنے کےلیے، تربیت کرنے کےلیے پیش کیا ہے۔ وہ آپ لوگ ہیں۔ پس یہ باتیں پہنچائیں اور پیغام پہنچائیں۔ ان کو سمجھائیں کہ اصل دین کیا ہے۔ تو یہ تو آنحضرتﷺ کی پیشگوئی کے عین مطابق مسیح موعود کے آنے کے زمانہ کی علامت ہے کہ لوگ نام کے مسلمان ہیں، اور اسلام کو بالکل بھول چکے ہیں، ان کو کچھ پتہ ہی نہیں۔ صرف

لَا اِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

تو کہہ دیتے ہیں، لیکن پتہ نہیں کہ

لَا اِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ

کا مطلب کیا ہے؟

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ

تو کہہ دیتے ہیں لیکن یہ پتہ نہیں کہ محمد رسول الله کا اسوہ کیا ہے؟ تو ہم نے یہ چیزیں لوگوں کو بتانی ہیں۔ اس کےلیے کوشش کرنی ہو گی۔ ان کو بتانا ہو گا۔ پہلے ان کو اسلام کے بارے میں بتائیں۔ پھر احمدیت کے بارے میں خود بخود ان کو پتہ لگ جائے گا۔

یہ تو اللہ تعالیٰ کی اور اللہ کے رسول کی بات پوری ہو رہی ہے کہ ان کو دین کا نہیں پتہ اور اسلام کا صرف نام رہ گیا ہے۔ ٹائٹل رہ گیا ہے۔ اور جو مولوی کہتا ہے اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔ توڑ پھوڑ کر دو۔ احمدیوں کا سر پھاڑ دو۔ احمدیوں کی ٹانگیں توڑ دو۔ احمدیوں کو قتل کر دو۔ احمدیوں کو شہید کر دو۔ احمدیوں کی مسجدیں گرا دو۔ احمدیوں کی جائیدادوں کو نقصان پہنچا دو۔ بس یہی باتیں رہ گئی ہیں ناں ان کے پاس! اور کیا رہ گیا ہے؟اسی چیز سے ہم نے ان کو پیار اور محبت سے سمجھانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ پیار سے، محبت سے کام کرو گے تو یہ تمہارے بہترین دوست بن جائیں گے۔ وَلِيٌّ حَمِيمٌ فرمایا ہے کہ تمہارے گہرے دوست بن جائیں گے، جگری یار بن جائیں گے۔

سوال:ایک اور مربی صاحب نے اس ملاقات میں حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا حضور کو اسیر راہ مولیٰ ہونے کا موقع ملا ہے، اس اسیری کے متعلق اگر حضور کچھ فرمائیں تو نوازش ہو گی ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کے جواب میں فرمایا:

جواب: کیا فرماؤں ؟مجھے تو اسیر راہ مولیٰ کے طور پر پتہ ہی نہیں لگا کہ میری اسیری کے دن کس طرح گزر گئے؟ اللہ کے فضلوں کو ہی دیکھتا رہا۔ گرمی کے دن تھے، اللہ تعالیٰ گرمی کو ٹھنڈ میں بدل دیتا تھا۔ بڑے آرام سے جیل میں بیٹھے رہتے تھے۔ اور سلاخوں کے پیچھے رہتے تھے، کوئی فکرو فاقہ نہیں تھا۔ دل میں یہ خیال تھا کہ جو دفعہ مجھ پہ لگی ہوئی ہے اس کی سزا یا عمر قید ہے یا پھانسی ہے، ان دونوں میں سے کچھ تو مجھے ملنا ہے۔ اس لیے میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے ہی مانگو اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرو۔ باقی جماعت کی خاطراگر سزا ملنی ہے تو یہ تو بڑی برکت کی بات ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اللہ تعالیٰ نے دسویں، گیارھویں، بارھویں دن مجھے جیل سے باہر نکال دیا۔ تو اس سے زیادہ میں کیا کہوں۔ میں نے کوئی بڑا تیر مارا؟ میں نےتو وہاں کچھ بھی نہیں کیا۔

سوال: اس ملاقات مورخہ 08؍نومبر2020ء کے آخر پر محترم امیر صاحب بنگلہ دیش نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے حضور بنگلہ دیش کےلیے کوئی ایسی دعا کر دیں، جس سے ہماری کایا پلٹ جائے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسکراتے ہوئے فرمایا:

جواب:ساری دنیا کےلیے کیوں نہ کروں ؟ صرف بنگلہ دیش کےلیے کیوں کروں ؟ مجھے محدود کیوں کر رہے ہیں؟ میں تو ساری دنیا کےلیے دعا کرتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک وقت رکھا ہوتا ہے، جب وہ وقت آئے گا تو ان شاء اللہ تعالیٰ کایا بھی پلٹ جائے گی۔ آنحضرتﷺ کو کسی نے کہا کہ میرے لیے دعا کریں کہ میرا فلاں کام ہو جائے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اچھا میں دعا کروں گا۔ پھر آپﷺ نے اسے واپس بلایا اور اسے فرمایا کہ تم بھی دعا کرو اور اپنی دعاؤں سے میری دعا کی مدد کرو۔ تو یہ آپ لوگوں کا بھی کام ہے کہ جس طرح میں نے ابھی کہا ہے کہ راتوں کو اٹھیں۔ ہر مربی اور معلم جو ہے لازمی قرار دے کہ اس نے تہجد پڑھنی ہے اور بے نفس ہو کے کام کرنا ہے۔ خدا تعالیٰ کا حق بھی ادا کرنا ہے اور اس کے بندوں کے حق بھی ادا کرنے ہیں۔ اپنی خدمت دین کو اک فضل الٰہی سمجھنا ہے اور اس کےلیے کسی Rewardکی اور کسی تعریف کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ اگر اس طرح کام کریں گےتو اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں کی بے شمار بارش برسائے گا۔ اوربڑی جلدی برسائے گاان شاء اللہ تعالیٰ آپ دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور آپ لوگوں کو اپنے اپنے میدان میں کامیاب فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close