متفرق مضامین

برصغیر پاک و ہند میں موجود مقدس مقامات جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے خلفائے کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین نے برکت بخشی

(مبارز نجیب وڑائچ)

17نومبر1884ء

ام المومنین حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے ساتھ دہلی میں نکاح

بروز سوموار،327م۔ 1302ھ یہ نکاح سید نذیر حسین دہلوی صاحب نے پڑھایا۔

حضرت اقدس کی دوسری شادی کا یہ خدائی سامان اس طرح ہوا کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب 1876ء سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارادت مندوں میں شامل اور آپ کی خدا نما شخصیت کے مداح تھے۔ جب ’’براہین احمدیہ ‘‘ شائع ہوئی تو انہوں نے بھی اس کا ایک نسخہ خریدا اور پھر جذبات عقیدت میں چند امور کے لئے حضرت سے دعا منگوانے کے لئے خط لکھاجن میں ایک امر یہ بھی تھا کہ دعا کریں مجھے خدا تعالیٰ نیک اور صالح داماد عطا فرمائے۔ اس وقت چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئے رشتہ کی تحریک ہو چکی تھی اور یہ بھی بتایا جاچکا تھا کہ رشتہ دلی کے عالی نسب سادات خاندان میں مقدر ہے اس لئے جب حضرت میر صاحب کا یہ خط پہنچاتو حضور نے خدا داد فراست سے درخواست دعا کو خدائی اشارہ پا کر انہیں جواب دیا کہ میرا تعلق اپنی بیوی سے عملا ًمنقطع ہے اور میں اَور نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام فرمایا ہے کہ جیسا تمہارا عمدہ خاندان ہے ایسا ہی تم کو سادات کے معزز خاندان میں سے زوجہ عطا کروں گا تمہیں کچھ تکلیف نہ ہوگی۔ نیز یہ بھی لکھا کہ تا تصفیہ اس امر کو مخفی رکھیں اور رد کرنے میں جلدی نہ کریں۔ حضرت میرصاحب جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرتے تھے کہ انہیں کوئی نیک اور صالح داماد عطا ہو یہ جواب پڑھ کر گہرے فکر میں پڑ گئے اور کچھ تأمّل کیا کیونکہ اول تو ان کی بیٹی 17/18سال کی تھیں اور حضرت کی عمر پچاس سال کے لگ بھگ تھی۔ دوسرے پہلی بیوی اور دو بچے بھی موجود تھے۔ خاندان بھی دوسرا تھا اور تمدنی ماحول کی پیچیدگیاں الگ نظر آرہی تھیں بایں ہمہ خدا نے یہ تصرف کیا کہ حضرت کی نیکی اور نیک مزاجی پر نظر کر کے انہوں نے اپنے دل میں یہ پختہ فیصلہ کر لیا کہ اسی نیک مرد سے میں اپنی دختر نیک اختر کا رشتہ کروں گا۔ تاہم انہوں نے اس ڈر کی وجہ سے کہ مبادا ان کی اہلیہ صاحبہ انکار کر دیں اس خط کا مضمون اپنے تک محدود رکھا اور ان سے ذکر تک نہیں کیا۔ دل کی بات دل ہی میں رہ گئی۔ اس کے بعد حضرت میر صاحب ملازمت کے سلسلہ میں ضلع لاہور سے منتقل ہو کر چند ماہ کے لئے پٹیالہ اور مالیر کوٹلہ میں قیام فرماتے ہوئے ملتان گئے اور پھر ملتان سے رخصت پر اپنے وطن دلی جا پہنچے۔اس عرصہ میں کئی جگہ سے رشتہ کے پیغام آتے رہے اور سلسلہ جنبانی ہو رہا تھا لیکن خدا کی شان خود ان کی اہلیہ محترمہ یعنی حضرت نانی اماں سید بیگم صاحبہ کی کسی جگہ تسلی نہیں ہوئی۔ حالانکہ پیغام دینے والوں میں بعض بڑے اچھے اچھے آسودہ حال بھی تھے اور بہت اصرار کے ساتھ درخواست کرتے تھے۔ حضرت نانی اماں کے بیان کے مطابق اس دوران میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا نام بھی زیر تجویز آیالیکن وہ عمر کے تفاوت اور خصوصا ًپنجاب والوں کے خلاف دہلوی تعصب کی وجہ سے یہاں بھی مطمئن نہ ہوسکیں۔ مگر اب جو حضرت میر صاحب دلی آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلی ارادے کی تکمیل کے لئے خود ہی نانی اماں کا شرح صدر کر دیا۔ ایک دن نانی اماں سے رشتہ کی بابت تذکرہ جاری تھا کہ حضرت میر صاحب نے ایک لدھیانہ کے باشندہ سے متعلق کہا کہ اس کی طرف سے بہت اصرار سے درخواست ہے اور ہے بھی وہ اچھا آدمی۔ اسے رشتہ دے دو۔ انہوں نے اس کی ذات وغیرہ دریافت کی۔ تو انہوں نے صاف انکار کردیا۔ جس پر حضرت میر صاحب نے خفگی کے لہجے میں کہاکہ لڑکی اٹھارہ سال کی ہو گئی ہے کیا ساری عمر اسے یونہی بٹھا چھوڑوگی؟ حضرت نانی اماں نے جواب دیا کہ ’’ ان لوگوں سے تو پھر غلام احمد ہی ہزار درجہ اچھا ہے۔ ‘‘ حضرت میر صاحب نے جو اس سنہری موقع کے بے تابی سے منتظر تھے جھٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خط نکال کر ان کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ ’’لو پھر مرزا غلام احمد کا بھی خط آیا ہوا ہے جو کچھ ہو ہمیں اب جلد فیصلہ کرنا چاہیے‘‘۔ حضرت نانی اماں نے کہا کہ ’’ اچھا پھر غلام احمد کو لکھ دو‘‘۔چنانچہ حضرت میر صاحب نے اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خط لکھ دیا اور نکاح کا دن (حضرت ام المومنین کی روایات کے مطابق) 26۔ محرم 1302ھ مقرر کردیا جسے حضرت مسیح موعود کے ایماء پر 27۔ محرم 1302ھ بروز سوموار (مطابق17۔نومبر1884ء) کردیا گیا۔

حضرت مسیح موعودؑ کی برات دلی میں اور واپسی

تاریخ طے پاگئی تو آسمانی دلہا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام دلی جانے کے لئے حافظ حامد علی صاحبؓ اورلالہ ملاوامل صاحب کی معیت میں لدھیانہ سٹیشن پر وارد ہوئے جہاں لدھیانہ کے مخلصین حضرت صوفی احمد جان صاحبؓ اور ان کے فرزند صاحبزادہ پیرمنظور محمدؓ صاحب اور صاحبزادہ پیر افتخار احمد صاحبؓ۔ میر عباس علی صاحب اور دوسرے حضرات موجود تھے۔ حضرت صوفی صاحبؓ نے ایک تھیلی جس میںکچھ رقم تھی آپ کی نذر کی۔ حضرت اقدس نے یہاں میر عباس علی صاحب سے برات میں شمولیت کی خواہش ظاہر فرمائی مگر انہوں نے خرابی صحت کا عذر کر کے معذرت کردی اور آپ دو خدام کی مختصر سی برات لے کر دلی پہنچے۔ خواجہ میر دردؒ کی مسجد میں عصر و مغرب کے درمیان مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی نے گیارہ سو روپیہ مہر پر نکاح پڑھا جو ضعف اور بڑھاپے کی وجہ سے چل پھر نہیں سکتے تھے اور ڈولی میں بیٹھ کر آئے تھے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے اس موقعہ پر مولوی صاحب کو ایک مصلیٰ اورپانچ روپے بطور ہدیہ دئیے۔حضرت میر صاحب نے رشتہ کے معاملہ میں اپنے خاندان بلکہ اپنی والدہ ماجدہ وغیرہ سے بھی مخفی رکھا تھا۔ حضرت پہنچے تو انہیں بھی خبر ہو گئی اور وہ بھڑک اٹھے کہ ایک بوڑھے شخص اور پھر پنجابی کو رشتہ دے دیا ہے اور کئی افراد خاندان تو اسی غصہ اور ناراضی میں نکاح میں شامل نہیں ہوئے۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے نکاح کے اخراجات کے لئے منشی عبدالحق صاحب اکونٹنٹ سے پانچ سو روپیہ بطور قرض لے لیا تھا( جسے انہوں نے بعد میں ’’سراج منیر‘‘ کی اشاعت کی مدد میں دے دیا۔)اور دو تین سو کی رقم حکیم محمد شریف صاحب کلانوری نے پیش کردی تھی۔ شادی بیاہ کے ملکی دستور کے مطابق حضور کو دلہن کے لئے قیمتی زیور اور پارچات ضرور لے جانا چاہیے تھے۔ مگر حضرت اپنے دینی منصب کے لحاظ سے یہ تقریب اسلامی تمدن و معاشرت کی روشنی میں نہایت سادہ اورپروقار طریق پر انجام دینا چاہتے تھے اس لئے رسم و رواج کی پابندیوں سے عجیب شان بے نیازی دکھاتے ہوئے آپ اس موقعہ پر کوئی کپڑا اور زیور ساتھ نہیں لے گئے تھے صرف ڈھائی سو روپیہ کی رقم حضرت میر صاحبؓ کے حوالے کی کہ جو چاہیں بنوالیں۔ حضرت میرصاحبؓ کی برادری نے اس طرزِ عمل پر سخت لے دے کی کہ اچھا نکاح ہوا کہ کوئی زیور کپڑا ساتھ نہیں آیا۔ انہیں جواب دیا گیا کہ مرز اصاحب کے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ زیادہ تعلقات نہیں ہیں اور گھر کی عورتیں ان کی مخالف ہیں اورپھر وہ جلدی میں آئے ہیں اس حالت میں وہ زیور کپڑا کہاں سے بنوا لاتے؟ مگر بعض برادری والے سختی پر اتر آئے اور بعض دانت پیس کر رہ گئے۔بہرحال اس ماحول میں نکاح کے بعد رخصتانہ کی تقریب عمل میں آئی۔ جس میں تکلف یا رسم و رواج نام کو بھی نہیں تھا۔ جہیز کو صندوق میں بند کرکے کنجی حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو دے دی گئی اور حضور دوسرے دن حضرت سیدۃ النساء ام المومنین نصرت جہاں بیگم کو ساتھ لے کر دلی سے روانہ ہوئے اور قادیان تشریف لے آئے۔

(تاریخ احمدیت مرتبہ مولانا دوست محمد شاہد صاحب جلد اول صفحہ 243تا245)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close