کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

نماز میں لذت نہ آنے کی وجہ

ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ بہت کوشش کی جاتی ہے مگر نماز میں لذت نہیں آتی۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا:

’’انسان جو اپنے تئیں امن میں دیکھتا ہے تو اسے خداتعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی ۔ حالت استغنا میں انسان کو خد ایاد نہیں آیا کرتا۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری طرف وہ متوجہ ہوتا ہے کہ جس کے بازوٹوٹ جاتے ہیں۔ اب جو شخص غفلت سے زندگی بسر کرتا ہے۔ اسے خدا کی طرف توجہ کب نصیب ہوتی ہے۔ انسان کا رشتہ خدا تعالیٰ کے ساتھ عاجزی اور اضطراب کے ساتھ ہے لیکن جو عقلمند ہے وہ اس رشتہ کو اس طرح سے قائم رکھتا ہے کہ وہ خیال کرتا ہے کہ میرے باپ دادا کہاں ہیں اور اس قدر مخلوق کو ہر روز مرتا دیکھ کر وہ انسان کی فانی حالت کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کی برکت سے اسے پتہ لگ جاتا ہے کہ میں بھی فانی ہوں اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ جہان چھوڑ دیا جائے گا۔ اور اگر وہ اس میں زیادہ مبتلا ہے تو اُسے چھوڑ نے کے وقت حسرت بھی زیادہ ہوگی اور یہ حسرت ایسی ہے کہ خواہ آخرت پر ایمان نہ بھی ہو تب بھی اس کا اثر ضرور ہوتا ہے اور اس سے امن اس وقت ملتا ہے کہ جب فانی خوش حالی نہ ہو بلکہ سچی خوش حالی ہو۔ بعض آدمیوں کو بیماریوں سے بعض کو دوسری تکالیف سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہوتا ہے۔

نماز میں خدا تعالیٰ کا کلام اور ادعیہ ماثورہ ضرور پڑھے

پھر سوال ہوا کہ اگر ساری نماز کو اپنی زبان میں پڑھ لیا جاوے تو کیا حرج ہے۔ فرمایا :

خدا تعالیٰ کے کلام کو اسی کی زبان میں پڑھنا چاہیے۔ اس میں بھی ایک برکت ہوتی ہے خواہ فہم ہو یا نہ ہو اور ادعیہ ماثورہ بھی ویسے ہی پڑھے جیسے آنحضرتؐ کی زبان مبارک سے نکلیں۔ یہ ایک محبت اور تعظیم کی نشانی ہے۔ باقی خواہ ساری رات دعا اپنی زبان میں کرتا رہے۔ انسان کو اوّل محسوس کرنا چاہیے کہ میں کیسا مصیبت زدہ ہوں۔ اور میرے اندر کیسی کیسی کمزوریاں ہیں۔ کیسے کیسے امراض کا نشانہ ہوں اور موت کا اعتبار نہیں ہے۔ بعض ایسی بیماریاں ہیں کہ آدھ منٹ میں ہی انسان کی جان نکل جاتی ہے۔ سوائے خدا کے کہیں اس کی پناہ نہیں ہے۔ ایک آنکھ ہی ہے جس کی تین سو امراض ہیں۔ ان خیالوں سے انسانی زندگی کی اصلاح ہوسکتی ہے اور پھر اصلاح یافتہ زندگی کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک دریاسخت طغیانی پر ہے۔ مگر یہ ایک عمدہ مضبوط لوہے کے جہاز میں بیٹھا ہوا ہے۔ اور ہوائے موافق اسے لے جارہی ہے۔ کوئی خطرہ ڈوبنے کا نہیں لیکن جو شخص یہ زندگی نہیںرکھتا۔ اس کا جہاز بودا ہے۔ ضرور ہے کہ طغیانی میں ڈوب جائے۔ عام لوگوں کی نماز تو برائے نام ہوتی ہے۔ صرف نماز کو اٹیرتے ہیں اور جب نماز پڑھ چکے تو پھر گھنٹوں تک دعا میں رجوع کرتے ہیں۔

ایک صاحب نے اٹھ کر عرض کی کہ جب تک حرام خوری وغیرہ نہ چھوڑے تب تک نماز کیا لذت دے اور کیسے پاک کرے۔

حضرت اقدس نے فرمایا :

اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ (ھود: 115)

بھلا جو اوّل ہی پاک ہو کر آیا اسے پھر نماز کیا پاک کرے گی۔

حدیث میں ہے کہ تم سب مردہ ہو مگر جسے خدا زندہ کرے۔ تم سب بھوکے ہو مگر جسے خدا کھلاوے الخ۔ ایک طبیب کے پاس اگرانسان اوّل ہی صاف ستھرا اور مرض سے اچھا ہو کر آوے تو اس نے طبابت کیا کرنی ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی غفوریت کیسے کام کرے۔ بندوں نے گناہ کرنے ہی ہیں تو اس نے بخشنے ہی ہیں۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ وہ گناہ نہ کریں جس میں سرکشی ہو ورنہ دوسرے گناہ جو انسان سے سرزد ہوتے ہیں اگر ان سے بار بار خدا سے بذریعہ دعا تزکیہ چاہے گا تو اسے قوت ملے گی۔ بلاقوت اﷲ تعالیٰ کے ہرگز ممکن نہیں ہے کہ اس کاتزکیہ نفس ہو اور اگر ایسی عادت رکھے کہ جو کچھ نفس نے چاہا اس وقت کر لیا تواس سے کوئی قوت نہیں ملے گی۔ جب ان جوشوں کا مقابلہ کرے اور گناہ کی طاقت ہوتے ہوئے پھر گناہ نہ کرے ورنہ اگر وہ اس وقت گناہ سے باز آتا ہے جبکہ خداتعالیٰ نے طاقتیں چھین لی ہیں تو اسے کیا ثواب ہوگا۔ مثلاً آنکھوں میں بینائی نہ رہے تو اس وقت کہے کہ اب میں غیر عورتوں کو نہیں دیکھتا تو یہ کیا بزرگی ہوئی۔ بزرگی تو اس میں تھی کہ پیشتر اس کے کہ خدا اپنی دی ہوئی امانتیں واپس لیتا وہ اس کے بے محل استعمال سے باز رہتا۔

اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی معیت کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ خدا تعالیٰ کی ہی معیت ہو تو تبدیلی ہوتی ہے اور پھر اس کی خواہشیں اور اور جگہ لگ جاتی ہیں اور خدا کی نافرمانی اسے ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے موت۔ بالکل ایک معصوم بچہ کی طرح ہو جاتا ہے۔ اس لئے جہاں تک ہوسکے کوشش کریں کہ دقیق در دقیق پرہیز گار ہو جاوے۔ جب نماز میں کوئی خطرہ پیش آوے۔ اس وقت سلسلہ دعا کا شروع کر دے یہ مشکلات اس وقت تک ہیں کہ جب تک نمونہ قدرتِ الٰہی کا نہیں دیکھتا۔ کبھی دہریہ ہو جاتا ہے کبھی کچھ۔ بار بار ٹھوکریں کھاتا ہے۔ جب تک خدا تعالیٰ کی معرفت نہ ہو گناہ نہیں چھوٹ سکتا۔ دیکھو جو لوگ جاہل ہیں۔ ڈاکہ مارتے ہیں۔ چوریاں کرتے ہیں۔ لیکن جن کو علم ہے کہ اس سے ذلت ہوگی۔ خواری ہوگی وہ ایسے کام کرتے شرماتے ہیں کیونکہ ان کی عظمت میں فرق آتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد4صفحہ370تا373۔ایڈیشن1984ء)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close