اختلافی مسائلمتفرق مضامین

’خاتم النبیین‘ کا حقیقی مفہوم

(انصر رضا۔واقفِ زندگی، کینیڈا)

’’سب سے زیادہ عرفان کے ساتھ، سب سے زیادہ یقین کے ساتھ، سب سے زیادہ وسعت اور گہرائی کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آنحضرت ﷺ کی خاتمیت پر ایمان رکھتے تھے‘‘

قرآن کریم میں نبی اکرم ﷺ کی جو صفات بیان فرمائی گئی ہیں ان میں آپؐ کا مقام خاتم النبیین پر فائز کیا جانا ایسی بلند مرتبہ صفت ہے جو آپؐ کو دیگر تمام انبیاء علیہم السلام سے ممتاز کرتی ہے اور جس میں دوسرا کوئی نبی آپؐ کا شریک نہیں ہے۔ بدقسمتی سے اس عظیم الشان صفت کو نہ صرف یہ کہ درست طور پر سمجھا نہیں گیا اور اس کی عالی شان حیثیت کا کماحقہ ادراک نہیں کیا گیا بلکہ اس کے معانی و مطالب کو مسخ کرکے فیض رسانی کی بجائے نبی اکرم ﷺ کو ایک ایسے وجود کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جس نے ضرورت زمانہ کے باوجود رسالت ونبوت کا، جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی نعمت، رحمت، فضل اور احسان قرار دیا ہے، دروازہ بند کرکے نعوذ باللہ انسانیت کو مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ہی نہیں بلکہ دہریت کے کنارے تک پہنچا دیا ہے۔

ضرورتِ نبوت کا عنوان ایک تفصیلی مضمون کا متقاضی ہے۔ یہاں صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ مریض شدید بیمار بھی ہو، اپنی بیماری بلکہ نیم مردنی کا اعتراف بھی کرے اور پھر بھی کسی ڈاکٹر، طبیب اور مسیحا کی آمد کا انکار کرے تو سوائے موت کے اس کا کیا انجام ہوسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ مسلمہ نبی اکرم ﷺ کو رتبی، زمانی اور ہر پہلو سے خاتم النبیین مانتی ہے اور آپؐ کی ختم نبوت اور فیضان ختم نبوت کا ایسا عرفان و ایقان رکھتی ہے جس تک غیروں کی سوچ کو رسائی نہیں ہے۔ اس بارے میں سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

’’اس جگہ یہ بھی یادرکھناچاہئے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوتِ یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں، اس کا لاکھواں حصہ بھی دُوسرے لوگ نہیں مانتے۔ اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وُہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے، سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سُنا ہوا ہے، مگر اُس کی حقیقت سے بے خبرہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتاہے اوراس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں۔ اور خداتعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا۔ بجزان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں۔‘‘

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 342)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں:

’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بے شمار تحریرات میں جو نثر میں بھی ہیں اور نظم میں بھی، اس بات کا قطعی ثبوت ملتا ہے کہ سب سے زیادہ عرفان کے ساتھ، سب سے زیادہ یقین کے ساتھ، سب سے زیادہ وسعت اور گہرائی کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام آنحضرت ﷺ کی خاتمیت پر ایمان رکھتے تھے اور جس حد تک اور جس وسعت سے اس مضمون کو سمجھتے تھے اس کے پاسنگ کو بھی ہمارے مخالفین یا دوسرے علماء نہیں پہنچ سکے۔‘‘

(اختتامی خطاب جلسہ سالانہ یوکے 7؍ اپریل 1985ء بحوالہ عرفان ختم نبوت)

خاتم النبیین …فیض رساں مہر

سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نبی اکرم ﷺ کے مقام خاتم النبیین کی یہ تشریح فرمائی کہ آپؐ فیض رساں مُہر ہیں جن کی پیروی کمالاتِ نبوت بخشتی ہے۔فرمایا:

’’اللہ جلّ شانہٗ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحبِ خاتم بنایا۔ یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اور نبی کو ہرگز نہیں دی گئی اِسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔‘‘

(حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 100حاشیہ)

کچھ غیر احمدی علماء نے بھی مقام خاتم النبیین کی یہی تشریح بیان کی ہے ان میں سے محض چند ایک حوالہ جات پیش ہیں:

’’اور نصوص متواترہ اولیاء کرام و ائمہ عظام و علماء اسلام سے مبرہن ہوچکا کہ ہر نعمت قلیل یا کثیر، صغیر یا کبیر، جسمانی یا روحانی، دینی یا دُنیوی، ظاہری یا باطنی۔روزِ اول سے اب تک اور اب سے قیامت تک، قیامت سے آخرت، آخرت سے ابد تک، مومن یا کافر، مطیع یا فاجر، ملک یا انسان، جنّ یا حیوان، بلکہ تمام ماسو اللہ میں جسے جو کچھ ملی، یا ملتی ہے یا ملے گی، اُس کی کلی انہیں کے صبائے کرم سے کھلی اور کھلتی ہے یا کھلے گی۔انہیں کے ہاتھوں پر بٹی اور بٹتی ہے یا بٹے گی، یہ سرّ الوجود اور اصل الوجود خلیفۃ اللہ الاعظم و ولی نعمت عالم ہیں صلے اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم۔‘‘

( احمد رضا خان بریلوی۔جزاہ اللہ عدوّہ۔ صفحہ 23)

’’بعض محققین کے نزدیک تو انبیاء سابقین اپنے اپنے عہد میں بھی خاتم انبیاء کی روحانیت عظمیٰ سے ہی مستفید ہوتے تھے جیسے رات کو چاند اور ستارے سورج کے نور سے مستفید ہوتے ہیں حالانکہ اس وقت سورج دکھائی نہیں دیتا اور جس طرح روشنی کے سارے مراتب عالم اسباب میں آفتاب پر ختم ہوجاتے ہیں اسی طرح نبوت و رسالت کے تمام مراتب و کمالات کا سلسلہ بھی روح محمدی پر ختم ہوتا ہے۔ بدیں لحاظ کہہ سکتے ہیں کہ آپ ﷺ رتبی اور زمانی ہر حیثیت سے خاتم النبیین ہیں اور جن کو نبوت ملی ہے آپ ﷺ ہی کی مہر لگ کر ملی ہے۔

(شبیر احمد عثمانی۔ تفسیر عثمانی سورۃالاحزاب حاشیہ3)

موصوف بالذات اور بالعرض

مولانا قاسم نانوتویؒ صاحب اور چند دیگر علماء لکھتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وصف نبوت سے موصوف بالذات ہیں جبکہ دیگر تمام انبیاء علیہم السلام موصوف بالعرض ہیں یعنی آپؐ کی نبوت کسی دوسرے کا فیض نہیں جبکہ دیگر انبیاء علیہم السلام کی نبوت نبی اکرم ﷺ کی نبوت کا فیض ہے۔

’’سو اسی طور رسول اللہ ﷺ کی خاتمیت کو تصور فرمائیے یعنی آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت بالعرض۔اوروں کی نبوت آپؐ کا فیض ہے پر آپؐ کی نبوت کسی کا فیض نہیں۔‘‘

(تحذیرالناس،صفحہ4)

کیا مُہر کے ذریعہ صرف ایک نبی بنا

اس معنی پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر خاتم کا مطلب نبی تراش مُہر لیا جائے تو پھر لفظ ’’خاتم النبیین‘‘ کے مطابق نبی اکرمﷺ کی مُہر کے ذریعہ بہت سے انبیاء آنے چاہئیں تھے لیکن جماعت احمدیہ کے مطابق صرف ایک ہی نبی یعنی سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی تشریف لائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ چندعلماء کے محولہ بالا اقتباسات سے ظاہر ہے کہ جس کو بھی نبوت ملی ہے آپ ﷺ کی مہر لگ کر ہی ملی ہے ، نبی اکرم ﷺ نہ صرف اپنے سے بعد میں آنے والوں کے لیے مُصدق ہیں یعنی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی تصدیقی مُہر سے ہی کوئی نبی بن سکتا ہے ، بلکہ آپ ﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء ؑکو بھی آپ ﷺ کی تصدیق سے ہی نبی مانا جاتا ہے۔دنیا بھر کے مذاہب کے پیروکار اپنے اپنے نبی کے علاوہ باقی سب کا انکار کرتے ہیں۔ صرف اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو نبی اکرم ﷺ سے پہلے آنے والے تمام انبیاء علیہم السلام کو ماننے کا حکم دیتا ، ان کی سچائی کی تصدیق کرتا ، اور ان کو ماننا رکن ایمان قرار دیتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا مرسلین کے مصدق ہونے کا یہ منصب قرآن مجید میں بیان فرمایا گیا ہے۔

بَلۡ جَآءَ بِالۡحَقِّ وَ صَدَّقَ الۡمُرۡسَلِیۡنَ (الصّٰفّٰت:38)

حقیقت یہ ہے کہ وہ تو حق لے کر آیا تھا اور سب رسولوں کی تصدیق کرتا تھا۔

خاتم کے حقیقی اور مجازی معنی

دنیا کی ہر زبان میں الفاظ کے ایک حقیقی معنی ہوتے ہیں اور ایک مجازی۔ جیسے أَکَلَکا مطلب ہے اس نے کھایا۔ جب یہ لفظ طَعَامکے ساتھ استعمال ہوگا تو اس کے حقیقی معنی ہوں گے یعنی کھانا کھانا۔ لیکن جب یہ کسی غیرمادی چیز کے ساتھ استعمال ہوگا تو اس کے مجازی معنی لیے جائیں گے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوا الرِّبٰۤوا … (آل عمران:131)

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! سود نہ کھایا کرو…

لیکن یہ مجازی معنی اسی وقت لیے جائیں گے جب حقیقی معنی استعمال نہ کیے جاسکتے ہوں اور ایسا قرینہ موجود ہو جس بنا پر مجازی معنی ہی لیے جاسکتے ہوں۔ جیسا کہ مندرجہ بالا آیت میں سود کھانا یا دیگر آیات میں مال کھانا مجازی معنی میں لیا گیا ہے۔اسی طرح عربی لغات کے مطابق خَتَمَ کے حقیقی معنی کسی دوسری چیز پر نقش پیدا کرنے کے ہیں جس کا مترادف لفظ طَبَعَہے۔

خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِھِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ۔(البقرۃ:8)

اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی شنوائی پر بھی۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب (مقدر) ہے۔

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ سَمۡعِہِمۡ وَ اَبۡصَارِہِمۡ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ۔(النحل:109)

یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر۔ اور یہی ہیں جو غافل لوگ ہیں۔

اردو زبان میں بھی چھاپنے کے لیے لفظ طباعت استعمال کیا جاتا ہے۔عربی زبان میں انگوٹھی کو خاتم کہتے ہیں۔یعنی ایسی انگوٹھی جو مہر لگانے، نقش پیدا کرنے اور تصدیق کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ چونکہ اس کا استعمال صرف اس شخص تک محدود ہوتا ہے جسے مہر لگانے اور تصدیق کرنے کا اختیار ہو، لہٰذا اس مہر کو انگوٹھی میں جڑا کر پہن لیا جاتا ہے تاکہ کوئی دوسرا اسے استعمال نہ کرسکے اور وہ ہر وقت صاحب اختیار کے ہاتھ میں رہے۔ اسی بنا پر ہر انگوٹھی کو خاتم کہا جانے لگا۔ہندی میں انگوٹھی کو ’’چھاپ‘‘ کہتے ہیں۔اسے امیر خسرو نے اپنے کلام میں اس طرح استعمال کیا ہے ’’چھاپ تلک سب چھین لی‘‘ احادیث میں بھی انگوٹھی اور مہر تصدیق کے لیے لفظ خَاتَم ہی استعمال کیا گیا ہے۔

البراءَ بِن عازب یقولُ نَھَانَا النَّبِیُّﷺ عَنْ خاتَمِ الذَّھَبِ (بخاری۔کتاب اللباس)

براء بن عازبؓ نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں سونے کی انگوٹھی پہننے سے روکا۔

عن انس بن مالک اَنَّ نبی اللّٰہ ﷺ اَرَادَ اَنْ یَّکْتُبَ الٰی رَھْطٍ اَو اُناسٍ من اَعَاجِم فقیل لہُ: اِنَّھُم لا یَقبَلوُنَ کتٰبًا اِلَّا عَلَیہ خَاتَم، فَاتَّخذَ نبیٌّ ﷺ خَاتَمًا مِن فِضَّۃٍ نقشہُ محمد رسول اللّٰہ…۔

( بخاری، کتاب اللباس)

انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عجم کے کچھ لوگوں (حکمرانوں) کو خط لکھنا چاہا تو آپؐ سے کہا گیا کہ وہ لوگ کوئی خط اس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک اس پر مہر نہ لگی ہو۔ چنانچہ آنحضور ﷺ نے چاندی کی ایک مہر بنوائی جس پر یہ نقش تھا۔’’ محمد رسول اللہ‘‘…۔

عَنْ أَبي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ’’… وَمَنْ جُرِحَ جِرَاحَۃً فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ خُتِمَ لَہٗ بِخَاتَمِ الشُّھَدَاء…‘‘

(مسند احمد۔رواۃ الصحابہ ضمن مسند النساء)

حضرت ابی الدرداء ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کی راہ میں کوئی زخم کھایا تو اللہ تعالیٰ اس پر شہداء کی مہر لگائے گا…۔

حضرت امام راغب مفردات میں خَتَمَ کے مجازی معنی بیان کرتے ہوئےلکھتے ہیں:

’’مجازاً کبھی اس سے کسی چیز کے متعلق وثوق حاصل کرلینا اور اس کا محفوظ کرنا مراد ہوتا ہے جیسا کہ کتابوں یا دروازوں پر مہر لگا کر انہیں محفوظ کردیا جاتا ہے کہ کوئی چیز ان کے اندر داخل نہ ہو۔‘‘

خاتم کا مطلب افضل

امّت کے مسلّمہ اور متفقہ علمائے کرام نے خاتم کا معنی افضل بھی کیا ہے۔مشہور مفسر قرآن امام فخرالدین الرازی فرماتے ہیں:

الخاتم یجب ان یکون افضل الّا تریٰ انّ رسولنا ﷺ لمّا کان خاتم النبیین کان افضل الانبیاء

(تفسیر کبیر امام الرازی۔ سورۃ طٰہٰ۔ زیرتفسیر آیت رب اشرح لی صدری)

خاتم کے لیے لازم ہے کہ وہ افضل ہو۔ کیا تو نہیں دیکھتا کہ ہمارے رسول ﷺ جب خاتم النبیین ہوئے تو تمام انبیاءؑ سے افضل ہوگئے۔

تیسری صدی کے مشہور عالمِ دین حکیم ترمذی فرماتے ہیں:

ما روی في حدیث المعراج من حدیث أبي جعفر الرازي عن الربیع بن أبي العافیۃ فیما یذکر من مجتمع الأنبیاء في المسجد القصی: فیذکر کل نبي منّۃ اللّٰہ علیہ۔ فکان من قول رسول اللّٰہ ﷺ انہ قال: وجعلنی خاتمًا و فاتحًا۔ فقال ابراہیم علیہ السلام: بھذا فضلکم محمد!

(ختم الاولیاء الحکیم الترمذی متوفی318ھ۔الفصل الثامن خاتم الاولیاء و خاتم الانبیاء،صفحہ342)

حدیث معراج میں ذکر ہوا ہے کہ مجمع انبیاء میں تمام نبیوں نے اپنے اپنے اوپر اللہ کے احسانات کا تذکرہ کیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے خاتم اور فاتح بنایا ہے۔ اس پر حضرت ابراہیم ؑنے فرمایا کہ اے محمد یہی آپ کی فضیلت ہے۔

مولانا قاسم نانوتوی صاحب فرماتے ہیں:

’’حضرت رسول اللہﷺ پر تمام مراتب کمال اسی طرح ختم ہوگئے جیسے بادشاہ پر مراتب حکومت ختم ہوجاتے ہیں۔ اس لئے جیسے بادشاہ کو خاتم الحکام کہہ سکتے ہیں رسول اللہ ﷺ کو خاتم الکاملین اور خاتم النبیین کہہ سکتے ہیں۔‘‘

(محمد قاسم نانوتوی، حجۃ الاسلام،صفحہ53)

نبی اکرم ﷺ کی روحانی ابوّت

مفتی محمد شفیع صاحب آیت

مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ

کو پہلا جملہ اور

وَ لٰکِنۡ

کے بعد

رَسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا

کو دوسرا جملہ گردانتے ہوئے اور وَ لٰکِن سے پہلے اور بعد کے جملوں میں جو فرق پیدا ہوتا ہے اسے بیان کرتے ہوئےلکھتے ہیں:

’’پہلے جملہ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کسی مرد کے باپ نہیں، اس پر سرسری نظر میں چند شبہات پیدا ہوسکتے ہیں، ان کے ازالہ کے لئے یہ دوسرا جملہ وَ لٰکِنۡ کے ساتھ فرمایا ہے، کیونکہ یہ لفظ لغتِ عرب میں اسی لئے وضع کیا گیا ہے کہ پہلے کلام میں جو شبہ ہوتا ہے اس کو دفع کرے… نبی کے لئے باپ ہونا لازم ہے۔ پس جبکہ آیت مذکورہ میں آپؐ سے ابوّت (باپ ہونے) کی نفی کی گئی تو کسی سطحی نظر والے کو یہ وہم پیدا ہوسکتا ہے کہ جب ابوّت نہیں جو کہ لازمِ نبوت ہے تو شاید نبوت بھی نہ ہوگی۔تیسرے یہ کہ جب آپؐ سے ابوّت کی نفی کی گئی تو اس میں بظاہر آپؐ کی ایک قسم کی تنقیص لازم آتی ہے کہ آپؐ کی کوئی نرینہ اولاد نہیں، نیز ان کفّار کو ہنسنے کا موقع ملتا ہے جو آپؐ پر ابتر (لاولد ) ہونے کا عیب لگاتے تھے…حاصل اس کا یہ ہوتا ہے کہ ابوّت دو قسم پر ہے، ایک ابوّت جسمانیہ (نسبیہ و رضاعیہ) جس پر احکام حرمت و حلت کے دائر ہوتے ہیں اور جس کی وجہ سے بیٹے کی بی بی حرام ہوجاتی ہے، و غیرذٰلک۔ اور دوسری ابوّت روحانیہ جس پر احکام حرمت و حلت دائر نہیں ہوتے…جیسے استاد کی ابوّت شاگرد کے لئے، یا پیر کی مرید کے لئے، یا رسول کی اپنی ساری امّت کے لئے۔ پس آیہٗکریمہ

’’ مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ‘‘

میں پہلے معنوں سے ابوّت کی نفی کی گئی ہے، اور

’’ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ‘‘

سے دوسرے معنی سے نبوّت کا اثبات کیا گیا ہے۔‘‘

(ختم نبوت۔ حصہ اوّل۔ صفحہ 54-56)

مفتی محمد شفیع صاحب کا یہ اقتباس جہاں ایک طرف جماعت احمدیہ کے موقف کی تائید کرتا ہے وہاں دوسری طرف ایک نمایا ں فرق یہ ہے کہ انہوں نے بات نامکمل چھوڑ دی ہے اور نبی اکرم ﷺ کی ابوّت کو امّت تک محدود رکھا ہے اور آپؐ کے وصف خاتم النبیین کو یعنی نبیوں کے بھی روحانی باپ اور مصدق ہونے کے ذکر کو ترک کردیا ہے۔ احمدیہ مسلم جماعت نبی اکرم ﷺ کی روحانی ابوّت کو غیراحمدی علماء سے کہیں بڑھ کر مانتی ہے اور یہ عقیدہ رکھتی ہے کہ رسول اللہ ہونے کی حیثیت سے نبی اکرم ﷺ امّت کے روحانی باپ تو ہیں لیکن اس سے بڑھ کر خاتم النبیین ہونے کی حیثیت سے آپؐ انبیاء ؑکے بھی روحانی باپ ہیں۔ اور یہ وہ مقام ہے جس میں کوئی دوسرا آپؐ کا شریک اور ثانی نہیں ہے۔ اب کہاں یہ مقام اور کہاں محض آخری نبی ہونا ’’ببیں تفاوتِ رہ از کجاست تابہ کجُا‘‘ کا مصداق ہے۔یعنی دیکھو تو سہی کہ دونوں راستوں میں کس قدر فرق ہے۔

ختم نبوت کا حقیقی مفہوم

ختم نبوّت ان اہم ترین مسائل میں سے ایک ہے جس کی تشریح میں اختلاف کی بنا پر غیرا حمدی علما جماعت احمدیہ کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ غیر احمدی مسلمان علماء ایک طرف تو بڑی شد و مد سے اور متعدد احادیث پیش کرکےکہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قطعی طور پر آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کسی بھی قسم کا کوئی نبی نہیں آسکتا اور نہ ہی آئے گا۔لیکن اسی عقیدے کے برعکس نبی اکرم ﷺ کے بعد ایک نبی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کو مانتے ہیں۔ جماعت احمدیہ قرآن و حدیث کی بنیاد پرختم نبوت کی یہ تشریح پیش کرتی ہے کہ نبی اکرم ﷺ آخری صاحبِ شریعت نبی ہیں اور آپؐ کے بعد قیامت تک نہ ہی کوئی نیا اور نہ ہی کوئی پُرانا صاحب شریعت نبی آسکتا ہے۔سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:

’’میرے پر یہی کھولا گیا ہے کہ حقیقی نبوت کے دروازے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد بکلی بند ہیں۔ اب نہ کوئی جدید نبی حقیقی معنوں کے رو سے آ سکتا ہے اور نہ کوئی قدیم نبی۔ مگر ہمارے ظالم مخالف ختم نبوت کے دروازوں کو پورے طور پر بند نہیں سمجھتے۔ بلکہ ان کےنزدیک مسیح اسرائیلی نبی کے واپس آنے کیلئے ابھی ایک کھڑکی کھلی ہے۔ پس جب قرآن کے بعد بھی ایک حقیقی نبی آگیا اور وحی نبوت کا سلسلہ شروع ہوا تو کہو کہ ختم نبوت کیونکر اور کیسا ہوا۔‘‘

(سراج منیر، روحانی خزائن جلد 12صفحہ5)

آیت خاتم النبیین میں دو اعتراضات کے جوابات

کفّار کی طرف سے نبی اکرم ﷺ پر دو اعتراضات کیے گئے تھے۔

(1)اگرنبی اکرم ﷺ حضرت زیدؓ کے والد ہیں تو اس کی مطلّقہ بیوی اور اپنی مطلّقہ بہو سے شادی کیسے کرسکتے ہیں ؟

(2) اگر نبی اکرم ﷺ حضرت زیدؓ سمیت کسی مرد کے والد نہیں ہیں تو (نعوذ باللہ) ابتر ہوئے۔

ان دونوں اعتراضات کے یہ جواب دیے گئے کہ محمدﷺ حضرت زیدؓ سمیت تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں اس لیے زیدؓ کی مطلّقہ بیوی سے اُن کا نکاح حرام نہیں۔ دوسرا یہ کہ محمدﷺ ابتر نہیں ہیں بلکہ رسول اللہ ہونے کی حیثیت سے تمام امّت کے روحانی باپ تو ہیں ہی لیکن اس سے بھی بڑھ کر خاتم النبیین یعنی انبیاء علیہم السلام کے بھی روحانی باپ ہیں۔پھر دوسری آیات میں امّت کے روحانی باپ ہونے کو یہ کہہ کر مزید مضبوط اور گہرا قرار دیا گیا کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہراتؓ مومنوں کی مائیں ہیں…

وَ اَزۡوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمۡ ؕ…(الاحزاب:7)

اور اُس کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔ اور تمام مومنین آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِخۡوَۃٌ…(الحجرات:11)

مومن تو بھائی بھائی ہی ہوتے ہیں۔ عربی لغت کے لحاظ سے بھی خاتم النبیین کا معنی نبیوں کا باپ لیا جاسکتا ہے کیونکہ خَاتَم ت کی زبر کے ساتھ اسمِ آلہ ہے یعنی ایسی مہر جس سے نقش پیدا کیے جاتے ہیں اور اولاد بھی باپ کا نقش ہوتی ہے جیسا کہ عربی محاورہ ہے

’’اَلْوَلَدُ سِرٌّ لِاَبِیْہِ‘‘۔

نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں:

إِنَّمَا أَنَا لَکُمْ بِمَنْزِلَۃِ الْوَالِدِ أُعَلِّمُکُمْ۔

بلاشبہ میں تمہارے لیے والد کی مانند ہوں۔تمہیں سکھاتا ہوں۔

(ابوداؤد کتاب الطہارۃ،قضائے حاجت کے احکام و مسائل)

لہٰذا ثابت ہوا کہ خاتم النبیین کا مطلب آیت کے سیاق و سباق کے ساتھ ساتھ دیگر آیات کی روشنی میں آخری نبی نہیں ہے بلکہ ایسی اولاد کے باپ کے ہیں جس میں انبیاء ؑ بھی شامل ہیں۔

خاتم النبیین—پہلا نبی یا آخری نبی

عن أبي ھریرۃ، قال: قالوا: یا رسول اللّٰہ! متیٰ وجبت لک النبوّۃُ؟ قال و آدم بین الرُّوحِ والجسَدِ، رواہ الترمذی

(مشکوٰۃ کتاب الفضائل والشمائل باب فضائل سیّد المرسلینؐ)

حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ پر نبوت کب واجب ہوئی۔ آپؐ نے فرمایا اس وقت جبکہ آدم اپنی روح اور جسم کے درمیان تھا۔ اسے ترمذی نے روایت کیا۔

اِنِّیْ عِنْدَ اللّٰہِ مَکْتُوْبٌ خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ وَ اِنَّ اٰدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِیْ طِیْنَتِہٖ

(مشکوٰۃ کتاب الفضائل والشمائل باب فضائل سیّد المرسلینؐ)

میں اس وقت بھی خاتم النبیین تھا جب آدم اپنی مٹی میں گندھا ہوا پڑا تھا۔

گویا نبی اکرم ﷺ کو نہ صرف یہ کہ سب سے پہلے نبوت عطا ہوچکی تھی بلکہ آپؐ کو خاتم النبیین بھی بنایا جاچکا تھا اور تمام انبیاء علیہم السلام کو آپؐ کے بعد ہی نبوّت ملی ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ سے بریلوی علماء میں آپس میں اس بات پر گہرا نزاع اور اختلاف شروع ہوچکا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو سب سے پہلے نبوت ملی یا چالیس سال کی عمر میں آپ کو مقام نبوت پر فائز فرمایا گیا ہے۔ محمد اشرف سیالوی صاحب نے یہ موقف اپنا یا کہ اگر نبی اکرم ﷺ کو سب سے پہلے نبوت کے مقام پر فائز مانا جائے تو اس سے جماعت احمدیہ کے عقیدہ کی تائید ہوتی ہے کہ جس کو بھی نبوت ملی ہے نبی اکرم ﷺ کے بعد ہی ملی ہے۔ اس توجیہ کا دیگر بریلوی علماء نے بڑی شدومد سے رد کیا۔یہ مناظرانہ بحثیں ان بریلوی علماء کی کتب میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

(خاتم النبیین کا معنی از علامہ مفتی نذیر احمد سیالوی؛ مناظرہ جھنگ مابین محمد اشرف سیالوی و مولوی حق نواز جھنگوی؛ تحقیقات از محمد اشرف سیالوی؛ تجلیات علمی رد تحقیقات سیالوی از محمد حسین شائق ہاشمی؛ توضیحات بجواب تحقیقات از مفتی محمد عظیم نقشبندی۔)

آخری نبی کون۔ آنحضرت ﷺ یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام؟

غیراحمدی علماء کا عقیدہ ہےکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنی دوبارہ آمد کے وقت نبی ہوںگے۔ چنانچہ وہ اگر نبی اکرم ﷺ کے بعد تشریف لائیں گے تو آخری نبی وہی ٹھہریں گے۔ اسی بنا پر درج ذیل حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے آنے والے مسیح کو آخری نبی قرار دیا ہے۔

لیدرکَنَّ الدجالُ قومًا مثلکم او خیرًا منکم، ولن یخزی اللّٰہُ امَّۃً انا اولھا و عیسی ابن مریم آخرھا۔

دجّال کا سامناتمہارے جیسی یا تم سے بہتر قوم سے ہوگا اور اللہ اس امّت کو کبھی ضائع نہیں کرے گا جس کے شروع میں میں اور آخر میں عیسیٰ ابن مریم ہوںگے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الجہاد۔ جلد 6 صفحہ45)

اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی امّت کا ایک فرد قرار دیتے ہوئے اس امّت کا آخری نبی قرار دے رہے ہیں جبکہ غیر احمدی علماء حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد ثانی کا عقیدہ رکھنے کے باوجود اور جماعت احمدیہ مسلمہ کی مخالفت میں نبی اکرم ﷺ کے قول کو ردّ کرتے ہوئےاس بات پر مصر ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد کوئی بھی اور کسی بھی طرح کا نبی نہیں آسکتا اور آپ ﷺ ہی آخری نبی ہیں۔

زمانہ کے لحاظ سے پہلا یا آخری ہونے میں کچھ فضیلت نہیں

حضرت مولانا قاسم نانوتوی ؒصاحب نے اپنی کتاب ’’تحذیر الناس‘‘میں بیان فرمایا جس کی تائید ان کے کچھ پیروکار بھی کررہے ہیں،کہ زمانہ کے لحاظ سے اول و آخر ہونا کوئی فضیلت نہیں رکھتا اور یہ محض عوام کا عقیدہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ زمانہ کے لحاظ سے آخری نبی ہیں۔آپ ﷺ کا مقام خاتم النبیین، جو دراصل آپؐ کی مدح و فضیلت میں بیان کیا گیا ہے وہ دراصل مقامِ خاتمیتِ مرتبی ہے۔

’’اول معنی خاتم النبیین معلوم کرنے چاہئیں تاکہ فہم جواب میں کچھ دقت نہ ہو۔سو عوام کے خیال میں تو رسول اللہ ﷺ کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخر نبی ہیں۔مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدّم یا تأخر زمانے میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔پھر مقام مدح میں ولٰکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین فرمانا اس صورت میں کیونکر صحیح ہوسکتا۔ ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس مقام کو مقام مدح نہ قرار دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تأخر زمانی صحیح ہوسکتی ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارہ نہ ہوگی۔‘‘

(تحذیر الناس صفحہ4تا5)

دیوبندی عالم کا اقرار…جماعت احمدیہ خاتمیت مرتبی کا انکار نہیں کرتی

’’مرزا غلام احمد قادیانی نے ختم نبوت کے عنوان سے انکار نہیں کیا نہ کہیں یہ کہا کہ وہ اور اس کی جماعت حضور ؐکو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ اس نے ختم نبوۃ کا یہ معنی بیان کیا کہ حضور ؐنبوت کا مرکز ہیں جن سے آگے نبوت پھیلتی ہے اور جو بھی نبوت پائے گا اس پر آپؐ کی نبوت کی مہر ہوگی۔ مرزا غلام احمد اپنی تشریح میں ختم نبوت مرتبی کا عقیدہ رکھتا تھا اور ختم نبوت مرتبی کو ختم نبوت زمانی کے متوازی سمجھتے ہوئے ختم نبوت مرتبی کا اقرار اور ختم نبوت زمانی کا انکار کرتا تھا۔ اس کے ذہن کے مطابق یہ دو متقابل نظریات تھے۔ چنانچہ مرزا غلام احمد کے پیروختم نبوت مرتبی کا اقرار اور ختم نبوت زمانی کے منکر ہیں۔‘‘

(مقدمہ تحذیر الناس از علامہ ڈاکٹر خالد محمود، صفحہ 16)

خاتمیت مرتبی میں عقیدت زیادہ ہے

’’مسلم عوام حضور اکرم ﷺ کے مرتبہ و شان سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں۔ جب وہ قادیانی مبلغین سے سنتے ہیں کہ ختم نبوت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ پر سارے کمالات ختم مانے جائیں اور یہی حضور ؐکی ختم نبوت ہے تو کئی عوام جوشِ عقیدت میں قادیانیوں کے پنجۂ الحاد میں آجاتے ہیں۔ ختم نبوت زمانی کتنا پختہ عقیدہ کیوں نہ ہو ختم نبوت مرتبی میں عقیدت بہرحال زیادہ ہے اور وہ ظاہر میں لوگوں کو زیادہ کھینچتی ہے۔‘‘(مقدمہ تحذیر الناس از علامہ ڈاکٹر خالد محمود، صفحہ17)

غیراحمدی علماء جماعت احمدیہ مسلمہ کو خاتمیت زمانی کا منکر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ زمانہ کے لحاظ سے آخری نبی ہیں اور یہ زمانہ قیامت تک مُمتد ہے لہٰذا اس دوران کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔ لیکن اپنے اس عقیدہ کے برخلاف اسی زمانہ کے دوران ایک نبی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا عقیدہ رکھتے ہیں اور پھر بھی نبی اکرم ﷺ کی خاتمیت زمانی کے قائل ہیں۔

جماعت احمدیہ خاتمیت زمانی سےیہ مراد نہیں لیتی کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات کے ساتھ ہی ان کا زمانہ بھی ، نعوذ باللہ، ختم ہوگیا۔سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا زمانہ تو قیامت تک ممتد ہے۔فرمایا:

’’چونکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا زمانہ قیامت تک ممتد ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں اس لئے خدا نے یہ نہ چاہا کہ وحدت اقوامی آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی کمال تک پہنچ جائے کیونکہ یہ صورت آپؐ کے زمانے کے خاتمہ پر دلالت کرتی تھی۔ یعنی شبہ گزرتا تھا کہ آپؐ کا زمانہ وہیں تک ختم ہوگیا۔ کیونکہ جو آخری کام تھا وہ اس زمانہ میں انجام تک پہنچ گیا۔ اس لئے خدا نے تکمیل اس فعل کی جو تمام قومیں ایک قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہوجائیں زمانہ محمدی کے آخری حصہ پر ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے۔اور اس کی تکمیل کے لئے اسی امّت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اس کا نام خاتم الخلفاء ہے۔ پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت ﷺ ہیں اور اس کے آخر میں مسیح موعود ہے۔‘‘

(چشمۂ معرفت،روحانی خزائن جلد23صفحہ90تا91)

مولانا قاسم نانوتوی صاحب کی بعض عبارات کی وضاحت کرتے ہوئے غیراحمدی علماء اصرار کرتے ہیں کہ وہ بھی خاتمیت زمانی کے وہی معنی کرتے تھے جو یہ علماء کرتے ہیں۔ اس کے برعکس مولانا قاسم نانوتوی صاحب خاتمیت زمانی سےیہ مراد لیتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ پر تمام علوم انتہا کو پہنچ گئے:

’’غرض خاتمیت زمانی سے مرادیہ ہے کہ دینِ محمدیؐ بعد ظہور منسوخ نہ ہو۔علوم نبوت اپنی انتہاء کو پہونچ جائیں۔کسی اور نبیؑ کے دین یا علم کی طرف پھر بنی آدم کو احتیاج باقی نہ رہے۔‘‘ (مناظرہ عجیبہ صفحہ58)

یعنی ان کے نزدیک تکمیل شریعتِ اسلامیہ ہی دراصل خاتمیت زمانی ہے جس کی موجودگی میں کسی دوسری شریعت کی ضرورت و احتیاج باقی نہیں ہے۔

غیر احمدی علماء کا متضاد عقیدۂ ختم نبوّت

غیر احمدی علماء ایک طرف تو نبی اکرم ﷺ کو غیر مشروط اورقطعی طور پر آخری نبی قرار دیتے ہوئے ان کے بعد کسی نبی کے آنے کا انکار کرتے ہیں اور ہم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کو ایسا ہی مانیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس قطعیت میں ایک استثناء مانتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے بعدقربِ قیامت میں ایک نبی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں۔

’’آپؐ نے خبر دی کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں، مگر اس سے وہ عقیدہ مستثنیٰ ہے جس کے بارے میں صحیح احادیث وارد ہوئی ہیں، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کا نازل ہونا۔‘‘

( امام ابن حزم ،تحفہ قادیانیت جلد سوم صفحہ 84)

’’مدعیہ کی طرف سے جیسا کہ اوپر درج کیا گیا۔بحوالہ آیاتِ قرآنی و احادیث و اجماع امّت یہ دکھلادیا گیا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد اور کوئی نبی نہیں ہوسکتا۔بجز اس کے کہ اس کی استثناء حضور نے خود کردی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔‘‘

(انور شاہ کشمیری۔مقدمہ مرزائیہ بہاولپورجلد اوّل صفحہ68)

جبکہ سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ختم نبوت کےرتبی زمانی سمیت ہر پہلو سے قائل ہونے کے ساتھ یہ فرماتے ہیں کہ مسیح موعود کی آمد کسی غیر کی نہیں بلکہ خود نبی اکرم ﷺ ہی کی آمد ثانی ہے جس سے ختم نبوت کی مہر ٹوٹتی نہیں۔

عقیدہ کے رو سے جو خدا تم سے چاہتا ہے وہ یہی ہے کہ خدا ایک اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اُس کا نبی ہے اور وہ خاتم الانبیاء ہے اور سب سے بڑھ کر ہے اب بعد اس کے کوئی نبی نہیں مگر وہی جس پر بروزی طور سے محمد ّیت کی چادر پہنائی گئی کیونکہ خادم اپنے مخدوم سے جدا نہیں اور نہ شاخ اپنی بیخ سے جدا ہے پس جو کامل طور پر مخدوم میں فنا ہو کر خدا سے نبی کا لقب پاتا ہے وہ ختم نبوت کا خلل انداز نہیں جیسا کہ تم جب آئینہ میں اپنی شکل دیکھو تو تم دو نہیں ہو سکتے بلکہ ایک ہی ہو اگرچہ بظاہر دو نظر آتے ہیں صرف ظل اور اصل کا فرق ہے۔ سو ایسا ہی خدا نے مسیح موعود میں چاہا یہی بھید ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ مسیح موعود میری قبر میں دفن ہو گا یعنی وہ میں ہی ہوں اور اس میں دو رنگی نہیں آئی۔

(کشتی نوح،روحانی خزائن جلد19صفحہ15تا16)

ایک مشہور عالم قمر احمد عثمانی صاحب نزولِ مسیح اور ختم نبوت میں صریح تضاد کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ ان عقائد میں جن کی براہ راست زد عقیدۂ ختم نبوت پر پڑتی ہے حیاتِ مسیؑح، نزولِ مسیؑح اور ظہور مہدی کے مزعومہ عقائد شامل ہیں۔ اور ان میں سے حیاتِ مسیؑح اور نزولِ مسیؑح کا عقیدہ سر فہرست ہے جس سے عقیدۂ ختم نبوت کی عمارت ہی منہدم ہوجاتی ہے۔‘‘

(عقیدہ ختم نبوت اور نزولِ مسیؑح ،صفحہ5)

نیا نبی پیدا نہیں ہوگا

نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی ماننے کے ساتھ ساتھ آخری زمانہ میں ایک نبی یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کا عقیدہ رکھنے سے جو تضاد پیدا ہوتا ہے اسے دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئےغیر احمدی علماء بلا دلیل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ پُرانا نبی تو آسکتا ہے لیکن اب نیا نبی پیدا نہیں ہوگا۔نبی اکرم ﷺ نے اپنے صاحبزادہ ابراہیمؓ کی وفات پرانہیں نبی قرار دیتے ہوئے فرمایا:

أَمَا وَاللّٰہِ إِنَّہٗ لَنَبِيُّ ابْنُ نَبِيٍّ

اللہ کی قسم یہ ضرور نبی ہے اور نبی کا بیٹا ہے

(تاریخ مدینہ دمشق ابن عساکر ،صفحہ145)

یہ سب کا عقیدہ ہے کہ ہر نبی پیدائشی طور پر نبی ہوتا ہے اگرچہ اسے اپنے نبی ہونے کا علم بعد میں ہو۔مندرجہ بالا حدیث کے مطابق صاحبزادہ ابراہیم ؓنبی تھے تو پھر ایک نبی پیدا تو ہوگیا۔ لہٰذا یہ تاویل بھی ، کہ اب کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا، اس حدیث کی رو سے ردّ ہوگئی۔

نبی کا بیٹا لازماً نبی نہیں ہوتا

ایک صحابی حضرت عبداللہ ابن ابی اوفی ؓ سے ایک روایت نقل کرکے یہ استنباط کیا جاتا ہے کہ چونکہ نبی کا بیٹا بھی نبی ہوتا ہے اور نبی اکرم ﷺ آخری نبی ہیں اس لیے صاحبزادہ ابراہیمؓ کو موت آگئی۔

حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِي خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ اَبِي اَوْفَی یَقُوْلُ: لَوْ کَانَ بَعْدَ النَّبِّي ﷺ نَبِّيُ مَا مَاتَ ابْنُہُ اِبْرَاہِيمُ

(مسند احمد۔اول مسند الکوفیین)

ابن ابی اوفیٰ ؓ کہتے ہیں کہ اگر نبی اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو ان کے صاحبزادے ابراہیم ؓکو موت نہ آتی۔

اس استدلال کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ کوئی اصول نہیں کہ ہر نبی کا ہر بیٹا لازماً نبی ہوتا ہے۔ انبیائے سابقین علیہم السلام کے بہت سے بیٹے ہوتے تھے لیکن ان میں سے کوئی ایک ہی نبی ہوتا تھا اور کبھی کوئی بھی بیٹا نبی نہیں ہوتا تھا۔ دوسری بات یہ کہ صاحبزادہ ابراہیم ؓسے پہلے نبی اکرم ﷺ کے اور بھی بیٹے پیدا ہوئے لیکن کسی کی وفات کے متعلق یہ نہیں کہا گیا۔ تیسری بات یہ ہے کہ یہ ایک صحابی کا قول ہے جو کہ متفقہ طور پر علماء کے نزدیک حجّت نہیں ہوتا۔

پرانے نبی کی نئی نبوت

غیر احمدی علماء کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت قدیم ہے اس لیے وہ تشریف لا سکتے ہیں جبکہ جدید نبوت والا نبی نہیں آسکتا۔حالانکہ ان کے اپنے عقیدہ کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنی قدیم نبوت کے ساتھ نہیں بلکہ جدید نبوت کے ساتھ تشریف لائیں گے۔ ان کی قدیم نبوت محض بنی اسرائیل تک محدود تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے

وَرَسُوْلًا اِلیٰ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ…(آل عمران:50)

اور وہ رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف۔

اور خود وہ بنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ یٰبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ…(الصف:7)

اور یاد کرو جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! یقیناً میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں…

جبکہ اپنی آمد ثانی میں وہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے نبی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے جو کہ ایک نئی نبوت اور نیا عہدہ ہے جو انہیں پہلے حاصل نہیں تھا۔

کیا حضرت عیسیٰ ؑ اب مبعوث نہیں ہوں گے؟

غیر احمدی علماء ایک تاویل یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مبعوث ہونے والے انبیاء میں سب سے آخری نبی ہیں۔آپؐ کے بعد کسی کو بطور نبی مبعوث نہیں کیا جائے گا جبکہ حضرت عیسیٰ ؑ نبی اکرم ﷺ سے پہلے مبعوث ہوچکے ہیں۔ لیکن ایک حدیث کے مطابق قربِ قیامت میں حضرت عیسیٰ ؑ کو بطور نبی مبعوث کیا جائے گا جیسا کہ حدیث میںآتا ہے کہ

اِذْ بَعَثَ اللّٰہُ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ…

(مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجّال)

یعنی جب اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو مبعوث کرے گا۔

قرآن و سنّت کی بنیاد پر بیان کیے گئے مذکورہ بالا حقائق جہاں ایک طرف نبی اکرم ﷺ کے فیض رسان مقام خاتم النبیین اور حقیقت ختم نبوت کو بیان کرتے ہوئے یہ واضح کرتے ہیں کہ جماعت احمدیہ مسلمہ حقیقی طور پر نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا حقیقی عرفان اور آپؐ کے عظیم الشان مقام خاتم النبیین پر ایسا ایمان رکھتی ہے جس تک مخالفین اور دوسرے علماء کی سوچ کی رسائی نہیں ہے، وہاں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ غیراحمدی علماء کے ختم نبوت کے متعلق عقائد مسخ شدہ اور متضاد ہیں اور ان کی بنیاد محض جماعت احمدیہ کی نفرت اور بغض و عناد پر مبنی ہے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close