خلاصہ خطبہ جمعہ

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 17؍ جولائی 2020ء

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت صحابہ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

آنحضرتﷺ نےفرمایا کہ سعد بن معاذؓ کے جنازے پر ستّر ہزار فرشتے حاضر ہیں جو اس سے قبل کبھی زمین پر نہیں اترے

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے حضرت ابو بکرؓ کی تبلیغ سے اسلام قبول کیا اور قبولِ اسلام کے وقت آپؓ کی عمر سترہ یا اُنیس برس تھی

دومرحومین مکرم ماسٹر عبدالسمیع خان صاحب کاٹھگڑھی اور مکرم سیّد مجیب اللہ صادق صاحب یوکےکا ذکر خیر، ان سمیت مکرم رانا نعیم الدین صاحب کی نمازِ جنازہ غائب

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍ جولائی 2020ء بمطابق 17؍ وفا 1399 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ  بنصرہ العزیزنےمورخہ 17؍ جولائی 2020ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا۔ جمعہ کی اذان دینے کی سعادت مکرم سفیر احمد صاحب کے حصے میں آئی۔تشہد، تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

گذشتہ خطبے میں حضرت سعد بن معاذؓ کاذکر ہورہا تھا۔ غزوۂ احزاب کاذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓ لکھتے ہیں۔اس لڑائی میں مسلمانوں کا جانی نقصان زیادہ نہیں ہوا۔ صرف پانچ ،چھ آدمی شہید ہوئے۔ کفّار کےبھی صرف تین آدمی قتل ہوئے لیکن اس جنگ میں قریش کو ایسا دھکا لگا کہ وہ پھر کبھی مسلمانوں کے خلاف اس طرح جتھہ بنا کر حملہ آور ہونے کی ہمّت نہ کرسکے۔

حضرت سعد بن معاذؓکو غزوۂ خندق کے موقعے پر کلائی میں زخم آیا جس سے آپؓ کی شہادت ہوئی۔ سعدؓ طویل القامت اور عظیم الجثّہ شخص تھے۔ حضرت عائشہؓ نے غزوۂ خندق کے روز دیکھا کہ سعدؓ کےبدن پرایک زرہ تھی جس سےآپؓ کی دونوں اطراف باہر تھیں۔جب سعدؓ زخمی ہوئے تو آپؓ نے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک کہ بنو قریظہ سے میری تسلّی نہ کرالے۔ حضرت سعدؓ کے بازو میں تِیر لگا تو رسول اللہﷺ نے اپنے ہاتھ سے تِیر کا پھل نکالا اور اسے داغ دیا۔ پھر حضورﷺ نے اُن کے لیے مسجد میں خیمہ نصب کرایا تاکہ قریب رہ کر ان کی عیادت کرسکیں۔ اسی طرح رفیدہ نامی ایک خاتون جو نرسنگ کی ماہر تھیں آپؓ کی خدمت پر مامور ہوئیں۔

جب آپؓ کا زخم خشک ہوکر اچھا ہونے لگا تو آپؓ نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر قریش کے ساتھ جنگ میں سے کچھ باقی ہے تو مجھے ان کے مقابلے کے لیےزندہ رکھ اور اگر تُو نے ہمارے اور اُن کے درمیان جنگ کا خاتمہ کردیا ہے تو پھر اس زخم کو میری شہادت کا ذریعہ بنادے۔اسی رات آپؓ کا زخم پھٹ گیا اور خون بہ نکلا، رسول اللہﷺ نے سعدؓ کا سر اپنی گود میں رکھا اور انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا۔ آپؓ کا خون رسول اللہﷺکے منہ اور داڑھی پر لگ ہا تھا۔ حضورﷺ نے آپؓ کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! تُو سعد کی رُوح کو اس خیر کے ساتھ قبول فرما جس کے ساتھ تُو کسی روح کو قبول کرتا ہے۔بوقتِ شہادت سعدؓ کی عمر37سال تھی۔

حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓ فرماتے ہیں کہ سعدؓ کی وفات مسلمانوں کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان تھی۔ سعدؓکی انصار میں قریباً وہی پوزیشن تھی جو مہاجرین میں حضرت ابوبکرؓ کو حاصل تھی۔ آنحضرتﷺ کو آپؓ کی وفات کا شدید صدمہ ہوالیکن آپؐ نے کامل صبر سے کام لیا ، سعدؓکی نمازِ جنازہ پڑھائی اور تدفین کے لیے خود ساتھ تشریف لے گئے۔غالباً اسی موقعے پر آپؐ نے فرمایا کہ سعد کی موت پر خدائے رحمٰن کا عرش جھومنے لگ گیا ہے۔

رسول اللہﷺ نے سعدؓ کی والدہ سے فرمایا کہ تمہارا بیٹا وہ پہلا شخص ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ مسکرایا۔اسی طرح آنحضرتﷺ نےفرمایا کہ سعد بن معاذؓ کے جنازے پر ستّر ہزار فرشتے حاضر ہیں جو اس سے قبل کبھی زمین پر نہیں اترے۔ سعدؓ کے جنازے سے واپسی پر حضورﷺ کے آنسو آپؐ کی داڑھی پر بہ رہے تھے۔

ایک عرصے کے بعد آپؐ کو کچھ ریشمی چادریں بطور ہدیہ پیش کی گئیں تو صحابہ ان کی نرمی اور ملائمت سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں ایک غیرمعمولی چیز جانا۔ اس پر آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ خدا کی قسم! جنت میں سعدؓکی چادریں ان سے بہت زیادہ نرم اور اچھی ہیں۔

دوسرےصحابی حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کا حضورِانور نے تذکرہ فرمایا۔ آپؓ کی کنیت ابو اسحٰق تھی جبکہ آپؓ کا تعلق قریش کے قبیلہ بنو زہرہ سے تھا۔ یہ وہی قبیلہ ہے جس سے آنحضرتﷺ کی والدہ کا تعلق تھا چنانچہ آپؐ حضرت سعدؓ کو اپنا ماموں کہا کرتے تھے۔آپؓ عشرہ مبشرہ میں شامل تھے۔ قبولِ اسلام کی نسبت سعدؓ نے خواب میں دیکھا کہ آپؓ تاریکی میں ہیں کہ اچانک چاند طلوع ہوا تو آپؓ اس جانب چل پڑے۔کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکرؓ، علیؓ اور زید بن حارثہؓ بھی اسی جانب جارہے ہیں۔ آپؓ نے حضرت ابو بکرؓ کی تبلیغ سے اسلام قبول کیا اور قبولِ اسلام کے وقت آپؓ کی عمر سترہ یا اُنیس برس تھی۔

حضرت سعدؓ کی والدہ نے قسم کھائی تھی کہ جب تک سعدؓ اسلام کا انکار نہ کردیں وہ ان سے بات نہ کرے گی چنانچہ وہ کچھ کھاتی پیتی نہ تھی جب سعدؓ کی والدہ کی حالت بہت زیادہ خراب ہوگئی تو سعدؓ نےاس سے کہا کہ اے ماں! اگر تمہاری ایک ہزار جانیں ہوں اور وہ ایک ایک کرکے نکلیں تب بھی مَیں اپنے دین کو چھوڑنے والا نہیں ہوں۔

اسلام کے ابتدائی دنوںمیں مسلمان مکّے کی گھاٹی میں چھپ کر نماز پڑھ رہے تھے کہ کفّار نے دیکھ کر خوب مذاق اڑایا اوردینِ اسلام میں عیب نکالے تو نوبت لڑائی تک جاپہنچی۔ سعدؓ نے ایک مشرک کے سر پر اونٹ کی ہڈی اس زور سے ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا۔یہ پہلا خون تھا جو اسلام میں بہایا گیا۔

شعبِ ابی طالب میں محصوری کےدوران تکالیف اٹھانے والے مسلمانوں میں سعدؓ بھی شامل تھے۔ ایک رات آپؓ کو پاؤں کے نیچے کوئی نرم چیز محسوس ہوئی، بھوک کی شدت کے باعث آپؓ نے اسے اٹھا کر نگل لیا۔ فرماتے تھے کہ مجھے آج تک نہیں پتا کہ وہ چیز کیا تھی۔ اسی طرح ایک دفعہ آپؓ کو چمڑے کا ایک ٹکڑا ملا جسے آپؓ نے صاف کرکے بھونا اور کھا لیااور تین دن اسی پر بسر کیے ۔

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ ابتدائی ہجرت کرنے والوں میں سے تھے ۔ آنحضرتﷺ نے آپؓ کی مؤاخات حضرت مصعب بن عمیرؓ یا سعدبن معاذ ؓکے ساتھ قائم فرمائی۔

حضرت سعدبن ابی وقاصؓ قریش کے بہادر شاہ سواروں میں سے تھے۔ غزوات میں رسول اللہﷺ کی حفاظت کی ذمہ داری جن اصحاب کے سپرد ہوتی آپؓ اُن میں شامل تھے۔ایک روایت کے مطابق حضورﷺ کے اصحاب میں چار اشخاص حضرت عمرؓ،علیؓ، زبیرؓ اور سعد بن ابی وقاصؓ سخت حملہ آور تھے۔

ہجرتِ مدینہ کے ابتدائی ایام میں مسلمانوں کو ہروقت کفّارِ مکّہ کے حملے کا خطرہ رہتا تھا جس کی وجہ سے مسلمان اکثر راتوں کو جاگا کرتے تھے۔ ایسی ہی ایک رات حضورِا کرمﷺ سو نہ سکےتوآپؐ نے فرمایا کہ کاش میرےصحابہ میں سے کوئی آج رات پہرہ دے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اسی دوران ہم نے اسلحے کی آواز سنی ۔ آپؐ نے فرمایا کون ہے تو باہر سے آواز آئی سعد بن ابی وقاص ہوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا تم کیسے آئے تو سعدؓ نے عرض کیا پہرے کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔ آنحضرتﷺ نے سعدؓ کو دعا دی کہ اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا کو قبول کیجیو۔

اس دعا کی برکت سے سعدؓ بڑے مستجاب الدعوات تھے۔ ایک مرتبہ کوئی شخص حضرت علیؓ کو گالیاں نکال رہا تھا تو سعدؓ نے اسے ٹوکا اور حضرت علیؓ کے فضائل بیان فرمائے ۔ پھر آپؓ نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر اس شخص نے حضرت علیؓ کو گالیاں دی ہیں تو اس مجمع کے منتشر ہونے سے پہلے اپنی قدرت کا نشان دکھا۔ چنانچہ اس شخص کی سواری نے اسے نیچے گرادیا اور اس کے سر کو پیروں سے پتھر پر مارا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ مر گیا۔

غزوۂ احزاب میں جب خندق میں ایک جگہ شگاف پڑاتوآنحضرتﷺ اس کی حفاظت کے لیے متواتر جاگتے رہے یہاں تک کہ بالکل نڈھال ہوگئے ۔ آپؐ نے فرمایا کہ کاش کوئی مخلص مسلمان ہوتا تو میں کچھ دیر آرام سے سو جاتا۔ ایسے میں باہر سے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی آواز آئی۔ آنحضرتﷺ کے استفسار پر آپؓ نے فرمایا کہ پہرہ دینے آیا ہوں۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ جہاں خندق کا کنارہ ٹوٹ گیا ہے وہاں جاؤ اور اُس کا پہرہ دو ۔

خطبے کے آخر پر حضورِانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دو مرحومین کا ذکرِ خیر فرمایا ۔ جن میں پہلا ذکر مکرم ماسٹر عبدالسمیع خان صاحب کاٹھگڑھی کا تھا جو6؍جولائی کو ربوہ میں وفات پاگئے۔

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

مرحوم 1937ء میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے دادا حضرت چوہدری عبدالسلام خان صاحب کاٹھگڑھی حضرت مسیح موعودؑ کے صحابی تھے۔ مرحوم تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے ہیڈ ماسٹررہے۔اسی طرح بطور زعیم انصار اللہ اور صدر حلقہ دارالرحمت شرقی خدمت کی توفیق ملی۔ حضورِانور نے فرمایا کہ مرحوم میرے بھی استاد تھے ۔ سکول میں بڑے اچھے انداز میں پڑھایا کرتے ،چہرے پر ہمیشہ نرمی رہتی اور سمجھاتے بہت اچھے انداز میں تھے۔ آپ کی اولاد میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

دوسرا ذکرِ خیر مکرم سیّد مجیب اللہ صادق صاحب کا تھا جو 28؍مئی کو 83برس کی عمر میں وفات پاگئے۔

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔

مرحوم کوارلزفیلڈ، یوکے میں بطور صدر جماعت خدمت کی توفیق ملی۔ اسی طرح امیر صاحب یوکے کے دفتر میں سولہ سال رضاکارانہ خدمات بجالاتے رہے۔ مرحوم تہجد گزار، خلافت اور جماعت سے محبت رکھنے والے، بڑی خوبیوں کے مالک تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دوبیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔

خطبے کے اختتام پر حضورِانور نے فرمایا کہ ہمارے پرانے کارکن اور اسیرِ راہِ مولیٰ رانا نعیم الدین صاحب مرحوم کا ذکر تو پہلے ہوچکا ہے۔ اِن کی بھی نمازِ جنازہ ان شاء اللہ آج ادا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ ان سب کے ساتھ مغفرت اور رحم کا سُلوک فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button