متفرق مضامین

اے جنوں کچھ کام کر بے کار ہیں عقلوں کے وار

(ملک منور احمد جاوید۔ مرحوم)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’کام کرنے کا جذبہ قوم کو ابھار دیتا ہے۔ ‘‘

(مشعل راہ جلد اوّل صفحہ 651)

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کیا خوبصورت بامعنی نصیحت سے بھر پور کلام کا یہ شعر ہے۔

خدمت دین کو اک فضل الٰہی جانو

اس کے بدلے میں کبھی طالب انعام نہ ہو

خاکسار اپنی خوش قسمتی پر ناز کرتا ہے کہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدام الاحمدیہ کے دور میں قائد ضلع کے طور پر مجھے خدا تعالیٰ نے خدمت کا موقع دیا اور خاکسار نے اس سے ایک ایک منٹ فائدہ اُٹھایا۔

خاکسار تیرہ برس قائد ضلع لاہور اور قائد علاقہ لاہور رہا۔ اس وقت قصور ضلع لاہور میں شامل تھا۔ میں سیکریٹریٹ میں ملازم تھا۔ میری یہ عادت تھی کہ چھٹی سے ایک گھنٹہ قبل اپنے مددگار سے ایک نان اور چنے منگوا کر کھالیتا تھا اور چھٹی کے بعد مجالس کے دورہ پر نکل جاتا۔ پھر رات کو پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کہاں آئے گی۔

ایک یادگار روح پرور سفر کے واقعہ کے متعلق سوچتا ہوں اور خدا کے فضلوں کو یاد کرتا ہوں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب قصور ضلع لاہور میں شامل تھا۔ ایک دفعہ میں دفتر سے چھٹی کر کے بھلیر (موجودہ ضلع قصور)کے دورہ پر چل پڑا، بھائی پھیرو تک تو بس میں چلا گیا لیکن بھائی پھیروسے بھلیر کا فاصلہ بارہ یا تیرہ کلو میٹر بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور پیدل روانہ ہوگیا۔ ان دنوں سواری اتنی عام نہیں تھی۔ گرمیوں کے دن تھے کچھ راستے گردو غبار سے بھر پور۔ رات تقریباً9بجے بھلیر پہنچا۔ کچھ خدام نے میرے پاؤں دبانے شروع کردئیے لیکن میں نے سب سے پہلے اپنی بھلیر میں آمد کے بارہ میں آگاہ کیا اور آنے کے اغراض و مقاصد بہت اچھی طرح بیان کیے۔ جب میں اپنے مقاصد و اغراض بتا چکا تو میں نے کہا کہ میں گورنمنٹ کا ملازم بھی ہوں اور صبح ضرور لاہور پہنچنا ہے۔ گاؤں والوں نے کچھ خدام اِدھر اُدھر دوڑا دیے کہ سائیکل کا پتہ کرکے آئیں مگر تھوڑی دیر بعد خدام واپس آکر کہنے لگے کہ کسی کے پاس سائیکل نہیں ہے۔ پھر ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ فلاں آدمی کے گھر معلوم کرکے آؤ کہ بڑے والا گدھا گھر پر ہے کہ نہیں۔ تھوڑی دیر بعد آدمی نے واپس آکر کہا بڑے والا گدھا شہر گیا ہوا ہے۔ رات کو اللہ تعالیٰ سے دعائے خیر کرکے سو گیا۔ شدید گرمیوں کے دن تھے صبح سویرے جلدی اٹھ گیا۔ فجر کی نماز پڑھ کر پیدل ہی بھائی پھیرو کی جانب چل پڑا۔ میرے ساتھ کچھ خدام بھی چلے مگر تھوڑی دور جاکر میں نے خدام سے کہا کہ آپ واپس چلے جائیں میری فکر نہ کریں اللہ فضل کرے گا۔ شدید گرمی تھی اور گردو غبار سے بھری ہوئی کچی سڑک تھی ۔راستے میں دعائیں کرتا چلا جارہا تھا کہ مجھے کچھ گدھوں کے چلنے کی چاپ سنائی دی۔میں ایک درخت کے نیچے ٹھہر کے گدھوں کا انتظار کرنے لگا جب گدھے پاس آگئے تو میں نے جیسے سڑک پر کھڑے ہوکر بس روکنے کے لیے ہاتھ کھڑا کرتے ہیں ویسے ہی ہاتھ کھڑا کیا۔ ایک آدمی گدھے پر بیٹھا ہوا تھا باقی آٹھ دس گدھے خالی تھے۔ گدھے والے آدمی نے کہا کہ کیا بات ہے بائو جی۔ میں نے کہا کہ میں بھائی پھیرو جانا چاہتا ہوں۔ گدھے والے نے کہا بیٹھ جاؤ کسی گدھے پر۔ میں نے کہا کہ مجھے بیٹھنا نہیں آتا بیٹھنے میں میری مدد کرو خیر گدھے والا نیچے اترا اور مجھے سوار کروایا۔

اب آپ ذرا سوچیں کہ سفید شرٹ، سفید پتلون سر پر جناح کیپ پہنی ہوئی تھی ۔تھوڑا راستہ طے کرنے کے بعد ایک جگہ سےگزرے جہاں سکول میں آدھی چھٹی ہوئی تھی۔ بچے میری طرف دیکھ کر تالیاں بجاتے رہے اور سفرگزرتا گیا۔ آخر دس ساڑھے دس بجے بھائی پھیرو پہنچ گیا وہاں سے بس لے کر لاہور کے لئے روانہ ہوا۔ اب اس سفر کہ بارہ میں سوچتا ہوں تو شعر کا یہ مصرعہ یاد آتا ہے

اے جنوں کچھ کام کر بے کار ہیں عقلوں کے وار

(مرسلہ: حافظ انس احمد ملک۔ کینیڈا)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close