متفرق

آج کا گلدستہ جواہر

(قدسیہ محمود سردار)

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ بَثَّ مِنۡہُمَا رِجَالًا کَثِیۡرًا وَّ نِسَآءً ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡ تَسَآءَلُوۡنَ بِہٖ وَ الۡاَرۡحَامَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیۡکُمۡ رَقِیۡبًا (النساء:2)

ترجمہ:

’’اے لوگو !اپنے ربّ کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا۔او رپھر ان دونوں میں سے مردوں اور عورتوں کو بکثرت پھیلادیا۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس کے نام کے واسطے دے کر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔اور رحموں(کے تقاضوں) کا بھی خیال رکھو۔یقیناً اللہ تم پر نگران ہے۔‘‘

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا۔ یُّصۡلِحۡ لَکُمۡ اَعۡمَالَکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِیۡمًا۔(الاحزاب:72۔71)

ترجمہ:

’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو!اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صاف اور سیدھی بات کیاکرو۔وہ تمہارے لئے تمہارے اعمال کی اصلاح کردے گا اور تمہارے گناہوں کوبخش دے گااور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو یقیناً اس نے ایک بڑی کامیابی کو پالیا‘‘۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ لۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ۔ (الحشر:19)

ترجمہ:

’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو!اللہ کاتقویٰ اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقینا ًاللہ اس سےجو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبررہتا ہے‘‘۔

یہ نکاح کے موقع پر پڑھی جانے والی آیاتِ مبارکہ ہیں۔ان میں پانچ مرتبہ تقویٰ کا ذکر کیا گیاہے۔ہمیں یہ بتادیا گیا ہے کہ جنت نظیر گھر بسانے کے لیے تقویٰ ہی ضمانت ہے۔

خدا تعالیٰ کاڈر، خوف،پرہیزگاری،پارسائی،اپنے آپ کو گناہوں سے بچانا،ہمیشہ قولِ سدید سے کام لینا،قول وفعل کاتضاد نہ ہونا تقویٰ کہلاتا ہے۔گویا قرآنِ مجید میں مذکور تمام نیکیاں اختیار کرنا اور تمام گناہوں سے مکمل اجتناب کرنا ہی تقویٰ کی اصل روح ہے۔دن بدن بڑھتے ہوئے عائلی مسائل کا پورا حل مندرجہ بالا آیات میں موجود ہے۔

ہمارے پیارے امام سیّدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایَّدہُ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 8؍جولائی 2012ءکوایک خطبہ نکاح کے موقع پر فرمایا:

’’آپ ﷺ نے نکاح کے موقع پر جن آیات کا انتخاب فرمایا ہے ان میں تقویٰ پر خاص طور پر بہت زور دیا۔رشتہ داروں،رحمی رشتہ داروں کے تعلقات پر بہت زور دیا۔اور پھر اس بات پر بھی کہ یہ دیکھو کہ تم نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا؟پس یہ چیزیں اگر نئے قائم ہونے والے رشتوں میں اوران نئے قائم ہونے والے رشتوں کے رشتہ داروں میں، جو دونوں طرف کے قریبی رشتہ دار ہیں،ماں باپ،بہن بھائی، ان میں پیدا ہوجائیں تو کبھی وہ مسائل نہ اٹھیں جو عموما ًرشتوں میں دراڑیں ڈالنے کا باعث بنتے ہیں،جو رشتوں کے ٹوٹنے کا باعث بنتے ہیں،جو دونوں خاندانوں کے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔اور پھر بعض دفعہ اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ جب مقدمات میں ملوّث ہو جاتےہیں تو پھر میرے تک معاملات پہنچتے ہیں۔اور پھر شدید تکلیف کا باعث بنتے ہیں‘‘۔

ہمارےپیارے آقاسیّدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایَّدہُ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےجلسہ سالانہ برطانیہ23؍جولائی2011ء کے موقع پر فرمایا:

’’پس جب ہر ایک کی یہ خواہش ہے کہ اس کو سلامتی ملے اور اس کو کوئی نقصان نہ پہنچے،اس کے دن اور رات خیریت اور عافیت سے گزریں،ہر دشمن سے وہ محفوظ رہے،ہر پریشانی سے بچتا رہے،اس کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے تو پھر ایک مومن اگر یہ چاہتا ہے تو اس کے لئے یہ راستہ ہے وہ تقویٰ اختیار کرے۔پس حضرت مسیحِ موعودؑ نے ہم پر یہ نکتہ واضح فرمایا ہےکہ اگر تم سلامتی چاہتے ہوتو تقویٰ کو اختیار کروکہ تقویٰ ہی سلامتی کا تعویذ ہے جو تمہاری سلامتی کی ضمانت ہے۔تم تقویٰ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاتے ہو۔حضرت مسیحِ موعودؑ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

’’اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقیناً سمجھو کی خدا تمہارا ہی ہے۔تم سوئے ہوئے ہوگے اور خدا تعالیٰ تمہارے لئے جاگے گا‘‘۔(کشتی نوح)

پس اپنے گھروں کو بسانے کے لیے،امن وسلامتی کے گہوارے بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ہمیشہ قولِ سدید سے کام لیتے ہوئےتقویٰ کی باریک راہوں پر چلیں۔اور اللہ تعالیٰ نے خلافت کی صورت میں جس شجرِ سایہ دار سے ہمیں نوازا ہے،اس کی قدر کرتے ہوئےپیارےامام سیّدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایَّدہُ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہر حکم پر لبّیک کہیں۔

تمام تربیتی امور کی کلید حضور ایّدہ اللہ کے خطبات و خطابات اور دیگر پروگرامز ہیں۔ بچوں کے دلوں میں اپنے عملی نمونہ سے نظامِ خلافت کی اہمیت،اطاعت ومحبت پیدا کریں۔دنیا کے دکھوں تکلیفوں،زندگی کی مشکل اور تاریک راہوں میں عافیت کا حصار اطاعتِ خلافت ہے!!

تو پھر یقین رکھیے! اللہ تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف رشتہ ناطہ وعائلی مسائل بلکہ ہر طرح کے مسائل حل ہو جا ئیں گے۔ان شاء اللہ تعالیٰ

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button
Close