متفرق

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر 58)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

تصویر اور نماز

ایک شخص نے دریافت کیا کہ تصویر کی وجہ سے نماز فاسد تو نہیں ہوتی۔ جواب میں حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السّلام نے فرمایا :

’’کفار کے تتبع پر تو تصویر ہی جائز نہیں۔ ہاں نفس تصویر میں حرمت نہیں بلکہ اُس کی حُرمت اضافی ہے، اگر نفس تصویر مُفسد نمازہو تو مَیں پوچھتا ہوں کہ کیا پھر روپیہ پیسہ نماز کے وقت پاس رکھنا مفسد نہیں ہوسکتا۔ اس کا جواب اگر یہ دو کہ روپیہ پیسہ کا رکھنا اضطراری ہے۔ میں کہوں گا کیا اگر اضطرار سے پاخانہ آجاوے تو وہ مفسد نماز نہ ہو گا۔ اور پھر وضو کرنا نہ پڑے گا۔

اصل با ت یہ ہے کہ تصویر کے متعلق یہ دیکھنا ضرور ی ہے کہ آیااس سے کوئی دینی خدمت مقصود ہے یا نہیں۔ اگر یونہی بے فائدہ تصویر رکھی ہوئی ہے اور اس سے کوئی دینی فائدہ مقصود نہیں تو یہ لغو ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔

وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ (المومن : 4)

لغو سے اعراض کرنا مومن کی شان ہے، اس لیے اس سے بچنا چاہیے لیکن ہاں اگر کوئی دینی خدمت اس ذریعے سے بھی ہو سکتی ہو تو منع نہیں ہے کیونکہ خدا تعالیٰ علوم کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔

مثلاً ہم نے ایک موقعہ پر عیسائیوں کے مثلث خدا کی تصویر دی ہے جس میں روح القدس بشکل کبوتر دکھایا گیا ہے اور باپ اور بیٹے کی بھی جدا جدا تصویر دی ہے۔ اس سے ہماری یہ غرض تھی کہ تاتثلیث کی تردید کر کے دکھائیں۔ کہ اسلام نے جو خدا پیش کیا ہے وہی حقیقی خدا ہے۔ جو حیّ وقیوم ازلی و ابدی غیر متغیر اورتجسمسے پاک ہے۔ اس طرح پر اگر خدمت اسلام کے لیے کوئی تصویر ہو، تو شرع کلام نہیں کرتی کیونکہ جو امور خادم شریعت ہیں ان پر اعتراض نہیں ہے۔

کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰؑ کے پاس کل نبیوں کی تصویریں تھیں۔ قیصر روم کے پاس جب صحابہ گئے تھے، تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر اس کے پاس دیکھی تھی۔ تو یاد رکھنا چاہیے کہ نفس تصویر کی حرمت نہیں بلکہ اس کی حرمت اضافی ہے جو لوگ لغو طور پر تصویریں رکھتے اور بناتے ہیں وہ حرام ہے۔ شریعت ایک پہلو سے حرام کرتی ہے اور ایک جائز طریق پر اسے حلال ٹھہراتی ہے۔ روزہ ہی کو دیکھو رمضان میں حلال ہے لیکن اگر عید کے دن روزہ رکھے تو حرام ہے۔ ؎

گر حفظ مراتب نہ کُنی زندیقی

حرمت دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک بالنفس حرام ہوتی ہے، ایک با نسبت۔ جیسے خنزیر بالکل حرام ہے۔ خواہ وہ جنگل کا ہو یا کہیں کا۔ سفید ہو یا سیاہ۔ چھوٹا ہو یا بڑا۔ ہر ایک قسم کا حرام ہے۔ یہ حرام بالنفس ہے لیکن حرام بالنسبت کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص محنت کر کے کسبِ حلال سے روپیہ پیدا کرے تو حلال ہے۔ لیکن اگر وہی روپیہ نقب زنی قمار بازی سے حاصل کرے تو حرام ہوگا۔ بخاری کی پہلی ہی حدیث ہے۔

اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔

ایک خونی ہے اگر اس کی تصویر اس غرض سے لے لیں کہ اس کے ذریعہ اس کو شناخت کر کے گرفتار کیا جاوے تو یہ نہ صرف جائز ہو گی، بلکہ اس سے کام لینا فرض ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر ایک شخص اسلام کی توہین کرنے والے کی تصویر بھیجتا ہے تو اس کو اگر کہا جاوے حرام کام کیا ہے۔ تو یہ کہنا موذی کا کام ہے۔

یاد رکھو اسلام بُت نہیں بلکہ زندہ مذہب ہے۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل نا سمجھ مولویوں نے لوگوں کو اسلام پر اعتراض کرنے کا موقعہ دیا ہے۔

آنکھوں میں ہر شے کی تصویر بنتی ہے۔ بعض پتھر ایسے ہیں کہ جانور اُڑتے ہیں تو خود بخود اُن کی تصویر اتر آتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا نام مصور ہے۔

یُصَوِّرُ کُمْ فِی الْاَرْحَا مِ (اٰ لِ عمران:7)

پھر بلا سوچے سمجھے کیوں اعتراض کیا جاتا ہے۔ اصل بات یہی ہے جو میں نے بیان کی ہے کہ تصویر کی حرمت غیر حقیقی ہے کسی محل پر ہوتی ہے اور کسی پر نہیں۔ غیر حقیقی حرمت میں ہمیشہ نیت کو دیکھنا چاہیے۔ اگر نیت شرعی ہے تو حرام نہیں ورنہ حرام۔‘‘

(ملفوظات جلدسوم صفحہ 231۔ 233)

٭…اس گفتگو میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فارسی کا یہ مصرع استعمال فرمایا ہے۔

گَرْحِفْظِ مَرَاتِبْ نَہْ کُنِی زَنْدِیقِیْ

ترجمہ: اگر تو لوگوں کے مرتبہ کا خیال نہیں رکھتا تو، توبے دین ہے۔

عبدالرحمان جامی جن کا پورا نام مولانا نورالدین عبدالرحما ن جامی ہے اور ایک معروف صوفی شاعر ہیں ان کی رباعی کا یہ ایک مصرع ہے۔ پو ر ی رباعی کچھ یو ں ہے۔

اے برُدہ گمان کہ صاحب تحقیقی

وندر صفت صدق ویقین صدیقی

اے وہ جو اپنے آپ کو دانشمند و عالم سمجھتے ہواور درستی اور یقین کی صفت میں سچا

ھر مرتبہ از وجود حکمی دارد

گر حفظ مراتب نکنی زندیقی

ہر مرتبہ کا احترام بجا لانے کا حکم ہے۔ اگر تو لوگوں کے مرتبہ کا خیال نہیں رکھتا تو، توبے دین ہے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Check Also
Close
Back to top button
Close