متفرق مضامین

کیا قانون ساز اداروں کو ہر قسم کا قانون بنانے کا اختیارہے؟

(ابو نائل)

1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قانون سازی کی تاریخ کا ایک انوکھا فیصلہ سنایا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے دوسری آئینی ترمیم کے ذریعہ یہ فیصلہ کیا کہ کسی فرقہ کے مذہب کا کیا نام ہونا چاہیے۔ اور اس ترمیم کے ذریعہ پاکستان میں احمدیوں کو قانون اور آئینی اغراض کے لیےغیر مسلم قرار دیاگیا۔

اس بحث میں قدرتاََ پہلا سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ کیا کوئی اسمبلی یہ فیصلہ کرنے کی مجاز ہے کہ ایک گروہ کوکسی مذہب کی طرف منسوب ہونے کا اختیار ہے کہ نہیں؟ اس اہم پہلو کے متعلق جماعت احمدیہ نے اپنے ’’محضر نامہ ‘‘میں یہ موقف پیش کیا تھا کہ کسی بھی اسمبلی کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے اور اگر اس سمت میں قدم اُٹھایا گیا تو یہ امر پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ان گنت فسادات اور خرابیوں کا راستہ کھولنے کا باعث بن جائے گا۔(محضرنامہ صفحہ5)

اس کارروائی کے آغاز سے پہلے بھی اس ضمن میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 21؍جون 1974ءمیں فرمایا تھا:

’’پس ہزار ادب کے ساتھ اور عاجزی کے ساتھ یہ عقل کی بات ہم حکومت کے کان تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ جس کا تمہیں انسانی فطرت اور سرشت نے حق نہیں دیا، جس کا تمہیں حکومتوں کے عمل نے حق نہیں دیا، جس کا تمہیں یو۔این۔او کے Human Rightsنے (جن پر تمہارے دستخط ہیں) حق نہیں دیا، چین جیسی عظیم سلطنت جو مسلمان نہ ہونے کے باوجود اعلان کرتی ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں کوئی شخص professکچھ کر رہا ہو اور اس کی طرف منسوب کچھ اَور کر دیا جائے۔ میں کہتا ہوں میں مسلمان ہوں ، کون ہے جو دنیا میں جو یہ کہے گا کہ تم مسلمان نہیں ہو۔ یہ کیسی نا معقول بات ہے۔ یہ ایسی نا معقول بات ہے کہ جو لوگ دہریہ تھے انہیں بھی سمجھ آ گئی۔ پس تم وہ بات کیوں کرتے ہو جس کا تمہیں تمہارے اس دستور نے حق نہیں دیا جس دستور کو تم نے ہاتھ میں پکڑ کر دنیا میں یہ اعلان کیا تھا کہ دیکھو کتنا اچھا اور کتنا حسین دستور ہے۔آج اس دستور کی مٹی پلید کرنے کی کوشش نہ کرو اور اس جھگڑے میں نہ پڑو۔ اسے خدا پر چھوڑ دو کیونکہ مذہب دل کا معاملہ ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے فعل سے ثابت کرے گا کہ کون مومن اور کون کافر ہے۔‘‘

(الفضل 23؍ جون 1974ء صفحہ 8)

آئین پاکستان کے Chapter 1میں انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ چنانچہ اس کے آرٹیکل 20میں لکھا ہے:

Subject to law, public order and morality:-

(a) every citizen shall have the right to profess, practice and propagate his religion; and

(b) every religious denomination and every sect thereof shall have the right to establish, maintain and manage its religious institutions»

ترجمہ:قانون، امنِ عامہ اور اخلاق کے تابع

(الف) ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہو گا؛اور

(ب) ہر مذہبی گروہ اور اس کے ہر فرقے کو اپنے مذہبی ادارے قائم کرنے، برقرار رکھنے اور ان کا انتظام کرنے کا حق ہو گا۔

اگر یہ سوال اُٹھایا جائے کہ یہ آزادی قانون کے تحت دی گئی ہے اگر ایسا قانون بنا دیا جائے کہ جس میں یہ آزادی سلب کر دی جائے تو پھر آئین کی رو سے مذہبی آزادی کا اختیار بھی سلب ہو جائے گا۔ تو یہ امر پیش نظر رہنا چاہیے کہ آئین ِپاکستان کا Chapter 1جس میں بنیادی حقوق بیان کیے گئے ہیں شروع ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے:

’’Any law, or any custom or usage having the force of law, in so far as it is inconsistent with the rights conferred by this Chapter, shall, to the extent of such inconsistency, be void.‘‘

ترجمہ : کوئی قانون، یا رسم یا رواج جو قانون کا حکم رکھتا ہو، تناقض کی اس حد تک کالعدم ہوگاجس حد تک وہ اس باب میں عطا کردہ حقوق کا نقیض ہو۔

یعنی اگر ملک کا قانون ساز ادارہ کوئی ایسا قانون بنا بھی دے جو کہ بنیادی حقوق کے باب میں درج بنیادی حقوق میں سے کسی حق کو کم یا ختم کرتا ہو تو ملک کا آئین یہ اعلان کرتا ہے کہ یہ قانون کالعدم ہوگا اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔ بلکہ ایسا قانون بنانا ملک کے آئین کی خلاف ورزی اور پامالی ہو گی۔

جب جماعت ِاحمدیہ کے وفد سے سوال و جواب شروع ہوئے تو پہلے روز ہی اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار صاحب نے امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سے یہ سوال کیا کہ آپ نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں یہ ذکر کیا ہے کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ہمیں یہ کہے کہ تم غیر مسلم ہو اور اس ضمن میں آئین کی شقوں کا حوالہ دیا ہے۔اس پر حضورؒنے فرمایا:

’’I rely on clauses 8 and 20 ہماری جو کانسٹی ٹیوشن ہے اس کی غالباََ دفعہ 8ہے جو یہ کہتی ہے کہ اس ہاؤس کو یہ اختیار نہیں ہو گاکہ جو اس نے حقوق دیئے ہیںان میں کوئی کم کرے یا اس کو منسوخ کرے۔‘‘

(کارروائی صفحہ38)

اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل صاحب نےیہ سوال اُٹھایا:

’’I will ask a very simple question. Is the parliament competent to amend article 8 and article 20.‘‘

ترجمہ : میں ایک بہت سادہ سوال پوچھوں گا؟ کیا پارلیمنٹ کو اختیار ہے کہ وہ آئین کی آٹھویں اور بیسویں شق میں ترمیم کردے۔

اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒنے فرمایا:

’’کانسٹی ٹیوشن کیا کہتا ہے؟‘‘

اس کے جواب میں اٹارنی جنرل صاحب نے کہا:

’’Yes, by two-thirds majority they can amend; through a particular procedure they can amend. I am not saying…..I am coming to that ….but I am just suggesting a simple proposition.‘‘

’’ ہاں، دو تہائی اکثریت کے ساتھ وہ اس میں ترمیم کر سکتے ہیں۔ میں نہیں کہہ رہا…میں اس کی طرف آ رہا ہوں…لیکن میں صرف ایک سادہ رائے پیش کر رہا ہوں۔‘‘

پہلے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس رائے کا اظہار کرنا چاہ رہے تھے کہ پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار حاصل ہے لیکن پھر اگلے فقروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود اس رائے کے بارے میں پُر اعتماد نہیں تھے۔ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے فرمایا:

’’…یہ نیشنل اسمبلی، یہ سپریم لیجسلیٹو باڈی ہے اور اس کے اوپر کوئی پابندی نہیں، سوائے ان پابندیوں کے جو یہ خود اپنے اوپر عائد کرے۔‘‘

Yahya Bakhtiar:

’’I appreciate that they should not do it, they ought not to do it; But they are legally competent to do it, to repeal Article 20 and to repeal article 8 or any other provision.‘‘

ترجمہ: میں یہ جانتا ہوں انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے اور یہ نہیں کرنا چاہیے مگر انہیں قانون کی رو سے اس کا اختیار ہے کہ وہ آئین کی شق بیس اور آٹھ کو منسوخ کردیں۔‘‘

حضرت امام جماعت ِاحمدیہ :…وہ تو میں نے بھی یہ کہا ہے ناں کہ اس کی سپریم لیجسلیٹو باڈی کی حیثیت ہے۔ ان کے اوپر کوئی ایجنسی نہیں ہے جو پابندی لگا سکے۔ لیکن کچھ پابندیاں اس سپریم لیجسلیٹو باڈی نے خود اپنے پر لگائی ہیں۔

Yahya Bakhtiar: With that I agree

یعنی میں اس سے متفق ہوں۔

Yayha Bakhtiar: Those are of political, religious nature, but not of constitutional nature.

ترجمہ: یہ (پابندیاں) سیاسی اور مذہبی نوعیت کی ہیں لیکن آئینی نہیں ہیں۔

(کارروائی صفحہ36تا40)

سپیشل کمیٹی کی کارروائی کے مندرجہ بالا حصے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس اہم قانونی اور آئینی سوال کے بارے میںخود اٹارنی جنرل صاحب کا ذہن واضح نہیں تھا۔ ایک سے زائد مرتبہ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ان کے نزدیک پاکستان کی پارلیمنٹ کو مکمل اختیار ہے کہ وہ آئین میں جس طرح چاہے تبدیلی کرے۔ اس پر کوئی پابندی نہیں، خواہ یہ پارلیمنٹ آئین میں دیے گئے تمام بنیادی انسانی حقوق کوترمیم کر کے منسوخ کر دے۔ اور ایک ایسا آئین بنا دے جس میں کسی قسم کے انسانی حقوق کی کوئی ضمانت نہ دی گئی ہو۔لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی کہہ گئے کہ وہ حضرت امام جماعت ِاحمدیہ کے نظریہ سے متفق ہیں کہ پارلیمنٹ نے اپنے اوپر خود یہ پابندی لگائی ہے کہ جن بنیادی انسانی حقوق کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے، ان میں کوئی کمی بھی نہیں کی جا سکتی۔

اس مسئلہ پر کہ آیا پاکستان کی پارلیمنٹ کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اس قسم کا فیصلہ کرے، مولوی عبد الحکیم صاحب نے جماعت ِاحمدیہ کے موقف کے بارے میں یہ نظریہ پیش کیا :

’’یہی پہلا اور بنیادی فرق ہے جو مرزائیوں اور مسلمانوں میں ہے۔مسلمان اپنے فیصلے صرف قرآن اور شریعت کی روشنی میں کرنا چاہتے ہیں۔ اور اسی کو قانونِ زندگی کی بنیاد سمجھتے ہیں۔مگر مرزائی اقوام متحدہ کو دیکھتے ہیں۔کبھی عالمی انجمنوں کو اور کبھی انسان کے بنائے ہوئے دستور اور قانون کو ہم تو تمام امور میں صرف دین اور اس کے فیصلے دیکھتے ہیں۔‘‘

(کارروائی صفحہ 2349)

مولوی عبد الحکیم صاحب کا موقف تھا کہ خواہ ایک ترمیم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کے خلاف ہو، خواہ آئین پاکستان میں اس قسم کی ترمیم کرنے پر پابندی ہو، پارلیمنٹ اس لیے اس ترمیم کو منظور کرنے کی مجاز ہے کیونکہ اس کے نزدیک دینی طور پر یہ فیصلہ درست ہے۔

تمام تر کارروائی جب اختتام پر پہنچ رہی تھی تو مولوی ظفر احمد انصاری صاحب نے ایک اور نظریہ پیش کیا۔ جب 3؍ستمبر کو انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز کیا تو کہا:

’’محضرنامے میں دونوں طرف سے اس طرح کے سوال کئے گئے ہیں کہ کیا پاکستان کی نیشنل اسمبلی کو یہ اختیار ہے یا نہیں ہے۔یہ نہایت اہانت آمیز اور اشتعال انگیز سوال ہے…‘‘

اس آغاز سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ یہ نظریہ پیش کر رہے ہیں کہ قومی اسمبلی کو بالکل یہ اختیار ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ ایک فرقہ یا ایک گروہ کو کس مذہب کی طرف منسوب ہونا چاہیے۔ لیکن پھر چند لمحوں میں ہی انہوں نے نہ صرف اپنے اس بیان کا بلکہ قومی اسمبلی کی تمام کارروائی کا رد کر دیا۔ انہوں نے کہا:

’’میرے پاس شایداورممبران کے پاس بھی بہت سے خطوط ایسے آئے ہوں گے جن میں یہ کہا گیا کہ یہ بڑی خطرناک بات ہے کہ آپ اسمبلی کو دینی معاملات میں فیصلہ کرنے کا حق دیتے ہیںکہ کون مسلمان ہے کون مسلمان نہیں ہے۔کل وہ کہیں گے سود جائز ہے، نہیں ہے جائز۔حالانکہ میرے نزدیک مسئلہ کی نوعیت یہ نہیں ہے۔ میں بھی اسمبلی کو دارالافتاء کی حیثیت دینے کو تیار نہیں ہوں۔ اور نہ یہ اسمبلی ایسے ارکان پر مشتمل ہے جنہیں فتویٰ دینے کا مجاز ٹھہرایا جائے۔لیکن یہاں فتویٰ دینے کی بات نہیں ہے ہمارے فتویٰ دینے یا نہ دینے سے اس مسئلہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اگر آج ہم کہہ دیں کہ ہم آج کہہ رہے ہیں کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا چاہیے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آج تک وہ غیر مسلم نہیں تھے ، مسلمان تھے۔‘‘

(کارروائی صفحہ2874تا2875)

مندرجہ بالا عبارت ظاہر کر رہی ہے کہ خود ظفر احمد انصاری صاحب کے نزدیک پاکستان کی قومی اسمبلی ایسے افراد پر مشتمل نہیں تھی جو کہ اس قسم کے معاملات پر فیصلہ کر سکے۔ اور ان کے نزدیک کسی بھی اسمبلی کو اس قسم کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ اور جماعت احمدیہ نےبالکل یہی موقف پیش کیا تھا جسے ظفر احمد انصاری صاحب اہانت آمیز اور اشتعال انگیز قرار دے رہے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ کارروائی کے آخر تک خود ممبران اسمبلی اس بات کو بھول چکے تھے کہ یہ سپیشل کمیٹی کس مقصد کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اور قانونی طور پر وہ اسی موضوع پر کام کرنے کی پابند تھی۔ 3؍ ستمبر کو سپیشل کمیٹی کی کارروائی کا یہ حصہ ملاحظہ ہو۔اس کمیٹی کے سربراہ صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب نے کہا:

’’مولانا محمد ظفر احمدانصاری:شاید مولانا صاحب کو غلط فہمی ہوئی ہے۔یہ مسئلہ ہے ہی نہیں کہ وہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم۔یہ مسئلہ ہے ہی نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان کی دستوری اور قانونی حیثیت کو کس طریق پر واضح کریں۔

جناب چیئر مین: یہی تو میں نے کوریجہ صاحب کو کہا تھا کہ ان کی قانونی حیثیت کیا ہے اور کیا کچھ ہم کر سکتے ہیں، کیا ہمیں سفارش کرنی چاہیے۔

مولانا عبد الحق :اچھا جی۔تو گزارش میری یہ ہے کہ ختم نبوت کا مسئلہ جو ہے یہ مسئلہ تو ہمارے آئین میں طے شدہ ہے کہ مسلمان وہ ہو سکتا ہے جس کا عقیدہ یہ ہو کہ حضرت محمدﷺ آخری نبی ہیں اور اس کے بعد کوئی بروزی ظلی نبی نہیں آسکتا۔‘‘

(کارروائی صفحہ 2916 تا 2917)

جہاں تک مولوی عبد الحق صاحب کے نکتہ کا تعلق ہے تو اس کو پڑھ کر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اور بہت سے اور ممبران اسمبلی کا ذہن آئین کے مندرجات کے بارے میں واضح نہیں تھا۔ اس وقت تک پاکستان کے آئین کی جو شکل تھی اس میں اس قسم کی کوئی بات نہیں لکھی تھی جس کا دعویٰ مولوی عبد الحق صاحب کر رہے تھے۔آئین کی جس شق میں غیر مسلم اقلیتوں کے نام لکھے تھے اس شق میں1973ء کے اصل آئین میں احمدیوں کا نام درج نہیں تھا۔

یہاں یہ یاد دلاتے چلے جائیں کہ یہ کارروائی قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کی کارروائی تھی اور یہ سپیشل کمیٹی قانوناََ اس موضوع پر کارروائی کرنے کی پابند تھی جو کہ قومی اسمبلی نے اس کے لیے مقرر کیا تھا۔ اور موضوع یہ تھا کہ اسلام میں اس شخص کی کیا حیثیت ہے جو کہ آنحضرتﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا۔ اس سوال کو حل کیے بغیر کسی قانونی اور دستوری حیثیت کو واضح کرنے کا مرحلہ نہیں آ سکتا تھا۔ لیکن آخر میں سپیشل کمیٹی کے چیئرمین سمیت دوسرے ممبران نے اس بات سے واضح انکار کر دیا تھا کہ وہ اس موضوع پر کارروائی نہیں کر رہے۔

5؍ اگست کے روز سوال و جواب کے دوران اٹارنی جنرل صاحب نے یہ نکتہ اُٹھایا تھا کہ آئین میں مذہبی آزادی کی جو شقیں ہیں، ان سے قبل یہ لکھا ہے

Subject to law, public order and morality

یعنی یہ آزادی قانون، امنِ عامہ کے تقاضوں اور اخلاقی حدود کے اندر ہوگی۔ اور یہ بحث اُٹھائی تھی کہ اگر قانون سازی کرکے کسی گروہ کی مذہبی آزادی کو سلب کر لیا جائے یا محدود کر دیا جائے تو پھر آئین کی مذکورہ شق اس راستے میں حائل نہیں ہو سکتی۔

جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں کہ آئین پاکستان کاCHAPTER 1جس میں بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے شروع ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ ایسا کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا جو کہ ان بنیادی انسانی حقوق میں کمی کر سکے۔ لیکن اس کے باوجود اٹارنی جنرل صاحب نے خوفناک نظریہ پیش کیا تھا کہ اگر پارلیمنٹ چاہے تو دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئین میںبنیادی انسانی حقوق کی ضمانت کو مکمل طور پر ختم کر سکتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہی نکل سکتا تھا کہ ایسا آئین ملک پر مسلط کیا جا سکتا ہے جس میں تمام بنیادی انسانی حقوق سلب کر لیے گئے ہوں۔یعنی جہاں تک مذہبی آزادی کا تعلق ہے تو کسی کو اپنے مذہب کو profess, practice اور propagateکرنے کی اجازت نہ ہو۔

7؍ ستمبر 1974ء کو بھٹو صاحب نے اس ترمیم کی منظوری سے بالکل قبل اپنی تقریر میں یہ نظریہ پیش کیا:

’’Every Pakistani has a right to profess his religion, his caste and his sect proudly and with confidence, and this guarantee the Constitution of Pakistan gives to citizens of Pakistan.‘‘

(The National Assembly Of Pakistan, Debates, Official Report, Saturday, 7th September, 1974 p 567)

ترجمہ: ہرپا کستانی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کا اعلان کرے، اپنی ذات کا اعلان کرے اور اپنے فرقے کا اعلان فخر کے ساتھ اور اعتماد کے ساتھ بغیر کسی خوف کے کرے۔ اور پاکستان کا آئین پاکستان کے شہریوں کو یہ حق دیتا ہے۔

یہاں وہ اپنی تقریر میں خود مجوزہ ترمیم کی نفی کر رہے تھے۔ اگر قانون اور آئین کی اغراض کے لیے احمدی مسلمانوں کو غیر مسلم شمار کیا جائے گا تو سرکاری کاغذوں میں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں لکھ سکیں گے جبکہ وہ یہ اعلان کر چکے تھے کہ اسلام کے علاوہ ان کا کوئی اور مذہب نہیں ہے۔تو پھر یہ کس طرح دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ ان کی یہ مذہبی آزادی مجروح نہیں ہوئی اور انہیں اپنے مذہب کا اعلان کرنے کی مکمل آزادی ہے۔

مندرجہ بالا حقائق اس بات کو بالکل واضح کر دیتے ہیں کہ قومی اسمبلی کے اراکین کا ذہن اس قسم کے بنیادی سوالات کے بارے میں واضح نہیں تھا۔اور وہ سوالات کیا تھے؟

٭…کیا پاکستان با وجود اس کے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور پر دستخط کر چکا ہے، اس کےخلاف قانون سازی کر سکتا ہے؟

٭…کیا پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیرمحدود حق ہے؟یا اس کی کوئی حدود ہیں جن سے اگر تجاوز کیا جائے تو اس ترمیم کو غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے؟

٭…کیا پارلیمنٹ کسی گروہ کی مذہبی آزادی میں کمی کر سکتی ہے یا اس کو مکمل طور پر سلب کر سکتی ہے؟

٭…کیا آئین میں دوسری ترمیم سے احمدیوں کی وہ مذہبی آزادی جس کی ضمانت آئینِ پاکستان میں دی گئی تھی متاثر ہوئی تھی کہ نہیں؟

جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو سب سے پہلے یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ’’ انسانی حقوق کا عالمی منشور‘‘ کیا ہے؟ اس کی کیا حیثیت ہے؟ کیا پاکستان نے اس کو قبول کیا تھا؟ اس منشور کا پس منظر یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسے 10؍دسمبر 1948ء کو منظور کیا تھا۔ اور ابتدا میں اسے منظور کرنے والوں اور دستخط کرنے والوں میں پاکستان بھی شامل تھا۔اس کی تمہید کے کچھ حصے پیش کیے جاتے ہیں۔

’’عام انسانوں کی یہ آرزو رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدہ پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں…۔

چونکہ ممبر ملکوں نے یہ عہد کرلیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اشتراک عمل سے ساری دنیا میں اصولاََ اور عملاََ انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کا زیادہ سے زیادہ احترام کریں گے اور کرائیں گے۔‘‘

اور اس منشور کی دفعہ 18 یہ ہے:

’’ہر انسان کو آزادی فکر، آزادی ضمیر اور آزادی مذہب کا پورا حق ہے۔اس حق میں مذہب یا عقیدے کو تبدیل کرنے اور پبلک میں یا نجی طور پر، تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل جل کر عقیدے کی تبلیغ، عمل، عبادت اور مذہبی رسمیں پوری کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔‘‘

پاکستان نے اسی وقت اس منشور پر اور اس کے بارے اقوام متحدہ کی قرارداد پر دستخط کیے تھے۔ اور بغیر کسی جبر کے کیے تھے۔جیسا کہ اس کی تمہید کے الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ اس منشور کو ایک بین الاقوامی عہد کی حیثیت حاصل تھی۔اب پاکستان کی قومی اسمبلی کے اراکین کے سامنے مولوی عبد الحکیم صاحب یہ انوکھا نظریہ پیش کر رہے تھے کہ اقوام ِ متحدہ کے منشور کی طرف احمدی دیکھتے ہیں، ہم اس کی طرف نہیں دیکھتے۔ہم صرف اسلام کی طرف دیکھتے ہیں۔ اگر ان کے نزدیک یہ منشور اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں تھا تو پھر پاکستان نے اس پر دستخط کیوں کیے تھے؟ یا اب تک اس سے علیحدگی کا اعلان کیوں نہیں کیا؟

یہاں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ معاہدات کی پاسداری کے بارے میں اسلامی تعلیم کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’…اور جو نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور وہ جو اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں جب وہ عہد باندھتے ہیں اور تکلیفوں اور دکھوں کے دوران صبر کرنے والے ہیں اور جنگ کے دوران بھی۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے صدق اختیار کیا اور یہی ہیں جو متقی ہیں۔‘‘

(البقرۃ:178)

’’…اور عہد کو پورا کرو یقیناًعہدکے بارہ میں پوچھا جائے گا۔‘‘

(بنی اسرائیل:35)

’’ ہاں، کیوں نہیں ! جس نے بھی اپنے عہد کو پورا کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو اللہ متقیوں سے محبت کرنے والا ہے۔‘‘

( آل عمران :77)

اور اللہ تعالیٰ مومنوں کی یہ نشانی بیان فرماتا ہے:

’’اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی نگرانی کرنے والے ہیں۔‘‘

(مومنون:9)

’’ اور وہ لوگ اپنی امانتوں اور عہدوں کا پاس کرنے والے ہیں۔‘‘

(المعارج:33)

پس قرآن کریم کی تعلیم تو یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے عہد کا نہ صرف پاس کرنا ہے بلکہ اس کی حفاظت کرنی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں سوال کرے گا۔لیکن مولوی عبدالحکیم صاحب کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی کہ پاکستان نے عالمی سطح پر ایک عہد کیا تھا اور اب ان کے کہنے پر ایسا فیصلہ کر لے جو اس عہد کی خلاف ورزی تھی۔ہر انصاف پسند اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ مولوی عبد الحکیم صاحب کی نظریات اسلامی تعلیمات سے متصادم تھے۔اور یہ بات نا قابل فہم ہے کہ مولوی عبد الحکیم صاحب نے اور ان کے ہمنوا گروپ نے یہ نتیجہ کہاں سے اخذ کر لیا تھا کہ انسانی حقوق کے عالمی منشور کے نکات اسلام سے متصادم تھے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام سب سے زیادہ انسانی حقوق اور آزادیٔ ضمیر کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ دلچسپ حقیقت قابل ِذکر ہے کہ جب جنرل اسمبلی میں یہ منشور منظور کیا گیا تو اس وقت ایک احمدی ہی پاکستانی وفد کی صدارت کر رہے تھے۔ اور وہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ حضرت سر چودھری محمدظفر اللہ خان صاحبؓ تھے۔اور یہ اعزاز حضرت چودھری صاحبؓ کے حصے میں آیا تھا کہ انہوں نے اس موقع پر جنرل اسمبلی میں مکمل مذہبی آزادی کے حق میں سب سے زیادہ زوردار اظہار ِخیال کیا تھا۔اور قرآن کریم کی آیت سے ثابت کیا تھا کہ قرآن کریم مذہب کے معاملہ میں بغیرکسی جبر کے مکمل آزادی دیتا ہے۔ حتیٰ کہ قرآنِ کریم انسان کو مذہب کی تبدیلی کا بھی حق دیتا ہے۔اور اس موقع پر حضرت چودھری صاحبؓ نے یہ آیت کریمہ پیش کی تھی۔

’’…اور کہہ دے کہ حق وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے ہو۔پس جو چاہے وہ ایمان لے آئے اور جو چاہے سو انکار کر دے…‘‘(الکہف :30) کسی اور مندوب نے اس موقع پر انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی مقدس مذہبی کتاب کا حوالہ پیش نہیں کیا تھا۔ جنرل اسمبلی میں اس بحث کے دوران مصر کے نمائندے نے مذہبی آزادی کے حوالے سے تبدیلی مذہب کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا تھا۔اور اس بارے میں انہوں نے اپنی رائے کی بنیاد کسی قرآنی آیت کو نہیں بنایا تھا بلکہ اپنے اس خیال کو بنایا تھا کہ جب بھی کوئی مذہب تبدیل کرتا ہے تو اکثر اوقات ایسا قدم نامناسب خارجی اثرات کی وجہ سے اُٹھایا جاتا ہے۔ یہ ایک بہت پھسپھسی دلیل تھی۔یہ ہر حکومت کا کام ہے کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ہر شخص کو ہر طرح ضمیر اور رائے کی آزادی حاصل ہو۔اگر یہ آزادی حاصل ہو گی تو کون سے نامناسب خارجی عوامل تبدیلیِ مذہب پر مجبور کر سکیں گے؟ اور پھر تو یہ دلیل بھی پیش کی جا سکتی ہے کہ خارجی عوامل بعض انسانوں کے سیاسی خیالات پر بھی نظر انداز ہو سکتے ہیں۔ اور اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس کلیہ کی رو سے سیاسی خیالات کی آزادی بھی حاصل نہیں ہونی چاہیے۔ اور اگر تبدیلی مذہب کی اجازت نہیں ہونی چاہیے تو پھر اس نظریہ کی رو سے گذشتہ چودہ سو سال میں بے شمار ملکوں میں کروڑوں لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے بلکہ اب تک اسلام قبول کر رہے ہیں،ان پر بھی یہ الزام آئے گا کہ انہوں نےنا مناسب خارجی عوامل کی بنا پر اپنا سابقہ مذہب ترک کر کے اسلام قبول کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس منطق کو عقل قبول نہیں کر سکتی۔

(کارروائی جنرل اسمبلی، 10؍دسمبر 1948ء صفحہ 1889 تا 1891 و 912 تا 913)

اس موقع پر اور اس منشور کی تیاری کے مراحل کے موقع پر جو بحث ہوئی اور حضرت چودھری ظفر اللہ خان صاحبؓ نے جو موقف اختیار کیا، اس کا ذکر علمی حلقوں میں اب تک کیا جاتا ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس منشور کی منظوری کے موقع پر سعودی عرب نے اس کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھابلکہ غیر جانبدار رہا تھا۔ اور اس کی تیاری کے مراحل کے دوران سعودی عرب کی طرف سے اس شق کی مخالفت کی گئی تھی کہ ہر شخص کو مذہب کی تبدیلی کا حق بھی ہے۔وہاں ایک اور مسلمان مندوب محمد حبیب صاحب بھی موجود تھے جو کہ ہندوستانی وفد میں شامل تھے انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ اگرسعودی تجویز کو مان لیا گیا تو یہ ایک سانحہ ہو گا۔اس موقع پر پاکستانی وفد نے جس کی قیادت حضرت چودھری ظفر اللہ خان صاحبؓ کر رہے تھے اس موقف کا اظہار کیاکہ ان کا وفد تبدیلی مذہب کے حق کو محفوظ کرنے کی حمایت اسلام کی عزت کی حفاظت کے لیے کر رہا ہے۔ اس حوالے سے اب بھی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ حضرت چودھری ظفر اللہ خان صاحب ؓنے اس موقف کے حق میں اتنے واضح طریق پر دلیری کے ساتھ جو آواز اُٹھائی تھی اس کی کیا وجہ ہے۔اور اس کی دو وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔ ایک وجہ تو یہ کہ حضرت چودھری صاحبؓ پر احمدیت کا اثر ہے اور دوسری وجہ یہ بیان کی تھی کہ ان کے خیالات بانی پاکستان محمد علی جناح سے متاثر تھے۔

(Universal Human Rights: The contribution of Muslim states, by Susan Waltz, Human Rights Quarterly Vol. 26 p 813.-819)

اب ہم دوسرے سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار ہے؟

دوسری آئینی ترمیم کی بحث سے قطع نظراس بارے میں پوری دنیا میں قانونی اور آئینی بحثیں ہوتی آئی ہیں اور اب تک ہو رہی ہیں۔ ایک طبقہ یہ کہتا ہے کہ پارلیمنٹ یا قانون ساز ادارے کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار ہے۔ اگر پارلیمنٹ کوئی غلط ترمیم کرے تو یہ ترمیم غلط تو ہو گی لیکن اسے عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، اگر اسے ختم کرنا ہے تو صرف پارلیمنٹ ہی اسے ختم کر سکتی ہے۔ دوسرا گروہ یہ نظریہ پیش کرتا ہے کہ پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیرمحدود اختیار نہیں ہے۔مثلاََ پارلیمنٹ کسی ترمیم کے ذریعہ بنیادی انسانی حقوق سلب نہیں کر سکتی۔پارلیمنٹ آئین کا بنیادی ڈھانچہ ختم نہیں کرسکتی۔ اور اگر پارلیمنٹ ایسا قدم اُٹھائے تو ملک کی اعلیٰ عدالت اس ترمیم کو ختم کر سکتی ہے۔سوال و جواب کے مرحلہ کے دوران یحییٰ بختیار صاحب نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ پارلیمنٹ کے پاس دو تہائی اکثریت کے ساتھ آئین میں ترمیم کا غیر محدود اختیار ہے۔ اور اگر پارلیمنٹ چاہے تو آئین میں اس شق کو بھی ختم کر سکتی ہے کہ آئین میں جن انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے ان میں کسی قانون کے ذریعہ کمی نہیں کی جا سکتی۔

تو سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار ہے؟ کیا قومی اسمبلی اور سینٹ دو تہائی کی اکثریت سے آئین میں کوئی بھی ترمیم کر سکتی ہیں؟ یا ان کے اختیار کی کوئی حدود ہیں۔ اس سوال کا تعلق صرف پاکستانی آئین کی دوسری ترمیم سے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس موضوع پر بحث ہو تی رہی ہے اور اب بھی ہو رہی ہے۔اس سلسلہ میںاگست 2015ء میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا ذکر ضروری ہے۔ جب پاکستان کے آئین میں اکیسویں ترمیم کی گئی اور اس کے تحت ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تو سپریم کورٹ میں اس کے خلاف بہت سی درخواستیں درج کرائی گئیں۔ ان میں سے کئی درخواستیں بہت سی وکلاء تنظیموں کی طرف سے تھیں۔ عدالتِ عظمیٰ نے جب فیصلہ سنایا تو جہاں ایک طرف یہ ترمیم برقرار رکھی گئی وہاں فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیرمحدود اختیار نہیں ہے۔اور آئین میں ترمیم کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں عدالت عظمیٰ آئین میں ترمیم کو ختم کر سکتی ہے۔

اس فیصلہ میں لکھا گیا

’’Therefore, it can be stated unequivocally that Parliament does not have unbridled or unfettered power to amend the Constitution, and if an amendment is made the Supreme Court has the jurisdiction to examine it and, if necessary, strike down the offending whole or part thereof. The Supreme Court exercises this power not because it seeks to undermine Parliament or travel beyond its domain, but because the Constitution itself has granted it such power. The Supreme Court‘s power of judicial review cannot be negated in any manner whatsoever because it is provided in the original 1973 Constitution and in its Preamble.‘‘

فیصلہ کے اس حصہ کا خلاصہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے پاس اس بات کا اختیار ہے کہ آئین میں ہونے والی کسی ترمیم کا جائزہ لے یا اسے منسوخ کردے۔اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ اپنی حدود سے تجاوز کر رہی ہے یا پارلیمنٹ کو کمزور کرنا چاہ رہی ہے بلکہ خود آئین نے اسے یہ اختیار دیا ہے۔اور یہ اختیار اس سے اس لیے واپس نہیں لیا جا سکتا کیونکہ یہ اختیار1973ء کے اصل آئین میں اور آئین کی تمہید میں دیا گیا ہے۔

اس مقدمہ میںاس وقت کے اٹارنی جنرل صاحب نے یہ دلیل پیش کی کہ آئین کے آرٹیکل 239میں یہ واضح کیا گیا ہے:

’’No amendment to the Constitution shall be called in question in any court on any ground whatsoever.‘‘

یعنی آئین میں کسی ترمیم کو کسی عدالت میں کسی وجہ سے بھی چیلنج نہیں کیا جائے گا۔اس بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ آئین کے جس آرٹیکل میں کسی معاملہ کو سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر قرار دیا گیا ہے وہاں یہ درج کیا گیا ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں سماعت نہیں کیا جا سکتا لیکن آرٹیکل 239میں جہاں’ کسی بھی عدالت‘ کے الفاظ ہیں وہاں ان حدود کا اطلاق سپریم کورٹ پر نہیں ہوتا۔(عدالتی فیصلہ صفحہ853تا856) سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس امر کی نشاندہی کی کہ آرٹیکل 239کا مذکورہ حصہ جس کا حوالہ اٹارنی جنرل صاحب دے رہے تھے، 1973ء کے اصل آئین میں موجود نہیں تھا بلکہ جنرل ضیاء الحق صاحب نے اسے آئین میں شامل کیا تھا اور اس وقت کی پارلیمنٹ نے مجبوری کی حالت میں اس کی منظوری دی تھی کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتی تو طویل تعطل کے بعد مشکل سے جو جزوی جمہوری عمل شروع ہوا تھا وہ بھی ختم کر دیا جاتا۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 239کا مذکورہ حصہ بھارت کے آئین میں کی جانے والی 42nd (Amendment) Act of 1976سے نقل کیا گیا تھا۔ اور اس کے ذریعہ اندرا گاندھی صاحبہ کے دور میں بھارتی آئین کے آرٹیکل 368میں ترمیم کی گئی تھی۔اس ترمیم کے الفاظ یہ تھے۔

’’Art. 368. Power of Parliament to amend the Constitution and procedure therefore:

(4) No amendment of this Constitution (including the provisions of Part III) made or purporting to have been made under this article [whether before or after the commencement of Section 55 of the Constitution (Forty-second Amendment) Act, 1976] shall be called in question in any court on any ground.

(5) For the removal of doubts, it is hereby declared that there shall be no limitation whatever on the constituent power of Parliament to amend by way of addition, variation or repeal the provisions of this Constitution under this article.‘‘

اس ترمیم کے آخری حصہ میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار موجود ہے۔ اور پارلیمنٹ جس طرح چاہے آئین میں اضافہ یا ترمیم کر سکتی ہے یا اس کی کسی شق کو ختم کر سکتی ہے۔یہ بات اہم ہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں آئین کی اس شق کو ختم کر دیا تھا۔بھارت کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا:

’’The newly introduced clause 5 of article 368 transgresses the limitations on the amending power of Parliament and is hence unconstitutional. It demolishes the very pillars on which the preamble rests by empowering the Parliament to exercise its constituent power without any ’’limitation whatever‘‘.

No constituent power can conceivably go higher than the sky-high power conferred by clause (5), for it even empowers the Parliament to ’’repeal the provisions of this Constitution‘‘ that is to say, to abrogate the democracy and substitute for it a totally antithetical form of Government. That can most effectively be achieved, without calling a democracy by any other name, by a total denial of social, economic and political justice to the people, by emasculating liberty of thought, expression, belief, faith and worship and by abjuring commitment to the magnificent ideal of a society of equals. The power to destroy is not a power to amend.

Since the Constitution had conferred a limited amending power on the Parliament, the Parliament cannot under the exercise of that limited power enlarge that very power into an absolute power. Indeed, a limited amending power is one of the basic features of Indian Constitution and therefore, the limitations on that power cannot be destroyed. In other words, Parliament cannot, under Article 368, expand its amending power so as to acquire for itself the right to repeal or abrogate the Constitution or to destroy its basic and essential features. The donee of a limited power cannot by the exercise of that power convert the limited power into an unlimited one. (2) The newly introduced clause (4) of Article 368 is equally unconstitutional and void because clauses (4) and (5) are inter-linked. While clause (5) purports to remove all limitations on the amending power, clause (4) deprives the courts of their power to call in question any amendment of the Constitution.

Indian Constitution is founded on a nice balance of power among the three wings of the State namely, the Executive, the Legislature and the Judiciary. It is the function of the Judges, may their duty, to pronounce upon the validity of laws. If courts are totally deprived of that power, the fundamental rights conferred upon the people will become a mere adornment because rights without remedies are as writ in water.

A controlled Constitution will then become uncontrolled. Clause (4) of Article 368 totally deprives the citizens of one of the most valuable modes of redress which is guaranteed by Article 32. The conferment of the right to destroy the identity of the Constitution coupled with the provision that no court of law shall pronounce upon the validity of such destruction is a transparent case of transgression of the limitations on the amending power.

If a constitutional amendment cannot be pronounced to be invalid even if it destroys the basic structure of the Constitution, a law passed in pursuance of such an amendment will be beyond the pale of judicial review because it will receive the protection of the constitutional amendment which the courts will be powerless to strike down. Article 13 of Constitution will then become a dead letter because even ordinary laws will escape the scrutiny of the courts on the ground that they are passed on the strength of a constitutional amendment which is not open to challenge.

ترجمہ :آرٹیکل 368میں شق پانچ کا اضافہ پارلیمنٹ کے ترمیم کرنے کی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اس لیے غیر آئینی ہے۔یہ ان ستونوں کو تباہ کردیتا ہے جس پر آئین کی تمہید قائم ہے کیونکہ یہ شق پارلیمنٹ کو ایسا آئینی اختیار دے دیتی ہے جس کی کوئی حدود نہیں ہیں۔کوئی آئینی اختیار اس اختیار سے زیادہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں آئین کی دفعات کو منسوخ کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، جمہوریت کو ختم کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔اس کی جگہ اس کے خلاف نظام متعارف کرانے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔اور ایسا جمہوریت کو کسی اور نام سے منسوب کیے بغیر یا اس کا مکمل انکار کر کے بھی کیا جا سکتا ہے۔ایسا بھی کیا جا سکتا ہے کہ لوگوں کو معاشی، اقتصادی اور سیاسی انصاف سے محروم کر دیا جائے۔سوچ، اظہار، عقیدے، ایمان اور مذہب کی آزادی کو غیر مؤثر کر دیا جائے۔اس عظیم مقصد کو ترک کر دیا جائے کہ ایک ایسا معاشرہ تعمیر کیا جائے جس میں سب برابر کے شہری ہوں۔ یہ آئین میں ترمیم کر نے کا اختیار نہیں بلکہ اسے تباہ کرنے کا اختیار ہے۔چونکہ آئین پارلیمنٹ کو ترمیم کرنے کا محدود اختیار دیتا ہے، پارلیمنٹ اس محدود اختیار کا استعمال کر کے اسے اس میں اضافہ کر کے غیرمحدود نہیں بنا سکتی۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا آئین پارلیمنٹ کو آئین میں ترمیم کرنے کا محدود اختیار دیتا ہے۔ ان حدود کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔دوسرے لفظوں میں پارلیمنٹ آرٹیکل 368 کے تحت اپنے اختیارات کو وسیع کر کے آئین کو منسوخ کرنے یا ختم کرنے کا اختیار نہیں حاصل کر سکتی۔یا اس کے بنیادی خدو خال کو ختم کرنے کا اختیار نہیں حاصل کر سکتی۔محدود اختیارات کا حامل ان اختیارات کو غیر محدود بنانے کا حق نہیں رکھتا۔ آرٹیکل 368 میں شق 4 کا اضافہ بھی اتنا ہی غیر آئینی ہے کیونکہ شق 4 اور شق پانچ ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔شق 5آئین میں ترمیم کرنے کے اختیار پر تمام حدود ختم کر دیتی ہے اور شق 4 عدالتوں کا یہ اختیار سلب کر لیتی ہے کہ وہ آئین میں کسی ترمیم کے بارے میں سماعت کرے۔بھارت کا آئین ریاست کے تین حصوں یعنی انتظامیہ،مقننہ اور عدلیہ کے درمیان ایک عمدہ توازن پر قائم کیا گیا ہے۔یہ ججوں کا صرف کام نہیں بلکہ فرض ہے کہ وہ قوانین کے جواز کے متعلق سماعت کریں اگر عدالتوں کا یہ اختیار ختم کر دیا جائے تو آئین میں بنیادی حقوق صرف ایک سجاوٹ کی چیز بن جائیں گے۔کیونکہ ایسے حقوق جن کے پامال ہونے کی صورت میں چارہ جوئی کا کوئی راستہ نہ ہو پانی پر لکیر ثابت ہوتے ہیں۔عدالت نے فیصلہ دیا کہ پارلیمنٹ آئین میں ترمیم کر سکتی ہے لیکن اس اختیار کی بھی کچھ حدود ہیں۔ اگر اس حق کو غیر محدود کر دیا جائے اور عدالتوں کا یہ حق ختم کر دیا جائے کہ وہ اس بارے میں کسی مقدمہ کی سماعت کریں تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔اس طرح ایک متوازن آئین ایک غیر متوازن آئین میں تبدیل ہو جائے گا۔آرٹیکل 368کی شق 4 شہریوں کو اس حق سےکلیتاََ محروم کر دیتی ہے کہ وہ آرٹیکل 38میں زیادتیوں کے ازالہ کے لیے جو ضمانت دی گئی ہے اس سے مستفید ہو سکیں۔ ایک طرف یہ آئین کو تباہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور دوسری طرف یہ پابندی لگا دی گئی ہے کہ کوئی عدالت اس کے جواز کے بارے میں سماعت بھی نہیں کر سکتی۔یہ ترمیم کے اختیار سے تجاوز کی ایک واضح مثال ہے۔اگر ایک آئینی ترمیم کو اس صورت میں بھی غیر قانونی نہیں قرار دیا جاسکتا کہ وہ آئین کی بنیاد ہی کو منہدم کر رہی ہو تو جو قوانین اس ترمیم کے نتیجہ میں بنیں گے وہ بھی عدالت کے جائزے کے دائرے سے بالا ہوں گے اور عدالتیں بے بس ہوں گی کہ ان کو ختم کر سکیں۔ اس صورت میں آرٹیکل 13 ایک مردہ دستاویز بن جائے گا اور عام قوانین بھی عدالت کے جائزے سے بالا ہوں گے کیونکہ انہیں کسی ترمیم کی پشت پناہی حاصل ہے اور اس ترمیم کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح بنگلہ دیش کی سپریم کورٹ نے ایک مقدمہ کی سماعت کے بعد جو فیصلہ دیا اس میں لکھا:

’’Basic structural pillars of the Constitution cannot be changed by amendment‘‘

یعنی آئین کے بنیادی ستونوں کو ترمیم کے ذریعہ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

(Anwar Hossain Chowdhury Vs. Bangladesh, 1989, 18 CLC (AD))

اس موضوع پر بہت سی بحثیں ہو چکی ہیں اور اب بھی یہ بحث جاری ہے لیکن یہ امر قابل توجہ ہے کہ برصغیر کی تینوں پارلیمانی جمہوری ممالک کی سپریم کورٹس کا آخری فیصلہ یہی ہے کہ پارلیمنٹ کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کا غیر محدود اختیار نہیں ہے۔

پاکستان کے آئین میں بنیادی حقوق کے باب کے آغاز پر ہی یہ پابندی درج ہے:

(۱) کوئی قانون، یا رسم یا رواج جو قانون کا حکم رکھتا ہو، تناقض کی اس حد تک کالعدم ہوگا جس حد تک وہ اس باب میں عطا کردہ حقوق کا نقیض ہو۔

(۲) مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرے گی جو بایں طور عطا کردہ حقوق کو سلب یا کم کرے اور ہر وہ قانون جو اس شق کی خلاف ورزی میں وضع کیا جائے اس خلاف ورزی کی حد تک کالعدم ہوگا۔

اور اس باب میں ہی مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔ ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہوگا۔

آخر میں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ اس قرارداد کی منظوری سے بالکل قبل وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ پاکستان میں ہر شخص کو اپنا مذہب professکرنے کی آزادی ہے۔ اور سوال و جواب کے پہلے روز اٹارنی جنرل صاحب نے بھی یہی نظریہ پیش کیا تھا کہ اگر آئین میں جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دے دیا جائے تو اس سے ان کے اپنے مذہبprofessکرنے کے حق پر کوئی فرق نہیں پڑے گا(کارروائی صفحہ129)۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ professکا مطلب ہے

Affirm one‘s faith in or allegiance to a religion or set of beliefs

اردو میں اس کا مطلب یہ ہے کہ دعویٰ کرنا اور اقرار کرنا۔

اگر آئین میں ترمیم کرکے قانون اور آئین کی اغراض کے لیے ایک فرقےکو غیر مسلم قرار دیا جائے تو کم از کم سرکاری کارروائی میں یا سرکاری کاغذات میں وہ اپنے آپ کو مسلمان درج نہیں کر سکیں گے۔ اس طرح ان کا professکرنے کا حق بہرحال متاثر ہو گا۔

پاکستان سمیت جن ممالک میں جب بھی کوئی ایسا ظالمانہ قانون مسلط کرنا ہو جس کے نتیجہ میں بنیادی انسانی حقوق سلب ہوتے ہوں تو یہ بودا عذر پیش کیا جاتا ہے کہ یہ تو ملک کا قانون ہے اور اس کی خلاف ورزی قانون شکنی ہو گی۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے آئین کی رو سے بھی ملک کے قانون ساز اداروں کے پاس اس بات کا اختیار موجود نہیں ہے کہ وہ کوئی بھی ظالمانہ قانون بنا دیں۔ مثال کے طور پاکستان کے آئین کے باب 2کی رو سے ملک میں غلامی کو جائز قرار دینے کا قانون نہیں بنایا جاسکتا۔ بیگار لینے کے بارے میں قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ کسی شخص کو ٹارچر نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جس کے نتیجہ میں کسی شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکا جائے۔

اور دنیا کے تمام قوانین عقل اور اخلاقیات کی کسوٹی پر پرکھے جاتے ہیں۔ محض یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ یہ ملک کا قانون ہے اس لیے اس کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے۔پاکستان کے آئین کی رو سے ایسا قانون نافذ نہیں کیا جا سکتا جس میں آئین کے دوسرے باب میں درج بنیادی حقوق کو کم یا سلب کیا گیا ہو۔ اگر ایسا قانون بنایا جائے تو یہ ملک کے آئین کی خلاف ورزی ہو گی۔اور پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ یہ قانون خود بخود کالعدم ہوگا۔

کچھ دہائیاں قبل جنوبی افریقہ میں سیاہ فام آبادی کے خلاف امتیازی قوانین موجود تھے۔ لیکن محض اس بنا پر کہ یہ قوانین ملک کے قوانین کی کتاب میں درج ہیں یہ قوانین مقدس قرار نہیں دیے گئے تھے۔بلکہ دنیا کے اکثر ممالک نے ان پر احتجاج کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اور نیلسن منڈیلا کی قیادت میں جنوبی افریقہ میں ان کے خلاف تحریک چلائی گئی تھی۔ اور آج کوئی نیلسن منڈیلا کو اس لیے قابل مذمت نہیں سمجھتا کہ انہوں نے ملک کا قانون کیوں توڑا؟ بلکہ ان سابقہ قوانین کی ہی مذمت کی جاتی ہے۔

امریکہ کی خانہ جنگی سے پہلے امریکہ کی کئی ریاستوں میں غلامی کو تحفظ دینے کے قوانین موجود نہیں تھے۔ محض اس بنا پر کہ ان ریاستوں میں یہ قوانین موجود ہیں غلامی کا جواز ثابت نہیں ہو گیا تھا۔ بلکہ ان قوانین کے خلاف تحریک چلی حتیٰ کہ امریکہ میں خانہ جنگی ہوئی اور آخر غلامی کو ختم کر دیا گیا۔پہلے یوکے میں عورتوں کو ووٹ دینے کا حق نہیں تھا۔ لیکن یہ قانون اس بات کا جواز نہیں تھا کہ عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں ہونا چاہیے کیونکہ قانون میں ایسا ہی لکھا ہے۔اس قانون کے خلاف تحریک چلائی گئی اور 1918ء میں یہ قانون ختم کر دیا گیا۔

اگر اس دلیل پر اصرار کیا جائے کہ چونکہ ملک میں ایک ظالمانہ قانون موجود ہے اس لیے جو اس کی مخالفت کرے گا وہ مجرم ہوگا تو دنیا میں انسانی حقوق کے لیے جد و جہد کرنے والے تمام بڑے نام مجرم قرار پائیں۔اگر مذہبی دنیا سے مثال پیش کی جائے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دینے کا فیصلہ مذہبی اور ملکی دونوں عدالتوں نے سنایا تھا۔ اور پیلاطوس نے اس کا حکم سنانے سے قبل عوام کی رائے بھی معلوم کی تھی اور سب نے یک زبان ہو کر یہی رائے دی تھی کہ آپ کو صلیب دی جائے۔لیکن کوئی ذی ہوش یہ دلیل نہیں پیش کر سکتا کہ چونکہ اس وقت ملک کے قانون نے آپؑ کے خلاف فیصلہ سنایا تھا اس لیے یہ فیصلہ درست تھا۔ اور اس کے خلاف کچھ کہنا مناسب نہیں۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close