کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

اصل برکت دل میں ہوتی ہے اور وہی برکت کی جڑ ہے

ہما ری جماعت توایمان لاتی ہے مگر اصل میں مدارِ ایمان نشانوں پر ہوتا ہے۔ اگرچہ انسان محسوس نہ کرے مگر اس کے اندر بعض کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں اور جب تک وہ کمزوریاں دور نہ ہوں اعلیٰ مراتبِ ایمان نہیں مل سکتے اور یہ کمزوریاں نشانات ہی کے ذریعہ دُور ہوتی ہیں۔ اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے نشانوں سے ان کمزوریوں کو دُور کرے اور جماعت اپنے ایمان میں ترقی کرے۔ اب وہ وقت آگیا ہے کہ

اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرٌ (الـحج:40)

کا نمونہ دکھائے۔ اللہ تعالیٰ کی نظر سے صادق اور کاذب، خائن اور مظلوم پوشیدہ نہیں ہیں اب ضروری ہے کہ سب گروہ متفق ہو کر میرے استیصال کے درپے ہوں جیسے جنگ احزاب میں ہوئے تھے۔ جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب خداتعالیٰ نے چاہا ہے۔ میں نے جو خواب میں دیکھا کہ دریائے نیل کے کنارے پر ہوں اور بعض چلائے کہ ہم پکڑے گئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا وقت بھی آوے جب جماعت کو کوئی یاس ہو مگر میں یقین رکھتاہوں کہ خدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دے گا۔ اس وقت یہ پورا زور لگائیں گے تاکہ قتل کے مقدمہ کی حسرتیں نہ رہ جائیں کہ کیوں چھوٹ گیا۔ یہ لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میں پیش کرتا ہوں مگر وہ دیکھ لیں گے کہ

اِکْرَامًا عَـجَبًا

کیسے ہوتا ہے۔ …

جماعت کو تبلیغ

بیعت کے بعد ایک شخص نے اپنے گاؤں میں کثرت طاعون کا ذکر کیا اور دعا کی درخواست کی۔ فرمایا: میں تو ہمیشہ دعا کرتا ہوں مگر تم لوگوں کو بھی چاہیے کہ ہمیشہ دعا میں لگے رہو۔ نماز یں پڑھو اور توبہ کرتے رہو۔ جب یہ حالت ہو گی تو اللہ تعالیٰ حفاظت کرے گااور اگر سارے گھر میں ایک شخص بھی ایسا ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کے با عث سے دوسر وں کی بھی حفاظت کرے گا۔ کوئی بَلا اور دکھ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے سوا نہیں آتا اور وہ اس وقت آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور مخالفت کی جاوے۔ ایسے وقت پر عام ایمان کام نہیں آتا بلکہ خاص ایمان کام آتا ہے۔ جو لوگ عام ایمان رکھتے ہیں وہ ان بلاؤں سے حصہ لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی پروا نہیں کرتا مگر جو خاص ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی طرف رجوع کرتا ہے اور آپ ان کی حفاظت فرماتا ہے

مَنْ کَانَ لِلّٰہِ کَانَ اللّٰہُ لَہٗ۔

بہت سے لوگ ہیں جو زبان سے

لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ

کا اقرار کرتے ہیں اوراپنے اسلام اور ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر وہ اللہ تعالیٰ کے لیے دکھ نہیں اٹھاتے۔ کوئی دکھ یا تکلیف یا مقدمہ آجاوے تو فوراً خدا کوچھوڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں اور اس کی نافرمانی کر بیٹھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا مگر جو خاص ایمان رکھتا ہو اور ہر حال میں خدا کے ساتھ ہو اور دکھ اٹھانے کو تیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اس سے دکھ اٹھا لیتا ہے اور دو مصیبتیں اس پر جمع نہیں کرتا۔ دکھ کا اصل علاج دکھ ہی ہے اور مومن پر دو بلائیں جمع نہیں کی جاتیں۔

ایک وہ دکھ ہے جو انسان خدا کے لیے اپنے نفس پر قبول کرتا ہے اور ایک وہ بلائے ناگہانی، اس بَلا سے خدا بچا لیتا ہے۔ پس یہ دن ایسے ہیں کہ بہت توبہ کرو۔ اگرچہ ہر شخص کو وحی یا الہام نہ ہو مگر دل گواہی دے دیتا ہے کہ خدا تعالیٰ اسے ہلاک نہ کرے گا۔ دنیا میں دو دوستوں کے تعلقات ہوتے ہیں۔ ایک دوست دوسرے دوست کا مرتبہ شناخت کرلیتا ہے کیونکہ جیسا وہ اس کے ساتھ ہے ایسا ہی وہ بھی اس کے ساتھ ہوگا۔ دل کودل سے راہ ہوتی ہے۔ محبت کے عوض محبت اور دغا کے عوض میں دغا۔ خداتعالیٰ کے ساتھ معاملہ میں اگر کوئی حصہ کھوٹ کا ہوگا تو اسی قدر ادھر سے بھی ہوگا۔ مگر جو اپنا دل خدا سے صاف رکھے اور دیکھے کہ کوئی فرق خدا سے نہیں ہے تو خدا تعالیٰ بھی اس سے کوئی فرق نہ رکھے گا۔ انسان کا اپنا دل اس کے لیے آئینہ ہے۔ وہ اس میں سب کچھ دیکھ سکتا ہے۔ پس سچا طریق دُکھ سے بچنے کا یہی ہے کہ سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی چاہو اور وفاداری اور اخلاص کا تعلق دکھائو اور اس راہِ بیعت کو جو تم نے قبول کی ہے سب پر مقدم کرو کیونکہ اس کی بابت تم پوچھے جائو گے۔ جب اس قدر اخلاص تم کو میسر آجاوے تو ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو ضائع کرے۔ ایسا شخص سارے گھر کو بچا لے گا۔ اصل یہی ہے اس کو مت بھولو۔ نری زبان میں برکت نہیں ہوتی کہ بہت سی باتیں کرلیں۔ اصل برکت دل میں ہوتی ہے اور وہی برکت کی جڑ ہے۔ زبان سے تو کروڑہا مسلمان کہلاتے ہیں۔ جن لوگوں کے دل خدا کے ساتھ مستحکم ہیں اور وہ اس کی طرف وفا سے آتے ہیں خدا بھی ان کی طرف وفا سے آتا ہے اور مصیبت اور بلا کے وقت ان کو الگ کر لیتا ہے۔ یاد رکھو یہ طاعون خودبخود نہیں آئی اب جو کھوٹ اور بیوفائی کا حصہ رکھتا ہے وہ بلا اور وبا سے بھی حصہ لے گا مگر جو ایسا حصہ نہیں رکھتا خدا اسے محفوظ رکھے گا۔

(ملفوظات جلدنمبر 5 صفحہ 66-69۔ ایڈیشن 1984ء)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close