کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

نماز کی حقیقت(حصہ دوم)

قرآنِ کریم میں ایک موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے صالحین کی مثال عورتوںسے دی ہے۔ اس میں بھی سِر اور بھید ہے۔ ایمان لانے والوں کو مریمؔ اور آسیہؔ سے مثال دی ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ مشرکین میں سے مومنوں کو پیدا کرتا ہے۔ بہرحال عورتوں سے مثال دینے میں دراصل ایک لطیف راز کا اظہار ہے یعنی جس طرح عورت اور مرد کا باہم تعلّق ہوتا ہے اسی طرح پر عبو دیت اور ربوبیت کا رشتہ ہے۔ اگر عورت اور مَرد کی باہم موافقت ہو اور ایک دوسرے پر فر یفتہ ہو تووہ جوڑا ایک مبارک اور مفید ہوتا ہے۔ ورنہ نظامِ خانگی بگڑ جاتا ہے اور مقصود با لذات حاصل نہیں ہوتا ہے۔ مرد اَور جگہ خراب ہوتا ہے۔ صدہا قسم کی بیماریاں لے آتا ہے۔ آتشک سے مجذوم ہوکر دنیا میں ہی محروم ہوجاتا ہے۔ اور اگر اولاد ہوبھی جاوے تو کئی پشت تک یہ سلسلہ برابر چلا جاتا ہے۔ اور اُدھر عورت بےحیائی کرتی پھرتی ہے۔ اور عزت وآبرو کو ڈبوکر بھی سچی راحت حاصل نہیں کرسکتے۔ غرض اس جوڑے سے الگ ہوکر کس قدر بد نتائج اور فتنے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح پر انسان روحانی جوڑے سے الگ ہوکر مجذوم اور مخذول ہوجاتا ہے۔ دُنیاوی جوڑے سے زیادہ رنج ومصائب کا نشانہ بنتا ہے ۔جیسا کہ عورت اور مرد کے جوڑے سے ایک قسم کی بقاء کے لیے حظّ ہے۔ اسی طرح پر عبودیت اور ربوبیت کے جوڑے میں ایک ابدی بقا ءکے لیے حظّ موجود ہے۔ صوفی کہتے ہیں ۔جس کو یہ حظّ نصیب ہو جاوے وہ دنیا و مافیہا کے تمام حظوظ سے بڑ ھ کر تر جیح رکھتا ہے۔ اگر ساری عمر میں ایک بار بھی اُس کو معلوم ہوجاوے تو اُس میں ہی فنا ہوجاوے۔ لیکن مشکل تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے ۔جنہوں نے اس راز کو نہیں سمجھا ۔اور اُن کی نمازیں صرف ٹکریں ہیں اور اوپرے دِل کے ساتھ ایک قسم کی قبض اور تنگی سے صرف نشست وبرخاست کے طور پر ہوتی ہیں۔ مجھے اَور بھی افسوس ہوتا ہے ۔ جب مَیں یہ دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ صرف اس لیے نمازیں پڑھتے ہیں کہ وہ دنیا میں معتبر اور قابلِ عزت سمجھے جاویں۔ اور پھر اس نماز سے یہ بات اُن کو حاصل ہوجاتی ہے۔ یعنی وہ نمازی اورپرہیز گا ر کہلاتے ہیں۔ پھر اُن کو کیوں یہ کھا جانے والا غم نہیں لگتا کہ جب جھوٹ موٹ اور بیدل کی نماز سے ان کو یہ مرتبہ حاصل ہوسکتا ہے تو کیوں ایک سچے عابد بننے سے ان کو عزت نہ ملے گی اور کیسی عزت ملے گی۔

غرض مَیں دیکھتا ہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سُست اس لیے ہوتے ہیں کہ ان کو اس لذت اور سُرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی یہی ہے۔ پھر شہروں اور گائوں میں تو اَور بھی سُستی اور غفلت ہوتی ہے۔ سو پچاسواں حصہ بھی تو پوری مستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سر نہیں جھکاتا۔ پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ اُن کو اس لذّت کی اطلاع نہیں۔ اور نہ کبھی انہوں نےاس مزہ کو چکھا۔ اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذن اذان دے دیتا ہے۔ پھر وہ سننا بھی نہیں چاہتے۔ گویا ان کے دل دُکھتے ہیں۔ یہ لوگ بہت ہی قابلِ رحم ہیں۔ بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ اُن کی دکانیں دیکھو تومسجدوں کے نیچے ہیں ۔مگر کبھی جاکر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔ پس مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خداتعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا مانگنی چاہیے کہ جس طرح پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں۔ نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزہ چکھا دے، کھا یا ہوا یاد رہتا ہے۔ دیکھو ! اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سُرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اسے خوب یاد رہتا ہے۔ اور پھر اگر کسی بد شکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے ۔تو اس کی ساری حالت بہ اعتبار اس کے مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ ہاں۔ اگر کوئی تعلق نہ ہوتو کچھ یاد نہیں رہتا۔ اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اُٹھ کر سردی میں وضو کرکے خوابِ راحت چھوڑ کر کئی قسم کی آسائشوں کو کھو کر پڑھنی پڑتی ہے۔ اصل بات یہ ہے ۔کہ اسے بیزاری ہے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔ اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے۔ اس کو اطلاع نہیں ہے۔ پھر نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سُرور نہیں آتا تو وہ پے در پے پیالے پیتا جاتا ہے۔ یہانتک کہ اس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔ دانشمند اور بزرگ انسان اس سے فائد ہ اُٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے۔ یہاں تک کہ اُس کو سُرور آجاوے ۔اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے جس کاحا صل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے۔ اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اسے سُرورکا حاصل کرنا ہو ۔اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دعا پید اہو۔کہ وہ لذت حاصل ہوتو مَیں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً یقیناً وہ لذت حاصل ہوجاوے گی۔…

(ملفوظات جلدنمبر 1 صفحہ 161-163۔ ایڈیشن 1984ء)

(جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close