متفرق

آپ کے بچے آپ کے لیے صرف اسی صورت میں قرۃ العین بن سکتے ہیں جبکہ وہ باقاعدگی سے نماز ادا کرتے ہوں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

ایک دعا جو ہم اپنے بچوں کے لیے یہ کرتے ہیں کہ اے اللہ انہیں ہمارے لیے خوشی کا باعث اور قرۃ العین بنا۔ ایک مومن کے لیے اس کے بچے اس وقت اُس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتے ہیں جب وہ تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہیں، صحت مند ہوتے ہیں،خوشحال ہوتے ہیں،فرمانبردار اور ماں باپ کی خدمت کرنے والے ہوتے ہیں۔ لہٰذا جب ایک شخص خدا سے یہ دعا کرتا ہے کہ وہ اسے ایسی اولاد عطا فرمائے جو نیک اور سچی ہو اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو،تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق اُسے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک تلاش کرنی چاہیے جو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے سے حاصل ہو سکتی ہو۔

جب ایسا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے نتیجہ میں ایسی اولاد بخشتا ہے جو سچ مچ اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتی ہے اور دلی خوشی کا باعث بن جاتی ہے۔ لہٰذا بچوں کی اخلاقی تربیت کے لیے مائوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دعائوں کے معیار کو بلند ترین مقام پر لے جائیں اور اسے قائم رکھیں۔ احمدیوں کے گھر اللہ تعالیٰ کے پیار اور اس کے ذکر سے ہر وقت بھرے ہوئے ہونے چاہئیں۔

…ٹیلی ویژن کے پروگرام، انٹر نیٹ یا گھریلو تفریحات کو کبھی بھی ترجیح نہیں ہونی چاہیے۔اور اُن کو ہماری نمازوں میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔نماز کی ادائیگی ایسی ہونی چاہیے جیسا کہ خوبصورتی سے نماز ادا کرنے کا حق ہے۔

یقیناً صرف خواتین ہی نہیں بلکہ سب مردوں کو بھی اپنی عبادتوں کے حق ادا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اگر ہم اپنی نمازوں کو پوری توجہ سے اداکریں گے تو اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ ہمارے بچے ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہوں گے۔

نمازوں کی اہمیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورۃ البقرۃ میں فرماتا ہے :

حَا فِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُ سْطیٰ وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قٰنِتِیْنَ (البقرۃ: 239)

’’(اپنی) نمازوں کی حفاظت کرو۔ بالخصوص مرکزی نماز کی اور اللہ کے حضور فرمانبرداری کرتے ہوئے کھڑے ہو جائو‘‘۔

اس آیت کا مطلب ہے کہ آپ کو اپنی نمازوں کی طرف توجہ دینی چاہیے اور ان کی حفاظت کرنی چاہیے۔ یہ آیت ہمیں خصوصی طور پر ان نمازوں کی یاددہانی کراتی ہے جو دن کے دوران آتی ہیں۔ جب زیادہ تر لوگ اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔ اس طرح ہمیں یہ یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ جب ہم تمام دنیاوی خواہشات اور فائدوں کو پسِ پُشت ڈال کر اپنی نمازوں کی حفاظت کریں گے تو پھر ہمارے گھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے بھر جائیں گے۔

پھر ہم دیکھیں گے کہ تقویٰ اور نیکی ہمارے بچوں میں سرایت کر جائیں گے۔جب آپ ان بلند مقاصد کو حاصل کر لیں گے تب آپ اپنے اس عہد کو پورا کر رہے ہوں گے جو آپ نے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی شانِ فیاضی ایسی ہے کہ وہ ایک شخص کو اس کے تمام اچھے اعمال کا بدلہ نسبتاً بہت زیادہ دیتا ہے۔

پس جب اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کی خواہش کی وجہ سے آپ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتی ہیں اور اپنے شوہر اور بچوں کو نماز کی یاد دہانی کرواتی ہیں،تب آپ کی نمازیں حقیقت میں آپ کی حفاظت کے لیے مستعد ہو جاتی ہیں۔ وہ آپ کو لغزشوں سے پاک کریں گی۔ اللہ تعالیٰ سورۃ العنکبوت آیت 46میں فرماتا ہے:

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْکَرِ۔

’’یقیناً نماز بے حیائی اور ہر ناپسندیدہ بات سے روکتی ہے ‘‘۔

اس کا مطلب ہے نماز انسان کو ہر قسم کی بے حیائی اور بُری باتوں سے روکتی ہے۔باقاعدگی اور صحیح طور پر اد ا کی گئی نمازیں ہمیں بے حیائی اور بُرے کاموں سے باز رکھ کر ہماری حفاظت کرتی ہیں۔ یہ روحانی ڈھال صرف ایک فرد کو نہیں بچاتی بلکہ پورے گھرانے کی حفاظت کرتی ہے۔

…جب اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے حٰفِظُوا تو اس کا مطلب ہے کہ عبادت یک طرفہ عمل نہیں ( جیسا کہ دیگر مذاہب میںہے)۔جب ایک شخص اپنی نمازوں کی حفاظت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اُس کی حفاظت کرتا ہے۔اس حفاظت کا عملی اظہار اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے انعامات سے ہوتا ہے اور آخرت میں بھی۔ انسان کے لیے دنیا میں اس سے بڑی نعمت کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے بچے اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہوں۔

(احمدی مسلمان خواتین کی ذمہ داریاں، حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے چند منتخب خطابات کا مجموعہ صفحہ112تا114)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button
Close