متفرق مضامین

برداشت، صبر اوراستقامت کے چند عظیم الشان اور درخشندہ نمونے (قسط اوّل)

(ذیشان محمود۔)

خدا تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے والوں کے پسماندگان کے حوصلے، برداشت، صبر اوراستقامت کے چند عظیم الشان اور درخشندہ نمونے

احمدی ماؤں، باپوں، بیٹے بیٹیوں، بھائی اور بہنوں کے عدیم المثال اور منفرد عملی خراجِ تحسین

جماعت احمدیہ اور صبر کی تاریخ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :

’’جماعت احمدیہ کی گذشتہ سو سال سے زائد کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب بھی جماعت کے افراد پر یا جماعت پر ایسا موقع آیاتو جماعت کے افراد نے صبر اور حوصلے کے ساتھ تمام ظلم برداشت کئے۔ کبھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیا اور اسی صبر کا نتیجہ ہے کہ ہر ایسے واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ جماعت کو پہلے سے بڑھ کر نوازتا ہے اور نوازتا چلا جا رہاہے، اور انشاء اللہ تعالیٰ نوازتا رہے گا۔ اس لئے آج بھی افراد جماعت کو اور خاص طور پر ان لوگوں کو جن کے بچے، بھائی یا خاوند شہید ہوئے یا زخمی ہوئے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے صبر کے ساتھ اس کا رحم اور فضل مانگتے رہنا چاہئے۔ یہ افراد جو شہید ہوئے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہمیشہ کی زندگی پا گئے اور جماعت احمدیہ کی تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں جن کو آئندہ آنے والی نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔ … ہمیں حضرت مسیح موعودؑکی اس تعلیم کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ

’’خدا ہر ایک قدم میں تمہارے ساتھ ہو گا اور کوئی تم پر غالب نہیں ہو سکے گا۔ خدا کے فضل کی صبر سے انتظار کرو۔ گالیاں سنو اور چپ رہو۔ ماریں کھاؤ اور صبر کرو اور حتی المقدور بدی کے مقابلہ سے پرہیز کرو تا آسمان پر تمہاری قبولیت لکھی جاوے۔ یقینا ًیادرکھو کہ جو لوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور دل ان کے خدا کے خوف سے پگھل جاتے ہیں انہیں کے ساتھ خدا ہوتا ہے۔ ‘‘

(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 14؍ اکتوبر2005ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل4؍نومبر2005ءصفحہ5تا6)

پسماندگان شہدائے لاہور

لاہور کی احمدیہ مساجد پر حملے کے نتیجے میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی جرأت وبہادری، عزم وہمت اور ان کے پسماندگان کے صبر واستقامت کے عظیم الشان اور درخشندہ نمونوںکا تذکرہ کرتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ4؍جون 2010ء میں فرمایا:

’’…گزشتہ ہفتے میں ہزاروں خطوط معمول کے ہزاروں خطوط سے بڑھ کر مجھے ملے اور تمام کا مضمون ایک محور پر مرکوز تھا، جس میں لاہور کے شہداء کی عظیم شہادت پر جذبات کا اظہار کیا گیا تھا، اپنے احساسات کا اظہار لوگوں نے کیا تھا۔ غم تھا، دکھ تھا، غصہ تھا، لیکن فوراً ہی اگلے فقرہ میں وہ غصہ صبر اور دعا میں ڈھل جاتا تھا۔ … اور پھر جن کے قریبی عزیز اس مقام کو پاگئے، اس شہادت کو پا گئے، ان کے خطوط تھے جو مجھے تسلیاں دے رہے تھے اور اپنے اس عزیز، اپنے بیٹے، اپنے باپ، اپنے بھائی، اپنے خاوند کی شہادت پر اپنے رب کے حضور صبر اور استقامت کی ایک عظیم داستان رقم کر رہے تھے۔

… میں نے ہر گھر میں فون کیا تو بچوں، بیویوں، بھائیوں، ماؤں اور باپوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی پایا۔ خطوط میں تو جذبات چھپ بھی سکتے ہیں، لیکن فون پر ان کی پُر عزم آوازوں میں یہ پیغام صاف سنائی دے رہا تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو سامنے رکھتے ہوئے مومنین کے اس ردّعمل کا اظہار بغیر کسی تکلف کے کر رہے ہیں کہ

اِنَّا لِلّٰہ وَ اِنَّآاِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

ہم پورے ہوش و حواس اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ادراک کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا پر خوش ہیں۔ یہ ایک ایک دو دو قربانیاں کیا چیز ہیں ہم تو اپنا سب کچھ اور اپنے خون کا ہر قطرہ مسیح موعودؑکی جماعت کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔ … یہ صبر و رضا کے پیکر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بے چین، دین کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے، گھنٹوں اپنے زخموں اور ان میں سے بہتے ہوئے خون کو دیکھتے رہے لیکن زبان پر حرفِ شکایت لانے کی بجائے دعاؤں اور درود سے اپنی اس حالت کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بناتے رہے۔ اگر کسی نے ہائے یا اُف کا کلمہ منہ سے نکالا تو سامنے والے زخمی نے کہا ہمت اور حوصلہ کرو، لوگ تو بغیر کسی عظیم مقصد کے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں تم تو اپنے ایک عظیم مقصد کے لئے قربان ہونے جا رہے ہو۔ اور پھر وہ اُف کہنے والا آخر دم تک صرف درود شریف پڑھتا رہا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ یقین کرواتا رہاکہ ہم نے جو مسیح محمدی سے عہد کیا تھا اسے پورا کر رہے ہیں۔ میں نے ایک ایسی درد ناک ویڈیو دیکھی، جو زخمیوں نے ہی اپنے موبائل فون پر ریکارڈ کی تھی۔ اس کو دیکھ کر دل کی عجیب کیفیت ہو جاتی ہے۔ پس یہ وہ لوگ ہیں جن سے بیشک قربانیاں تو خدا تعالیٰ نے لی ہیں لیکن اس کے فرشتوں نے ان پر سکینت نازل کی ہے۔ اور یہ لوگ گھنٹوں بغیر کراہے صبر و رضا کی تصویر بنے رہے۔

…ہر گھر میں مجھے یہی نظارے نظر آئے ہیں۔ ایسے ایسے عجیب نظارے ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کیسے کیسے لوگ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کوعطا فرمائے ہوئے ہیں۔ ہر ایک

اِنَّمَاۤ اَشۡکُوۡا بَثِّیۡ وَ حُزۡنِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ (یوسف:87)

کہ میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ تعالیٰ کے حضور کرتا ہوں، کی تصویر نظر آتا ہے۔ اور یہی ایک مومن کا طرۂ امتیاز ہے۔ مومنوں کو غم کی حالت میں صبر کی یہ تلقین خدا تعالیٰ نے کی ہے۔ …

یہ صبر کے نمونے جب دنیا نے دیکھے تو غیر بھی حیران ہو گئے۔ ظلم اور سفّاکی کے ان نمونوں کو دیکھ کر غیروں نے نہ صرف ہمدردی کا اظہار کیا بلکہ احمدیت کی طرف مائل بھی ہوئے بلکہ بیعت میں آنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ پس یہ ظلم جو تم نے ہمارے سے روا رکھااس کا بدلہ اس دنیا میں ہمیں انعام کی صورت میں ملنا شروع ہو گیا۔ ‘‘

(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ4؍جون2010ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل25؍جون2010ءصفحہ5تا7)

ایسے صابرچشم فلک نے کب دیکھے

٭…مکرم جمیل احمد بٹ صاحب نمائندہ وفدجماعت کراچی سانحہ لاہور کے متاثرین سے ملاقات کا احوال بیان کرتے ہیں :

’’ہم بہت سے گھروں میں گئے ۔ہمیں تو علم تھا کہ ان گھروں میں کیا واقعہ پیش آیا ہے لیکن ان گھروں کے درو دیوار اور ان میں بسنے والوں نے ہر گز اس کا پتہ نہ لگنے دیا۔ خاموش ضرور تھے، آنکھیں بھری ہوئی تھیں لیکن بس اور کوئی بے صبری، واویلا، شکوہ کسی زبان پر نہ تھا۔ جانے والے ہر عمر کے تھے۔ بڑی عمر کے بزرگ، درمیانی عمر کے ناصر، جوان جہان اور نوجوان جو ابھی پھولوں کی طرح کھلنےلگے تھے لیکن سب کے پسماندگان کا رویّہ یکساں تھا ۔بوڑھے باپ جن کے نوجوان بیٹے اور داماد گزر گئے، جواں جن کے باپ، سسر، بہنوئی اور بھائی اللہ کو پیارے ہوئے یہ سب پُرسکون اور راضی برضا تھے۔ زیرِ لب دعاؤں میں مصروف اور اپنے رب کی طرف جھکے ہوئے۔ کسی نے اشارتاً بھی ان ظالموں کا ذکر نہ کیا جنہوں نے یہ ظلم ڈھایا اور نہ کسی نے ذمہ داروں کے فرائض کی ادائیگی میں مجرمانہ غفلت کا شکوہ کیا۔

ہر گھر میں مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب، حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے تحت خواتین سے بھی اظہار تعزیت کرتے۔ پردے سے ان خواتین کی جو آواز ہم تک آتی وہ بھی اس صبرو رضاکا نمونہ ہوتی۔ ماؤں کا اپنے بیٹوں اور دامادوں، جوان العمر اور بڑی عمر کی خواتین کا اپنے شوہروں، بیٹیوں کا اپنے والد یا سسر اور بہنوں کا اپنے بھائیوں کی جدائی پر تمام تر اظہار خاموشی جیسی سسکیوں اور دعاؤں کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ اپنے وجود کے حصوں کی ہمیشہ کے لئے یہ اچانک جدائی یقینا ًبہت بڑا صدمہ تھا جس پر صبر اللہ کے خاص فضل پر منحصر ہے۔ ان احمدی خواتین کو سلام کہ انہوں نے اس فضل سے حصہ پایا تھا۔ جسے دیکھتے ہوئے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آئندہ بھی ان کا حامی و ناصر رہے گا اور اس صبر کا انہیں بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ آمین

ایک بزرگ نے جن کا جوان داماد قربان ہو گیا تھا یہ عجیب بات کہی کہ اللہ نے ہمارے حق میں حضور کی دعائیں سن لیں۔ ہم اپنے اچھے انجام کے لئے دعاؤں کی درخواست کیا کرتے تھے اس سے اچھا انجام اور کیا ہو گا؟‘‘

٭…مکرمہ طیبہ افتخارصا حبہ اہلیہ مکرم افتخار الغنی صاحب شہید لاہور لکھتی ہیں کہ جنازوں اور تدفین کے وقت جو صبر و استقامت شہر شہیدان لاہور اور مرکز ربوہ میں دیکھنے میں آیا وہ صرف خدا کی جماعت ہی دکھا سکے گی۔ شہداء کے خاندان غم سے چور تھے۔ باقی جماعت برابر کی شریک رہی۔ ربوہ میں مقامی اور غیر مقامی مخلصین جماعت کی بڑی تعداد آئی۔ بعض وہ تھے جن کا کوئی عزیز رشتہ دار تو شہید نہ ہوا تھا مگر وہ ان شہداء کے دیدار کے لیے حاضر ہوئے تھے اور بعض وہ تھے جن کا کوئی نہ کوئی شہید ہوا تھا لیکن کوئی شور و غل اور واویلا نہ تھا۔ افراد جماعت جن میں ربوہ کے خدام سلسلہ اور دیگر افراد کے علاوہ خاندان کے افراد بھی تھے۔ انہوں نے شہداء کے عزیزوں کے پاس جا کر خود بھی تعزیت کی ،حوصلہ دیا۔ ضبط و صبر، دعاؤں اور درود شریف کے ورد کے ساتھ نہایت معزز طریق پر شہداء کی تدفین کی گئی جن کو دیکھ کر میڈیا والے بھی حیران تھے اور متاثر ہوئے یہاں تک کہ وہ چھوٹے معصوم بچے جو اپنے والد کی شفقت سے محروم ہو چکے تھے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے صبر کی توفیق دی۔ دکھی دل سے خاموشی اور صبر سے تمام حالات شہادت سے تدفین تک ان جماعت کے معصوم جیالوں نے دیکھے۔

احمدی ماؤں کا صبر

محترم صاحبزادہ مرزاغلام قادر صاحب شہید کی والدہ محترمہ قدسیہ بیگم صا حبہ تحریر کرتی ہیں :

’’خدا نے مجھے صبر دیا ہے۔ یہ تسلی ہے کہ اس نے بہترین زندگی گزاری اور بہترین موت پائی… میں نے اپنے بیٹے کو جزاک اللہ۔ قادرجزاک اللہ۔ کہہ کر رخصت کیا۔ تم شان سے جئے اور شان سے جان دی…سوچتی ہوں اگر کسی کو نہایت ہمدردی سے کوئی دعا دوں تو یہ دعا دوں گی خدا تمہیں میرے جیسے بیٹے دے…جزاک اللہ میرے بیٹے جزاک اللہ۔ تمہاری جان کا نذرانہ مجھے سرفراز کر گیاہے۔ بیٹے تم نے عین جوانی میں اتنی بڑی قربانی دی تو میں تمہاری روح کو خوش کرنے کے لئے خدا کی رضا کے لئے صبر نہ کروں۔ میں ساری رات جاگتی ہوں دنیا کے سامنے خاموش ہوں مگر خدا رات کو میری چیخیں سنتا ہے۔ میرے بچے،صبر اپنی جگہ مامتا اپنی جگہ۔ یہ مامتا ہی تو ہے صرف اورصرف جس کی خدا نے اپنی محبت سے مثال دی ہے۔ خدا نے مجھے بہت سی نعمتیں دی ہیں۔ ایک نعمت واپس لے لی ہے۔ اسی کی چیز تھی۔ دعا کریں خدا مجھ سے اور کوئی نعمت واپس نہ لے آمین۔ ‘‘

(روزنامہ الفضل5؍مئی، 7؍جون1999ء)

شہید باپ کی جگہ کھڑے ہونا

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں :

’’ہم نے تو یہ نظارے دیکھے ہیں کہ باپ کے شہید ہونے پر اس کے نو دس سالہ بیٹے کو ماں نے اگلے جمعہ مسجد میں جمعہ پڑھنے کے لئے بھیج دیا اور کہا کہ وہیں کھڑے ہو کر جمعہ پڑھنا ہے جہاں تمہارا باپ شہید ہوا تھا تا کہ تمہارے ذہن میں یہ رہے کہ میرا باپ ایک عظیم مقصد کے لئے شہید ہوا تھا، تا کہ تمہیں یہ احساس رہے کہ موت ہمیں اپنے عظیم مقصد کے حصول سے کبھی خوفزدہ نہیں کر سکتی۔ جہاں ایسے بچے پیدا ہوں گے، جہاں ایسی مائیں اپنے بچوں کی تربیت کر رہی ہوں گی وہ قومیں کبھی موت سے ڈرا نہیں کرتیں۔ اور کوئی دشمن، کوئی دنیاوی طاقت ان کی ترقی کو روک نہیں سکتا۔ ‘‘

(اختتامی خطاب برموقع جلسہ سالانہ جرمنی 2010ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل30؍جولائی2010ءصفحہ24)

مجھے تو بڑا فخر ہے

٭…مکرم میاں لئیق احمد طارق صاحب ابن مکرم یعقوب احمد صاحب فیصل آباد کی والدہ کے صبر اور حوصلے کے متعلق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’ آپ کے ایک بھائی یہاں رہتے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کی وفات کا سن کے جب انہوں نے والدہ کو فون کیا تو یہ تو اپنے جذبات پہ کنٹرول نہیں رکھ رہے تھے لیکن والدہ نے ان کو تسلی دلائی کہ تم کو جذباتی ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ مجھے تو بڑا فخر ہے کہ مَیں شہید کی ماں بن گئی ہوں۔ ‘‘

(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 5؍جون2009ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل26؍جون2009ءصفحہ8)

خدا کی امانت

٭…ایک ماں نے کہا کہ اپنی گود سے جواں سالہ بیٹا خدا کی گود میں رکھ دیا۔ جس کی امانت تھی اس کے سپرد کر دی۔

(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ4؍جون2010ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل25؍جون2010ء)

اکلوتے بیٹے پر صبر

٭…ایک ماں کا اٹھارہ سال کا اکلوتا بیٹا تھا۔ ایک لڑکاتھا باقی لڑکیاں ہیں۔ میڈیکل کالج میں پڑھتا تھا۔ شہید ہو گیا اور ماں باپ نے انتہائی صبر اور رضا کا اظہار کیا اور یہ کہا کہ ہم بھی جماعت کی خاطر قربان ہونے کے لئے تیار ہیں۔

(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ4؍جون2010ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل25؍جون2010ء)

ہمسائے بھی حیران

٭…ایک خاتون لکھتی ہیں کہ میرے چھوٹے بچے بھی جمعہ پڑھنے گئے تھے اور خدا نے انہیں اپنے فضل سے بچا لیا۔ جب مسجدمیں خون خرابہ ہو رہا تھا تو ہماری ہمسائیاں ٹی وی پر دیکھ کر بھاگی آئیں کہ رو دھو رہی ہو گی۔ یعنی میرے پاس آئیں کہ رو دھو رہی ہوں گی کیونکہ مسجدکے ساتھ ان کا گھر تھا۔ لیکن میں نے ان سے کہا کہ ہمارا معاملہ تو خدا کے ساتھ تھا۔ مجھے بچوں کی کیا فکر ہے؟ ادھر تو سارے ہی ہمارے اپنے ہیں۔ اگر میرے بچے شہید ہو گئے تو خدا کے حضور مقرب ہوں گے اور اگر بچ گئے تو غازی ہوں گے۔ یہ سن کر عورتیں حیران رہ گئیں اور الٹے پاؤں واپس چلی گئیں کہ یہ کیسی باتیں کر رہی ہے؟ اور پھر آگے لکھتی ہیں کہ اس نازک موقع پر ربوہ والوں نے جو خدمت کی اور دکھی دلوں کے ساتھ دن رات کام کیا اس پر ہم سب آپ کے اوران کے شکر گزار ہیں۔

(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ4؍جون2010ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل25؍جون2010ء)

٭…عامر لطیف پراچہ شہید لاہور کی والدہ محترمہ کہتی ہیں کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے فون سے بہت حوصلہ ملا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے صبر بھی کہ اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو اتنا بلند رتبہ عطاکیا ہے اور میں شہید کی ماں ہوں۔ شہید ہونے کے بعد ہمیں اتنی بڑی عزت دے گیا۔

٭…مکرم ولید احمد صاحب کی والدہ صا حبہ کہتی ہیں کہ یہ غم میں لپٹی ہوئی خوشی کی خبر تھی۔ جانے والے کا دکھ تو بہت ہے لیکن جو وہ ہمیں عزت دے کر گیا ہے…اللہ تعالیٰ میری جیسی سب دکھی بہنوں کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ ان شہداء کا خون رنگ لائے۔ احمدیت کا جھنڈا پوری دنیا میں چمکتا ہوا دیکھیں۔ آمین ثم آمین۔

٭…مکرم شابل منیر،شہید کے بھائی مکرم شہزاد صاحب بتاتے ہیں کہ ایک خاص بات یہ کہ امی ابو بالکل نہیں روئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو صبر عطا کیا۔ میں بھی صرف اس وقت رویا جب ہسپتال میں نوکرانی کو روتے دیکھا۔ اس کے بعد ہم میں سے کوئی نہیں رویا بلکہ ہماری پھوپھو اور بعض دوسری احمدی عورتیں آئیں تو انہوں نے دور سے ہی رونا شروع کردیا لیکن امی بالکل نہیں روئیں اور جو آتا اس کو خاموشی سے ملتیں۔ بعد میں بعض عورتوں نے امی سے کہا بھی کہ یہ جنازہ ٹھیک نہیں ہوا۔ تمہارا بیٹا فوت ہوا ہے۔ تمہیں رونا چاہیے تھا۔ تمہیں دکھ ہی نہیں ہوا۔ گھر میں جو صبر اور خاموشی کا ماحول بنا ہوا تھا۔ اس کا اتنا اثر تھا کہ باہر سے روتا ہوا اندر آتا وہ بھی سب کو خاموش دیکھ کر چپ ہوجاتا۔ والدہ کہتی ہیں کہ شابل کی شہادت کے بعد میں بہت پریشان تھی کہ ایک عورت ربوہ میں گھر آئی اور گلے لگ کر کہاکہ ’’ اے شہید کی ماں ! تجھے سلام‘‘ یہ الفاظ سنتے ہی مجھے ایسے لگا جیسے میرا غم ختم ہو گیا سوچا کہ میں کیوں روتی ہوں۔ مجھے تو خدا نے بہت بلند مرتبہ عطا فرمایاہے۔

احمدی باپوں کا صبر

٭…محترم صاحبزادہ مرزاغلام قادرصاحب شہید کے والد محترم صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب لکھتے ہیں :

’’اس میدان میں جب نظر اٹھا کے دیکھتا ہوں تو حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحبؓ کی 1903ء میں قربانی کے بعد بڑے بڑے عظیم الشان روشن میناروں سے شاہراۂ قربانی منور نظر آتی ہے۔ نوحہ کرنا ہو تو کس کس پر کریں۔ میں کیوں صرف قادر کی قربانی کا تذکرہ کروں دوسرے بھی تو کسی کے باپ، کسی کے بیٹے اور کسی کے بیوی بچے تھے۔ انہیں بھی ان سے اسی طرح محبت ہو گی جس طرح ہمیں قادر عزیز تھا۔ میں اگر قادر کی ہی قربانی کے غم کی داستان بیان کروں تو پھر یہ انصاف نہ ہوگا… میری بیوی نے قادر کی قربانی پر جس طرح صبر اور ضبط کا مظاہرہ کیا اور قادر کو رخصت کرتے ہوئے پکار کر کہا ’’قادر جز اک اللہ‘‘۔ مائیں ماتم کرتی ہیں اور کون سی ایسی ماں ہو گی جس کے صبر کے بندھن ایسے حالات میں ٹوٹ نہ جاتے ہوں لیکن آفرین ہے ایسی ماں پر جو اپنے نورِ نظر کی نعش اٹھتے وقت اس کا شکریہ ادا کر رہی ہو۔ اس پر کیا زائد کر سکتا ہوں ماں ماں ہی ہوتی ہے اس کی محبت کا کون مقابلہ کر سکتا ہے میری بیگم کے مضمون کو پڑھ کردو عورتیں اس شدید گرمی میں ملتان سے سفر کر تے ہوئے تعزیت کے لئے آئیں اور کہا کہ وہ خاص طور پر اس ماں کے دیدار کو آئی ہیں جس نے اس طرح اپنے جگر گوشے کو اس قربانی پر رخصت کیا کہ کوئی پڑھنے والا اپنے آنسو روک نہ سکا اور انہیں رشک کی نظر سے دیکھتا رہا۔ ‘‘

(روزنامہ الفضل3؍جولائی1999ء)

صبر و حوصلہ کی چٹان

٭…ایک نمازی نے جب وہ جنازے پر آئے تھے، کسی کو مخاطب ہو کر کہا کہ ایک انعام اور ملا کہ شہید باپ کا بیٹا ہوں اور مجھے کہا کہ عزم اور حوصلے بلند ہیں۔

صبر ورضا کے پیکر

٭…ایک صاحب نے مجھے لکھا، جوجاپان سے وہاں گئے ہوئے تھے اور جنازے میں شامل ہوئے۔ ربوہ کے پہاڑ کے دامن میں ان مبارک وجودوں کو دفناتے ہوئے کئی دفعہ ایسا لگا جیسے اس زمانے میں نہیں۔ صبر و رضا کے ایسے نمونے تھے جن کو الفاظ میں ڈھالنا ناممکن ہے۔ انصار اللہ کے لان میں مَیں نے اپنی دائیں طرف ایک بزرگ سے جو جنازے کے انتظار میں بیٹھے تھے پوچھا کہ چچا جان! آپ کے کون فوت ہوئے ہیں؟ فرمایا میرا بیٹا شہید ہو گیا ہے۔ لکھنے والے کہتے ہیں کہ میرا دل دہل رہا تھا اور پُر عزم چہرہ دیکھ کر ابھی میں منہ سے کچھ بول نہ پایا تھا کہ انہوں نے پھر فرمایا کہ الحمدللہ! خدا کو یہی منظور تھا۔ لکھنے والے کہتے ہیں کہ میرے چاروں طرف پُرعزم چہرے تھے اور میں اپنے آپ کو سنبھال رہا تھا کہ ان کوہِ وقار ہستیوں کے سامنے کوئی ایسی حرکت نہ کروں کہ خود مجھے شرمندگی اٹھانی پڑے۔ کہتے ہیں کہ میں مختلف لوگوں سے ملتا اور ہر بار ایک نئی کیفیت سے گزرتا رہا۔ خون میں نہائے ایک شہید کے پاس کھڑا تھا کہ آواز آئی میرے شہید کو دیکھ لیں۔ اس طرح کے بے شمار جذبات احساسات ہیں۔

(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ4؍جون2010ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل25؍جون2010ء)

دوشہیدوں کے والد

٭…مکرم منظور احمد اور مقصود احمد صاحب (شہداء کوئٹہ) کے والد مکرم نواب خان صاحب کے بارہ میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

’’ان کے والد کے دو ہی بیٹے تھے اور دونوں اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو گئے۔ ان کے والد صاحب نے آسمان کی طرف منہ کر کے صرف اتنا کہا کہ اے خدا ! دونوں کو لے گیا، اب ظالموں سے خود بدلہ لے لے۔ ‘‘

(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ14؍دسمبر2012ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل4؍جنوری2013ءصفحہ9)

٭…مکرم ولید احمد صاحب کے والد صاحب کہتے ہیں کہ خاکسار کو یہ سعادت نصیب ہوئی ہے کہ خاکسار کے والد بھی شہید تھے، سسربھی شہید ہوئے اور اب بیٹا بھی شہید ہوا۔ خاکسار کا ایک ہی بیٹا تھا جو خدا کے نام پر وقف تھا۔ اس لیے مجھے کوئی دکھ نہیں ہے۔ وہ بہت ہی اعلیٰ مقا م پر پہنچ گیا ہے۔

٭…مکرم مسعود احمدصاحب بھٹی شہید لاہور کی شہادت پر آپ کے والد نے بہت حوصلہ دکھایا اور اس بات کا فخر سے اظہار کیا کہ مسعود احمد کی بدولت مجھے شہید کا باپ ہونے کا رتبہ ملا ہے۔

٭…مکرم شابل منیر صاحب شہید کے والد کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اتنا بڑا رتبہ دیا ہے، جس مقام پر وہ پہنچا ہے اس پر کوئی کوئی پہنچتا ہے تو پھر رونے کا کیا فائدہ۔ میں اس کو ساری عمر بھلا نہیں پاؤں گا۔ اسی کے طفیل ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرمائے۔ جوں جوں اس کی شہادت پر وقت گزرتا جا تا ہے وہ پہلے سے زیادہ ہمارے دلوں میں زندہ ہو تا جاتا ہے اور پہلے سے زیا دہ اس کی یا د ہمیں آنے لگتی ہے۔ اس کے جا نے سے ہمیں بھی ایک اعزاز مل گیا۔ کہیں بھی جاتے ہیں لوگ کہتے ہیں کہ آپ خوش نصیب ہیں جوشہید کے باپ ہیں۔

بیویو ں کا صبرو استقامت

محترم صاحبزادہ مرزاغلام قادر شہید کی اہلیہ محترمہ صاحبزادی امۃ الناصر نصرت صا حبہ لکھتی ہیں :

’’میں کچن میں کھانابنا رہی تھی جب قادر کی بہن نے بتایا کہ قادر کو گولی لگ گئی ہے اور وہ چنیوٹ ہسپتال میں ہے جلدی چلو۔ میں سارا راستہ اس کی کامل صحت والی زندگی کی دعا مانگتی رہی۔ مجھے علم نہیں تھا کہ اسے گولی کہاں لگی ہے۔ بے اختیار دعا کر رہی تھی کہ خدایا اسے محتاجی کی زندگی سے بچانا۔ … قادر کے بعد سے میں سوچتی ہوں کہ ہم کیسے کہہ دیتے ہیں کہ زندگی اور موت کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے مجھے تو لگتا ہے کہ موت سے زیادہ دور کوئی چیز نہیں۔ شروع میں جب زخم کچا تھا سب تسلی دیتے تھے۔ وقت کے ساتھ انشاء اللہ صبر آجائے گا، زخم بھی کچھ بھر جائے گا، سب ٹھیک بھی کہتے تھے اور غلط بھی۔ بظاہر زخم بھر بھی گیا لیکن لگتا ہے کہ نہیں ! گھاؤ بہت گہرا ہے۔ یہ راہ تو بہت کٹھن ہے۔ قدم قدم پر اس کی یاد مجھے روکتی ہے ہر لمحہ اس کا خیال میرے ساتھ ہے۔ …قادر کی شہادت کی خبر سننے کے بعد سے لے کر اگلے چند دن تک میری زبان پر حضرت مسیح موعودؑ کے شعر کا یہ مصرع بار بار آتا رہا۔

حیلے سب جاتے رہے اک حضرتِ توّاب ہے‘‘

(مرزا غلام قادر صفحہ292اور474)

بہترین صبر کا نمونہ

٭…ڈاکٹر عبد المنان صدیقی صاحب کی اہلیہ محترمہ کے بارہ میں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

’’(اللہ تعالیٰ) ان کی اہلیہ کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے، انہوں نے بھی بڑے حوصلے سے اپنے خاوندکی شہادت کی خبرکو سنا اور بہترین صبر کا نمونہ دکھایا۔ اپنی ساس جو اُن کی پھوپھی بھی ہیں انہیں بھی سنبھالا اور اپنے بچوں کو بھی سنبھالا۔ امریکہ میں پلنے بڑھنے کے باوجود اپنے خاوند کے ساتھ کامل وفا سے ساتھ دیا اور جماعتی کاموں میں کبھی روک نہیں بنتی رہیں، بلکہ خدمت کرتی رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی لمبی زندگی کے ساتھ بچوں کی خوشیاں دکھائے۔ ‘‘

(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ12؍ستمبر 2008ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل3؍اکتوبر2008ءصفحہ8)

٭…مکرم میاں منیر عمر صاحب شہید کی اہلیہ محترمہ بیان کرتی ہیں کہ جس وقت اس سانحہ کا علم ہوا تو ایک دفعہ تو شدید غم کی کیفیت طاری ہو گئی۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، لیکن جب لاہور کی جماعت نے اس قدر اظہارِ افسوس کیا تو تکلیف کا احساس کچھ کم ہونے لگا۔ پھر جب شہادت کے مرتبہ کا احساس ہوا تو دل میں خوشی کی کیفیت پیدا ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے میرے شوہر کو اس رتبہ کے لیے منتخب کیا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں ایک شہید کی بیوہ کہلائی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرتا چلا جائے۔ آمین

(جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

تبصرے 2

  1. بہت اعلیٰ کام شروع کیا ہے کہ ایک ہی جگہ وہ مواد اکٹھا کر دیا ہے جس سے اس اہم موضوع پر روشنی پڑ رہی ہے۔ اللہ تعالی تمام شہداء احمدیت اور ان کے پسماندگان پر اپنا فضل فرماتا رہے آمین۔ اس مضمون کے اگلے حصہ کا انتظار ہے۔ جزاک اللہ خیر۔

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close