متفرق مضامین

حُسن روحانی میں سکون دل

(ڈاکٹر الطاف قدیر)

’’سائیکلوجی یا علم النفس کی ابتدا درحقیقت رسول کریمﷺ اور قرآن کریم کے ذریعہ ہی ہوئی ہے‘‘(حضرت مصلح موعودؓ)

جب نقدِ جان سونپ دیا تجھ کو جانِ من

پاس آسکے بھلا مرے خوف و خطر کہاں

(کلام محمود)

حضرت مصلح موعود ؓ کے اس شعر پر غور،اک پل میں زندگی کی گھڑیوں کوایک ایسے مقام پر لے آتا ہے جہاں سے زندگی کے ادوار کی گہرائیوں کو جانچتے ہوئے سکون دل کی دنیا میں نئی بہار آتی ہے۔ کلام محمود کے اشعار کا سحر انگیز اور پُرمعارف سفر پھر اس شعر کی وسعتوں کے دامن میں مزید پُرمعنی ہو جاتاہے۔

فرائڈ کا ہے ذکر ہر اک زباں پر

ہیں بھولے ہوئے اب بخاری، نسائی

(کلام محمود)

سکون دل کی تلاش میں انسان آج بہت سے راستے اپنا رہا ہے۔ کہیں کچھ پیش رفت ہوتی ہے تو کبھی منزلیں دور ہو جاتی ہیں۔ صدیوں پر پھیلا گردشوں اور محنتوں کا سفر بدلتے موسم لیے ہوئےہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ روسمیرن (David H Rosmarin)جو Mc Leans´sپروگرام کے ڈائریکٹر ہیں، انہوں نے نفسیاتی علاج میں مدد کے لیے روحانی عوامل کو بھی کسی حد تک شامل کیا ہے۔

(بحوالہ ہارورڈ گزٹ 5ستمبر2019ء)

اسی طرح بعض دانش گاہوں میں سپرچوئل سائیکالوجی کے مضمون میں ڈگری کی سطح پر تعلیم کے لیے اقدامات ہوئے ہیں۔ (بحوالہ Mc Leans´s۔13؍اپریل2015ء) بعض ماہرین کی تھیوری کے عدسے سے صرف اس مادی دنیا کی زندگی کے محدود عوامل کے کچھ پہلو ہی نظر آتے ہیں۔ حسن روحانی کی آنکھوں سے دو جہاں کی زندگی کے سب رنگ درخشاں ہوتے ہیں، جہاں سکون دل خالق حقیقی کے قرب اور اگلے جہان کی تفہیم کے سائے میں بڑھتا ہے۔ اگلے جہان کی روحانی منزلوں کے خدائی وعدے اس جہان کی زندگی میں سکون قلب کی دھڑکنیں بن جاتی ہیں۔ دل دعا کا سمندر بن جاتا ہے، صبر و رضا کی چاندنی سے برکتیں، رحمتیں اور خلافت کی قربتیں سجتی رہتی ہیں۔ فدائیت اور محبت کی وہ مثالیں قائم ہوتی جاتی ہیں کہ دولت جسم و جاں بھی لٹا کر روحانی سکون ملتا ہے۔ خالق حقیقی کے عشق میں عشق کی وہ اڑان ہوتی ہے کہ خود عشق کا حسن بھی خدا کی رضا بن رہا ہوتا ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’کیونکہ انسانی ذہنیت اس قسم کی ہے کہ جب اس پر کوئی اثر ڈالا جائے اور اس کے خیالات کسی خاص طرف مائل کیے جائیں تو آہستہ آہستہ وہ ان ا ثرات کو قبول کرلیتا ہے۔ سائیکالوجی یا علم النفس کی ابتدا درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے ذریعہ ہی ہوئی ہے۔ ‘‘

(تفسیر کبیر جلد 7صفحہ 44)

ظاہری و باطنی علوم سے پُر ہستی نے اس پُر معارف نکتہ کو بیان فرما کر کئی علوم کے سمندروں کو یوں ملایا کہ تحقیق، تعلیم، روحانی امور اور تدبیر کے راستوں کو نئے اجالے دیے ہیں۔ سائیکالوجی یا علم النفس کے بارے میں گرانقدر راہیں قرآن کریم کی آیات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے تلاش کی جاسکتی ہیں۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات اور ان کی تفاسیر اور خلافت احمدیہ کے سائے میں صحبت صالحین سے روحانی رفعتوں میں نفس کی ترقی کے راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔ ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ ایک اہم تصنیف ہے جس میں انسان کی روحانی ترقیات کے لیے رہ نمائی کے بہت سے دیے روشن ہیں۔ اسی کتاب میں ’’کانشنس‘‘ کا ایک ذکر یوں ملتا ہے۔

’’ایسا ہی ایک علم کا ذریعہ انسانی کانشنس بھی ہے جس کا نام خدا کی کتاب میں انسانی فطرت رکھا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا (الروم :31)

یعنی خدا کی فطرت جس پر لوگ پیدا کیے گئے اور وہ نقش فطرت کیا ہے؟ یہی ہے کہ خدا کو واحد لا شریک، خالق الکل، مرنے اور پیدا ہونے سے پاک سمجھنا۔ اور ہم کانشنس کو علم الیقین کے مرتبہ پر اس لیے کہتے ہیں کہ گو بظاہر اس میں ایک علم سے دوسرے علم کی طرف انتقال نہیں پایا جاتا ہے جیسا کہ دھوئیں کے علم سے آگ کے علم کی طرف انتقال پایا جاتا ہے۔ لیکن ایک قسم کے باریک انتقال سے یہ مرتبہ خالی نہیں ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک چیز میں خدا نے ایک نامعلوم خاصیت رکھی ہے جو بیان اور تقریر میں نہیں آ سکتی۔ لیکن اس چیز پر نظر ڈالنے اور اس کا تصور کرنے سے بلاتوقف اس خاصیت کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10صفحہ 434تا435)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انسان کی طبعی حالتوں اور روحانی حالتوں میں ترقی کے لیے بھی ایک اہم تعلق دکھایا جس سے سکونِ دل کی بہت سی راہیں وابستہ ہیں۔ اسی عمل میں ترقی کا ایک اَورمرحلہ انسان کا اپنے خالق حقیقی کی خالص محبت اور رضا میں رفعتیں حاصل کرنے کا ہے۔ اگر سکون دل کی تلاش کے سفر میں ظاہری نظام اور روحانی نظام کے تعلق کی گہرائی کو سمجھاجائے تو بہت سی منزلیں آسان ہو جاتی ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریر فرمایا :

’’قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہےکہ وہ ظاہری نظام اور روحانی نظام میں ایک شدید مماثلت اور مشابہت کا دعویٰ کرتا ہے اور بار بار روحانی عالم کے سمجھانے کے لیے جسمانی عالم کی مثالیں دیتا ہے۔ کبھی الہام کو پانی کے مشابہ قرار دے کر اس کے اثرات اور کلام الٰہی کے اثرات کی مشابہت کو پیش کرتا ہے۔ کبھی زمین و آسمان کے تعلقات سے روح اور جسم کے تعلقات پر روشنی ڈالتا ہے۔ کبھی روشنی اور آنکھ کے تعلقات سے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ اندرونی قابلیتوں کے بغیر صداقت نفع نہیں دیتی۔ غرض بیسیوں بلکہ سینکڑوں سبق جسمانی نظام سے حاصل کرنے کے لیے وہ ہمیں توجہ دلاتا ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد 4صفحہ 29)

قرآن کریم نے متعدد جگہوں پر چیزوں کے جوڑے ہونے کا ذکر کیا ہے، جیسے پھل دار درختوں کے جوڑے، جانوروں کے جوڑے۔ اسی طرح سائنس نے جمادات کے ذرات میں بھی جوڑے دریافت کیے ہیں۔ انسانی دماغ کے حوالے سے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتےہیں:

’’اس مثال سے بھی یہ بتایا ہے کہ جس طرح باقی ہر چیز کو خدا تعالیٰ نے جوڑا بنایا ہے۔ اسی طرح انسانی دماغ کا حال ہے جب تک اس پر خدا کا نور نازل نہ ہو۔ اسےصحیح معرفت جو الہام اور عقل کا نتیجہ ہے حاصل نہیں ہوتی۔ اور اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ جب عقل صحیح اور الہام آسمانی مل جاویں تو انہیں باردارہونے سے بھی کوئی روک نہیں سکتا۔ ‘‘

(تفسیر کبیرجلد 3صفحہ 383)

حضرت مصلح موعود ؓنے دماغ کے ساتھ الہام اور عقل کا ذکر فرماکر سائنسی علوم، روحانیت، نفسیات اور جملہ شعبہ ہائے علوم کے لیے ایسی روشنی عطا کی ہے جو تمام ادوار کے لیے آسمانی نور کے ساتھ منزلوں کے نشان دکھا سکتی ہے۔ حسن روحانی میں سکون دل کی واضح راہیں ہیں جبکہ محض مادی علوم کے عدسہ سے ان وسعتوں کو نہیں پایا جاسکتا ہے۔ 1998ء میں ایک کتاب نے الہام، عقل، علم اور سچائی کے مضامین کو نمایاں دلائل اور تمثیلات کے ساتھ پیش کیا۔ یہ معرکہ آرا کتاب

Revelation, Rationality, Knowledge & Truth

کے عنوان سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی ایک یادگار تصنیف ہے۔ اس کتاب کے انتساب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان دو کتب کا ذکر بھی ملتا ہے : (1) ’براہین احمدیہ‘ (2)’اسلامی اصول کی فلاسفی‘۔ ان کتب نے خدا تعالیٰ سے ملنے والے عرفان اور الہام کے نور کی کرنوں سے آنے والی صدیوں کے لیے بھی ہر جہت اور ہر علم کے لیے رہ نمائی کے دیے کشاں کشاں جلا رکھے ہیں۔ تجربہ، تاریخ اور الہام کے منبع سے علوم کے خزائن کی گہرائی کو سمجھایا گیا ہے۔ جسمانی وجود، روحانی وجود، قرب خدا کی منازل اور اس کے لیے کاوشیں نیز خدا سے محبت کے راستوں کا ایک ذکر براہین احمدیہ میں یوں ملتا ہے:

’’جیسا کہ جسمانی وجود کی روح جسمانی قالب تیار ہونے کے بعد جسم میں داخل ہوتی ہے ایسا ہی روحانی وجود کی روح روحانی قالب تیار ہونے کے بعد انسان کے روحانی وجود میں داخل ہوتی ہے۔ یعنی اس وقت جب کہ انسان شریعت کا تمام جوا اپنی گردن پر لے لیتا ہے اور مشقت اور مجاہدہ کے ساتھ تمام حدود الٰہیہ کے قبول کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے اور ورزش شریعت اور بجا آوری احکام کتاب اللہ سے اس لائق ہو جاتا ہے کہ خدا کی روحانیت اس کی طرف توجہ فرماوے اور سب سے زیادہ یہ کہ اپنی محبت ذاتیہ سے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ کا مستحق ٹھیرا لیتا ہے جو برف کی طرح سفید اور شہد کی طرح شیریں ہے۔‘‘

(ضمیمہ براہین احمدیہ، حصہ پنجم صفحہ 219)

انسان کی طبیعت میں بعض عوامل کو اپنانے کے عمل کے بارے میں نفسیات اور قرآن کریم کے ایک نکتہ کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓنے فرمایا:

’’انسان کو اپنی زندگی میں اتنے امور سے واسطہ پڑتا ہےکہ ہر امر کی بابت تحقیق کرنا اس کے لیے ناممکن ہوتا ہے۔ اس لیے کچھ نہ کچھ امور میں وہ ایسے لوگوں کے خیالات کو قبول کر لیتا ہے جن پر اسے اعتقاد ہوتا ہے۔ سائیکالوجی والے(علم نفس کے ماہرین) کہتے ہیں کہ انسان میں نقل کرنے کا مادہ اس کا سب سے بڑا خاصہ ہے۔ اسی بات کو اس جگہ شِیَعُ الْاَوَّلِیْنَ کہہ کر بیان کیا گیا ہے۔ یعنی مختلف جتھے جو کسی نہ کسی سبب سے آپس میں متحد تھے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد 4صفحہ 23)

اطمینان قلب کے عارضی اورتا دیر حصول کی صورت کے بارے میں حضرت مصلح موعود ؓنے فرمایا:

’’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے دلی یکسوئی(Concentration of mind) کا بڑا حصہ پاتے ہیں۔ وہ لوگ کبھی کوئی سیاسی مقصد اپنے سامنے رکھ لیتے ہیں۔ کبھی تعلیمی مقصد اپنے سامنے رکھ لیتے ہیں۔ اور متواتر کوششوں سے کچھ کامیابیاں بھی دیکھ لیتے ہیں۔ ان لوگوں کو بھی ظاہری طور پر اطمینان قلب حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ اطمینا ن قلب ایسا ہی ہوتا ہے جیسے بچہ کو کھلونا مل جانے سے ہوتا ہے۔ ان کے اطمینان قلب کی وجہ مقاصد عالیہ کا پورا ہونا نہیں ہوتا بلکہ مقاصد عالیہ کو بھلا دینا ہوتا ہے۔ وہ فکری افیون کا شکار ہوتے ہیں۔ اُن کا دماغ انہیں فکری افیون کھلا دیتا ہے اور وہ درد کی موجودگی میں اس کے احساس سے محروم ہو جاتے ہیں۔‘‘

(تفسیر کبیرجلد 7 صفحہ 698)

سکون دل کے حقیقی حصول کے لیے خالق حقیقی سے تعلق، آخرت کے لیے تیاری اور قربانیوں کی راہوں میں آگے بڑھنے کا پورا مضمون قرآن کریم کو پاکیزگی کے ساتھ سمجھنے اور عمل کرنے سے راہ فلاح بنتا ہے۔ انسانی جسم اور روح میں تعلق کے بارے میں قرآن کریم میں بہت سے اہم پہلوؤں کا بیان ہے، جس میں حسن روحانی میں سکون دل کے لطیف پہلو نمایاں کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک پہلو کے ذکر میں حضرت مصلح موعود ؓبیان فرماتے ہیں :

’’انسانی جسم اور روح کا ایسا گہرا تعلق ہے کہ ایک کا اثر دوسرے پر پڑتا ہے۔ جس طرح غم کی خبر سن کر جسم ایسا متاثر ہوتا ہے کہ اس پر اُداسی کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح جسم کو جب کوئی صدمہ پہنچتا ہے تو روح بھی غمگین ہو جاتی ہے۔ اور یہی حال خوشی کا ہے۔ پس قلب کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے کا ایک یہ بھی طریق ہے کہ عبادت کے وقت جسم کو بھی کسی ایسی حالت میں رکھا جائے جس سے تذلل پیدا ہو اور اس کا اثر روح پر پڑ کر دل میں بھی رقت اور نرمی پیدا ہوجائے۔ اور انسان خدا تعالیٰ کی طرف ایک جوش کے ساتھ متوجہ ہو جائے۔ ‘‘

(تفسیر کبیر جلد 7صفحہ 643)

سکون دل تخلیقی صلاحیتوں،روحانی قربتوں،حقیقی جستجو اور تحقیق کے گلستانوں کی بہار کے رنگ مہدیٔ دوراں کے روحانی خزائن کی پُر نور معرفت سے خوش رنگ پھول بن سکتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کی وسعتوں اور ہمہ جہت بلندیوں میں تمام دنیا کے لیے کامیابی کا اہم نکتہ ان الفاظ میں بیان فرمایا:

’’جب ہم فکر کے ذریعہ سے یا کسی اَور طریق جستجو کے ذریعہ سے کسی تدبیر اور علاج کو طلب کرتے ہیں یا اگر ہم طلب کرنے میں احسن طریق کا ملکہ نہ رکھتے ہوں یا اگر اس میں کامل نہ ہو ںتو مثلاً اس غور اور فکر کے لیے کسی ڈاکٹر کو منتخب کرتے ہیں اور وہ ہمارے لیے اپنی فکر اور غور کے وسیلہ سے کوئی احسن طریق ہماری شفا کا سوچتا ہے تب اس کو قانون قدرت کی حد کے اندر کوئی طریق سوجھ جاتا ہے جو کسی درجہ تک ہمارے لیے مفید ہوتا ہے۔ سو وہ طریق جو ذہن میں آتا ہے وہ درحقیقت اس خوض اور غور اورفکر اور توجہ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جس کو ہم دوسرے لفظوں میں دعا کہہ سکتے ہیں کیونکہ فکر اورغور کے وقت جب کہ ہم ایک مخفی امر کی تلاش میں نہایت عمیق دریا میں اتر کر ہاتھ پیر مارتے ہیں توہم ایسی حالت میں بزبان حال اس اعلیٰ طاقت سے فیض طلب کرتے ہیں جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں غرض جبکہ ہماری روح ایک چیز کے طلب کرنے میں بڑی سرگرمی اور سوزوگداز کے ساتھ مبدء فیض کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اوراپنے تئیں عاجز پا کر فکر کے ذریعہ سے کسی اور جگہ سے روشنی ڈھونڈتی ہے تو درحقیقت ہماری وہ حالت بھی دعا کی ایک حالت ہوتی ہے۔ اسی دعا کے ذریعہ سے دنیا کی کل حکمتیں ظاہر ہوئی ہیں اور ہر ایک بیت العلم کی کنجی دعا ہی ہے اور کوئی علم اور معرفت کا دقیقہ نہیں جو بغیر اس کے ظہور میں آیا ہو۔ ہمارا سوچنا ہمارا فکر کرنا اور ہمارا طلب امر مخفی کے لیے خیال کو دوڑانا یہ سب امور دعا ہی میں داخل ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ عارفوں کی دعا آداب معرفت کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے اور ان کی روح مبدء فیض کو شناخت کر کے بصیرت کے ساتھ اس کی طرف ہاتھ پھیلاتی ہے اورمحجوبوں کی دعا صرف ایک سرگردانی ہے جو فکر اور غور اور طلب اسباب کے رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔ ‘‘

(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد14صفحہ 229-230)

مہدیٔ دوراں کے ان معارف سے سکون دل، دعا کی تفہیم کے اہم نکات، دریافت کی راہیں، تحقیق اور تخلیقی عوامل کے مراحل نئی بہاروں کے ساتھ دل و دماغ میں نئے سورج کی طرح طلوع ہوتے ہیں۔ غور و فکر کی ہر نئی لہر میں معارف کے نئے سمندر مل سکتے ہیں۔ دینی اور دنیاوی علوم میں تعلق کے نئے آسمان ملتے ہیں۔

معروف رسالہ نیشنل جیوگرافک کےمئی 2017ءکے شمارے میں صفحہ نمبر43 پر یہ امور مختلف تحقیقات اور ماہرین کی آرا سے اخذ کر کے پیش کیے گئے ہیں، جیسے انسانی ذہن میں خیالات کا اچانک آ جانا، کسی مسئلے کا حل ذہن میں یک لخت ابھر آنا، کبھی کسی غیر متوقع جگہ پر کھڑے ہوئے مسئلے کا حل ذہن میں آنا، خواب میں مسئلے کا حل ملنا، کبھی مسئلے کا حل ذہن میں آنے میں کچھ وقت گزرنا۔ اسی طرح مسئلے کے حل کا خاکہ ہم ذہن کو دیتے ہیں اور کبھی جواب لاشعوری طور پر تکمیل پا کر اچانک سامنے آ جاتا ہے۔

معروف رسالہ ’ٹائم‘ کے اسپیشل ایڈیشن بعنوان دی سائنس آف کریٹیویٹی (18/2/11)کے صفحہ نمبر84پر یہ بات پیش کی گئی ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں میں نکھار سکون دل اور فلاح کے احساس کو فروغ دیتا ہے۔ دَور حاضر میں اس کی اہمیت مزید عیاں ہے۔ مذکورہ اہم نکات، تحقیقی نتائج اور حوالہ جات کو ملا کر سوچیں تو سکون قلب کے لیے انفرادی اور اجتماعی رنگ میں بہت سے راستوں کے نقوش ابھرتے ہیں۔

خدائے رحمان کے کلام کو سمجھ کر ذکر خدا اور تطمئن القلوب کے مفہوم میں نئی کامیابیاں مل سکتی ہیں۔ قرآن کریم میں انسانوں کے مزاج اور حالات کے عکس میں کیفیات کے پرحکمت اشا رے ہیں جن سے رہ نمائی حاصل کرکے روحانی منزلوں کی جانب پیش قدمی کی جا سکتی ہے۔ انسان کی ان کیفیات کے ذکر میں خدا تعالیٰ نے طبیعت کو ضبط میں لانے اور زندگی کے ہر دور کے لحاظ سے صلاحیتوں کے استعمال میں ربط لانے کے پیمانے واضح کر دیے ہیں۔ قرآنی آیات میں ان پہلوؤں کے بارے میں بہت سی تفصیلات کا بیان ہے، مثال کے طور پر، انسان میں بے اعتدالیوں اور پرہیزگاریوں میں تمیز کی صلاحیت، انسان میں روحانی اور مادی ترقی کا مادہ، فطرت صحیحہ، انسان کی طبیعت میں جلدبازی، احسن تقویم اور بہت سے لطیف مضامین کا بحر بیکراں ہے۔ درج ذیل دو آیات کی معنوی گہرائی میں بہت سے مضامین اوراسباق کااحاطہ ہے۔

وَ یَدۡعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَہٗ بِالۡخَیۡرِ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا۔ (بنی اسرائیل:12)

اور انسان شر ّایسے مانگتا ہے جیسے خیر مانگ رہا ہو۔ اور انسان بہت جلد باز ہے۔

وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۡۢبِہٖۤ اَوۡ قَاعِدًا اَوۡ قَآئِمًا ۚ فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُ ضُرَّہٗ مَرَّ کَاَنۡ لَّمۡ یَدۡعُنَاۤ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗؕ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ۔ (یونس:13)

اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچے تو اپنے پہلو کے بل (لیٹے ہوئے) یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے ہمیں پکارتا ہے۔ مگر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو وہ یوں گزر جاتا ہے جیسے اس نے کبھی ہمیں اس دکھ کی طرف بلایا ہی نہ ہو جو اُسے پہنچا ہو۔ اسی طرح حد سے بڑھنے والوں کو خوبصورت بنا کر دکھایا جاتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔

رب دو جہاں نے اپنے کلام میں انسان کو اپنی جذباتی کیفیات کو لمحہ لمحہ پرکھنے، روحانیات اور علم النفس (سائیکالوجی) کی وسعتوں کو سمجھنے نیز دو جہاں میں فلاح کی کامیاب راہیں دکھائی ہیں۔ اسی طرح علوم و معرفت کے بہت سے خزائن پیش کیے ہیں جن پر غور و فکر میں لازوال وسعتیں ہیں۔

دنیا کے ہر دل کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی رہ نمائی، سکون دل کا حقیقی پیغام ہے۔ حضور کی پُر سوز دعائیں جہان بھر کے لیے ایک عظیم انعام ہیں۔ دنیا کو سکون دل دینے کے لیے پیارے حضور کی معرفت سے بھری روحانی باتیں ہر خطاب میں موجزن ہیں۔

دنیا کے لیے اہم پیغام ہے کہ ان کے لفظ لفظ کی معنوی وسعتوں سے نور لے کر اطمینان قلب اور امن عالم کی شاہ راہوں پر گامزن ہو جائے۔ خدا کا فضل ہمارے شامل حال رہے۔ آمین۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close