الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

تعارف کتاب’’نقشِ پا کی تلاش‘‘

رسالہ ’’انصارالدین‘‘ جنوری و فروری 2013ءمیں خاکسار محمود احمد ملک کے قلم سےکتاب ’’نقشِ پا کی تلاش‘‘ کا تعارف شامل اشاعت ہے۔

چار سو سے زائد صفحات پر مشتمل اس کتاب میں شامل بہت سی ایسی شخصیات کی سیرت کا بیان ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں کے ہر لمحے میں نہ صرف دین کو دنیا پر مقدّم رکھا بلکہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی خاطر اپنی جان، مال، وقت اور عزّت کو قربان کرنے کے لیے بھی ہمہ وقت تیار رہے اور اسے اپنے لیے باعثِ فخر خیال کیا۔ یقیناً یہ کتاب تزئینِ گلستاں کے لیے خود کو وقف کردینے والے اُن مخلصین کی قربانیوں کی یاد دلاکر اُن کے لیے خاص دعائیں کرنے کا ذریعہ بنتی رہے گی اور ساتھ ہی اس کتاب کی تیاری میں حصہ لینے والوں کے لیے بھی صدقہ جاریہ ثابت ہوگی۔

مکرمہ شاہدہ متین سجاد صاحبہ (آف سویڈن)نے نہایت درجہ محنت اور عرقریزی سے اکٹھی کی جانے والی معلومات کے حوالہ سے اپنی اس کتاب میں جن بزرگانِ دین کا ذکرخیر کیا ہے، اُن کے حوالے سے چند متفرق مگر دلچسپ اور ایمان افروز واقعات ہدیۂ قارئین ہیں۔

………٭………٭………٭………

حضرت میاں مہر غلام حسن صاحبؓ

حضرت میاں مہر غلام حسن صاحبؓ نے 1898ء یا 1899ء میں قبول احمدیت کی توفیق پاکر اپنے خاندان میں پہلا احمدی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ آپؓ سیالکوٹ کے محلہ اراضی یعقوب کے رہنے والے تھے۔ آپؓ کے آبا و اجداد کئی سو برس پہلے افغانستان کے سرحدی علاقہ سے سیالکوٹ میں آباد ہوئے اور پھر یہاں مقامی لوگوں میں ایسے گھل مل گئے کہ مہر یا ارائیں کہلانے لگے۔ بعض بھٹی اور بعض راجپوت بھی کہلانے لگے۔ بہرحال یہ خاندان آسودہ حال تھا۔ ان کے باغات کا پھل بہت شہرت رکھتا تھا۔ ان کا خاندانی گھر قریباً 1700ء میں تعمیر ہوا تھا۔ اس کے دو سو سال بعد اس پر چوبارہ تعمیر کیا گیا۔ یہ چوبارہ بعد میں علمی محافل اور تبلیغی مجالس کے لیے مشہور ہوا۔ اُس وقت حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ سیالکوٹ میں مربی تھے اور ان تبلیغی نشستوں کے روح رواں بھی تھے۔

حضرت غلام حسن صاحبؓ شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ دیگر دو بھائیوں کے نام غلام حسین اور غلام علی تھے۔ بعد میں یہ سب اہل حدیث ہوگئے۔ رجحان مذہبی تھا۔ نماز روزہ کی پابندی کرنے والے اور تہجدگزار تھے۔ صاحبِ رؤیا و کشوف تھے۔ مہدی کا شدّت سے انتظار تھا۔ لیکن جب حضرت مسیح موعودؑ نے دعویٰ فرمایا تو کوئی بھی ماننے کو تیار نہ ہوا بلکہ غلام حسن صاحب تو مخالفت میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔ اُس زمانہ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ ایک پُرجوش احمدی مبلغ تھے۔ ایک روز انہوں نے غلام حسن صاحب کو باغ میں جالیا اور نہایت دوستانہ انداز میں سمجھایا۔ جب قرآن کریم کے حوالہ جات سمجھ میں آگئے تو پھر کچھ عرصہ پہلے کی دیکھی ہوئی اپنی خوابیں بھی یاد آئیں اور اُن کی تفہیم بھی ہوئی تو پھر آپ نے بیعت کرلی۔ اس کے بعد تبلیغ میں ایسے منہمک ہوئے کہ جلد ہی آپؓ کے والد محترم، بیوی اور کئی دوسرے لوگوں نے بھی سمجھ کر بیعت کرلی۔

حضرت مہر غلام حسن صاحبؓ نے کئی بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل کیا اور کئی روایات بھی بیان کیں۔ آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ میرے بھائی کی لڑکی کی آنکھیں بچپن سے ہی بیمار رہتی تھیں۔ چونکہ وہ لڑکی حضرت صاحب کے ہاں رہتی تھی۔ حضرت صاحب نے اپنے ایک خادم کے ساتھ اس لڑکی کو بھیجا اور فرمایا کہ مولوی صاحب کو جاکر کہو کہ کچھ اس لڑکی کی آنکھوں میں ڈال دیں۔ چنانچہ مولوی حکیم نورالدین صاحبؓ نے کوئی چیز ڈال دی۔ پھر عمر بھر اس لڑکی کی نظر خراب نہ ہوئی۔

آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مَیں اور میرا بڑا بھائی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ہمراہ سیر کو جارہے تھے تو بھائی نے پوچھا کہ کیا عقیقے کے بکرے یہاں بھیج دیئے جائیں یا قیمت یہاں بھیج دی جائے اور بکرے یہاں ہی ذبح کیے جائیں۔ حضورؑ نے فرمایا: نہیں وہاں ہی ذبح کرو۔ اس پر حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ کہنے لگے کہ اگر دو بکرے کرنے ہوں تو ایک یہاں بھیج دیا جائے؟ مگر حضرت صاحبؑ نے فرمایا کہ نہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے، ہاں کھالیں یہاں آنی چاہئیں۔ پھر حضورعلیہ السلام نے فرمایا: بعض غریب ہمسائے ہوتے ہیں، اُن کے دل میں آرزو ہوتی ہے کہ ہمیں گوشت دیا جائے تو ایسا کرنے سے ان کی بھی حق تلفی ہوتی ہے۔

محترم میجر رحمت علی صاحب کے والد حضرت مہر غلام حسن صاحبؓ کے عم زاد تھے۔ محترم میجر صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت مہر غلام حسن صاحبؓ نہ صرف نمازیں بلکہ اکثر تہجد بھی مسجد جاکر ادا کرتے۔ اُس زمانے میں سیالکوٹ میں احمدیوں کی تین مساجد تھیں جن میں سے ایک محلہ اراضی یعقوب میں (یعنی ہمارے محلہ میں)تھی۔ اس میں احمدی اور غیراحمدی پہلے اپنی اپنی نماز پڑھ لیا کرتے تھے لیکن 1940ء میں باہمی اختلاف کے نتیجے میں عدالت میں معاملہ چلا گیا اور یہ مسجد غیراحمدیوں کو مل گئی جبکہ اس مسجد کے قریب ہی ایک جگہ احمدیوں کو مسجد بنانے کے لیے دےدی گئی۔ نئی احمدیہ مسجد کی تعمیر کی ذمہ داری حضرت مہر غلام حسین صاحبؓ نے اپنے ذمے لے لی اور نہایت غربت کے زمانے میں بھی چار ہزار روپیہ اکٹھا کرلیا۔ مسجد کی تعمیر کے بعد آپؓ ہی امام بھی مقرر ہوئے اور وہاں درس بھی دیا کرتے تھے۔ آپؓ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ مَیں نے کئی بار ایک بدبخت کو دیکھا کہ وہ آپؓ کی بات سننے کی بجائے گالیاں دیا کرتا تھا۔ ایک روز مَیں نے پوچھ ہی لیا کہ جب یہ آپ کی بات ہی نہیں سنتا اور بدکلامی کرتا ہے تو آپ اس کو تبلیغ کیوں کرتے ہیں؟ آپؓ نے بہت تحمل سے فرمایا: میرا کام تو حضرت مسیح موعودؑ کا پیغام پہنچانا ہے، چاہے کوئی سنے یا نہ سنے۔

مکرم میجر صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1945ء میں مَیں فرسٹ ایئر میں تھا تو ہاکی کھیلنے کا اتنا جنون تھا کہ پڑھائی پیچھے رہ گئی۔ جب چند دن امتحان میں رہ گئے تو پڑھائی کا خیال آیا لیکن آگا دوڑ پیچھا چھوڑ والی بات تھی۔ مگر دعا پر کامل یقین تھا چنانچہ ہر نماز پر آگے بڑھ کر نہایت عاجزی سے چاچاجی کو دعا کے لیے عرض کرتا۔ چاچاجی کو ہم بچوں سے بہت پیار تھا۔ وہ دعاؤں میں لگ گئے۔ امتحان سے چند دن پہلے مجھے بلاکر پنجابی میں فرمایا کہ ’’مَیں نے دعا کی تھی، مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے پتہ چلا ہے کہ تم اوّل رہے ہو‘‘۔ میرے لیے یہ خبر نہایت حیرت انگیز تھی۔ چنانچہ مَیں نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ آخری گھڑیوں میں کتابیں الٹنی پلٹنی شروع کردیں۔ جب امتحان کا وقت آیا تو ریاضی کے پرچہ میں کوئی سے پانچ سوال کرنا تھے۔ لیکن یہ پرچہ ہمیشہ کی طرح مجھے مشکل لگا۔ جیسا تیسا بھی پرچہ کیا۔ جب نتیجہ نکلا تو استاد نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے نقل لگائی تھی؟ اُس نے دوبارہ نمبر گنے پھر غور سے پرچہ دیکھا، پھر پرکھا اور مجھے پکڑا دیا۔ میری عجیب کیفیت ہوگئی جب مَیں نے دیکھا کہ مَیں نے 150 میں سے 150 نمبر حاصل کیے تھے اور مَیں اوّل رہا تھا۔

عام لوگ بھی آپؓ سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔ بعض لوگ پانی پر آپؓ سے دَم کرواتے اور اپنے مریض کو پلادیتے (خصوصاً طاعون کے زمانہ میں)۔ کئی لوگوں کو جب چھپاکی نکل آتی تو لوگ آپؓ کا کرتہ لے جاکر مریض کو پہناتے جس سے آرام آجاتا۔

حضرت غلام حسن صاحبؓ کی پہلی شادی سے ایک بیٹی پیدا ہوئی پھر یکے بعد دیگرے آٹھ بیٹے فوت ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت مولانا نذیر احمد مبشر صاحب (مبلغ سلسلہ گھانا)کی ولادت ہوئی۔ آپؓ نے دوسری شادی اپنے چھوٹے بھائی کی وفات کے بعد اُن کی بیوہ سے کی۔ دوسری اہلیہ سے تین بچے پیدا ہوئے۔

………٭………٭………٭………

زیتون کے فوائد

مجلس انصاراللہ جرمنی کے رسالے سہ ماہی ’’الناصر‘‘ اپریل تا جون 2012ء میں مکرم منیب احمد صاحب کا زیتون کے پھل اور اس کے تیل کے فوائد کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون شائع ہوا ہے۔

قرآن کریم میں زیتون کا ذکر چھ مرتبہ ہوا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: روغن زیتون کھاؤ اور اس کو لگاؤ اس لیے کہ یہ ایک مبارک درخت سے حاصل کیا جاتا ہے۔

سخت، نوکیلے اور گہرے سبز پتوں والا زیتون کا درخت اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔موسم بہار میں سفید پھولوں کے گچھے اس پر نمودار ہوتے ہیں۔ پھل میں ایک یا دو بیج ہوتے ہیں۔ پھل میں سے بیس سے تیس فیصد وزن کے برابر تیل نکلتا ہے۔ کھانے والے پھل کو پکنے سے پہلے ہی درخت سے اُتار لیا جاتا ہے جبکہ جن پھلوں سے تیل نکالا جانا مقصود ہوتا ہے انہیں درخت پر ہی پکنے دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوجائیں۔

جدید تحقیق کے مطابق زیتون کا تیل تمام جسم کے لیے عموماً اور دل کے امراض کی روک تھام کے لیے خصوصاً انتہائی مفید ہے۔ نیز سوزش کو ختم کرتا ہے۔ فالج کے مرض میں اس کی مالش کرنے سے افاقہ ہوتا ہے، کمزور بچوں کے بدن پر مالش کرنے سے وہ صحت مند ہوجاتے ہیں۔ زیتون کا تیل پینے سے ٹوٹی ہڈیاں آسانی سے جُڑ جاتی ہیں۔ رات کو سوتے وقت ایک چمچہ پینے سے پیٹ کے کیڑے خارج ہوتے ہیں۔زیتون کا پھل نسیان کی بیماری میں بھی مفید ہے۔

’’بیاض نورالدینؓ‘‘ میں درج ہے کہ روغنِ زیتون کی سلائی آنکھ میں لگانے سے کالا موتیا دُور ہوجاتا ہے۔ آنکھوں کی دق کی بیماری میں قسط اور زیتون کے تیل والا علاج بارگاہِ نبوت ﷺ سے سند رکھتا ہے۔کوڑھ کا شبہ ہو تو زیتون پلائیں اور ناک میں بھی ڈالیں۔ اسہال محدی کی بیماری میں صبح شام زیتون کا تیل استعمال کریں۔ کرب معدہ کی بیماری میں ہر چار گھنٹے بعد زیتون کے تیل کا بڑا چمچہ پلائیں۔ قبض ہو تو معدہ اور امعاء کے اوپر ہلکے ہاتھ سے مالش کریں۔ کان میں درد کی صورت میں روئی کو تیل سے آلودہ کرکے نیم گرم کان میں رکھیں اور بار بار ڈالیں۔ بخاروں میں بھی روغن گُل اور روغن زیتون کی مالش فائدہ مند ہوتی ہے۔

………٭………٭………٭………

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close