کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

خدا تعالیٰ کی ذات میں وحدت ہے ایسا ہی وہ نوع انسان میں بھی جو ہمیشہ کی بندگی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وحدت کو ہی چاہتا ہے

کون شخص اس سے انکار کرسکتا ہے کہ ابتدائے زمانہ کے بعد دنیا پر بڑے بڑے انقلاب آئے۔ پہلے زمانہ کے لوگ تھوڑے تھے اور زمین کے چھوٹے سے قطعہ پر آباد تھے اور پھر وہ زمین کے دُور دُور کناروں تک پھیل گئے اور زبانیں بھی مختلف ہوگئیں اور اس قدر آبادی بڑھی کہ ایک ملک دوسرے ملک سے ایک علیحدہ دنیا کی طرح ہوگیا تو ایسی صورت میں کیا ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک ملک کے لئے الگ الگ نبی اور رسول بھیجتا اورکسی ایک کتاب پر کفایت نہ رکھتا۔ ہاں جب دنیا نے پھر اتحاداور اجتماع کے لئے پلٹا کھایا اور ایک ملک کو دوسرے ملک سے ملاقات کرنے کے لئے سامان پیدا ہوگئے اورباہمی تعارف کے لئے انواع واقسام کے ذرائع اور وسائل نکل آئے۔ تب وہ وقت آگیا کہ قومی تفرقہ درمیان سے اٹھا دیا جائے اور ایک کتاب کے ماتحت سب کو کیا جائے تب خدا نے سب دُنیا کے لئے ایک ہی نبی بھیجا تا وہ سب قوموں کو ایک ہی مذہب پر جمع کرے اور تاوہ جیسا کہ ابتداء میں ایک قوم تھی آخر میں بھی ایک ہی قوم بنادے۔

اوریہ ہمارا بیان جیسا کہ واقعات کے موافق ہے ایسا ہی خدا تعالیٰ کے اس قانون قدرت کے موافق ہے جو زمین و آسمان میں پایا جاتا ہے کیونکہ اگرچہ اُس نے زمین کو الگ تاثیرات بخشی ہیں اور چاند کو الگ اور ہر ایک ستارہ میں جُداجُدا قوتیں رکھی ہیں مگر پھر بھی باوجود اس تفرقہ کے سب کو ایک ہی نظام میں داخل کردیا ہے اور تمام نظام کا پیشرو آفتاب کو بنایا ہے جس نے ان تمام سیاروں کو انجن کی طرح اپنے پیچھے لگا لیا ہے پس اس سے غور کرنے والی طبیعت سمجھ سکتی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں وحدت ہے ایسا ہی وہ نوع انسان میں بھی جو ہمیشہ کی بندگی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وحدت کو ہی چاہتا ہے اور درمیانی تفرقہ قوموں کا جو بباعث کثرت نسل انسان نوع انسان میں پیدا ہوا وہ بھی دراصل کامل وحدت پیدا کرنے کے لئے ایک تمہید تھی کیونکہ خدانے یہی چاہا کہ پہلے نوعِ انسان میں وحدت کے مختلف حصے قائم کرکے پھر ایک کامل وحدت کے دائرہ کے اندر سب کولے آوے سو خدا نے قوموں کے جُدا جُدا گروہ مقرر کئے اور ہر ایک قوم میں ایک وحدت پیدا کی اور اس میں یہ حکمت تھی کہ تا قوموں کے تعارف میں سہولت اور آسانی پیدا ہو اور ان کے باہمی تعلقات پیدا ہونے میں کچھ دقّت نہ ہو اور پھر جب قوموں کے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تعارف پیدا ہوگیا تو پھر خدا نے چاہا کہ سب قوموں کو ایک قوم بنا وے جیسے مثلاً ایک شخص باغ لگاتا ہے اور باغ کے مختلف بوٹوں کو مختلف تختوں پر تقسیم کرتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد تمام باغ کے ارد گرد دیوار کھینچ کر سب درختوں کو ایک ہی دائرہ کے اندر کر لیتاہے اِسی کی طرف قرآن شریف نے اشارہ فرمایا ہے اوروہ یہ آیت ہے۔

اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۫ۖ وَّ اَنَا رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ (الانبیاء:93)

یعنی اے دنیا کے مختلف حصوں کے نبیو ! یہ مسلمان جو مختلف قوموں میں سے اس دنیا میں اکٹھے ہوئے ہیں یہ تم سب کی ایک اُمّت ہے جو سب پر ایمان لاتے ہیں اور میں تمہارا خدا ہوں سو تم سب مل کر میری ہی عبادت کرو۔ …اس تدریجی وحدت کی مثال ایسی ہے جیسے خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ ہر ایک محلہ کے لوگ اپنی اپنی محلہ کی مسجدوں میں پانچ وقت جمع ہوں اور پھر حکم دیا کہ تمام شہر کے لوگ ساتویں دن شہر کی جامع مسجد میں جمع ہوں یعنی ایسی وسیع مسجد میں جس میں سب کی گنجائش ہوسکے اور پھر حکم دیا کہ سال کے بعد عیدگاہ میں تمام شہر کے لوگ اور نیز گردونواح دیہات کے لوگ ایک جگہ جمع ہوں اور پھر حکم دیا کہ عمر بھر میں ایک دفعہ تمام دنیا ایک جگہ جمع ہو یعنی مکّہ معظمہ میں۔ سو جیسے خدا نے آہستہ آہستہ امّت کے اجتماع کو حج کے موقع پر کمال تک پہنچایا۔ اوّل چھوٹے چھوٹے موقعے اجتماع کے مقرر کئے اوربعد میں تمام دنیا کو ایک جگہ جمع ہونے کا موقع دیا سو یہی سنت اللہ الہامی کتابوں میں ہے اور اس میں خدا تعالیٰ نے یہی چاہا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ نوع انسان کی وحدت کا دائرہ کمال تک پہنچادے۔ اوّل تھوڑے تھوڑے ملکوں کے حصوں میں وحدت پیدا کرے اور پھر آخر میں حج کے اجتماع کی طرح سب کو ایک جگہ جمع کردیوے جیسا کہ اس کا وعدہ قرآن شریف میں ہے کہ

وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَجَمَعۡنٰہُمۡ جَمۡعًا (الکہف:100)

یعنی آخری زمانہ میں خدا اپنی آواز سے تمام سعید لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کردے گا جیساکہ وہ ابتداء میں ایک مذہب پر جمع تھے تاکہ اول اورآخر میں مناسبت پیدا ہو جائے۔

غرض پہلے نوع انسان صرف ایک قوم کی طرح تھی اور پھر وہ تمام زمین پر پھیل گئے تو خدا نے اُن کے سہولت تعارف کے لئے ان کو قوموں پر منقسم کردیا اور ہر ایک قوم کے لئے اُس کے مناسب حال ایک مذہب مقرر کیا جیسا کہ وہ فرماتا ہے

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا (الحجرات:14)

…اور پھر فرماتا ہے

لِکُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ شِرۡعَۃً وَّ مِنۡہَاجًا ؕ وَ لَوۡ شَآءَ اللّٰہُ لَجَعَلَکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لٰکِنۡ لِّیَبۡلُوَکُمۡ فِیۡ مَاۤ اٰتٰٮکُمۡ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ (المائدۃ:49)…

(ترجمہ) اے لوگو! ہم نے مرد اور عورت سے تمہیں پیدا کیا ہے اورہم نے تمہارے کنبے اور قبیلے مقرر کئے یہ اس لئے کیا کہ تاتم میں باہم تعارف پیدا ہو۔ اور ہر ایک قوم کے لئے ہم نے ایک مشرب اور مذہب مقرر کیا تاہم مختلف فطرتوں کے جو ہر بذریعہ اپنی مختلف ہدایتوں کے ظاہرکردیں پس تم اے مسلمانو! تمام بھلائیوں کو دوڑ کرلو کیونکہ تم تمام قوموں کا مجموعہ ہو اور تمام فطرتیں تمہارے اندر ہیں۔غرض مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر خدا نے نوع انسان کو کئی قوموں پر منقسم کردیا۔ پہلے زمانہ کے لوگ تو آبائی رشتہ کے سلسلہ میں منسلک تھے اور ان میں وحدت قرابت حاصل تھی اور پھر جب بہت سی قومیں بن گئیں تو ہر ایک قوم میں وحدت قائم کرنے کے لئے کتابیں بھیجی گئیں اور اُس زمانہ میں ہر ایک حصہ ملک میں صرف قومی وحدت حاصل ہوسکتی تھی اس سے زیادہ نہیں یعنی تمام دنیا کی وحدت غیر ممکن تھی۔ اور پھر تیسرا زمانہ ایسا آیا جس میں اقوامی وحدت کے سامان پیدا ہوگئے یعنی تمام دنیا کی وحدت کے سامان ظہور میں آگئے اور ہر ایک زمانہ جو نوع انسان پر آیا وہ اس بات کا مقتضی تھا جو اِسی زمانہ کے مطابق کتاب دی جاوے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی وحدت کا جب خدا نے ارادہ کیا تب ہر ایک قوم کے لئے جدا جدا رسول بھیجا اور یہ قومی وحدت اقوامی وحدت سے مقدم تھی اور حکمتِ ربّانی اس امر کی مقتضی تھی کہ اول ہر ایک ملک میں قومی وحدت قائم کرے اور جب قومی وحدت کا دور ختم ہوچکا تب اقوامی وحدت کا زمانہ شروع ہوگیا اوروہی زمانہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کا تھا۔ اور یاد رہے کہ کسی رسول اور کتاب کی اسی قدر عظمت سمجھی جاتی ہے جس قدر اُن کو اصلاح کاکام پیش آتا ہے اور جس قدر اس اصلاح کے وقت مشکلات کا سامنا پڑتا ہے سو یہ بات ظاہر ہے کہ ابتدائے زمانہ میں جو کتاب نازل ہوئی ہوگی وہ کسی طرح کامل مکمل نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ ابتدائے زمانہ میں اِن مشکلات کا وہم و گمان بھی نہیں آسکتا جو بعد میں پیدا ہوئیں ایسا ہی قومی وحدت کے زمانہ میں اس وقت کے نبیوں اور رسولوں کو وہ مشکلات ہرگز پیش نہیں آسکتی تھیں جو اقوامی وحدت کے زمانہ میں اس نبی کو پیش آئیں جس کو یہ حکم ہوا کہ جو تمام قوموں کوایک وحدت پر قائم کرو۔

(چشمئہ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 144تا147)

٭٭٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close