متفرق مضامین

ذاتی تجربات کی روشنی میں پیغام حق پہنچانے میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط اوّل)

(سید شمشاد احمد ناصر۔ مبلغ سلسلہ امریکہ)

قرآن کریم کی سورۃ التکویر میں آخری زمانے کی علامات بیان کی گئی ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ اس سورۃ کی آیت نمبر 10 وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس کے ایک معانی یہ ہیں کہ صحیفے پھیلائے جائیں گے۔ یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ کتابوں اور اخبارات کی اشاعت کے لیے مطابع نکل آئے پھر ریل گاڑیاں ایجاد ہوچکی ہیں جن سے شائع شدہ اخباریں اور کتابیں سارے جہاں میں پھیل جاتی ہیں۔

(تفسیر کبیر جلد ہشتم صفحہ 224)

یہ ایک حقیقت ہے کہ جوں جوں انسان سائنسی ایجادات میں ترقی کررہا ہے اسی قدر پیغام حق کو دنیا کی مختلف قوموں، ملکوں اور انسانوں تک پہنچانا آسان سے آسان ترہوتا چلا جارہا ہے۔ اور یہ سب کچھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کے لیے مقدر تھا۔ اب آپ کے غلاموں کا کام ہے کہ اس سے حتی المقدور فائدہ اٹھائیںاور ان ذرائع کو بروئے کارلاتے ہوئے تکمیل اشاعت ہدایت کے کام کو تیز سے تیز تر کرتے چلے جائیں۔

صحافت کے حوالے سے خاکسار بالکل اناڑی قسم کا آدمی ہے۔ اس شعبہ سے کچھ واقفیت نہیں تاہم اس میں دلچسپی ضرور ہے اور اس دلچسپی کی کئی وجوہات ہیں۔

ابھی خاکسار جامعہ میں ہی تھا۔ وہاں روزنامہ الفضل آتا تھا اور ایک سٹینڈ پر لائبریری کے بالکل سامنے برآمدے میں اسے لگا دیا جاتا تھا۔ طالب علم فرصت کے لمحات میں اس سٹینڈ پر جا کر الفضل کا مطالعہ کرتے تھے اور اس میں اکثر جامعہ احمدیہ کے طلباء کے مضامین شائع ہوتے تھے۔ خاکسار تو ابھی ابتدائی کلاس میں تھا مگر صرف ’’جامعہ احمدیہ ربوہ‘‘ کا نام پڑھ کر دل میں جوش اٹھتا تھا کہ میں بھی جامعہ کا طالب علم ہوں پھر کیوں مضمون نہیں لکھتا۔ لیکن علم کی کمی ہمیشہ آڑے رہتی۔

جامعہ میں میرے سےایک سینئر طالبعلم مکرم ملک رفیق صاحب مرحوم کے مضامین اکثر شائع ہوتے۔ ایک دن یونہی سرسری آپ سے بات ہوئی کہ آپ کے مضامین کثرت سے شائع ہوتے ہیں آپ کیسے لکھتے ہیں۔ انہوں نے رہ نمائی کی کہ جو مضمون لکھنا ہو تفسیر صغیر کے انڈیکس میں کافی عناوین مل جاتے ہیں۔ اسی طرح حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے انڈیکس دیکھ لیںوہاں سے مطلوبہ حوالے مل جائیں گے۔

پھر مکرم مولانا دوست محمد صاحب شاہد نے بھی خاکسار کاحوصلہ بڑھایا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ آپ تو سلطان القلم کے سپاہی ہیں، کوشش کریں۔

چنانچہ خاکسار نے ہمت کر کے مضامین لکھنے شروع کیے۔ شروع شروع میں الفضل اور پھر خالد، مصباح اور تشحیذالاذھان میں بھی مضامین چھپتے رہے۔

پاکستان میں تو پریس کے ساتھ رابطہ رکھنے کی نہ ضرورت پیش آئی اور نہ ہی مواقع میسر آئےاور نہ ہی اس کا کوئی خاص تجربہ تھا۔

گھانا میں پریس سے روابط

خاکسار کی تقرری گھانا میں ہوئی اور مئی 1978ء میں وہاں پہنچا۔ ابتدا میں امیر صاحب محترم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب کے ساتھ کچھ عرصہ ہیڈکوارٹرز اکرا میں کام کرنے کا موقع ملا۔ خاکسار انہیں مشاہدہ کرتا کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں۔ اُن میں سے ایک کام پریس، میڈیا، اخبارات، ریڈیو اور TVکے ساتھ رابطے کو مشاہدہ کیا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعتی پروگراموں اور قابل ذکر کاموں کی خبر اخبار کے علاوہ TVاور ریڈیو پر بھی آتی تھی۔

یہ ایک خاص بات تھی جس کا خاکسار کی طبیعت پر اثر تھا۔ جب میری تقرری انہوں نے کوفوریڈوا (Koforidua)ریجن میں کردی تو خاکسار نے بھی وہاں پہنچ کر اس سے بہت فائدہ اٹھایا۔

کوفوریڈوا ایسٹرن ریجن کا ہیڈکوارٹر تھا ۔یہاں اپنا مشن اور مسجد بھی نہ تھی بلکہ کرایہ کا گھر تھا جس میں مبلغ کی رہائش، پانچوں نمازیں، جمعہ کی ادائیگی ہوتی اور یہی خاکسار نیز ریجن کے عہدے داروں کا کام کرنے کا ایک مشترکہ دفتر تھا۔

یہاں کے جنرل سیکرٹری صاحب سے خاکسار نے اس بات کا ذکر کیا کہ ہم جو کام کریں اس کی اشاعت اخبار میں ہونی چاہیے۔ اور کہا کہ یہاں کتنے اخبارات شائع ہوتے ہیں،ان کے نام بھی دیں۔ وہاں صرف ایک لوکل اخبار ہی شائع ہوتاتھا۔ خاکسار نے اس کے ایڈیٹر کا پتہ لگوایا اور انہیں دفتر جا کر ملا۔

چنانچہ اس ملاقات کا بہت فائدہ ہوا۔ اس وقت بذریعہ فون کام نہیں ہوتا تھا بلکہ دفتر جا کر ملنا پڑتا تھا۔ میرے خیال میں اب بھی یہی ذریعہ زیادہ مؤثر ہے۔ فون پر تو نہ ملنے اور مصروفیت کے عذر دیے جا سکتے ہیں۔ مگرمیں نے اکثر اس بات کو آزمایا ہے۔ اگرآپ خود کسی کے دفتر چلے جائیںتو اکثر ملاقات ہو ہی جاتی ہے۔

کوفوریڈوا کے چند واقعات اس وقت ذہن میں ہیں۔مثلاً ایک دفعہ ایسٹرن ریجنل منسٹر نے اپنے پیلس (Palace) میں گھانا کے یوم آزادی کا دن منانا تھا۔ شہر کی اہم شخصیات کو مدعو کیا ہوا تھا۔ بطور نمائندہ جماعت احمدیہ خاکسار کو بھی بلایا ہوا تھا۔ خاکسار سب سے مل رہا تھا تو اس وقت ریجنل منسٹر سے بھی ملاقات ہوئی۔ ابھی ملاقات ہو رہی تھی کہ اچانک اخبار کا فوٹو گرافر وہاں آگیا۔ اور اس نے منسٹر صاحب اور خاکسار سے کہا کہ آپ اکٹھے کھڑے ہوجائیں تاکہ میں ایک فوٹو لے لوں۔ منسٹر صاحب کے ہاتھ میں شراب تھی۔ جب فوٹو گرافر فوٹو لینے لگا تو منسٹر نے اسے کہا:

STOP! Let me hide my cup Ahmadiyya does not like it.

اس واقعے کا ذہن پر ابھی تک نقش ہے کہ ابھی تصویر نہ لو میرے ہاتھ میں تو شراب کا کپ ہے اور میں اسے پہلے چھپا لوں کیوں کہ جماعت احمدیہ اسے ناپسند کرتی ہے۔

وہاں پر کوفوریڈوا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغ کے مواقع اکثر میسر آتے تھے ۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بہت مواقع ملتے تھے۔ ان میں اکثر مواقع کی خبریں اخبارات میں شائع بھی ہوتیں۔ اس وقت اپنی رپورٹ تو بھجواتا تھا لیکن اپنے پاس کوئی اخبار کا تراشہ محفوظ رکھنے کی طرف توجہ نہ ہوئی۔

وہاں پر جو خبریں شائع ہوتیں ان میں سے ایک تو یہ یاد ہے کہ ایک دفعہ خاکسار ریجنل جنرل سیکرٹری کے ساتھ وہاں کی کورٹ(عدلیہ) کے ہائی جج اور پھرفیڈرل جج کو ملنے گیا،انہیں قرآن کریم کا تحفہ دیا۔ اس کی خبر مع تصویر شائع ہوئی تھی۔

پھر ایک موقع پر ہم نے وہاں کے قیدیوں میں تبلیغ کا پروگرام بنایا۔ قیدخانہ کے سپرنٹنڈ نٹ اوروہاں حفاظت پر متعین عملہ کے ساتھ تصاویر اور خبر اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ کیونکہ قیدیوں کو ہم نے جماعت کی طرف سے قرآن کریم بطورتحفہ دیے جو گھانا میں شائع ہوئے تھے۔

اسی طرح ریجن میں ایک مسجد کے سنگ بنیاد کی خبر بنا کر دی تو انہوں نے شائع کی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب بھی خبر دی گئی خدا تعالیٰ کے فضل سے اخبار نے شائع کی۔ ریڈیو اور TVپر وہاں کوئی خبر نہیں آئی۔

سیرالیون میں پریس سے روابط

اس کے بعد خاکسار کا 1982ء میں سیرالیون تبادلہ ہوا۔ خاکسار کی تعیناتی مگبورکا شہر میں ہوئی تھی۔ وہاں اخبار کے ساتھ رابطہ مشکل تھا۔ ایک تو یہاں سے کوئی اخبار نہیں نکلتا تھا دوسرے رابطہ کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ خاکسار جماعتی خبروں کو البتہ خود شائع کرتا اور جماعتوں میں دے دیتا تھا۔

مثلاً میرے حلقہ میں مگبورکا، مکینی، کبالہ، ماٹاٹوکا، ییلے، مکالی، منگبی، صفادو کے علاقے شامل تھے۔

منگبی اور کبالہ میں ہمارے سیکنڈری سکول تھے۔ منگبی میں مکرم محمد دین صاحب نصرت جہاں کے تحت ٹیچر تھے۔ ڈاکٹر ساجد احمد صاحب ہسپتال کے انچارج تھے۔ کبالہ میں مکرم مبشرپال صاحب پرنسپل تھے۔

خاکسار نے اپنے علاقہ میں جو کام کیا ہوتا اسےمکرم محمد دین صاحب اور ڈاکٹر ساجد صاحب اور مکرم مبشرپال صاحب کو لکھوا دیتا۔ بعد ازاں وہاںکے سکولوں میں ہر ماہ بلٹن شائع ہوتے اور جماعت کے سب افراد تک پہنچتےجن میں لوکل جماعتی خبروں کے علاوہ الفضل سے آمدہ خبریں بھی شامل ہوتی تھیں۔

غالباً 1984ء یا 1985ء کے شروع میں ہم نے مکینی میں سکول قائم کیا اور اس کے پرنسپل مکرم مبارک طاہر صاحب (حال سیکرٹری ’نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم‘)تھے۔ آپ نے بھی اس سلسلہ میں کافی مدد کی۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزا دے۔ آمین

خاکسار 1987ء میں جب امریکہ آیا۔ تو مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب سے ملاقات ہوئی۔ آپ نے اپنے گھر کھانے پر دعوت دی۔ اور پھر اخبارات کی کچھ فائلیں دکھائیں جن میںاخبارات کی خبروں کے تراشے تھےجو گھانا اور امریکہ میںان کے کام کے دوران شائع ہوئی تھیں۔ خاکسار اس کام سے بےحد متاثر ہوا۔ ایک تراشےپر انہوں نے بتایا کہ جب میری یہ تصویر گھاناکے ایک اخبار میں شائع ہوئی تو انہوں نے اپنی رپورٹ کے ساتھ وہ تصویرحضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی خدمت میں ربوہ بھیجی تو حضورؒ نے میرے والد صاحب کودفتر بلایا اور وہ تصویر دکھائی کہ دیکھو کلیم صاحب خدا تعالیٰ کے فضل سے کس قدر اچھا کام کر رہے ہیں ۔اب ان کی تصویر وہاں کے بشپ کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ اس بات نے بھی مجھے بہت متاثر کیا اور خاکسار نے سوچا کہ میں بھی ان شاء اللہ امریکہ میں پریس کے ساتھ رابطہ کروں گا اور جماعتی خبریں دیا کروں گا۔ اور اس کی کاپی بھی محفوظ رکھوں گا۔

امریکہ میں پریس سے روابط

یہاں سے اس عزم کا آغاز ہوا۔ اور خدا تعالیٰ کے فضل سے گذشتہ 34سال میں پریس کے ساتھ رابطے کی میرے پاس 98 فیصد نقول موجود ہیں۔ ہر ایک تراشے کی نقل اپنی ماہانہ رپورٹس کے ساتھ حضورانور کی خدمت میں اور ایک نقل ملکی مرکز میں ارسال کرتا ہوں۔

ان اخبارات میں سے کچھ کے بارے میں یہاں ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتاہے۔ اس سے قبل یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ پریس سے رابطہ کرنے سے قبل اس کام میں آپ کی ذاتی دلچسپی ہونا ضروری ہے۔ جب تک خود دلچسپی نہ لی جائے کام نہیں ہوتا۔ ویسے تو ہر کام جس کو آپ احسن رنگ میں کرنا چاہتے ہیں اس کے لیے دلچسپی کا ہونا ضروری ہے۔ لیکن پریس اور میڈیا سے رابطے کرنے میں یہ ازبس ضروری ہے۔

پھر جس شہر میں آپ رہتے ہیں وہاں کے اخبارات کے نام، ایڈیٹرزاور ان کا فون، فیکس نمبر، ای میل بھی آپ کے پاس ہونے ضروری ہیں۔ انٹرنیٹ پر یہ سب معلومات مل جاتی ہیں۔

ایک اور ضروری بات یہ ہے کہ ایسے احباب سےان کے دفتر میں جا کر ملیں۔ شروع میں اگر ان کی طرف سے انکار بھی ہو جائے مگر پھر بھی جب تک ملاقات نہ ہوجائےآپ اُن کا پیچھا نہ چھوڑیں۔ کیونکہ فون یا ای میل وغیرہ کے ذریعہ بات چیت کرنے کا وہ اثر نہیں جو با لمشافہ ملاقات کا ہوتا ہے۔

گذشتہ رمضان کا ذکر ہے کہ نیشنل سیکرٹری امور خارجہ صاحب نے رمضان میں ایک پریس ریلیز شائع کی۔ میرے علاقےڈیٹرائیٹ کے ایک ریڈیو سٹیشن نے وہ دیکھ لی۔ اور فوری نیشنل سیکرٹری صاحب سے رابطہ کیا کہ ڈیٹرائیٹ میں آپ کا نمائندہ کون ہے۔ سیکرٹری صاحب نے مجھے بھی اُن کا نمبر دے دیا۔ میں نے کال کی۔ ایک خاتون سے رابطہ ہوا جو خبروں کے ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ تھیں۔ کہنے لگیں کہ میں فون پر فلاں وقت آپ سے بات کروں گی اور انٹرویو لوں گی۔ اور یہ سب وہ ای میل کے ذریعہ کہہ رہی تھیں۔ میں نے انہیں ای میل کی کہ میں انٹرویو آپ کے ریڈیو سٹیشن پر آکر دینا چاہتا ہوں۔ کہنے لگیں کہ نہیں فون پر ٹھیک ہےتاہم میں نے اصرار کیا کہ میں آنا چاہتا ہوں۔ وہ کہنے لگیں کہ آپ دور سے آئیں گے اور ہم بھی بہت مصروف ہیں۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں آپ اس کی فکر نہ کریں۔ آنا تو میں نے ہے۔ اور آپ کا وقت اتنا ہی لگے گا جتنا آپ فون پر صرف کریں گی۔

خیر وہ مان گئیں۔ خاکسار اپنے ساتھ تین کتب لے گیا۔ قرآن شریف، لائف آف محمد، اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے امن کے بارے میں خطبات کا مجموعہ اوروقت مقررہ پر اُن کے سٹیشن پہنچ گیا۔ خاکسار نے اندر کارڈ بھجوایا تو وہ مجھے خوش آمدید کہنے کے لیے خود باہر تشریف لائیں۔ انٹرویو ختم ہوا جو شام کی خبروں میں نشر ہوا۔ اس کے بعد وہ خود ہی کہنے لگیں کہ میں آپ کو اپنے سٹیشن کا وزٹ کراتی ہوں۔ چنانچہ وہ ہر ایک کمرے میں لے کر گئیں اور سارے اسٹیشن کا تعارف کروایا۔ انہوں نے لائبریری بھی دکھائی۔ میں نے جھٹ سے جو کتب ساتھ لے کر گیا تھا انہیں تحفۃً لائبریری کے لیے دے دیں۔ جس پر انہوں نے بہت شکریہ ادا کیا۔ اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ان سے اب تک رابطہ ہے۔ یہ صرف جا کر ملنے سے بات بنتی ہے۔

پھر ایک اَور ضروری بات یہ ہے کہ جب آپ پریس، ریڈیو، اخبارات اور ٹی وی والوں سے ملیںتو جماعت کے لحاظ سے اُن کو تعارف کرائیں۔ اور اپنا بزنس کارڈ دیں اور بتائیں کہ آپ کو جب بھی اسلام کے بارے میں کوئی بات کہنی یا پوچھنی ہو تو مجھے کال کریں۔ اور پھر خواہ آپ کے پاس خبر ہو یا نہ ہو، اُن سے مسلسل رابطہ رکھیں۔ یہاں تک کہ جوں ہی کوئی بات ہو اُن کے ذہن میں سب سے پہلے آپ آئیں۔ بےشک کبھی کبھی ان سے فون کر کے انہیں آپ لنچ یا ڈنر پر بھی لے جائیں۔ ان سب باتوں کا بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔

امریکہ میں خاکسار کی پہلی تقرری ڈیٹن میں تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ڈیٹن میں کام کا آغاز کیا اور پریس سے رابطہ کرنے کی مہم چلائی۔

یہاں پر مکرم عبدالشکور صاحب ہمارے امریکن بھائی ہیں۔ انہوں نے بھی اس سلسلہ میں مدد کی۔ فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔

مجھے جہاںتک یاد پڑتا ہے کہ ہماری سب سے پہلی خبر یا اعلان جو ڈیلی ڈیٹن نیوز، اخبار کے صفحہA4 پر 9؍جولائی 1988ءکو Islamicکے عنوان کے تحت شائع ہوئی تھی۔ جس میں یہ لکھا کہ جماعت احمدیہ ڈیٹن حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے خطبہ جمعہ کی آڈیو کیسٹ Playکرے گی جس میں جماعت احمدیہ کے عالمگیرروحانی پیشوا نے پاکستان کے ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کو مباہلہ کی دعوت دی ہے۔ اور بعد میں سید شمشاد احمد ناصر مڈویسٹ ریجن کے مشنری کے ساتھ سوال و جواب کرنے کا موقع ہوگا۔ میرے پاس یہ تراشا موجودہے۔

اس کے بعد ہفتہ 27؍ اگست 1988ء کے اخبار کے صفحہ-C 7پر اس عنوان سے خبر لگی ہے کہ

Zia‘s Death seen as sign from Allah

جس میں جماعت احمدیہ ڈیٹن کے لیڈرز کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ ضیاء کو جماعت احمدیہ عالمگیر کے روحانی پیشوا نے مباہلہ کی دعوت دی تھی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ نشان دکھایا ہے۔

ڈیٹن ڈیلی نیوز کے علاوہ پِٹس برگ کے اخبارNew Pittsburgh Courierنے بھی 14؍ستمبر1988ءکو اپنے اخبار میں ہیڈلائن کے ساتھ یہ خبر دی کہ

Muslim sect believes special prayer caused Zia´s plane crash

اس اخبار نے خاکسار کا انٹرویو لیا تھا جس میں اس نے انٹرویو کے حصے شائع کیے۔

اس کے علاوہ ڈیٹن کا ایک اَور اخبار جس کا نام The New Dayton Defenderہے نے اپنی 29؍ستمبر تا 13؍اکتوبر 1988ء کی اشاعت میں ایک مضمون دیا جس کا عنوان یہ تھا:

Present Day Pharaoh Perishes Great is Mirza Tahir Ahmad

اس مضمون میں جماعت کےبارے میں مختصر تعارف اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کا بیان اور حضورؒ کی تصویر شامل اشاعت تھی۔

خاکسار نے جب اس اخبار کی کٹنگ اپنی رپورٹ کے ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی خدمت میں ارسال کی تو حضور نے اس اخبار کی مزید کاپیاں منگوائیں۔

ان خبروں کے علاوہ یہاں کے اخبارات اور TVمیں ہماری دیگر مقامی خبریں بھی شائع ہوتی رہیں۔ مثلاًایک خبر یہ کہ

Prophet Muhammad´s Birthday Celebrated at Ahmadiyya Mosque

یہ خبر ڈیٹن ڈیفنڈر کی 21؍نومبر تا 8؍دسمبر کی اشاعت میں ہے۔ جس میں ناموں کے ساتھ پروگرام کی تفصیل بھی درج ہے۔

اس کے علاوہ رمضان المبارک، عید الفطر، عید الاضحیہ، یوم خلافت وغیرہ کی خبریں بھی شامل اشاعت ہیں۔

خاکسار نے ڈیٹن کے علاوہ بھی اپنی دیگر جماعتوں کا پریس اور میڈیا سے رابطہ رکھا۔ مثلاً کولمبس اوہایو کے اخبار دی کولمبس ڈسپیچ کی 15؍اکتوبر 1988ء کی اشاعت صفحہ 9-Aپر خاکسار کی تصویر کے ساتھ انہوں نے یہ خبر دی کہ

Moslem Sect Looks to Boost Its Rank

اس خبر کے رپورٹر Debra Mason ہیں۔ اس خبر میں خاکسار کا جماعت کے بارے میں انٹرویو ہے۔

ڈیٹن ڈیفنڈر کی 2؍فروری تا 16؍فروری 1989ء کی اشاعت میں خاکسار کا ایک مضمون ’’عالمگیر جماعت احمدیہ‘‘ کے عنوان پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی تصویر کے ساتھ شائع ہوا۔

1989ء کا سال جماعت احمدیہ کی صد سالہ جوبلی کا سال تھا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعتی مساعی اور صدسالہ جوبلی کی خبریں بھی اخبارات اور TVکی زینت بنیں۔

چنانچہ اس علاقہ کے ایک اور شہر Murfreesboroکے اخبار دی ڈیلی نیوز جرنل کے صفحہ 6پر 17؍مارچ 1989ء کی اشاعت میں جماعت کے بارے میں تعارف اور سارے سال پر محیط پروگرامز کے بارے میں مختصر معلومات نیز جماعت کی ترقی کا نقشہ دیا گیا ہے۔

صد سالہ جوبلی کے حوالے سے ہماری خبریں بھی یہاں کے سب سے بڑے اخبار ڈیٹن ڈیلی نیوز نے دل کھول کر دیں۔

مثلاً اس نے آدھے صفحہ سے زائد پر خاکسار کی مسجد فضل عمر ڈیٹن کے باہر ہاتھ میںقرآن پکڑے ہوئے کی تصویر دی جس میں مسجد کے باہر کلمہ

لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہِ

اور مسجد کا نام ’مسجد فضل عمر‘ لکھا ہوا صاف دکھائی دے رہاہے۔ اس انٹرویو میں اس وقت کے حالات کے مطابق سلمان رشدی کے معاملے کے حوالے سے بھی سوالات ہوئے۔

اسی اخبار نے اپنی 15؍مارچ 1989ء کی اشاعت میں ایک انٹرویو مع تصویرشائع کیا جس میں اسلام کے بارے میں تعارف تھا۔

اسی طرح 20؍مارچ 1989ء کی اشاعت میں ڈیٹن ڈیلی نیوز صفحہ 3-Aپر خاکسار کی تصویر کے ساتھ بڑی سرخی کے ساتھ یہ خبر دی:

Ahmadiyya Muslim To Celebrate Centenary

یہ خبر اور انٹرویو ڈیوڈ کیپل نے لیا اور خبر دی۔

انہی خبروں کو اخبار نے 19؍اپریل 1989ء کی اشاعت Z3-12پر دہرایا اور پورے صفحہ کی خبر دی۔

جماعت کی صدسالہ جوبلی کی تقریبات کا اہم حصہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا جوبلی کے موقع پر پیغام بھی تھا۔ چنانچہ نیوڈیٹن ڈیفینڈر کی 27؍اپریل کی اشاعت صفحہ 6پر حضورؒ کا مکمل پیغام حضور کی 3تصاویر کے ساتھ شائع ہوا۔

اسی طرح اس اخبار کی ایک اشاعت میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کےساتھ گیمبین ویسٹ افریقہ کے ہیڈ آف دی سٹیٹ His Excellency Daood Jawara کی تصویر درج ذیل عنوان کے ساتھ شائع ہوئی۔

Service To Humanity – Keynote of Ahmadiyya Muslim Centenary

ڈیٹن ڈیفینڈر کی 24؍مئی کی اشاعت میں صفحہ 12 پر شہ سرخی کے ساتھ یہ خبر شائع ہوئی ہے:

OHIO GOVERNOR PRESENTED WITH THE HOLY QURAN

گورنر اور لیفٹیننٹ گورنر دونوں نے ڈیٹن کا دورہ کیا۔ جب خاکسار کو اس کی اطلاع ملی تو خاکسار نے سیاسی عمائد ین سے رابطہ کیااور کہا کہ اس موقع پر خاکسار کو چند منٹ بولنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے خاکسار کی بات مان لی اور گورنر اور نائب گورنر کی تقریر کے فوراً بعد مجھے موقع دیا گیا۔ خاکسار نے گورنر اور سیاسی عمائدین کا اس موقع پر شکریہ ادا کیا۔ اور دونوں کو قرآن کریم مع انگلش ترجمہ پیش کیا۔ خاکسار کے ساتھ ڈیٹن جماعت کے ایک مخلص فرد بشیر احمد صاحب بھی تھے۔ ہر دو کی قرآن دیتے ہوئے تصاویر بھی اس اخبار نے شائع کیں۔ اس طرح خاکسار کو اسلام اور قرآن کریم کا تعارف پبلک میں پیش کرنے کی توفیق حاصل ہوئی۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک

اس کے کچھ عرصہ بعد گورنر کی طرف سے خاکسار کو قرآن کریم دینے پر شکریہ کا خط بھی موصول ہوا۔

19؍مئی 1990ء کو ڈیٹن ڈیلی نیوز کی اشاعت میں ہماری ’’ریجنل خلافت ڈے‘‘ کی خبر شائع ہوئی۔ اور اخبار نے سب سے اوپر سورۃ النور کی آیت استخلاف کا ترجمہ لکھ کر ریجنل خلافت ڈے کے بارے میں لکھا کہ احمدی مسلم ڈیٹرائیٹ، کلیولینڈ، پٹس برگ، کولمبس اور ایتھنز اوہایو کے احمدی احباب خلافت ڈے کے لیے جمع ہورہے ہیں۔ اور خاکسار کا بیان شائع کیا۔

ڈیٹن ڈیلی نیوز نے بھی 23؍جون 1990ءکی اشاعت میںصفحہ 5cپر ہمارے جلسہ سالانہ کی خبر دی جو ڈیٹرائیٹ کی ایک یونیورسٹی میں ہونا تھا۔

اسی طرح جلسہ سالانہ کی خبر ۔ نیوز سن-سپرنگ فیلڈ نے بھی اپنی اشاعت 24؍جون 1990ء میں دی۔ یہی خبر علاقہ کے ایک اور شہر XENIAکے اخبار ڈیلی گزٹ نے اپنی اشاعت 27؍جون 1990ء صفحہ 5پر دی۔

یہاں ڈیٹن کے ساتھ ایک اور شہر FAIRBORNہے۔ یہاں کے اخبار ڈیلی ہیرلڈ نے 27؍جون 1990ء کے اخبار میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ اور خاکسار کی تصویر کے ساتھ آدھے صفحہ سے زائد پر اس جلسہ کی خبر دی۔ اس میں زیادہ تر جماعت کے بارے میں اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے بارے میں تفصیل کے ساتھ معلومات دی گئی تھیں اور جلسہ سالانہ کے بارے میں خاکسار نے جو مقصد تھا وہ بیان کیا تھا۔

ڈیٹن میں قیام کے دوران دسمبر 1987ء سے 1992ء تک خاص طور پر جماعتی خبروں کے علاوہ جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اہم اور تاریخی پروگرامز ہوئے جن میں جماعت کی صدسالہ جوبلی بھی تھی۔ پھر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا جنرل ضیاء کو مباہلہ کےچیلنج کے نتیجہ میں جنرل ضیاء کی ہلاکت اور دیگر سالانہ تقریبات ہیں جن میں سیرت النبیؐ کا جلسہ، خلافت ڈے، رمضان اور عیدَین وغیرہ شامل رہے۔

(جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close