حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

شرک کے بعد تکبر جیسی کوئی بلا نہیں

ساتویں شرط بیعت(حصہ دوم)

شرک کے بعد تکبر جیسی کوئی بلا نہیں(حصہ دوم)

اللہ تعالیٰ قرآ ن شریف میں فرماتاہے:

وَ لَا تُصَعِّرۡ خَدَّکَ لِلنَّاسِ وَ لَا تَمۡشِ فِی الۡاَرۡضِ مَرَحًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍ(لقمان: آیت 19)۔

اس کا ترجمہ یہ ہے: اور (نخوت سے) انسانوں کے لئے اپنے گال نہ پُھلا اور زمین میں یونہی اکڑتے ہوئے نہ پھر۔ اللہ کسی تکبر کرنے والے (اور) فخرومباہات کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔

جیساکہ اس آیت سے بھی ظاہر ہے اللہ تعالیٰ ہمیں فرمارہاہے کہ یونہی اپنے گال پھلاکر، تکبر کرتے ہوئے نہ پھرو۔ تکبرکرنے والوں کا ایک خاص انداز ہوتاہے اور گردن اکڑاکر پھرنا اللہ تعالیٰ کو بالکل پسند نہیں۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے اکڑ دکھا رہے ہوتے ہیں اور اپنے سے اوپر والے کے سامنے بچھتے چلے جاتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں میں منافقت کی برائی بھی ظاہر ہو رہی ہوتی ہے۔تو یہ تکبر جوہے بہت سی اخلاقی برائیوں کا باعث بن جاتاہے اورنیکی میں ترقی کے راستے آہستہ آہستہ بالکل بند ہو جاتے ہیں۔ اورپھر دین سے بھی دورہوجاتے ہیں، نظام جماعت سے بھی دور ہو جاتے ہیں۔اور جیسے جیسے ان کا تکبر بڑھتاہے ویسے ویسے وہ اللہ اور رسول کے قرب سے، اس کے فضلوں سے بھی دور چلے جاتے ہیں۔

ایک حدیث میں آتاہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا :قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ مجھے محبوب اور سب سے زیادہ میرے قریب وہ لوگ ہوں گے جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے ہوں گے۔ اور تم میں سے زیادہ مبغوض اور مجھ سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو ثرثار یعنی منہ پھٹ،بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے ہیں، متشدِّق یعنی منہ پھلا پھلا کر باتیں کرنے والے اورمُتَفَیْہِقْ یعنی لوگوں پر تکبر جتلانے والے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ثرثار اور متشدِّق کے معنے توہم جانتے ہیں، مُتَفَیْہِق کسے کہتے ہیں۔ آپ ؐنے فرمایا : مُتَفَیْہِق متکبرانہ باتیں کرنے والے کو کہتے ہیں۔

(سنن ترمذی۔ ابواب البر والصلۃ۔ باب فی معالی الاخلاق)

ایک اَور حدیث ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، آنحضرتﷺ نے فرمایا :تین باتیں ہر گناہ کی جڑ ہیں ان سے بچناچاہئے۔ تکبر سے بچو کیونکہ تکبر نے ہی شیطان کو اس بات پراکسایا کہ وہ آدم کوسجدہ نہ کرے۔ دوسرے حرص سے بچو کیونکہ حرص نے ہی آدم کو درخت کھانے پر اکسایا۔تیسرے حسد سے بچو کیونکہ حسد کی وجہ سے ہی آدم کے دوبیٹوں میں سے ایک نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا تھا۔

(رسالہ قشیریہ۔ باب الحسد۔ صفحہ79)

پھر حدیث ہے۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا :جس کے دل میں ذرہ بھر بھی تکبر ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں نہیں داخل ہونے دے گا۔ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ !انسان چاہتاہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو،جوتی اچھی ہو اور خوبصورت لگے۔ آپ ؐنے فرمایا :یہ تکبر نہیں۔آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جمیل ہے، جمال کو پسند کرتاہے، یعنی خوبصورتی کو پسند کرتاہے۔ تکبر دراصل یہ ہے کہ انسان حق کا انکار کرنے لگے،لوگوں کو ذلیل سمجھے، ان کو حقار ت کی نظر سے دیکھے اوران سے بری طرح پیش آئے۔

(صحیح مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب تحریم الکبر وبیانہ)

پھر ایک روایت میں آتاہے حضرت ابوہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :دوزخ اور جنت کی آپس میں بحث اور تکرار ہو گئی۔ دوزخ نے کہاکہ مجھ میں بڑے بڑے جابر اورمتکبر داخل ہوتے ہیں اورجنت کہنے لگی کہ مجھ میں کمزور اورمسکین داخل ہوتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے دوزخ کوفرمایا کہ تو میرے عذاب کی مظہرہے۔جسے مَیں چاہتاہوں تیرے ذریعہ عذاب دیتاہوں۔اور جنت سے کہا تو میری رحمت کی مظہر ہے جس پر مَیں چاہوں تیر ے ذریعہ رحم کرتاہوں۔ اور تم دونوں میں سے ہرایک کو اس کا بھرپورحصہ ملے گا۔

(صحیح مسلم۔ کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا۔ باب النّار یدخلھاالجبّارون والجنّۃ یدخلھاالضّعفائُ)

اللہ کرے کہ ہراحمدی عاجزی، مسکینی اورخوش خلقی کی راہوں پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رحم کی نظر حاصل کرنے والاہو، اللہ تعالیٰ کی جنت میں جانے والاہو اور ہر گھر تکبر کے گناہ سے پاک ہو۔

ایک حدیث میں آتاہے۔ حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :عزت اللہ تعالیٰ کا لباس اور کبریائی اس کی چادر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے پس جو کوئی بھی انہیں مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا مَیں اسے عذاب دوں گا۔

(صحیح مسلم۔ کتاب البر والصلۃ۔ باب تحریم الکِبر)

متکبر ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوگا

پس تکبر آخرکار انسان کو خدا کے مقابل پر کھڑا کر دیتا ہے۔جب خدا کا شریک بنانے والے کو اللہ تعالیٰ نے کہا ہے کہ معاف نہیں کروں گا تو پھر جو خود خدائی کا دعویدار بن جائے اس کی کس طرح بخشش ہو سکتی ہے۔یہ تکبر ہی تھا جس نے مختلف وقتوں میں فرعون صفت لوگوں کو پیدا کیا اور پھر ایسے فرعونوں کے انجام آپ نے پڑھے بھی اوراس زمانہ میں دیکھے بھی۔ یہ بڑاخوف کامقام ہے۔ ہر احمدی کو ادنیٰ سے تکبر سے بھی بچنا چاہئے کیونکہ یہ پھر پھیلتے پھیلتے پوری طرح انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتاہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ وارننگ دے دی ہے، واضح کردیاہے کہ یہ میری چادر ہے، مَیں ربّ العالمین ہوں، کبریائی میری ہے، ا س کو تسلیم کرو، عاجزی دکھائو۔اگر ان حدود سے باہر نکلنے کی کوشش کروگے تو عذاب میں مبتلا کئے جائو گے۔اگر رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہے توعذاب تمہارا مقدرہے لیکن ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی دے دی کہ اگر ذرّہ بھر بھی تمہارے اندرایمان ہے تو مَیں تمہیں آگ کے عذاب سے بچا لوںگا۔ جیسا کہ حدیث میں آیاہے۔

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔ اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا و ہ آگ میں داخل نہ ہوگا۔

(سنن ابن ماجہ۔ المقدمہ۔ باب فی الایمان۔ حدیث نمبر59)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں : ’’ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ قیامت کے دن شرک کے بعد تکبر جیسی اور کوئی بلا نہیں۔ یہ ایک ایسی بلا ہے جو دونوں جہان میں انسان کو رسوا کرتی ہے۔ خدا تعالیٰ کا رحم ہر ایک موحد کا تدارک کرتا ہے مگر متکبر کا نہیں۔ شیطان بھی موحد ہونے کادم مارتا تھا مگر چونکہ اس کے سر میں تکبر تھا اور آدم کو جو خدا تعالیٰ کی نظر میں پیارا تھا جب اس نے توہین کی نظر سے دیکھا اور اس کی نکتہ چینی کی اس لئے وہ مارا گیا اور طوق لعنت اس کی گردن میں ڈالا گیا۔ سو پہلا گناہ جس سے ایک شخص ہمیشہ کیلئے ہلاک ہوا تکبر ہی تھا۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن۔ جلد5۔ صفحہ598)

پھر فرماتے ہیں:’’اگر تمہارے کسی پہلو میں تکبر ہے یا ریا ہے یا خود پسندی ہے یا کسل ہے تو تم ایسی چیز نہیں ہو کہ قبول کے لائق ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تم صرف چند باتوں کو لے کر اپنے تئیں دھوکہ دو کہ جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر لیا ہے۔ کیونکہ خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے۔ اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا‘‘۔

(کشتی نوح۔ روحانی خزائن۔ جلد19۔ صفحہ12)

(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close