حضرت مصلح موعود ؓ

ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں چاہے وہ ہمیں ماریں یا دکھ پہنچائیں (قسط سوم۔ آخری)

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

پھر تیسرا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ اگر ہم ان تمام حالات کی موجودگی میں جو اوپر ذکر ہو چکے ہیںانصاف کی طرفداری کریں گے تو کیا خدا تعالیٰ ہمارے اس فعل کو نہ جانتا ہو گا کہ ہم نے انصاف سے کام کیا ہے جب وہ جانتا ہوگا تو وہ خود انصاف پر قائم ہونے والوں کی پشت پناہ ہوگا۔ لکھنے والے نے تو لکھ دیا کہ احمدیوں کے ساتھ وہی سلوک ہو گا جو کابل میں ان کے ساتھ ہوا تھا مگر میں ان سے پوچھتا ہوں کہاں ہے امان اللہ؟ اگر اس نے احمدیوں پر ظلم کیا تھا تو کیا خدا تعالیٰ نے اس کے اسی جرم کی پاداش میں اس کی دھجیاں نہ اُڑا دیں؟ کیا خدا تعالیٰ نے اُس کی حکومت کو تباہ نہ کر دیا؟ کیا اللہ تعالیٰ نے اُس کی حکومت کے تاروپود کو بکھیر کر نہ رکھ دیا؟ کیا اللہ تعالیٰ نے اُس کو اُس کی ذریت سمیت ذلیل اور رسوائے عالَم نہ کر دیا ؟ کیا خدا تعالیٰ نے مظلوموں پر بے جا ظلم ہوتے دیکھ کر ظالموں کو کیفرکردار تک نہ پہنچایا؟ اور کیا اللہ تعالیٰ نے امان اللہ کے اس ظلم کا اس سے کما حقہٗ بدلہ نہ لیا؟ ہاں کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی شان وشوکت ،رُعب اور دبدبہ کو خاک میں نہ ملا دیا؟ پھر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا ہمارا وہ خدا جس نے اِس سے پیشتر ہر موقع پر ہم پر ظلم کرنے والوں کو سزائیں دیں کیا نَعُوذُ بِاللّٰہِ اب وہ مر چکا ہے؟ وہ ہمارا خدا اب بھی زندہ ہے اور اپنی ساری طاقتوں کے ساتھ اب بھی موجود ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اگر ہم انصاف کا پہلو اختیار کریں گے اور اس کے باوجود ہم پر ظلم کیا جائے گا تو وہ ظالموں کا وہی حشر کرے گا جو امان اللہ کا ہوا تھا۔ اگر ہم پہلے خدا پر یقین رکھتے تھے تو کیا اب چھوڑ دیں گے؟ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین ہے وہ انصاف کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے اور ظالموں کو سزا دیتا ہے وہ اب بھی اسی طرح کرے گا جس طرح اس سے پیشتر وہ ہر موقع پر ہماری نصرت اور اعانت فرماتا رہا۔ اُس کی پکڑ، اُس کی گرفت اور اُس کی بطش اب بھی شدید ہے جس طرح کہ پہلے تھی۔ کیا ہم نَعُوذُ بِاللّٰہِ یہ سمجھ لیں گے کہ ہمارے انصاف پر قائم ہو جانے سے وہ ہمارا ساتھ چھوڑ دے گا؟ہر گز نہیں۔ احمدیت کا پودا کوئی معمولی پودا نہیں یہ اُس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے اور وہ خود اِس کی حفاظت کر ے گا اور مخالف حالات کے باوجود کرے گا دشمن پہلے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے مگر یہ پودا ان کی حسرت بھری نگاہوں کے سامنے بڑھتا رہا۔ تاریکی کے فرزندوں نے پہلے بھی حق کو دبانے کی کوشش کی مگر حق ہمیشہ ہی اُبھرتا رہا اور اب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی طرح ہو گا۔ یہ چراغ وہ نہیں جسے دشمن کی پھونکیں بجھا سکیں، یہ درخت وہ نہیں جسے عداوت کی آندھیاں اُکھاڑ سکیں،مخالف ہوائیں چلیں گی، طوفان آئیں گے،مخالفت کا سمندر ٹھاٹھیں ماریگا اور لہریں اُچھا لے گا مگر یہ جہاز جس کا ناخدا خود خدا ہے پار لگ کر ہی رہے گا۔

امان اللہ کا واقعہ یاد دلانے سے کیا فائدہ؟ کیا تمہیں صرف امان اللہ کا ظلم ہی یاد رہ گیا اور تم نے اس کے انجام کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں۔ تمہیں وہ واقعہ یاد رہ گیا ہے مگر اس واقعہ کا نتیجہ تم بھول گئے۔ کیا امان اللہ کی ذلت اور رُسوائی کی کوئی مثال تمہارے پاس موجود ہے؟ تم نے وہ واقعہ یاد دلایا تھا تو تم اس کا انجام بھی دیکھتے۔ جب وہ یورپ روانہ ہوا تھا توخود اُس کے ایک درباری نے خط لکھا کہ ہماری مجالس میں بار بار یہ ذکر آتا ہے کہ یہ جو کچھ ہماری ذلّت ہوئی ہے وہ اسی ظلم کی وجہ سے ہوئی ہے جو ہم نے احمدیوں کے ساتھ کیا تھا۔ امید ہے کہ اب جبکہ ہمیں سزا مل چکی ہے آپ ہمارے لئے بد دعا نہ کریں گے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود اُس کے درباریوں کو یقین تھا کہ اُس کی ذلت کا سبب اس کا ظلم ہے آج وہی امان اللہ جو ایک بڑی شان وشوکت، رُعب و جلال اور دبدبہ کا مالک تھا اپنے ظلم کی وجہ سے اس حال کو پہنچ چکا ہے کہ وہ اٹلی میں بیٹھا اپنی ذلت کے دن گذار رہا ہے۔ وہ کتنا ہوشیار اور چالاک بادشاہ تھا کہ اُس نے اپنی باج گزار(ریاست کو محصول دینے والا) ریاست کو آزاد بنا دیا مگر جب اس نے غریب احمدیوں پر ظلم کیا تو اس کی ساری طاقت اور قوت مٹا دی گئی اور اس نے اپنے ظلم کا نتیجہ پا لیا اور ایسا پایا کہ آج تک اس کی سزا بھگت رہا ہے۔ ایک طالبِ حق اور انصاف پسند آدمی کے لئے یہی ایک نشان کافی ہے۔ کاش!لوگ اِس پر غور کرتے۔

شاید یہاں کوئی شخص یہ اعتراض کر دے کہ امان اللہ کے باپ نے بھی تو احمدی مروائے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس نے ناواقفی سے ایسا کیا تھا اور امان اللہ نے جان بوجھ کر کیونکہ ہمارے استفسار پر اس کی حکومت کی طرف سے لکھا گیا کہ بیشک احمدی مبلغ بھجوادئیے جائیں اب وہ وحشت کا زمانہ نہیں رہا ہر ایک کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی لیکن جب ہمارے مبلغ وہاں پہنچے تو اُس نے اُنہیں قتل کرادیا ۔پھر یہ بھی نہیںکہ حبیب اللہ کو سزا نہیں ملی وہ بھی اس سزا سے باہر نہیں رہا کیونکہ اس کی ساری نسل تباہ ہوگئی۔ یہ ثبوت ہے اِس بات کا کہ اللہ تعالیٰ نے صرف امان اللہ کا بدلہ نہیں لیابلکہ اس بدلہ میں حبیب اللہ اور عبدالرحمٰن بھی شامل ہیں۔ پس یہ ہے ہمارا تیسرا نقطۂ نگاہ ان تینوں نقطہ ہائے نگاہ سے دیکھتے ہوئے ہمارے لئے گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ ہم نے تو اس معاملہ کو انصاف کی نظروں سے دیکھنا ہے اور انصاف کے ترازو پر تولنا ہے۔

ہندوؤں کے ہاں انصاف کا یہ حال ہے کہ برابر سَو سال سے ہندو مسلمانوں کو تباہ کرتے چلے آرہے تھے اور صرف ہندو کا نام دیکھ کر ملازمت میں رکھ لیتے رہے اور مسلمان کا نام آنے پر اُس کی درخواست کو مسترد کر دیتے رہے۔ جب درخواست پر دُلارام کا نام لکھا ہوتا تو درخواست کو منظور کر لیا جاتا رہا اور جب درخواست پر عبدالرحمٰن کا نام آ جاتا تو اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا۔ اس بات کا خیال نہ رکھا جاتا رہا کہ دُلارام اور عبدالرحمٰن میں سے کون قابل ہے۔ اور کون نا قابل ہے، اور اس امر کو پیش نظر نہ رکھا جاتا رہا کہ دُلارام اور عبدالرحمٰن میں سے کون لائق ہے اور کون نالائق۔ صرف ہندوانہ نام کی وجہ سے اسے رکھ لیا جاتا اور صرف اسلامی نام کی وجہ سے اِسے ردّ کر دیا جاتا۔ ہم نے ان حالات کی وجہ سے باربار شور مچایا، لیڈروں سے اس ظلم کے انسداد کی کوشش کے لئے کہا مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور رینگتی بھی کیسے وہ اپنی اکثریت کے نشے میں چور تھے، وہ اپنی حکومت کے رُعب میں مدہوش تھے اور وہ اپنی طاقت کی وجہ سے بد مست تھے اُنہوں نے مسلمانوں کو ہرجہت سے نقصان پہنچانے کی کوششیں کیں، اُنہوں نے مسلمانوں کی ہر ترقی کی راہ میں رُکاوٹیں ڈالیں اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ہر ممکن سازشیں کیں اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریںچاہے وہ ہمیں ماریں یا دکھ پہنچائیں۔ ہمیں تو ہر قوم نے ستایا اور دکھ دیا ہے لیکن ہم نے انصاف نہیں چھوڑا۔ جب ہندوؤں پر مسلمانوں نے ظلم کیا ہم نے ہندوؤں کا ساتھ دیا، جب مسلمانوں پر ہندوؤں نے ظلم کیا ہم نے مسلمانوں کا ساتھ دیا، جب لوگوں نے بغاوت کی ہم نے حکومت کا ساتھ دیا اور جب حکومت نے ناواجب سختی کی ہم نے رعایا کی تائید میں آواز اُٹھائی اور ہم اسی طرح کرتے جائیں گے خواہ اس انصاف کی تائید میں ہمیں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ اُٹھانی پڑے۔ ہمیں سب قوموں کے سلوک یاد ہیں۔ کیا ہمیں وہ دن بھول گئے ہیں جب چوہدری کھڑک سنگھ صاحب نے تقریر کی تھی ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور قادیان کے ملبہ کو دریابرد کردیں گے۔

پھر کیا لیکھرام ہندوتھا یا نہیں؟ وہ لوگ جنہوں نے احراریوں کا ساتھ دیا تھا وہ ہندو تھے یا نہیں؟ مگر ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ جو شخص یا جماعت خدا تعالیٰ کا پیغام لے کر کھڑی ہو اس کی ساری دنیا دشمن ہوتی ہے اس لئے لوگوں کی ہمارے حق کے ساتھ دشمنی ایک طبعی امر ہے ۔ہم نے ملکانا میں جہاں لاکھوں مسلمانوں کو آریوں نے مرتد کر دیا تھا اور شدھ بنا لیا تھا جا کر تبلیغ کی اور انہیں پھر حلقہ بگوشِ اسلام کیا اور جب وہاں اسلام کو غلبہ نصیب ہو گیا اور آریہ مغلوب ہو گئے تو وہی لوگ جو ملکانوں کے ارتداد کے وقت شور مچاتے تھے کہ احمدی کہاں گئے اور کہتے تھے وہ اب کیوں تبلیغ نہیں کرتے وہی شور مچانے والے ملکانوںکے دوبارہ اسلام لانے پر ان کے گھر گھر گئے اور کہتے پھرے تم آریہ ہو جاؤ مگر مرزائی نہ بنو۔ اِدھر ہندوریاستوں نے ظلم پر ظلم کئے، الور والوں نے بھی ظلم کیا اور بھرت پور میں بھی یہی حال ہوا۔ جب ہمارے آدمی وہاں جاتے تو راجہ کا حکم پہنچ جاتا کہ تمہاری وجہ سے امن شکنی ہو رہی ہے جلدازجلد اِس علاقے سے نکل جاؤ۔ ملکانہ کے ایک گاؤں میں ایک بڑھیا مائی جمیّا شدھ ہونے سے بچی تھی۔ باقی اس کے تین چار بیٹے آریوں نے مرتد کر لئے تھے اور بیٹوں نے اس بڑھیا ماں سے کہا تھا کہ ماں ہم دیکھیں گے کہ اب مولوی ہی آکر تمہاری فصل کاٹیں گے۔ کسی نے مجھے لکھا کہ ایک بڑھیا کو اس قسم کا طعنہ دیا گیا ہے اور اب اُس کی فصل پک کر تیار کھڑی ہے۔ میں نے کہا اسلام اور احمدیت کی غیرت چاہتی ہے کہ اب مولوی اور تعلیم یافتہ لوگ ہی جا کر اس بڑھیا کا کھیت کاٹیںچنانچہ میں نے اس کے لئے تحریک کی تو بڑے بڑے تعلیم یافتہ لوگ جن میں جج بھی تھے اور بیرسٹر بھی، وکلاء بھی تھے اور ڈاکٹر بھی مولوی بھی تھے اور مدرّس بھی اور انہی میںچوہدری ظفراللہ خان صاحب کے والد مرحوم بھی گئے اور خان بہادر شیخ محمد حسین صاحب سیشن جج بھی گئے ان سب تعلیم یافتہ لوگوں نے اُس بڑھیا کا کھیت کاٹا۔ ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑگئے مگر اس بات کا اتنا رُعب ہوا کہ اس سارے علاقہ میں احمدیوں کی دھاک بیٹھ گئی مگر وہاں کے راجہ نے اتنا ظلم کیا کہ یہ لوگ چار پانچ میل گرمی میں جاتے تھے تو رات کو واپس سٹیشن پر آکر سوتے تھے۔ چوہدری نصراللہ خان صاحب باوجو د یکہ بڈھے آدمی تھے اُن کو بھی مجبوراً روزانہ گرمی میں چار میل جانا اور چار میل آنا پڑتا تھا۔ آخر مَیں نے اپنا ایک آدمی گورنمنٹ ہند کے پولیٹیکل سیکرٹری کی طرف بھجوایا کہ اتنا ظلم نہیں کرنا چاہئے۔ اس ریاست میں جو چار پانچ لاکھ ہندو ہے وہ فساد نہیں کرتا اورہمارے چند آدمیوں کے داخلہ سے فساد کا اندیشہ ہے۔ اُس وقت پولیٹیکل سیکرٹری سر تھا مسن تھے اُنہوں نے جواب دیا میں اِس میں کیا کر سکتا ہوں میں راجہ سے کہوں گا اگر وہ مان جائے تو بہتر ہے۔ سرتھامسن نے ہمدردی کی مگر ساتھ ہی معذوری کا اظہار بھی کیا لیکن ابھی اس پر پندرہ دن بھی گزرنے نہ پائے تھے کہ راجہ پاگل ہو گیا اور اُس کو ریاست سے باہر نکال دیا گیا اور پاگل ہونے کی حالت میں ہی وہ مرا۔ اِسی طرح اُس وقت کے الور والے راجہ کو بھی بعد میں سیاسی جرائم کی وجہ سے نکال دیا گیا۔

پس ہمارا خدا جو علیم اور خبیر ہے وہ اب بھی موجود ہے اگر ہم انصاف سے کام لیں گے اور پھر بھی ہم پر ظلم ہو گا تو وہ ضرور ظالموں کو گرفت کئے بغیر نہ چھوڑیگا۔ ظلم تو ہمیشہ سے نبیوں کی جماعتوں پر ہوتا آیا ہے مگر یہ نہایت ذلیل احساسات ہیں جو اِس اخبار نے پیش کئے ہیں حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے بھی ہم پر ہمیشہ ظلم کیا۔ شروع شروع میں جب احمدی تالاب سے مٹی لینے جاتے تھے تو یہاں کے سکھ وغیرہ ڈنڈے لے کر آجاتے تھے۔ آخرہمارے ساتھ کس نے کمی کی مگر ہر موقع پر خدا ہماری مدد کرتا رہا۔ ہمارا دشمن اگر ہمارے ساتھ ظلم اور بے انصافی بھی کرے تو ہم انصاف سے کام لیں گے اور جب تک یہ روح ہمارے اندر پیدا نہ ہو جائے خدا ہمارا ساتھ نہیں دے گا۔ پس ہم دیکھیں گے کہ حق کس کا ہے ہندو کا ہوگا تو اُس کی مدد کریں گے، سکھ کا ہوگا تو اُس کی مدد کریں گے، مسلمان کا ہو گا تو اُس کی مدد کریں گے ہم کسی کی دوستی اور دشمنی کو نہیں دیکھیں گے بلکہ اس معاملہ کو انصاف کی نگاہوں سے دیکھیں گے اور جب انصاف پر قائم ہونے کے باوجود ہم پر ظلم ہو گا تو خدا کہے گا اِنہوں نے دشمن کے ساتھ انصاف کیا تھا کیا میں اِن کا دوست ہو کر ان سے انصاف نہ کروں گا؟ اور اس کی غیرت ہمارے حق میں بھڑکے گی جو ہمیشہ ہمارے کام آئے گی۔ اِنۡ شَاءَ اللّٰہُ (اخبار الفضل قادیان ۲۱؍ مئی ۱۹۴۷ء)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close