کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

سلسلہ احمدیہ کے قیام کی غرض

یہ زمانہ کیسا مبارک زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان پُر آشوب دنوں میں محض اپنے فضل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے اظہار کے لیے یہ مبارک ارادہ فرمایا کہ غیب سے اسلام کی نصرت کا انتظام فرمایا اور ایک سلسلہ کو قائم کیا۔ میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں جو اپنے دل میں اسلام کے لیے ایک درد رکھتے ہیں اور اس کی عزت اور وقعت ان کے دلوں میں ہے وہ بتائیں کہ کیا کوئی زمانہ اس زمانہ سے بڑھ کر اسلام پر گذرا ہے جس میں اس قدر سبّ وشتم اور توہین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گئی ہو۔ اور قرآن شریف کی ہتک ہوتی ہو؟پھر مجھے مسلمانوں کی حالت پر سخت افسوس اور دلی رنج ہوتا ہے اور بعض وقت میں اس درد سے بے قرار ہو جاتا ہوں کہ ان میں اتنی حِس بھی باقی نہ رہی کہ اس بے عزتی کو محسوس کر لیں۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ بھی عزت اللہ تعالیٰ کو منظور نہ تھی جو اس قدر سبّ وشتم پر بھی وہ کوئی آسمانی سلسلہ قائم نہ کرتا اور ان مخالفینِ اسلام کے منہ بند کرکے آپ کی عظمت اور پاکیزگی کو دنیا میں پھیلاتا جب کہ خود اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں تو اس توہین کے وقت اس صلوٰۃ کا اظہار کس قدر ضروری ہے اور اس کا ظہور اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کی صورت میں کیا ہے۔

غرض بعثت مسیح موعود

مجھے بھیجا گیا ہے تاکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآنِ شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھائوں اور یہ سب کام ہو رہا ہے لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اس کو دیکھ نہیں سکتے حالانکہ اب یہ سلسلہ سورج کی طرح روشن ہو گیا ہے اور اس کی آیا ت و نشانات کے اس قدر لوگ گواہ ہیں کہ اگر ان کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ان کی تعداد اس قدر ہو کہ روئے زمین پر کسی بادشاہ کی بھی اتنی فوج نہیں ہے۔

اس قدر صورتیں اس سلسلہ کی سچائی کی موجود ہیں کہ ان سب کو بیان کر نابھی آسان نہیں۔ چونکہ اسلام کی سخت توہین کی گئی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسی تو ہین کے لحاظ سے اس سلسلہ کی عظمت کو دکھایا ہے۔

مجھے انکساری اور گمنامی پسند ہے

کم فہم لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ میں اپنے مدارج کو حدسے بڑھاتا ہوں۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میری طبیعت اور فطرت میں ہی یہ بات نہیں کہ میں اپنے آپ کو کسی تعریف کا خواہشمند پائوں اور اپنی عظمت کے اظہار سے خوش ہوں۔ میں ہمیشہ انکساری اور گمنامی کی زندگی پسند کرتا ہوں لیکن یہ میرے اختیار اور طاقت سے باہر تھا کہ خداتعالیٰ نے خود مجھے باہر نکالا اور جس قدر میری تعریف اور بزرگی کا اظہار اس نے اپنے پاک کلام میں جو مجھ پر نازل کیا گیا ہے۔ کیا یہ ساری تعریف اور بزرگی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے۔ احمق اس بات کو نہیں سمجھ سکتا مگر سلیم الفطرت اور باریک نگاہ سے دیکھنے والا دانشمند خوب سوچ سکتا ہے کہ اس وقت واقعی ضروری تھا کہ جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر ہتک کی گئی ہے اور عیسائی مذہب کے واعظوں اور منادوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ اُس سید الکو نین کی شان میں گستاخیاں کی ہیں اور ایک عاجز مریم کے بچے کو خداکی کُرسی پر جا بٹھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت نے آپؐ کا جلال ظاہر کرنے کے لیے یہ مقدر کیا تھاکہ آپ کے ایک ادنیٰ غلام کو مسیح ابن مریم بنا کے دکھا دیا۔ جب آپؐ کی اُمّت کا ایک فرد اتنے بڑے مدارج حاصل کرسکتا ہے تو اس سے آپؐ کی شان کا پتہ لگ سکتا ہے۔ پس یہاں خداتعالیٰ نے جس قدر عظمت اس سلسلہ کی دکھائی ہے اور جو کچھ تعریف کی ہے یہ درحقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی عظمت اور جلال کے لیے ہے مگر احمق ان باتوں سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔

ظہو ر علاماتِ مسیح موعودؑ

اس وقت صدی میں سے بیس سال گذرنے کوہیں اور آخری زمانہ ہے چودھویں صدی ہے کہ جس کی بابت تمام اہلِ کشف نے کہا کہ مسیح موعود چودھویں صدی میں آئے گا وہ تمام علامات اور نشانات جو مسیح موعود کی آمد کے متعلق پہلے سے بتائے گئے تھے ظاہر ہوگئے۔ آسمان نے کسوف وخسوف سے اورزمین نے طاعون سے شہادت دی ہے اور بہت سے سعادتمندوں نے ان نشانوں کو دیکھ کر مجھے قبول کیا اور پھر اوربھی بہت سے نشانات ان کی ایمانی قوت کو بڑھانے کے واسطے خدا تعالیٰ نے ظاہر کیے اور اس طرح پر یہ جماعت دن بدن بڑھ رہی ہے۔ ٭[ اس مقام تک حضرت اقدس ابھی پہنچے تھے کہ خان عجب خان صاحب جو رقّتِ قلب کے ساتھ چشم پُر آب اپنے پُر جوش لہجہ میں بول اُٹھے ‘‘وجودِ جناب خود شہادت است’’(ایڈیٹرالحکم)] کوئی ایک بات ہوتی تو شک کرنے کا مقام ہوسکتا تھا مگر یہاں تو خدا تعالیٰ نے ان کو نشان پر نشان دکھائے اور ہر طرح سے اطمینان اور تسلی کی راہیں دکھائیں۔ لیکن بہت ہی کم سمجھنے والے نکلےہیں۔ حیران ہوتا ہوں کہ کیوں یہ لوگ جو میرا انکار کرتے ہیں ان ضرورتوں پر نظر نہیں کرتے جو اس وقت ایک مصلح کے وجود کی داعی ہیں۔

(ملفوظات جلد 5 صفحہ 13۔ 15۔ ایڈیشن 1984ء)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close