متفرق مضامین

دنیا میں برائیاں پھیلانے میں بدظنی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے

(جاوید اقبال ناصر۔مربی سلسلہ جرمنی)

جب کوئی شخص کسی کے بارے میں نیک گمان رکھنے سے قاصر ہو اوراچھی رائے نہ رکھتا ہو تو اُس کے دماغ میں دوسرے کے بارے میں بُرے خیال پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔اِس طرح اچھے خیالات اورنیک گمانی جاتی رہتی ہے اور اُس کی جگہ بد گمانی اور بدظنی جنم لیتی ہے۔انسان خیالاتِ فاسدہ کا شکار ہو جاتاہےاور وہم اور شک و شبہ اُس کے دماغ کامحور بن جاتے ہیں۔ بے سکونی ہونے لگتی ہے۔ پراگندگی کا شکار ہو جاتاہے۔دوسروں سے تعلقات توڑ نے لگتاہے۔اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر خیال کرتا ہے۔ تکبر اور نخوت آجاتاہے۔غرور اور گھمنڈ کی بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ بغض و عناد کی بُو پھیل کر حسد کو جنم دیتی ہے۔ اپنے آپ کو نیک پاک اور فرشتہ سیرت تصوّر کرتا ہے۔ دوسروں کو تنقید کا نشانا بناتاہے۔خشک مزاج ہو جاتا ہے۔زبان کی مٹھاس جا تی رہتی ہے۔دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آتا ہے لیکن اپنی آنکھ میں پڑا ہوا شہتیر دکھائی نہیں دیتا۔یہ بیماری پھر اور بھی کئی بیماریاں پید اکرتی ہے۔اس سے معا شرے کا امن و سکون خراب ہوتا دکھائی دیتا ہے۔کئی گھر خراب ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔یوں بد ظنی کرنے والا گنا ہوں میں مبتلا ہو جاتاہے۔قرآنِ کریم نے اِس کا نقشہ یوں کھینچاہے :

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ۔(الحجرات:13)

کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بکثرت ظن سے اجتناب کیا کرو۔ یقیناً بعض ظن گناہ ہوتے ہیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا:

بدظنی سے بچو، کیونکہ بدظنی سخت قسم کا جھوٹ ہے، ایک دوسرے کے عیب کی ٹوہ میں نہ رہو۔ اپنے بھائی کے خلاف تجسس نہ کرو۔ اچھی چیز ہتھیانے کی حرص نہ کرو۔ حسد نہ کرو، دشمنی نہ رکھو، بے رخی نہ برتو جس طرح اس نے حکم دیا ہے اللہ کے بندے اور بھائی بھائی بن کر رہو۔

(مسلم کتاب البر وا لصلۃ باب تحریم الظن حدیث نمبر 6431)

’’بدظنی بہت بُری چیز ہے۔ انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کردیتی ہے‘‘

اس زمانے کے خاتم الخلفاء حضرت مسیح موعودعلیہ السلام اس بیماری کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’فساد اس سے شروع ہوتا ہے کہ انسان ظنونِ فاسدہ اور شکوک سے کام لینا شروع کرے…بدظنی بہت بُری چیز ہے۔ انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کردیتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ انسان خدا پر بدظنّی شروع کر دیتا ہے۔‘‘ (ملفوظات جلد اول صفحہ 375،ایڈیشن 1988ء)

’’انسان ایک آدمی کو بد خیال کرتا ہے اور پھر آپ اس سے بد تر ہوجاتا ہے‘‘

ایک دوسری جگہ آپؑ فرماتے ہیں:

’’دوسرے کے باطن میں ہم تصرف نہیں کرسکتے اور اس طرح کا تصرف کرنا گناہ ہے۔ انسان ایک آدمی کو بد خیال کرتا ہے اور پھر آپ اس سے بد تر ہوجاتا ہے۔کتابوں میں مَیں نے ایک قصہ پڑھا ہے کہ ایک بزرگ اہل اللہ تھے انہوں نے ایک دفعہ عہد کیا کہ مَیں اپنے آپ کو کسی سے اچھا نہ سمجھوں گا۔ ایک دفعہ ایک دریا کے کنارے پہنچے(دیکھا)کہ ایک شخص ایک جوان عورت کے ساتھ کنارے پر بیٹھا روٹیاں کھا رہا ہے اور ایک بوتل پاس ہے اس میں سے گلاس بھر بھر کر پی رہا ہے ان کو دُور سے دیکھ کر اس نے کہا کہ مَیں نے عہد تو کیا ہے کہ اپنے کو کسی سے اچھا نہ خیال کروں مگر ان دونوں سے تو مَیں اچھا ہی ہوں۔ اتنے میں زور سے ہوا چلی اور دریا میں طوفان آیا ایک کشتی آ رہی تھی وہ غرق ہو گئی وہ مرد جو کہ عورت کے ساتھ روٹی کھا رہا تھا اٹھا اور غوطہ لگا کر چھ آدمیوں کو نکال لایا اور ان کی جان بچ گئی۔ پھر اس نے اس بزرگ کو مخاطب کرکے کہا کہ تم اپنے آپ کو مجھ سے اچھا خیال کرتے ہو۔مَیں نے تو چھ کی جان بچائی ہے۔ اب ایک باقی ہے اسے تم نکالو۔ یہ سن کر وہ بہت حیران ہوا اور اس سے پوچھا کہ تم نے یہ میرا ضمیر کیسے پڑھ لیا اور یہ معاملہ کیا ہے؟ تب اس جوان نے بتلایا کہ اس بوتل میں اسی دریا کا پانی ہے۔ شراب نہیں ہے اور یہ عورت میری ماں ہے اور مَیں ایک ہی اس کی اولاد ہوں۔ قویٰ اس کے بڑے مضبوط ہیں اس لئے جوان نظرآتی ہے۔ خدا نے مجھے مامور کیا تھا کہ میں اسی طرح کروں تا کہ تجھے سبق حاصل ہو۔‘‘

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 568تا569،ایڈیشن 1988ء)

’’اپنے بھائیوں پر بدظنی نہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظن رکھا جاوے‘‘

پھرآپؑ نے فرمایا:

’’اکثر لوگوں میں بدظنی کا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔وہ اپنے بھائی سے نیک ظنی نہیں رکھتے اور ادنیٰ ادنیٰ سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے بُرے خیالات کرنے لگتے ہیں۔ اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔ اس لئے اوّل ضروری ہے کہ حتی الوسع اپنے بھائیوں پر بدظنی نہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظن رکھا جاوے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔ اور اُنس پیدا ہوتا ہے۔ اور آپس میں قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ بغض حسد وغیرہ سے بچا رہتا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 4صفحہ 214تا215،ایڈیشن 1988ء)

’’دنیا میں برائیاں پھیلانے میں بدظنی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

’’دنیا میں برائیاں پھیلانے میں بدظنی کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔ بدظنی کی وجہ سے ایک دوسرے کے عیب تلاش کئے جاتے ہیں تاکہ اس طرح اسے نیچا دکھایا جائے، اسے بدنام کیا جائے۔ اس لئے فرمایا کہ آپس کے تعلقات کے جو معاملات ہیں لوگوں کے ذاتی معاملات ہیں، ان کے معاملہ میں تجسس نہ کرو۔ یہ تجسس خداتعالیٰ کو ناپسند ہے۔ اس تجسس کے بعد پھر اگلا سٹیپ (Step) کیا ہوگا، اگلا قدم کیا ہوگا کہ اپنی مجالس میں بیٹھ کر پھر ہجو کرو گے، دوسرے کی چغلیاں کرو گے۔ وہ باتیں جو دوسرے کے بارہ میں معلوم ہوتی ہیں اور جو دوسرے شخص کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں… راز کی باتیں تلاش کرکے لوگوں کو بتائی جائیں گی۔ اس کا ردّعمل سختی کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے جس سے پھر دشمنیاں بڑھتی چلی جائیں گی۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ آپس میں پیار اور محبت کے نمونے قائم کرو۔ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ کے نظارے تم میں نظر آنے چاہئیں۔ دوسرے، ان رازوں کے فاش ہونے سے جن لوگوں کے بارہ میں باتیں کی گئیں، جن کے راز فاش کئے گئے ان کی باتوں کی بناء پر آپس میں تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ پہلی بات، جب ایک فریق کی پردہ دری کرو گے تو دوسرا فریق بھی غصہ میں آئے گا فساد اور لڑائیاں پیدا ہوں گی۔ دوسری بات، جو باتیں کی گئیں بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ کسی میں پھوٹ ڈالنے والی ہوتی ہیں ان کے تعلقات خراب ہوں گے۔ دو دلوں میں پھوٹ ڈالنے والے بنو گے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 27؍ مارچ 2009ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل17؍اپریل2009ء صفحہ 7تا8)

’’بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی گناہ کی طرف لےجاتی ہے‘‘

ایک اورموقع پرحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ مومنوں میں محبت، پیار اور بھائی چارہ پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ حسن ظن سے پیدا ہوتا ہے۔پس فرمایا کہ بدظنی سے بچو کیونکہ بدظنی گناہ کی طرف لے جاتی ہے، جو نہ صرف انسان کی اپنی ذات کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا گناہ ہے جو معاشرے کے امن کو بھی برباد کردیتا ہے۔ دلوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ پس خداتعالیٰ نے اسے بہت بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ ایک ایسا گناہ جو انسان بعض اوقات اپنی اَنا کی تسکین کے لئے کررہا ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ تجسس نہ کرو، تجسس بھی بعض اوقات بدظنی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور جب انسان کسی کے بارہ میں تجسس کررہا ہوتا ہے اس کے بعد بھی جب پوری معلومات نہیں ملتیں تو جو معلومات ملتی ہیں انہی کو بنیاد بنا کر پھر بدظنّیاں اور بڑھ جاتی ہیں اور بدظنی میں بعض اوقات انسان اتنا اندھا ہو جاتا ہے کہ بعض لوگوں کی حالت دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ بڑے بڑے پڑھے لکھے بھی ہیں، خدمت کرنے والے بھی ہیں اور ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو جاہل اجڈ عورتیں بھی نہیں کرتی ہوں گی۔ چھوٹے چھوٹے شکووں کو اتنا زیادہ اپنے اوپر سوار کر لیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری زندگی میں اس سے بڑی بات ہی کوئی نہیں ہے۔ اور اس سے نہ صرف اپنے کاموں میں حرج کر رہے ہوتے ہیں۔ایسی سوچوں کے ساتھ اپنی زندگی بھی اجیرن کررہے ہوتے ہیں بلکہ اِدھر اُدھر باتیں کرکے جس کے خلاف شکوہ ہوتا ہے اس کی زندگی بھی اجیرن کررہے ہوتے ہیں۔ اور بعض دفعہ ایسے معاملات میرے پاس بھی آجاتے ہیں اور جب تحقیق کرو تو کچھ بھی نہیں نکلتا۔ بڑی معمولی سی بات ہوتی ہے۔ پھر بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا شکایت کرنے والے کے ساتھ براہ راست معاملہ بھی نہیں ہوتا۔ ادھر سے بات سنی ادھر سے بات سنی، تجسس والی طبیعت ہے شوق پیدا ہوا کہ مزید معلومات لو اور ادھ پچدی جو معلومات ملتی ہیں ان کو پھر فوراً اپنے پاس سے حاشیہ آرائی کرکے اچھالا جاتا ہے۔ تو جب کسی کے بارہ میں باتیں کی جاتی ہیں اور انہیں اچھالا جاتا ہے تو اس شخص بیچارے کی زندگی اجیرن ہوئی ہوتی ہے کیونکہ اس ماحول میں اس کو دیکھنے والا ہر شخص ایسی نظر سے دیکھ رہا ہوتا ہے جیسے وہ بہت بڑا گناہگار انسان ہے۔ وہ چھپتا پھرتا ہے۔ بعض دفعہ ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ بہرحال یہ ایک ایسا گناہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ ہر احمدی کو اس سے بچنا چاہئے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ5؍فروری2010ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 26؍فروری 2010ء صفحہ7)

’’بدظنی کی وجہ سے دوسرے پر الزام لگانے میں بعض لوگ اس حد تک گر جاتے ہیں کہ اپنی عزت کا بھی خیال نہیں رکھتے‘‘

پھر فرمایا:

’’بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں سے کسی ناراضگی یا کسی غلط فہمی یا بدظنی کی وجہ سے اس حد تک اپنے دلوں میں کینے پالنے لگ جاتے ہیں کہ دوسرے شخص کا مقام اَوروں کی نظر میں گرانے کے لئے، معاشرے میں انہیں ذلیل کرنے کے لئے، رسوا کرنے کے لئے۔ ان کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کرکے پھر اس کی تشہیر شروع کر دیتے ہیں… اکثر یہی ہوتا ہے کہ حسد کی وجہ سے یہ کوشش کی جا رہی ہوتی ہے کہ دوسرے کو نقصان پہنچا یا جائے۔ یہ حسد بھی اکثر احساس کمتری کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اس خیال کے دل میں نہ رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ خدا جھوٹے اور حاسد کی مدد نہیں کرتا۔ اور حسد کی وجہ سے یا بدظنی کی وجہ سے دوسرے پر الزام لگانے میں بعض لوگ اس حد تک گر جاتے ہیں کہ اپنی عزت کا بھی خیال نہیں رکھتے۔ آج کل کے معاشرے میں یہ چیزیں عام ہیں اور خاص طور پر ہمارے برصغیر پاک و ہند کے معاشرے میں تو یہ اور بھی زیادہ عام چیز ہے۔ اور اس بات پر بھی حیرت ہوتی ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی بعض دفعہ ایسی گھٹیا سوچ رکھ رہے ہوتے ہیں اور دنیا میں یہ لوگ کہیں بھی چلے جائیں اپنے اس گندے کیریکٹر کی کبھی اصلاح نہیں کر سکتے یا کرنا نہیں چاہتے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ26؍مئی2006ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل16؍جون 2006ءصفحہ5)

’’بعض لوگ بعض کے بارے میں بدظنیاں صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ذلیل کیا جائے‘‘

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ ایک اور خطبہ میں اس بیماری کا اس طرح ذکر کرتے ہیں:

’’پھر ایک برائی بدگمانی ہے، بدظنی ہے، خود ہی کسی کے بارے میں فرض کر لیا جاتا ہے کہ فلاں دو آدمی فلاں جگہ بیٹھے تھے اس لئے وہ ضرور کسی سازش کی پلاننگ کر رہے ہوں گے یا کسی برائی میں مبتلا ہوں گے۔ اور پھر اس پر ایک ایسی کہانی گھڑ لی جاتی ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ اور پھر اس سے رشتوں میں بھی دراڑیں پڑتی ہیں۔ دوستوں کے تعلقات میں بھی دراڑیں پڑتی ہیں۔ معاشرے میں بھی فساد پیدا ہوتا ہے…جب بدظنیاں شروع ہوتی ہیں تو پھر تجسس بھی بڑھتا ہے اور پھر ہر وقت یہ بدظنیاں کرنے والے اس ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کسی طرح دوسرے کے نقائص پکڑیں اور اس کی بدنامی کریں۔ ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک بادشاہ محمود غزنوی کا ایک خاص جرنیل تھا۔ بڑا قریبی آدمی تھا۔ اس کا نام ایاز تھا۔ انتہائی وفادار تھا اور اپنی اوقات بھی یاد رکھنے والا تھا۔ اس کو پتہ تھا کہ مَیں کہاں سے اٹھ کر کہاں پہنچا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یاد کرنے والا تھا اور بادشاہ کے احسانوں کو بھی یاد رکھنے والا تھا۔ ایک دفعہ ایک معرکے سے واپسی پر جب بادشاہ اپنے لشکر کے ساتھ جا رہا تھا تو اس نے ایک جگہ پڑاؤ کے بعد دیکھا کہ ایاز اپنے دستے کے ساتھ غائب ہے۔ تو اس نے باقی جرنیلوں سے پوچھا کہ وہ کہاں گیا ہے تو ارد گرد کے جود وسرے لوگ خوشامد پسند تھے اور ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ کسی طرح اس کوبادشاہ کی نظروں سے گرایا جائے اور ایاز کے عیب تلاش کرتے رہتے تھے تو انہوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا کہ بادشاہ کو اس سے بدظن کریں۔ اپنی بدظنی کے گناہ میں بادشاہ کو بھی شامل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے فوراً ایسی باتیں کرنا شروع کر دیں جس سے بادشاہ کے دل میں بدظنی پیدا ہو۔ بادشاہ کو بہرحال اپنے وفادار خادم کا پتہ تھا۔ بدظن نہیں ہوا۔ اس نے کہا ٹھیک ہے تھوڑی دیر دیکھتے ہیں۔ آ جائے گا تو پھر پوچھ لیں گے کہ کہاں گیا تھا۔ اتنے میں دیکھا تو وہ کمانڈر اپنے دستے کے ساتھ واپس آ رہا ہے اور اس کے ساتھ ایک قیدی بھی ہے۔ تو بادشاہ نے پوچھا کہ تم کہاں گئے تھے۔ اس نے بتایا کہ مَیں نے دیکھا کہ آپ کی نظر بار بار سامنے والے پہاڑ کی طرف اٹھ رہی تھی تو مجھے خیال آیا ضرور کوئی بات ہو گی مجھے چیک کر لینا چاہئے، جائزہ لینا چاہئے، تو جب مَیں گیا تو مَیں نے دیکھا کہ یہ شخص جس کو میں قیدی بنا کر لایا ہوں ایک پتھر کی اوٹ میں چھپا بیٹھا تھا اور اس کے ہاتھ میں تیرکمان تھی تاکہ جب بادشاہ کا وہاں سے گزر ہو تو وہ تیر کا وار آپ پر چلائے۔ تو جو سب باقی سردار وہاں بیٹھے تھے جو بدظنیاں کر رہے تھے اور بادشاہ کے دل میں بدظنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ سب اس بات پر شرمندہ ہوئے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ26؍ مئی 2006ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 16؍جون2006ءصفحہ7)

میاں اللہ دتہ صاحب کی حضرت مسیح موعودؑ کے بارے میں بد ظنی اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور استغفار

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کاایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’میاں اللہ دتہ صاحب ولد میاں خیر محمد صاحب سہرانی احمدی سکنہ بستی رِنداں ڈیرہ غازی خان کہتے ہیں کہ 1902ء یا 1903ء کا واقعہ ہے کہ مَیں قادیان شریف گیا۔ موقع عید کا تھا اور لنگر خانے میں لنگر چلا تو عام و خاص کی تجویز ہونے لگی۔ (لنگر چلا تو عام اور خاص کی تجویز ہونے لگی کہ یہ لوگ خاص مہمان ہیں یہ عام مہمان ہیں ) کھانے کی تقسیم کے لئے، تو میری نیت میں فرق آنے لگا۔ فوراً مجھے یہ بد ظنی پیدا ہوئی کہ جو مہدی معہود ہو گا وہ حکماً عدل ہو گا مگر اس لنگر خانے میں رِیا ہونے لگا ہے، مساوات نہیں ہے۔ پھر صبح کو مسجد مبارک میں گیا تو حضرت مسیح موعود اذان سے پہلے تشریف لائے تو آتے ہی فرمایا: مولوی نورالدین صاحب کہاں ہیں؟ حضرت مولوی صاحب نے عرض کی کہ حضور! مَیں حاضر ہوں۔ حضرت اقدس نے فرمایا رات اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تیرا لنگر خانہ ناخن کی پشت برابر بھی منظور نہیں ہوا کیونکہ لنگر خانے میں رات کو ریا کیا گیا ہے اور اب جو لنگر خانے میں کام کر رہے ہیں اُن کو علیحدہ کر کے قادیان سے چھ ماہ تک نکال دیں۔ (اتنی سختی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی کہ جنہوں نے مہمانوں کے درمیان امتیاز کیا تھا، اُن کو نہ صرف فارغ کرو کام سے بلکہ چھ ماہ کے لئے قادیان سے نکال دو) اور ایسے شخص مقرر کئے جائیں جو نیک فطرت ہوں اور صالح ہوں اور فرمایا کہ فجر کی روٹی (یعنی صبح کا کھانا جو ہے ناشتہ) میرے مکان کے نیچے چلایا جائے اور مَیں اور میاں محمود احمد اوپر سے دیکھیں گے۔ اِن کوجو بد ظنی پیدا ہوئی تھی کہ یہ ریاہونے لگ گیا ہے، کہتے ہیں مَیں نے فجر کی نماز میں اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور استغفار پڑھی کہ مَیں نے بدگمانی کی، یا اللہ مجھے معاف کر دے۔ یہ کرامات حضرت اقدس کی مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ (ماخوذ ازروایات حضرت میاں اللہ دتہ صاحبؓ رجسٹر روایات غیر مطبوعہ جلد 3 صفحہ 194، 195) پس یہ بدظنیاں ہیں جو بعض دفعہ بہت دور لے جاتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت پر رکھنا چاہے اُس کے لئے فوراً وہ سامان پیدا کر دیتا ہے تا کہ بد ظنیاں دور ہو جائیں، اس سے بچنا چاہئے اور انسان عمومی طور پر استغفار اگر کرتا رہے تو بدظنیوں سے بچتا چلا جاتا ہے۔‘‘

( خطبہ جمعہ فرمودہ 24؍ جون 2011ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 15؍ جولائی2011ءصفحہ7)

’’بدظنیاں جہنم میں دھکیلتی ہیں تو حسن ظن عبادت میں شمار ہوتا ہے‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

’’پس جہاں بدظنیاں جہنم میں دھکیلتی ہیں تو حسن ظن عبادت میں شمار ہوتا ہے اور اس معیار کو حاصل کرنے کے لئے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے۔ بدظنیاں جب پیدا ہوتی ہیں تو اپنی خود ساختہ کہانیوں میں زور پیدا کرنے کے لئے پھر انسان جھوٹ کا بھی سہارا لیتا ہے اور اپنی باتوں میں اس کی بےتحاشا ملونی کر دیتا ہے۔ اور جھوٹ ایک ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے شرک قرار دیا ہے، شرک کے برابر ٹھہرایا ہے۔ پس ہر احمدی کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ وہ احمدی اس وقت کہلا سکتا ہے جب سچائی پر قائم ہو گا اور ہر قسم کے شرک سے اپنے آپ کو پاک رکھے گا۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ26؍مئی2006ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 16؍جون 2006ءصفحہ8)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close