حضرت مصلح موعود ؓ

عرفان الٰہی اور محبت باللہ کا وہ عالی مرتبہ جس پر رسول کریمﷺ دنیا کو قائم کرنا چاہتے تھے (قسط دوم)

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ (فرمودہ 26؍ اکتوبر 1930ء بر موقع جلسہ سیرت النبیؐ۔ قادیان)

(گزشتہ سے پیوستہ) غرض جہاں بھی جائیں ایسے انسان وہاں پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے کہا کہ وہ خدا کو مل گئے اور خدا انہیں مل گیا۔ یہ ایسی پختہ اور اتنی عام فہم بات ہے کہ اگر اس کا انکار کیا جائے تو دنیا میں کوئی صداقت رہتی ہی نہیں۔ کیونکہ اگر یہ لوگ جھوٹے ہو سکتے ہیں تو پھر دنیا میں اور کوئی سچا نہیں ہو سکتا۔ غرض

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا

میں خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ جو مجھ سے ملنے کی کوشش کرتا ہے وہ مجھے پا لیتا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔

يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُم بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُونَ(الرعد:3)

خدا اپنی باتوں کو اندازہ سے رکھتا ہے اور جہاں جہاں کے متعلق کوئی چیز ہوتی ہے وہاں کھولتا اور تشریح کرتا ہے۔ تا کہ اس کے بندوں کو اپنے رب کے لقاء پر یقین ہو جائے۔

پس پہلی بات جو رسول کریمﷺ نے اس آیت کے ذریعہ دنیا کو بتائی وہ یہ ہے کہ خدا بندوں کو مل سکتا ہے۔

دوسری بات یہ فرمائی کہ عرفان حاصل کرنے کے لئے سنجیدگی اور کوشش کی ضرورت ہے کیونکہ فرمایا

فَاتَّبِعُوْنِیْ

خدا کے ملنے کے لئے کچھ کرنا پڑے گا۔

تیسری بات یہ بیان فرمائی کہ عرفان کے حصول کے لئے صحیح راہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس کے لئے عارف کی اتباع کی ضرورت ہے چنانچہ دوسری جگہ آتا ہے

کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ (التوبہ:119)

صادقین کے ساتھ مل جائو۔

چوتھی بات یہ فرمائی کہ وہ صحیح راہنما محمد رسول اللہ ہیں۔ اس کا اشارہ ’’نِیْ‘‘ میں کیا گیا ہے کہ میری اتباع کرو تب خدا ملے گا۔

پانچویں بات یہ بتائی

یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ

کہ انسان اللہ کا محبوب ہو جائے گا۔ انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت کا پیدا ہونا اور بات ہے لیکن جب تک خدا کی محبت انسان کی محبت کے جواب میں نہ اترے وہ عارف نہیں کہلا سکتا۔ خواہ اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی کتنی محبت ہو۔ کیونکہ محبوب کا مل جانا اس کی محبت کی علامت ہوتی ہے۔ پس خدا تعالیٰ ایسے بندوں کو مل جاتا اور ان سے ایسا سلوک کرتا ہے جیسا اپنے مقرب سے کیا جاتا ہے۔ اس طرح بندہ کو اللہ تعالیٰ سے اپنی محبت کے صحیح ہونے کا علم ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ محبت نہیں کرتا اور مقربین جیسا سلوک نہیں کرتا تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہمارے دل میں بھی خدا کی سچی محبت نہیں ہے۔ بھلا یہ کبھی ممکن ہے کہ دو دلوں میں سچی محبت بھی ہو اور ان کے ملنے میں کوئی روک بھی نہ ہو اور پھر وہ آپس میں نہ ملیں۔ پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ انسان میں خدا تعالیٰ کی سچی محبت ہو۔ جس کے پیدا ہونے پر خدا تعالیٰ بھی اس سے محبت کا اظہار کرتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ اسے نہ ملے۔ جب خدا تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے اور اس میں یہ طاقت بھی ہے کہ اپنے بندہ تک آ سکے تو پھر ناممکن ہے کہ وہ نہ آئے۔ اسی محبت کا نام عرفان ہے جس کے بعد خدا تعالیٰ مل جاتا ہے اور انسان اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔

اب میں یہ بتاتا ہوں کہ رسول کریمﷺ کو کیسا عرفان حاصل تھا۔ پہلا عرفان یہ ہے کہ اپنی ذات میں انسان خدا تعالیٰ کو دیکھے۔ یہ سب سے کامل عرفان ہے گو اس کے بھی آگے بڑے بڑے درجے ہیں۔ رسول کریمﷺ کو خدا تعالیٰ نے جو عرفان دیا تھا اس کی ایک مثال بتاتا ہوں۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی پہچان کیسی حاصل تھی۔ جب مکہ کے لوگوں نے رسول کریمﷺ پر انتہا درجہ کے مظالم شروع کر دیئے اور ان کی وجہ سے دین کی اشاعت میں روک پیدا ہونے لگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ مکہ چھوڑ کر چلے جائیں۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوبکرؓ بھی مکہ چھوڑنے کیلئے تیار ہو گئے۔ اس سے پہلے کئی دفعہ انہیں جانے کے لئے کہا گیا مگر آپ رسول کریمﷺ کو چھوڑ کر جانے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ جب رسول کریمﷺ جانے لگے تو حضرت ابوبکرؓ کو بھی آپ نے ساتھ لے لیا۔ جب آپ رات کے وقت روانہ ہوئے تو ایک جگہ جو میں نے بھی دیکھی ہے۔ پہاڑ میں معمولی سی غار ہے۔ جس کا منہ دو تین گز چوڑا ہوگا۔ اس میں جا کر ٹھہر گئے جب مکہ کے لوگوں کو پتہ لگا کہ آپ چلے گئے ہیں تو انہوں نے آپؐ کا تعاقب کیا۔ عرب میں بڑے بڑے ماہر کھوجی ہوا کرتے تھے۔ ان کی مدد سے تعاقب کرنے والے عین اس مقام پر پہنچ گئے۔ جہاں رسول کریمﷺ اور حضرت ابوبکرؓ بیٹھے تھے۔ خدا کی قدرت کہ غار کے منہ پر کچھ جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں جن کی شاخیں آپس میں ملی ہوئی تھیں۔ اگر وہ لوگ شاخوں کو ہٹا کر اندر دیکھتے تو رسول کریمﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ بیٹھے ہوئے نظر آ جاتے۔ جب کھوجی وہاں پہنچے تو انہوں نے کہا کہ یا تو وہ آسمان پر چڑھ گئے ہیں یا یہاں بیٹھے ہیں اس سے آگے نہیں گئے۔ خیال کرو اس وقت کیسا نازک موقع تھا۔ اس وقت حضرت ابوبکرؓ گھبرائے مگر اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ رسول کریمﷺ کیلئے۔ اس وقت رسول کریمﷺ نے فرمایا

لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۔ (بخاری کتاب الانبیاءباب مناقب المہاجرین وفضلھم)

گھبراتے کیوں ہو۔ خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ اگر رسول کریمﷺ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں نہ دیکھتے تو کس طرح ممکن تھا کہ ایسے نازک وقت میں گھبرا نہ جاتے۔ قوی سے قوی دل گردہ کا انسان بھی دشمن سے عین سر پر آ جانے سے گھبرا جاتا ہے۔ مگر رسول کریمﷺ کے بالکل قریب بلکہ سر پر آپ کے دشمن کھڑے تھے اور دشمن بھی وہ جو تیرہ سال سے آپ کی جان لینے کے درپے تھے اور جنہیں کھوجی یہ کہہ رہے تھے کہ یا تو وہ آسمان پر چڑھ گئے ہیں یا یہاں بیٹھے ہیں۔ اس جگہ سے آگے نہیں گئے۔ اس وقت رسول کریمﷺ فرماتے ہیں۔

لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا

خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے تمہیں گھبرانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا عرفان ہی تھا جس کی وجہ سے آپ نے یہ کہا۔ آپ خدا تعالیٰ کو اپنے اندر دیکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ میری ہلاکت سے خدا تعالیٰ کے عرفان کی ہلاکت ہو جائے گی اس لئے کوئی مجھے ہلاک نہیں کر سکتا۔ ایک دوسرے موقع پر رسول کریمﷺ کا عرفان اس طرح ظاہر ہوا کہ مکہ کے قریب کا ایک آدمی تھا جس کا ابوجہل کے ذمہ کچھ قرضہ تھا۔ اس نے ابوجہل سے قرضہ مانگنا شروع کیا مگر وہ لیت و لعل کرتا رہا۔ اس زمانہ میں مکہ کے شرفاء نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی تھی جس کا کام یہ تھا کہ جو لوگ مظلوم ہوں ان کی امداد کرے۔ اس میں رسول کریمﷺ بھی شامل تھے۔ وہ شخص رسول کریمﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ ابوجہل نے میرا روپیہ مارا ہوا ہے آپ مجھے اس سے حق لے دیں۔ رسول کریمﷺ نے اسے یہ نہ کہا کہ ابوجہل میرا دشمن ہے میرے خلاف شرارتیں کرتا رہتا ہے بلکہ کہا آئو میرے ساتھ چلو۔ آپ ابوجہل کے ہاں گئے اس وقت مخالفین کی شرارتیں اس حد تک بڑھی ہوئی تھیں کہ جب رسول کریمﷺ گھر سے باہر نکلتے تو آپ پر پتھر اور مٹی پھینکتے۔ بیہودہ آوازے کستے۔ ہنسی اور تمسخر کرتے مگر آپ نے ان باتوں کی کوئی پرواہ نہ کی اور اس آدمی کو لے کر ابوجہل کے محلہ میں گئے اور جا کر اس کے دروازے پر دستک دی۔ جب ابوجہل نے دروازہ کھولا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ شخص جس کا میں اس قدر دشمن ہوں وہ یہاں کس طرح آ گیا۔ اس نے پوچھا۔ آپ کس طرح آئے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس شخص کا روپیہ دینا ہے؟ ابوجہل نے کہاں ہاں دینا ہے۔ رسول کریمﷺ نے فرمایا۔ دے دو۔ اس پر اتنا رعب طاری ہوا کہ وہ دوڑا دوڑا گھر میں گیا اور فوراً روپیہ لا کر دے دیا۔ اس کے بعد کسی نے اس سے پوچھا۔ تم تو کہا کرتے تھے کہ محمد کو جس قدر ذلیل کیا جائے اور جتنا دکھ دیا جائے اتنا ہی اچھا ہے۔ پھر تم نے اس سے ڈر کر روپیہ کیوں دے دیا اس نے کہا۔ آپ لوگ جانتے نہیں میری اس وقت یہ حالت تھی کہ گویا میرے سامنے شیر کھڑا ہے۔ اگر میں نے ذرا انکار کیا تو مجھے پھاڑ ڈالے گا۔ اس لئے میں ڈر گیا اور فوراً روپیہ دے دیا۔

(سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 135-136)

اب دیکھو رسول کریمﷺ کا اشد ترین دشمن کے گھر چلے جانا اور اس سے روپیہ کا مطالبہ کرنا اسی لئے تھا کہ آپ سمجھتے تھے خدا تعالیٰ کی ذات مجھ میں جلوہ گر ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا دشمن بھی مجھ پر حملہ کر سکے۔ تیسرے موقع کی مثال یہ ہے کہ رسول کریمﷺ ایک جنگ سے واپس آ رہے تھے کہ دوپہر کے وقت جنگل میں آرام کرنے کے لئے لیٹ گئے۔ دوسرے صحابی علیحدہ علیحدہ جگہوں میں لیٹے ہوئے تھے کہ ایک شخص جس نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ آپ کو قتل کئے بغیر واپس نہ لوٹوں گا اور جسے دوران جنگ میں حملہ کرنے کا موقع نہ ملا تھا۔ آیا اور درخت سے لٹکی ہوئی تلوار اتار کر رسول کریمﷺ کو جگا کر کہنے لگا۔ اتنی مدت سے میں تمہاری تلاش میں تھا اب مجھے موقع ملا ہے بتائو اب تمہیں کون بچا سکتا ہے۔ رسول کریمﷺ نے اسی طرح لیٹے لیٹے بغیر کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار کئے فرمایا۔ مجھے اللہ بچا سکتا ہے۔ (بخاری کتاب الجہادباب من علق سیفہ بالشجر فی السفر عندالقائلۃ)یہ الفاظ بظاہر معمولی معلوم ہوتے ہیں اور کئی لوگ ان کی نقل کر کے یہ کہہ سکتے ہیں مگر ان کا نتیجہ بتاتا ہے کہ ان میں کیسی صداقت تھی۔ جب آپ نے فرمایا۔ مجھے اللہ بچا سکتا ہے تو حملہ آور کا ہاتھ کانپ گیا اور تلوار گر گئی۔ اس وقت آپ اٹھے اور تلوار ہاتھ میں لے کر کہا۔ اب بتائو تمہیں کون بچا سکتا ہے۔ اس نے کہا آپ ہی رحم کریں تو میں بچ سکتا ہوں۔ اسے رسول کریمﷺ سے سن کر بھی اللہ یاد نہ آیا۔ مگر رسول کریمﷺ نے اسے کہا جائو اور چھوڑ دیا۔ یہ عرفان الہی کا ہی نتیجہ تھا اور جب تک کامل عرفان حاصل نہ ہو اس وقت تک اس طرح نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح ایک اور جنگ کے موقع پر جسے حنین کی جنگ کہتے ہیں اور جس میں کچھ نو مسلم اور کچھ غیر مسلم بھی شامل تھے۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو باوجود اس کے کہ مسلمانوں کے لشکر کی تعداد 12 ہزار تھی اور دشمن کی تعداد چار ہزار۔ مسلمانوں کو شکست ہوئی اور ایسی شکست ہوئی کہ وہ کہتے ہم اونٹوں کو پیچھے کی طرف موڑتے اور نکیل کھینچنے سے ان کے سر پیٹھ کے ساتھ جا لگتے۔ مگر جب چلاتے تو آگے کی طرف ہی دوڑتے۔ اس وقت رسول کریمﷺ کے اردگرد صرف بارہ آدمی رہ گئے۔ بعض صحابہ نے اس وقت رسول کریمﷺ کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہا اور واپسی کے لئے کہا۔ مگر آپ نے انہیں جھڑک دیا اور حضرت عباسؓ کو کہا لوگوں کو آواز دو کہ جمع ہو جائیں اور خود دشمن کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھے۔

اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ

اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ

(بخاری کتاب المغازی)

میں جھوٹا نبی نہیں ہوں۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ یہ ایسا وقت تھا جب کہ وہ جانباز مسلمان سپاہی جو نہایت قلیل تعداد میں ہوتے ہوئے سارے عرب کو شکست دے چکے تھے۔ بارہ ہزار کی تعداد میں ہوتے ہوئے چار ہزار کے مقابلہ سے بھاگ نکلے تھے۔ جب رسول کریمﷺ کے اردگرد صرف چند آدمی رہ گئے تھے۔ جب ہر طرف سے دشمن بارش کی طرح تیر برسا رہے تھے۔ آپ آگے ہی آگے بڑھ رہے تھے۔ اس وقت آپ نے یہ سمجھا کہ میرا یہ فعل دیکھ کر لوگ مجھے ہی خدا نہ سمجھ لیں۔ اس لئے آپؐ نے فرمایا۔ میں نبی ہوں۔ ہاں اپنے اندر خدا کو دیکھ رہا ہوں۔ لوگ مجھے خدا دیکھ رہے ہونگے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ

اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبْ

میں نبی ہوں اور عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ خدا نہیں ہوں۔ یہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عرفان کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔

(جاری ہے )

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close