متفرق مضامین

جلسہ سالانہ قادیان 2010ء کی یادیں

(ابوظہیر)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 23؍مارچ 1889ء کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بنیاد رکھی اور اسلام کی عالمگیر اشاعت، دیگر ادیان پر دین اسلام کے غلبہ اور اپنی جماعت کی تعلیم وتربیت کے لیے آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ ساتھ بہت سے دیگر ذرائع بھی اختیار فرمائے جن میں سے ایک جلسہ سالانہ کا قیام بھی ہے۔ جس میں شمولیت کرنے والے احباب جماعت کی تعداد تدریجی لحاظ سے مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ چنانچہ الفضل انٹرنیشنل اس کا ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہے کہ

’’1891ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک ہاتھوں سے جلسہ سالانہ کا مبارک آغاز ہوا تھا۔ اور پہلا جلسہ مسجد اقصیٰ قادیان میں منعقد ہوا تھا جس میں پچھتّر (75)افرادشامل ہوئے تھے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جو آخری جلسہ قادیان میں دسمبر 1946ء میں منعقد ہوا تھا اس میں تینتیس ہزار سات صد چھیاسی (33786) افراد شریک ہوئے تھے۔ 1991ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کی موجودگی میں ہونے والے جلسہ سالانہ قادیان میں قریباً پچیس ہزار (25000)افراد شامل ہوئے جبکہ… حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی جلسہ میں شمولیت کی برکت سے نہ صرف ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے مخالفانہ کوششوں اور روکوں کو پھلانگتے ہوئے ہزاروں میل کا سفر کرکے عشاقان خلافت قادیان آئے بلکہ دنیا کے مختلف ممالک سے بھی بڑی تعداد میں احمدی قادیان پہنچے اور مجموعی طور پر ستّر ہزار افراد اس میں شامل ہوئے۔ اب تک قادیان میں ہونے والے جلسوں میں یہ ریکارڈ حاضری ہے۔ ‘‘

(الفضل انٹرنیشنل 6؍جنوری 2006ء صفحہ اوّل)

اک قطرہ اُس کے فضل نے دریا بنا دیا

میں خاک تھا اُسی نے ثریّا بنا دیا

دیکھو خدا نے ایک جہاں کو جھکا دیا

گُم نام پا کے شہرۂ عالَم بنا دیا

(حضرت مسیح موعودؑ )

پس قادیان دارالامان اور جلسہ سالانہ کی غیر معمولی عظمت واہمیت اور برکات کی وجہ سے ہر احمدی کی یہ شدید آرزو اور دلی تمنا ہوتی ہے کہ وہ اس مقام پاک پر حاضر ہوکر اپنی روحانی تسکین کے سامان کرے اور ذکر الٰہی، دعاؤں، عبادات اور پُر معارف تقاریر کے روح پرور ماحول سے فیضیاب ہواور اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جلسہ سالانہ کے شاملین کے لیے خصوصی دعاؤں کا فیض حاصل کرنے اور مزار مبارک پر حاضر ہوکر بھی دعاؤں کی سعادت نصیب ہو۔

پاکستان میں قدغنوں اور شدید گھٹن کے اس ماحول اور فضا میں بسا غنیمت ہے کہ ممالک بیرون میں جاکر کچھ احباب جلسہ سالانہ میں شامل ہوکر اپنی روحانی وقلبی تسکین کا سامان کر لیتے ہیں۔

الحمدللہ کہ تازہ ہوا کا یہ خوشگوار جھونکا اس عاجز کو بھی نصیب ہوا۔ اس خوشخبری کی اطلاع ملی کہ جلسہ سالانہ قادیان 2010ء کے لیے جانے والے خوش نصیبوں میں اس عاجز کا نام بھی شامل ہے تو بے اختیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حمدوثنا سے معمور یہ بابرکت اشعار میری زبان پر جاری ہوگئے

اے خدا اے کارساز و عیب پوش و کردگار

اے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار

کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکرو سپاس

وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار

اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ 23؍دسمبر 2010ء کو قادیان دارالامان کے سفر کا آغاز کیا۔ زیر لب دعاؤں، ذکر الٰہی اور درود شریف کا ورد کرتے ہوئے واہگہ بارڈر پر پہنچے۔ یہاں جماعت احمدیہ لاہور کے وفا شعار مخلصین نے جلسہ کے مہمانوں کے لیے کھانے اور چائے پانی کا نہایت عمدہ انتظام کیا ہوا تھا اور ساتھ ہی سفری دستاویزات کی پڑتال وغیرہ کی کارروائی میں سہولت بہم پہنچانے کا بھی حق ادا کردیا۔ جَزَاھُمُ اللّٰہُ خَیۡرًا۔ ظہر وعصر کی نمازیں دوران سفر ہی ادا کیں۔ انڈیا کی حدود میں قادیان کے مستعد، اخلاص و خدمت کے جذبہ سے سرشار خدام نے قادیان لے جانے والی بس میں سوار کرنے کے لیے بھرپور تعاون کیا اور پاسپورٹ وغیرہ چیک کروانے کے مراحل بھی خوش اسلوبی سے طے کروائے۔ جَزَاھُمُ اللّٰہُ خَیۡرًا۔

ہم قادیان کے قریب پہنچے تو مسجد اقصیٰ کا سفید مینار نظر آنے لگا جس نے جذبات میں عجیب تلاطم پیدا کردیا۔ اسلام کی 121سالہ عظیم جدوجہد، قربانیوں، دعاؤں اور عشق ووفا کی عالمگیر اور لازوال تاریخ کے مناظر ایک ایک کرکے دل ودماغ کی سکرین پر آنے لگے۔ اسلام کی عظمت وشوکت کا یہ نشان(منارۃ المسیح ) مسجد اقصیٰ کے صحن میں تعمیر کیا گیا ہے۔ حضور نے 13؍مارچ 1903ء کوجمعۃ المبارک کے بعد منارۃ المسیح کا سنگ بنیاد رکھا اور دعا کروائی پھر بیت الفکر کے ساتھ غربی جانب ایک مقدس کمرہ کی بنیاد رکھی۔ جس کا نام ’’مسجد البیت‘‘ اور ’’بیت الدعا‘‘ تجویز فرمایا اور حضورؑ نے دعا کروائی۔

(تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 301)

آپؑ کے عہد مبارک میں اس مینار کی تکمیل نہ ہوسکی۔ بعد میں آپ کے لخت جگر، پسرِ موعود حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدخلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی از سر نو تعمیر کا آغاز فرمایا اور آپ کے عہد میں 16؍فروری 1923ء کو یہ دل کش اور خوشنما مینار پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اس کی بلندی 105فٹ ہے۔ تین منزلیں ایک گنبد اور 92سیڑھیاں ہیں۔ اس زمانہ میں اس کی تعمیر پر 5963روپے خرچ ہوئے۔ بہرحال تھوڑی ہی دیر میں ہم اس مقدس ومحترم بستی میں داخل ہوئے جس کی خاک نے حضرت مسیح موعودؑ کے قدم چومے۔ ہماری بس میں موجود بعض احباب نے فرط محبت وعقیدت سے نعرہ ہائے تکبیر بلند کرنے شروع کردیے اور دیگر نعروں کے ساتھ ہی بے اختیار شہدائے احمدیت اور86شہدائے لاہورکے لیے دردِ دل سے بھرے ہوئے نعرے بھی فضا میں گونجنے لگے۔

مہمانان جلسہ سالانہ کے استقبال کے لیے نصب شدہ خیموں کے سامنے جونہی ہماری بس رکی افسر صاحب جلسہ سالانہ کے نمائندگان نے جملہ مہمانوں کا پُر تپاک استقبال کیا اور کارکنان نے گاڑیوں پر مہمانوں کا سامان رکھوا کر ہر مہمان کو اس کی مقررہ رہائش پر پہنچایا۔ ان رہائش گاہوں میں مہمانوں کی سہولت اور آرام کے لیے حتی المقدور تمام ضروریات کا خیال رکھا گیا تھا۔ کھانا، چائے، بستر، وضو خانے اور غسل خانوں کی سہولتیں بھی مہیا تھیں۔ صدر انجمن احمدیہ قادیان کے زیر اہتمام قائم نور ہسپتال جو قادیان اور مضافات کے لیے سارا سال خدمت انسانیت کے جذبہ سے سرشار ڈاکٹر صاحبان اور پیرا میڈیکل سٹاف کے ساتھ دکھی مخلوق کی خدمت بجالاتا ہے۔ یہ ہسپتال جلسہ سالانہ کے ایام میں دن رات معمول کے مریضوں کے علاوہ جلسہ سالانہ کے مہمانوں کو بھی طبی سہولتیں بہم پہنچاتا ہے۔

جلسہ سالانہ کے مہمانوں کی خدمت کے لیے سینکڑوں رضا کار شب وروز اپنے اپنے شعبوں کے افسران کے ماتحت نہایت درجہ خلوص، خندہ پیشانی اور فرض شناسی کے ساتھ مہمانوں کی خدمت میں مصروف رہے۔ مسلسل محنت، کام، سردی کی شدت اور تھکاوٹ کے باوجود کہیں دیکھنے میں نہیں آیا کہ کسی مہمان کو ان کے رویہ سے کوئی شکایت پیدا ہوئی ہو اور یہ چیز ایک معجزہ سے کم نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان رضاکاروں اور خدمت گزاروں کی صحت وعمر اور اخلاص وایمان میں بہت برکت عطا فرمائے اور ان کے اخلاص وایثار کو قبول فرمائے۔ آمین۔

مجھے یہاں اہل قادیان اور درویشان قادیان کا کچھ ذکر بھی کرنا ہے۔ وہ سب کے سب ہمہ وقت خوش باش اور روحانی اخوت ومحبت کے جذبہ سے سرشار نظر آئے۔ مہمانان مسیح موعود کا احترام اور ان کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کرنے کی ان کی خوئے دلنوازی نے بلاشبہ مہمانوں کے دل جیت لیے۔ پھرکچھ درویشان بھائی وہ بھی تھے جو ہمیں اصرار کے ساتھ اپنے گھروں میں لے گئے اور محبت بھری، شیریں گفتگو اور بشاشت کے ساتھ خاطر مدارات فرماتے رہے۔ ایک درویش بھائی ہماری خواہش پر ہمیں حضرت مولانا نورالدین خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے گھر کے ایک کمرے میں لے گئے جہاں ایک چھوٹی سی محراب اور مسجد بنی ہوئی تھی جس میں حضور رضی اللہ عنہ نوافل ونماز تہجد ادا فرمایا کرتے تھے۔اللہ ان سب درویش بھائیوں کو اپنے بے شمار فضلوں سے نوازے۔ آمین

یہ امر خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے آرام وآسائش اور ضروریات کا جہاں پورا پورا خیال رکھا گیا وہاں ان کی روحانی غذا، عبادات، دعاؤں کے مواقع اور پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی کے انتظامات میں جلسہ سالانہ کی انتظامیہ کی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔ جلسہ کے تین دنوں (28,27,26؍دسمبر 2010ء) کے دوران ظہر وعصر کی نمازیں جلسہ گاہ ہی میں ادا کی جاتی رہیں۔ فجر، مغرب، عشاء اور نماز تہجد مسجد اقصیٰ میں باجماعت ادا کرنے کا اہتمام رہا اور احباب ان سب میں شمولیت کے لیے اس کثرت سے حاضر ہوتے رہے کہ مسجد اقصیٰ اپنی موجودہ وسعت کے باوجود نمازیوں کو اپنے وسیع و عریض دامن میں سمیٹنے سے قاصر نظر آتی۔ قارئین کرام کے علم میں ہوگا کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے عہد مبارک میں مسجد اقصیٰ کی بہت بڑی توسیع کی گئی ہے۔ ایک بہت بڑا ہال گراؤنڈ فلور پر بنایا گیا ہے اور دو وسیع و عریض اور دلکش ہال اوپر تعمیر کیے گئے ہیں۔ نئے توسیع شدہ حصوں میں خدا کے فضل سے کم وبیش پانچ ہزار مزید نمازیوں کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے۔ جلسہ سالانہ پر حاضر ہونے والے 17ہزار مہمانوں کی رہائش گاہیں سارے قادیان میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس لیے ان میں قیام پذیر مہمانان کرام کے لیے مسجد اقصیٰ کے علاوہ درج ذیل مساجد میں بھی نماز باجماعت اور دروس کا انتظام و انصرام کیا گیا تھا۔ مسجد فضل، مسجد دارالفتوح، مسجد نور، مسجد انوار اور مسجد ناصر آباد۔

مسجد مبارک جلسہ کے دوران مستورات کے لیے مختص کردی گئی تھی۔ 24؍دسمبر 2010ء کی نماز جمعہ اسی طرح 31؍دسمبر 2010ء کی نماز جمعہ بھی مسجد اقصیٰ میں ادا کی گئی اور مقامی خطیب صاحب نے خطبہ جمعہ دیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات جمعہ مقررہ وقت پر مسجد اقصیٰ اور تمام رہائش گاہوں پر سننے کا انتظام کیا گیا تھااور حضور انور کا جلسہ سالانہ قادیان کا اختتامی خطاب جلسہ گاہ میں بہت بڑی سکرین (Screen)کے ذریعہ براہ راست لندن سے سنایا اور دکھایا گیا۔ نماز فجر کے بعد تربیتی عناوین پر درس ہوتے رہے۔ باجماعت نماز تہجد کی کیفیت اورسکینت کو الفاظ کا جامہ پہنانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ خدا کے ہزاروں بندے خدا کے حضور پُر سوز اور عاجزانہ دعاؤں اور التجاؤں میں مصروف ہوتے ان دعاؤں کی قبولیت کے لیے رحمت باری تعالیٰ یقیناً اپنے بندوں پر سایہ فگن ہوتی ہے اور ان کا فیض اور فیضان، انسان کے لیے دونوں جہانوں کی حسنات و برکات کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ رات اور دن کے مختلف اوقات میں (پنجگانہ نماز باجماعت، نماز تہجد اور جلسہ کی تقاریر کے علاوہ) احباب کثرت سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیت الدعا میں دعا اور نوافل کی ادائیگی کی توفیق پاتے۔ اسی طرح بہشتی مقبرہ میں حضرت اقدس علیہ السلام کے مزار پُر انوار پر دعا کے لیے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا۔ نوافل اور دعاؤں کا یہ روح پرور ماحول جس نے ہزار ہا شاملین جلسہ کو از خود رفتہ کردیا تھا، دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا کہ اس مبارک بستی کے چپہ چپہ پر انوار الٰہی کا نزول ہورہا ہے اور پھر ہزار ہا لوگ مرد، عورتیں، بچے، جوان اور بوڑھے خاموشی اور وقار کے ساتھ قادیان کی تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے نظم وضبط کی ایسی فقیدالمثال تصویر پیش کر رہے تھے کہ اسے روحانی اجتماع کے سوا کوئی اور نام اور عنوان نہیں دیا جاسکتا۔ دیگر انسانی جلسوں سے ممتاز یہ جلسہ لاریب بانی سلسلہ احمدیہ کی مقبول دعاؤں اور خواہشات کا شیریں ثمر اور اعلیٰ دینی روایات کا آئینہ دار ہے۔

جب2005ء میں سیّدنا و امامنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا قادیان میں ورودِ مسعود ہوا تو 70ہزار مہمانانِ جلسہ سالانہ کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا جو اس چھوٹی سی بستی اور اس کی تنگ گلیوں سے سنبھالے نہ سنبھلتا تھا مگر شمعٔ خلافت کے پروانوں کی خلیفہ وقت کی طرف سے تربیت کا اعجاز تھا کہ کامل سکون اور امن وامان اور نظم وضبط کے ساتھ جلسہ کے ایّام خیریت عافیت سے گزرے نہ کوئی گملا ٹوٹا نہ کوئی کسی کی ٹھوکر سے گرا نہ کوئی ایک بھی شکایت کا موقع پیدا ہوا۔ سکون وعافیت کے لحاظ سے یہ 70ہزار فرشتوں کا اجتماع ثابت ہوا۔ الحمد للّٰہ علیٰ ذالِکَ۔

آئیے اب 2010ء کے جلسہ سالانہ قادیان کے پروگرام اور تقاریر کے عناوین پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ جلسہ کے ہر سیشن کا آغاز اجتماعی دعا اور قرآن کریم کی تلاوت اور تلاوت کردہ آیات کریمہ کے ترجمہ سے ہوتا رہا جس کے بعد حمد باری تعالیٰ، مناجات الہٰیہ، نعت رسول مقبولﷺ اور دینی اقدار کی آئینہ داررُوح پرور نظمیں پڑھی جاتی رہیں۔ اس جلسہ سالانہ کی کچھ تقاریر کے عناوین ملاحظہ فرمائیں جو یہ ہیں۔

ہستی باری تعالیٰ (نصرت الٰہی کی روشنی میں )۔ سیرت آنحضرتﷺ (صبروثباتِ قدم کی روشنی میں )۔ جماعت احمدیہ اور مذہبی رواداری۔ سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام (حقوق العباد کے آئینہ میں )۔ عصر حاضر کے اقتصادی بحران کا حل۔ جماعت احمدیہ اور مالی قربانی۔ اسلام اور عائلی زندگی۔ شہدائے اوّلین و آخرین کا مقام ومرتبہ (شہدائے لاہور کا تذکرہ)۔

ان تقاریر کی اہمیت و اثر آفرینی کے بارے میں خاکسار صرف اس قدر عرض کرنا چاہتا ہے کہ خدا کے فضل سے رجوع و انابت الی اللہ اور محبت الٰہی پیدا کرنے والی، رسول کریمﷺ کے عشق ومحبت کی لازوال دولت سے مالا مال کردینے والی، مخلوق خدا کی ہمدردی وغمگساری اور خدمت خلق کے سچے جذبہ سے سرشار کردینے اور دنیا کے مسائل کا اطمینان آفرین حل پیش کرنے والی ان تقاریر کا مقررین نے حق ادا کردیا اور سامعین جلسہ نے بھی پورے نظم وضبط اور ہمہ تن گوش ہوکر ان تقاریر کو سننے کا حق ادا کردیا۔ تقاریر کے دوران حسب موقع نعرہ ہائے تکبیر۔ درودوسلام کا زیر لب ورد جاری رہا، حبیب خدا حضرت محمد مصطفیٰؐ کا نعرہ باربار جلسہ کے ایام میں گونجتا رہا جس کے جواب میں ہزارہا سامعین نہایت درجہ محبت وعقیدت سے بیک آواز اور اونچی آواز میں اور ایک ہی انداز میںﷺ پڑھتے تو یوں محسوس ہوتا کہ جلسہ کا سارا ماحول رحمت الٰہی کے نور سے بقعہ نور بن گیا ہے۔ اسلام زندہ باد، خلافت احمدیہ زندہ باد کے نعروں سے بھی فضا مسلسل گونجتی رہی۔ ایک اور نعرہ جلسہ سالانہ قادیان میں نیا تھا کہ 86معصوم ومظلوم شہدائے لاہور جنہوں نے جمعہ کی نماز کے دوران 2 احمدیہ مساجد میں درود شریف کا ورد کرتے ہوئے 28؍مئی 2010ء کو کمال جذبہ صدق و صفا کے ساتھ اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اپنی وفا کی لازوال تاریخ رقم کی، ان کی یاد میں تینوں روزحضرت مسیح موعودؑ کی بستی میں جلسہ سالانہ قادیان کی فضا شہدائے احمدیت اور شہدائے لاہور کے پُر درد اور فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہی۔ ان شہداءکے بارے میں جلسہ کے پروگرام میں ایک خاص تقریر بھی رکھی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان اصحاب صدق ووفا کی روحوں پر اپنی ابدی رحمتوں کی بارش برساتا رہے اور ان میں سے ہر ایک کے حق میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ دعا قبول فرمائے کہ

اے خدا بر تربت او ابر رحمت ہا ببار

داخلش کن از کمال فضل در بیت النعیم

قادیان کی سڑکیں اور راستے اب بہت صاف ستھرے اور ہموار ہیں۔ تقریباًہرطرف عمدہ پکی سڑکیں بن چکی ہیں۔ گردوغبار کا نام ونشان نہیں۔ مہمانوں کے لیے نئے گیسٹ ہاؤس تعمیر ہوچکے ہیں۔ نئے جماعتی دفاتر اپنی خوبصورتی و دلکشی اور وسعت وبلندی کے اعتبار سے دیکھنے والوں کو بہت خوش منظر لگتے ہیں۔ ایک اور نئی بلڈنگ مخزن تصاویر کے نام سے جماعتی ترقی کی سلسلہ وار تاریخی تصاویر کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ MTAقادیان کی عمارت اور اس میں جدید آلات دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کے نام نامی سے مُعَنوَن و منسوب سرائے وسیم بھی طرز تعمیر کا نادر نمونہ ہے۔ سرائے طاہر کی وسیع اور پُر شوکت عمارت جہاں اب جامعہ احمدیہ منتقل ہو گیا ہے بالخصوص قابلِ دید ہے۔ اس کے ساتھ ہی مسجد انوار جو فنِ تعمیر کا نادر نمونہ ہے۔ یہ11000؍مربع فٹ رقبہ پر تعمیر شدہ نہایت ہی خوبصورت عبادت گاہ ہے۔ تمام نئی بےشمار عمارتوں سے قادیان کی بستی کو ماشاء اللہ چار چاند لگ گئے ہیں اور یہ سب کلام و الہام الٰہی وسع مکانک کی قبولیت وسچائی کا زندہ نشان ہیں۔ بہشتی مقبرہ قادیان کی 17؍ایکڑ پر پھیلی ہوئی سرزمین خوبصورتی، سبزہ، ہرے بھرے درختوں، خوبصورت روشوں، پھولوں اور بجلی کے قمقموں سے اپنی مثال آپ تھی۔ الغرض روحانی اور ظاہری ہر اعتبار سے مسیح موعود علیہ السلام کی اس پاک بستی پر بہار کا سماں تھا اور بالخصوص یہاں عبادات، نمازوں، نوافل اور دعاؤں کا جو روح پرور ماحول تھا۔ اس کی وجہ سے یہاں سے واپس آنے اور اس مقدس بستی کو چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔

یکم جنوری 2011ء کو نئے سال کا آغاز ہم نے اسی بستی، پیاری بستی سے کیا، ہمارے ارمانوں، پیمانوں ہماری امیدوں محبتو ں، عقیدتوں کی بستی ہم سے چھوڑی نہیں جارہی تھی۔

قادیان سے وقت رخصت دل کی جو کیفیت اور جذبات کا جو حال تھا وہ سیّدنا محمود مصلح موعودؓ کے درج ذیل اشعار کا مظہر تھا

یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا ہوا یہ انقلاب

پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے قادیاں

خیال رہتا ہے ہمیشہ اس مقام پاک کا

سوتے سوتے بھی یہ کہہ اٹھتا ہوں ہائے قادیاں

گلشن احمد کے پھولوں کی اڑا لائی جو بُو

زخم تازہ کرگئی باد صبائے قادیاں

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close