متفرق مضامین

کووِڈ 19 سے نجات کیسے ممکن ہے؟ (قسط دوم)

کووڈ 19:ڈھونگ یا حقیقت؟… افواہیں ،ویکسین اور بچاؤ کے آسان طریق

ماہر متعدی امراض ڈاکٹرفہیم یونس صاحب کے ساتھ ایک نئی سیرحاصل گفتگو

نمائندہ:ویکسین کے موضوع پر میں بعد میں آنا چاہتی ہوں۔ سردست جیسا کہ کہہ لیں ایک طرح سے مرض کے ارتقا کے بارے میں بات ہورہی ہے،تو آج سے چھ ماہ قبل یہ محسوس ہو رہا تھا کہ کووڈ 19 بچوں اور نوجوانوں پہ اثرانداز نہیں ہو تی لیکن اب ہم سن رہے ہیں کہ بچے اور نوجوان بھی اس میں مبتلا ہو رہے ہیں،خاص کر برطانیہ میں۔ امریکہ کا تو مجھے علم نہیں لیکن یہاں برطانیہ میں تو طلباء لاک ڈاؤن میں ہیں۔وہ واپس یونیورسٹیوں میں گئے تو ہیں لیکن درحقیقت بہت سی یونیورسٹیوں میں وہ لاک ڈاؤن میں ہیں۔تو اس مرض میں نوجوانوں کے مبتلا ہونے کے خطرہ کے حوالے سے طبی ماہرین کی سوچ میں کیا تبدیلی رونما ہوئی ہے؟

ڈاکٹر فہیم یونس :میرے خیال میں یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں اب تک ہمیں اچھی سمجھ بوجھ حاصل ہو چکی ہے۔ یعنی کہ عمر کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔

دیکھیں جب گراف اس طرح سے واقعۃًاوپر کو جا رہا ہو تومطلب یہ ہے کہ سب ہی اس کی زد میں آسکتے ہیں۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ایک کو ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت پیش آئے گی یا بیماری کا شدید حملہ ہو گا یاموت واقع ہو جائے گی۔اگر سو افراد ہیں جنہیں خطرہ ہے،ان میں کچھ پانچ سال کی عمر کے ہیں کچھ پچاسی برس کے اور ان کے حالات ایک جیسے ہیں تو ان کے بیمار ہونے کے امکانات ایک جیسے ہی ہوں گے خواہ ان کی عمر کچھ بھی ہو۔

پس بچے یا نوجوان بیماری سے محفوظ نہیں۔ہاں فرق ہے تو یہ کہ ہسپتال میں داخل ہونے کے، بیماری کے شدید حملے یا موت کے امکانات میں فرق آپ کو ملے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمربڑھنے کے ساتھ یہ بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یہاں عمر کے ساتھ ایک براہ راست تعلق پایا جاتا ہے۔

مجھے علم ہے بعض اوقات ایک 25 سالہ نوجوان کووڈ کے ہاتھوں موت کے منہ میں چلا جاتا ہے اورخبروں میں اس کی ہیڈ لائن لگ جاتی ہے اور یہ بہت صدمے والی بات ہوتی ہے۔لیکن یہ ایک طرح سے ہر ایک کے لیے پیغام بن جاتا ہے کہ کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں۔ تو اس لحاظ سے یہ اہم ہوتا ہے۔ تاہم پ سچ یہ ہے اور یہ سائنسی حقیقت ہے کہ کسی 25 سالہ شخص کے شدید بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات ایک 65 سالہ کی نسبت واضح طورپر کہیں کم ہیں۔

اس پیغام کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ جیسا کہ ہم میں سے اکثر کرتے ہیں کہ اسی بات کو سننا پسند کرتے ہیں جو ہمارے حالات کے موافق ہو۔اس لیے یہ سنتے ہی وہ اگلے روز کھیلنے چلے جاتے ہیں، پارٹیاں شروع کردیتے ہیں جو غلط حرکات ہیں۔

میرے خیال میں اس پیغام کے نتیجے میں آپ کو فرنٹ لائن پر مزید خدمت کرنے کا موقع مل رہا ہوتا ہے۔ نوجوان اس معلومات کا مثبت استعمال کریں۔ گھر میں موجود بزرگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کریں۔

اگر میں 25سال کا ہوں اور کالج جاتا ہوں تو گھر واپس آنے پر اگر گھر میں بزرگ بھی موجود ہیں تو مجھے ان کی خاطر خاص طور پر اپنے ہاتھوں کی اچھی طرح صفائی پر اور اپنے پر بھی توجہ دینی چاہیے کیونکہ اگر مجھ میں کوئی علامات نہیں پائی جاتیں تو انجانے میں مَیں انہیں خطرناک مرض منتقل کرسکتا ہوں۔

پس میرے خیال میں یہ ذمہ داری ہے جو اس حقیقت کے ساتھ وابستہ ہے۔ لیکن مجموعی طورپر اعدادوشمار وہی ہیں جو بیان کیے ہیں۔

نمائندہ:یہ دلچسپ بات ہے کیونکہ آپ کو علم ہےکہ سکول بھی کھلنے والے ہیں اور میرے خیال میں یہ بزرگوں کے لیے خطرہ کا باعث ہو سکتاہے کیونکہ بچے اس طرح ان میں کووڈ پھیلا سکتے ہیں۔

ڈاکٹرفہیم یونس:ہاں،سکولوں کا موضوع بھی خاصا مشکل اورپیچیدہ قسم کا ہے۔سادہ جواب یہ ہے کہ اپنے معاشرہ میں اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول میں لائیں اور سکول کھول دیں۔ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہ لیں۔ جب لوگ گھروں کو واپس آتے ہیں اور اکٹھے ہوکرمل بیٹھتے ہیں تو پھر ان کے الگ الگ اعداد و شمار تو نہیں لیے جاتے۔

ان کو الگ الگ لینا ایک ایسا بیانیہ ہے جو درست نہیں…یہ محض ایک فرضی حفاظت کا احساس دلانے والی خودفریبی ہے۔

پس دوبارہ تائیوان کودیکھیں،ہانگ کانگ کوبھی اور نیوزی لینڈ کوبھی،ان کے سکول کھلے ہیں۔ کیونکہ ان کے مثبت کیسز کی مجموعی شرح اب ایک فیصد سے بھی کم ہو چکی ہے۔ ان کے ہاں ایک نہایت پختہ کار’’ کانٹیکٹ، ٹیسٹ۔ٹریس-آئسولیٹ سسٹم‘‘چل رہا ہے۔

تو اگر ہماری ایک کمیونٹی ہے،اور یہ ایک ہی ملک کے اندر ہر سٹیٹ کی الگ الگ ہوسکتی ہے مثلاً نیویارک میں مثبت کیسوں کی شرح ایک فیصدہوچکی ہے، اور یہ ملک اتنا بڑا ہے، میں نیویارک سے تین گھنٹےکی مسافت پر رہتا ہوں،مجھے نہیں معلوم وہاں کے سکول کھلے ہوئے ہیں یا نہیں۔ شاید میری اہلیہ محترمہ کو علم ہو، وہ ملک میں کووڈ سے جڑے حالات کے بارے میں بسا اوقات مجھ سے زیادہ باخبرہوتی ہیں۔ تو اگر نیویارک سٹیٹ کہتی ہے کہ ہم سکول کھولنا چاہتے ہیں تو یہ مناسب بات ہوگی کیونکہ انہوں نے پوری آبادی میں اس مرض کو کنٹرول کرلیا ہوا ہے۔

نمائندہ: ٹھیک

ڈاکٹرفہیم یونس:اور اگر کسی بچے میں علامات ظاہر ہوتی ہیں تو وہ جلدی سے اسے آئسولیٹ اور ٹیسٹ کرسکتے ہیں۔

سکولوں کو لاک ڈاؤن کرکے بند رکھنے کے منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔اگر آپ دیکھیں توخاص کر امریکہ میں گذشتہ سال کی نسبت بے چینی، افسردگی جیسے ذہنی عوارض کی شرح میں 30 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

اور اس شرح میںاضافہ کو لایعنی یا معمولی نہ سمجھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مزید خودکشیاں ہوں گی،ہسپتالوں میںمزید لوگ داخل ہوں گے،عوارض میں اضافہ ہوگا، مزید دکھ ہوں گے۔

تو دونوں طرف اعتدال ضروری ہے لیکن اگر آپ کو کمیونٹی کی سطح پر بیماری پرکنٹرول حاصل نہیں توایسی صورت میں سکول کھول دینا جلتی پہ مزید تیل ڈالنے کے مترادف ہوگا۔

نمائندہ: یہ واقعی بہت اہم بات آپ نے بتائی ہے۔ کچھ اسی قسم کی نوعیت کا ایک اور سوال ہے کہ کووڈ نے معیارصحت کے حوالے سے معاشرے کے اندر پائی جانے والی عدم مساوات کو بھی اجاگر کیاہے۔یہاں مغرب میں ہم یہ بہت سن رہے ہیں کہ کووڈ میں مبتلا ہونے اور مخصوص نسلی پس منظر کا حامل ہونے میں ایک تعلق پایا جاتا ہے۔

لیکن جیسا کہ میڈیا ہمیں جو معلومات فراہم کررہا ہے ان کے مطابق (مغرب میں آباد ) ان نسلی اقلیتوں کے اپنے آبائی ملکوں میں کووڈ کی شرح اموات کہیں کم ہے۔ کیا یہ درست ہے۔ اس کی ہم کیا توجیہ بیان کرسکتےہیں؟

ڈاکٹر فہیم یونس: اس سوال کے کئی حصے پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔، بعض کے جوابات نہیں، کچھ معلوم ہیں کچھ نہیں۔انہیں ایک ایک کرکےدیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک سوال نسلی پس منظر کاہے،ایک شہریت کا،ایک جائے پیدائش کا،ایک جلد کی رنگت کا ہے۔ ٹھیک؟۔یہ سب الگ الگ ہیں۔

نمائندہ: جی ہاں

ڈاکٹر فہیم یونس:اس لیے دونوں کو الگ الگ سے لیں۔

امریکہ کی بعض ریاستوں میں تقریباً 40 فیصد،12 فیصد تک کی آبادی افریقی نژادامریکیوں پر مشتمل ہے۔جبکہ بعض جگہوں میں 30 سے 40فیصد کووڈ کےمریض افریقن امریکن ہیں۔ وہ اس مرض میں مبتلاہو رہے ہیں،افریقن امریکن اور ہسپانوی امریکن، ان میں بیماری کی شرح زیادہ ہے،ان کی شرح اموات بھی زیادہ ہے۔یہ ان کی جلد کی رنگت کی وجہ سے نہیں بلکہ معاشرے میں پائی جانے والی عدم مساوات کی وجہ سے ایسا ہے۔ کیونکہ اگر 100 ہسپانوی لوگ گوشت کی فیکٹری کے اندر سخت گھٹن والے ماحول میں اکٹھے کام کرنے پرمجبور ہوں اور انہیں ہیلتھ کیئر کی اچھی سہولت دستیاب نہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ میں علاج معالجہ کی سہولتیں بنیادی انسانی حق نہیں۔انہیں خریدا جاتا ہے،جیسے دیگر اشیاء خریدی جاتی ہیں۔اور بہت سے لوگ مالی استطاعت نہ رکھنے کی وجہ سے انہیں خریدنے کا ارداہ ترک کردیتے ہیں۔چار افراد پرمشتمل گھرانے کے لیے اس کا خرچ ایک یاڈیڑھ ہزار ڈالر ماہوار تک بھی ہوسکتا ہے۔ یہ اس نوعیت کا خرچ ہوسکتا ہے، تولوگوں کو سوچناپڑتا ہے کہ میں گھر کا کرایہ ادا کروں یا فیملی کے لیے ہیلتھ کیئر حاصل کروں؟

نمائندہ: آپ نے ٹھیک کہا۔

ڈاکٹر فہیم یونس:اب اگر آپ گوشت کی فیکٹری میں کام کرتے ہیں،آپ ہسپانوی یا افریقن امریکن ہیں،آپ کو زکام، کھانسی ہوجاتی ہے تو ایساتو ہونا ہے کیونکہ وہاں سماجی فاصلہ تو ہے نہیں۔آپ بھلے امریکہ میں رہ رہے ہیں لیکن اس فیکٹری کے اندر یوں سمجھیں گویا سوڈان میں کام کررہے ہیں۔

دوسرے یہ کہ آپ کو کھانسی اور زکام ہے تو آپ طبی امداد بھی نہیں لیں گے کیونکہ آپ کے پاس صحت کا بیمہ نہیں۔آپ پیسہ نہیں خرچ کرنا چاہتے، نتیجۃًبیماری اور موت کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے نظام میں تضادات پائے جاتے ہیں جوکہ افسوسناک ہے۔

بیس سال پہلے میں نے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع شدہ ایک تحقیقی مضمون پڑھا تھا،جو میرے دماغ پر اچھی طرح سے نقش ہے، آپ اسے گوگل بھی کرسکتے ہیں، یہ افریقین امریکن اور سفید فاموں کےبارے تھا۔اگر دونوں کو سینے میں درد کی تکلیف ہےتو سفید فام کا زیادہ امکان ہوگا کہ اس کی تکلیف کو ہارٹ اٹیک سمجھا جائے گا اور اس کی اینجیو گرافی (cardiac catheterization) کی جائے گی۔ جبکہ افریقن امریکن اس کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لے گا اوراسے ہارٹ اٹیک والی وہ توجہ نہیں ملے گی جو سفیدفام کو دی جائے گی۔

تو یہ عدم مساوات اس معاشرے کی گھٹی میں شامل ہے۔اس پر دو رائے نہیں ہو سکتیں،یہ خوب تحقیق شدہ اور مستند بات ہے۔

سوال کا دوسرا حصہ انڈیا،پاکستان،افریقہ جیسےممالک کی شرح اموات سےمتعلق ہے۔جن کے بارے میں بہت ساری باتوں کاہمیں علم نہیں۔میں اس کے لیے “Data Fog” کی اصطلاح استعمال کرتا ہوں۔ (یعنی’’شماریاتی دھند‘‘۔ جس طرح ’’دماغی دھند یا Brain Fog‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جب دماغ پوری طرح سے حاضر نہ ہو۔ ناقل )۔

ماہر طب کی حیثیت سے نامکمل اعدادوشمار کی بنیاد پرکوئی رائےدینا انتہائی مشکل ہوتاہے۔

امریکہ نے پاکستان کی نسبت دس بیس فیصد (آبادی میں) ٹیسٹنگ کی ہے جو کہ انڈیا کی نسبت چھ گنا اور پاکستان کی نسبت دس یاپندرہ گنا زیادہ ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگرآپ ہر فرد کا ٹیسٹ نہیں کریں گے تو آپ کو پتہ کیسے چلےگا کہ اس بیماری سے کتنے لوگ مررہے ہیں۔

فرض کریں ایک 80 سالہ بزرگ فوت ہو جاتے ہیں اور سب کہہ دیتے ہیں کہ ابا جی کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ لیکن عین ممکن ہے کہ ابا جی بیچ میں سے کووڈ میں مبتلا ہوں اور کووڈ کی وجہ سے ان کا خون جم گیا ہویا فالج ہوگیاہو، کیونکہ یہ مرض کئی طرح سے ظاہر ہوسکتی ہے،خاص کر عمررسیدہ افراد میں۔

اورمجھے علم ہے کہ میری اس بات کی وجہ سے ان ملکوں کے لوگ مجھےپسند نہیں کرتے،وہ کہتے ہیں دیکھو ہمارے ہسپتال خالی پڑے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں ہم جھوٹ بول رہےہیں۔

بات یہ ہے کہ ہمیں آپ کے معتبر ہونے پہ کوئی شبہ نہیں۔ یہ جو مفید گہری گفتگو ہورہی ہے اسی بارے ہے کہ ہم ان پیچیدہ مسائل کو کیسے لیتےہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہسپتالوں کا خالی ہونا بہت کمزوردلیل ہے۔ کووڈ جیسی بیماریوں میں دراصل ہوتا یوں ہے کہ شروع میں ایک دم بہت بڑی ہلچل مچ جاتی ہے۔ایک انجانا خوف لوگوں پرطاری ہوجاتا ہے۔ہر شخص ہسپتال کا رخ کرتا ہے۔ اورہسپتالوں کی ٹیمیں ہلکی نوعیت کے مریضوں کا بھی سامنا کررہی ہوتی ہیں اورشدید بیماروں کابھی،ساتھ ہی گنجائش کوبھی دیکھنا پڑتا ہے اوررشتہ دار لواحقین کوبھی۔ ہمیشہ یوں ہی ہوتا ہے،سوائن فلو،ایبولا،ہربڑی وبا میں ایساہوتا ہے۔

لیکن جب تین،چھ ماہ گزر جاتے ہیں،لوگوں میں ہیجان زائل ہوچکتا ہے۔لوگ اس سے اکتا جاتے ہیں تو پھر صرف وہی لوگ ہسپتال کارخ کرتے ہیں جو شدید بیمارہوں۔ یہ ایک دلچسپ روایت ہے جو چلی آرہی ہے۔

امریکہ میں تقریباً ایک ہزارلوگ روزانہ کووڈ کی وجہ سے مررہے ہیں۔ جی، یہ صرف اموات کی تعداد ہے اور ہمیں پتہ ہےکہ یہ تعداد اصل سے کم ہے۔اوربھی کئی اموات ہو ں گی جن کا پتہ نہیں۔ تاہم ہسپتالوں میں اضافی ہجوم دکھائی نہیں دے گا۔اگر آپ آج وِسکونسین (Wisconsin) آئیں، جو ان ریاستوں میں سے ایک ہے جو کووڈ کی گڑھ ہیں تو ہسپتالوں پہ اضافی بوجھ نظر نہیں آئے گا۔

تو یہ انسانی ضروریات کا بہت دلچسپ پہلو ہے۔بظاہر ایک مختلف نوعیت کی بات ہے لیکن لوگوں کے لیے قابل غور ہونی چاہیے۔

تو کہنا میں یہ چاہتاہوں کہ کچھ ممالک ایسےہیں جہاں بدقسمتی سے لوگ ان کی آنکھوں کے سامنے مررہے ہیں۔تاہم ان کی پیچیدگیوں کو،ان کی معاشیات کو،ان کے بنیادی ڈھانچہ کودیکھیں تو شاید اسی میں ان کا بھلا ہو۔شاید اس سےزیادہ آپ کچھ کر بھی نہ سکتےہوں۔شاید یہ ایک پہلو اس کا افسوسناک حصہ ہو، لیکن جب تک ہمیں حقیقی اعداد و شماردستیاب نہیں ہو پاتے میں اس وقت تک حلفاً آپ کو نہیں بتاسکتاکہ فلاں فلاں ممالک کی شرح اموات (حقیقتاً) کم ہے۔

ہم شماریاتی دھند ( data fog) کے دور میں بس رہےہیں!

نمائندہ:آپ کی بات سمجھ میں آگئی کہ اس کے پیچھے طبقاتی اور معاشی عدم مساوات کارفرما ہے لیکن پھر ہم نے یہ بھی تو دیکھا ہے کہ کووڈ سے ہونے والی شرح اموات انہی اقلیتی نسلی پس منظر کے حامل ڈاکٹروں نرسوں وغیرہ (health professionals) میں بھی نسبتاً زیادہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہاں کے محکمہ صحت (NHS) میں زیادہ تر یہی لوگ کام کررہے ہیں،لیکن ان کے بارے میں تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بھی معاشرے کے پسماندہ طبقہ میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ کیوں زیادہ فوت ہورہے ہیں؟جیسا کہ یہاں کے اعداد وشمار سے اب تک ظاہرہوا ہے۔

ڈاکٹر فہیم یونس:ہم ابھی سیکھ رہے ہیں۔ اس وقت بہت کچھ چل رہا ہے اور طب کا یہ عمومی پہلو اس کی عاجزی،کم مائیگی کو ظاہر کرتا ہے۔جتنا زیادہ ہم جانتے ہیں، اتنا ہی زیادہ ہم نہیں بھی جانتے۔مثال کے طورپر اس صور ت حال میں یہ ممکن ہے کہ وہ افراد جو صحت کے شعبہ میں کام کررہے ہیں انہیں وائرس کا بہت زیادہ ڈوز(dose) مل رہاہو۔ہر وائرس کا ایک ’’انفیکشن ڈوز‘‘ ہوتا ہے۔ سادہ سی مثال کے طورپر فرض کریں خسرہ میں مبتلا ہونے کے لیے مجھے اس کے 10 عدد وائرس سانس کے ذریعہ لینا ہوں گے۔یہ محض فرضی تعداد ہے،تو اگر یہ تعداد چھ یا سات ہےتو میرا دفاعی نظام انہیں مارڈالے گا۔ لیکن اگر میں ایک ہزار وائرس جسم میں داخل کرلیتا ہوں تو میری موت واقع ہوسکتی ہے کیونکہ میں ان کا ایک بڑا ڈوز لے چکا ہوں گا۔

تو یہ ایک تھیوری ہے کہ اگر فرنٹ لائن پر کام کرنے والے کی حیثیت سے آپ کا واسطہ ایسے فرد سے پڑا جس میں بلا کی تعداد میں وائرس موجود تھے اور آپ زیادہ دیر تک اس کے قریب موجود رہے اور پھر بھاری مقدار میں جرثومے آپ کو چمٹ گئے تو اس کا نتیجہ مختلف ہوسکتا ہے۔

تو یہ اس کہانی کے اندر ایک اور پیچ ہے کہ صاف بات ہے بہت ساری باتوں کا ہمیں علم نہیں۔ یا پھر یہ کہ کچھ مخصوص قسم کا نسلی پس منظر جینیاتی مفاد مہیا کردیتا ہے؟ہمیں علم نہیں کہ ایساممکن ہے کیونکہ ہروائرل مرض میں جینیاتی اوامر کارفرما ہوتے ہیں۔(اسی طرح ) کیا ماضی میں بی سی جی کا ٹیکا لگنا یا دیگر متعدی امراض میں مبتلا ہونا اس سے بچاؤ کا ذریعہ ہے؟ ہمیں نہیں معلوم۔

تو جب ہمیں علم نہ ہو تو میرا نظریہ یہ ہے کہ اگر آپ کو علم نہیں تو کبھی بھی خود کو بالا نہ سمجھیں بلکہ سمجھیں کہ آپ بھی عام (انسان) ہیں، سمجھ لیں کہ قانونِ فطرت آپ پر بھی اسی طرح لاگو ہوگا جس طرح دوسروں پر، کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔

نمائندہ:شکریہ۔ آپ کا یہ جواب یقیناً بہت دلچسپی کا حامل ہے۔

ویکسین کی طرف بڑھتے ہیں،جو بظاہر افق پہ ابھرتی نظرآرہی ہیں۔ آپ کا ان کے بارے میں کیا خیال ہے کہ یہ کتنی محفوظ ہیں۔ کیونکہ یہ ایک ایسا سوال ہے جو لوگ پوچھتے ہیں۔ان کی طرف دوڑ لگی ہوئی ہے۔لیکن کیا یہ محفوظ بھی ہیں؟َ

ڈاکٹر فہیم یونس:ہمیں نہیں پتہ، اس کا انحصار اس پر ہے جب ویکسینیں دستیاب ہوں اور ہم اس قابل ہوں کہ ان کی آزمائش کے تیسرے مرحلے (phase 3) کی معلومات کا تجزیہ کرسکیں۔ تاہم افادہ عام کی غرض سے مجھے اس کی کچھ تفصیل بیان کرنے دیں۔

ہرویکسین عموماً اپنی آزمائش کےتین مراحل میں سے گزرتی ہے۔

پہلے مرحلے (phase one) میں اس کی آزمائش اندازاً 10 یا 15 مریضوں پر کی جاتی ہے، اس کی مختلف مقداروں کی آزمائش کی جاتی ہے۔اس مرحلے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کے کوئی مضر اثرات تو نہیں۔ اس کی افادیت کے بارے میں فکر نسبتاً کم ہوتی ہے۔

دوسرے مرحلے (Phase two) میں آپ 100 یا 200 مریضوں کو لیتے ہیں اوریہی عمل دہراتے ہیں۔ اورساتھ ہی اس کی نگرانی کے نظام کو ذراسخت بنالیاجاتا ہے۔اور تیسرے مرحلے (phase three) میں آپ دس، بیس، تیس ہزار مریضوں پر اس کی آزمائش کرتے ہیں۔اس مرحلے میں شاذ کے طورپر رونما ہونے والے مضراثرات کومعلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بسا اوقات یہ ہزار میں سے ایک کو ہوتے ہیں لہٰذا پہلے مرحلے میں ان کا پتہ چلنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔

اس وقت نو ایسی ویکسینیں ہیں جو آزمائش کے تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے اور دوسرے مرحلے میں سے نکل چکی ہیں۔انہیں پہلے دومراحل میں محفوظ قراردیا گیا تھا اور اب ہزارہا مریضوں پر ان کی آزمائش جاری ہے۔

پہلی بات یہ کہ کوئی بھی ویکسین سوفیصد محفوظ نہیں ہوتی۔ مجھے معلوم ہے حال ہی میں آکسفورڈ ویکسین کے ایک دو مریضوں میں اعصابی پیچیدگیاں ظاہر ہوئی تھیں، یہ بات میرے لیے بالکل بھی حیران کن نہیں۔جب آپ کے پاس دس یا بیس ہزار مریض ہیں تو آپ کو کچھ نہ کچھ مضر اثرات کے نمودارہونے کی توقع ہونی چاہیے۔

توپہلی بات یہ کہ یہ سوفیصد محفوظ نہیں ہو سکتی۔

کیا یہ 90 فیصد یا اوپر محفوظ ہوگی؟ بہت حد تک ہاں۔ کیا 99 فیصد کے قریب ؟، ہاں یہ بھی ممکن ہے۔عموماً یہ ویکسینیں بہت محفوظ ہوتی ہیں۔

ان کی تاثیر اورمحفوظ ہونے کی پڑتال بیماری کے ڈھائے ہوئے نقصانات کے مقابلہ پر ہی کی جاتی ہے۔ آج 1000 امریکی روزانہ مررہے ہیں۔میں کسی ایسی ویکسین کا تصوّر بھی نہیں کرسکتا جو روزانہ ایک ہزارافراد کو ماررہی ہوگی یہ بات تو میں پورے وثوق سے کہہ سکتاہوں۔

تو یہ طریقہ ہے تقابلی جائزہ لینے کا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگرکوئی ویکسین 500افراد کو مارتی ہےتو ہم اسے قبول کرلیں گے۔ نہیں،اس کے لیے بہت بڑا فرق درکار ہوگا۔

تو میرے خیال میں پہلی بات یہ ہے کہ لوگوں کو علم ہونا چاہیے کہ نگران ادارے ایسی کسی ویکسین کی منظوری نہیں دیں گے جو غیرمحفوظ ہوگی۔اورمجھے سیاست اور عوام کے عدم اعتماد کا بھی علم ہے،اس طرف میں بعد میں آؤں گا۔

دوسری بات جو ویکسین کی تاثیر کے بارے میں ہے تو ویکسینیں سو فیصد مؤثر نہیں ہوتیں۔عمومی طورپر ان کی تاثیر 50 یا 75 فیصد تک ہوتی ہے۔انفلوئنزا ویکسین جو ہم ہرسال استعمال کرتے ہیں اسی درجہ کی ہے۔

ایسے سال بھی تھے جب انفلوئنزا ویکسین 30 یا40فیصد مؤثر ہوتی تھی۔تو یہ دوسرا حصہ ہے۔

اور پھر تیسری چیز جس کے بارے میں ہم کبھی نہیں جان پائیں گے وہ اس کی طویل المدت سیفٹی (long-term safety) ہے۔(یعنی کتنی طویل مدت تک اس کے کوئی مضرت رساں اثرات ظاہر نہیں ہوں گے۔ناقل)۔اگرآج سے پانچ سال بعد کچھ ہونا ہے تو اس کا علم ہمیں آج سے پانچ سال بعد ہی ہوسکتاہے۔تو ہاں ویکسین کےبارے میں بہت سی باتوں کا علم نہیں لیکن میں کہوں گا کہ فی الحال صبر کریں۔

ممکن ہے کہ سال کے اختتام سے پہلےپہلےایک سے زائد ویکسینوں کی منظوری مل جائے۔میرے خیال میں آکسفورڈ یوکے کی ایسٹرا زینیکا ساختہ ویکسین (Oxford AstraZeneca vaccine) ان میں سے ایک ہوگی۔ شاید امریکہ کی ماڈرنا (Moderna) کمپنی کی ویکسین بھی ان میں سے ہو۔فائزر یا جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین بھی ہو سکتی ہے۔اور پھر اب چین کی تیارکردہ ایک ویکسین بھی آچکی ہے۔

تو یہ پانچ ہیں، سال کے اختتام تک ان میں سے تین یا چار کی منظوری مل جانے کے امکانات بڑے روشن ہیں۔ تب ہی ہم جان پائیں گے کہ یہ کتنی محفوظ اورمؤثرہیں۔لیکن آج ہمیں اس سب کا علم نہیں۔اسی لیے میں نے کوشش کی کہ ہر متعلقہ جزو کو الگ الگ بیان کروں تا کہ ہرکوئی سمجھ جائے۔

(جاری ہے)

(ترجمہ و ترتیب: ڈاکٹر طارق مرزا۔ آسٹریلیا)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close