متفرق مضامین

انفلوئنزا 1920ء: حضرت مصلح موعودؓ کی بے مثال رہنمائی اور احمدیوں کی خدمتِ خلق کے قابلِ تقلید نظارے

(ذیشان محمود۔ مربی سلسلہ ربوہ)

حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی بعثت کی علامات میں سے ایک علامت کثرت سے وبائی امراض کا پھوٹنا اور کثرت سے لوگوں کا متاثر ہونا بیان فرمایا ہے۔ یہ الہام طاعون کی وبا سے خاص نہیں۔ امراض جمع کا صیغہ ہے

وبائی ایام میں ایک حقیقی مومن کی مثال اس کبوتر کی مانند نہیں ہوتی جوبلّی کو اِردگرد گھومتا دیکھ کر اپنی آنکھیں اس خیال سے موندلیتا ہے تاکہ وہ بچ جائے۔ بلکہ اس کے بر عکس وہ تمام ظاہری اسباب سے کام لینا ضروری سمجھتا ہے۔ اس کی مثال ہمیں تاریخ سے اس وقت ملتی ہے جب جماعت احمدیہ نے وبائی ایام میں دعاؤں کے ساتھ ساتھ ظاہری تدابیر بھی اختیار کیں ۔

حضرت مصلح موعودؓ کی بے مثال رہنمائی نے اہالیان قادیان اور اردگرد کے دیہات کے رہنے والوں کو وبائی ایام میں محفوظ رکھا اور متاثرین کی ہر ممکن مدد بھی کی گئی۔ یہ تمام امور اس زمانہ کے اخبارات نے محفوظ کیے۔ حضرت مصلح موعودؓنے اپنے خطبات میں دعائیں کرنے اور خدمتِ خلق کی طرف توجہ دینے کی پر زور تلقین فرمائی۔ اس مضمون میں اس حوالے سے بعض امور کی کچھ تفصیل بیان کی جائےگی۔

انفلوئنزا کا مختصر تعارف

گذشتہ صدی بیسویں کا دوسرا عشرہ ابھی ختم ہونے نہ پایا تھا کہ انفلوئنزا (The Spanish Flu) کی وبا نے پوری دنیاکو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ جنگ عظیم اوّل کے آخری ایام تھے جب اس وبا سے مختلف علاقوں میں لاکھوں افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ اسے فلو، وبائی نزلہ، ہسپانوی فلو(The Spanish Flu)، فرنچ فلواور جنگی بخار کےنام سے بھی پکارا گیا۔ جبکہ اسےطب میں انفلوئنزا H1N1یا influenza type A subtype H1N1کہا جاتا ہے۔

اس وبا کا منبع سپین خیال کیا جاتا ہے لیکن در حقیقت فرانس، چائنا اور برطانیہ کے مطابق یہ وبا امریکہ سے شروع ہوئی کیونکہ اس کا پہلا کیس 11؍مارچ 1918ء کو Kansas کے فوجی اڈے میں رپورٹ ہوا۔ امریکا میں انفلوئنزا کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کے بعد چھ دنوں میں 6674؍کیسز سامنے آئے۔ ماہرین کے مطابق اپریل میں مغربی یورپ میں آنے والے امریکی فوجی اسے اپنے ساتھ لائے اور جولائی تک یہ پولینڈ میں پھیل گئی۔ اس وبا کو ہسپانوی فلو قرار دینے کی غلطی یوں ہوئی کہ جنگ عظیم اوّل میں سپین نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا۔ ہسپانوی بادشاہ Alfonso XIIIمئی 1918ء میں اسی وبا کا شکار ہوا۔ جنگی پابندیوں (خصوصاً جنگی حالات شائع نہ کرنے) کے باعث ہسپانوی میڈیا نے صرف بادشاہ کی بیماری سے متعلق ہی رپورٹ کی جس سے دنیا نے خیال کیا کہ سپین سے یہ وبا پھوٹی ہے اور اسی وجہ سے اسے The Spanish Flu کے نام سے پکارا گیا۔ سپین نے اسے فرنچ فلو کا نام دیا ان کے خیال میں فرانس سے یہ وبا پھوٹی تھی۔

یہ وبا تین لہروں کی صورت میں دنیا میں پھیلی۔ اس کی پہلی لہر عالمی جنگ کے دوران مارچ 1918ء کے اوائل میں کیمپ فونسٹن، کنساس، امریکہ میں پھیلی۔ دوسری لہر نے اگست 1918ء میں سر اٹھایا اور سردیوں کے اختتام تک اس وبا نے یورپ امریکہ کے ساتھ ساتھ افریقہ اور ایشیاء میں بھی اپنا جوبن دکھایا اور نیوزی لینڈ اورآسٹریلیا میں بھی لوگوں کو متاثر کیا۔ تیسری لہر1919ء کی خزاں میں ظاہر ہوئی۔

آخری دو لہروں میں نصف کے قریب ہلاک ہونے والوں کی عمریں 20سے 40برس کے درمیان تھیں ، جو کہ انفلوئنزا کے لحاظ سے خلاف معمول ہے۔ اس وبا نے پہلے ساحلی علاقوں میں اورپھر شہر وں میں اپنا جال بچھادیا۔ اور پھر دنیاکے تقریباً تمام علاقوں میں یہ وباپھیل گئی۔

انفلوئنزا نے 1918ء میں اس وقت دنیا کی آبادی کے بیس سے چالیس فی صد افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اور پچاس سے سو ملین کے مابین افراد اس کا شکار ہو کر ہلاک ہوئے تھے۔ ستمبر 1918ء سے اپریل 1919ء کے درمیان صرف امریکہ میں اس انفلوئنزا سے چھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ برصغیر میں اس وبا سے سوا کروڑ افراد کی جان گئی۔ اُس دور میں عالمی معیشت کو شدید مشکلات کا سامنا رہا اور چھوٹا کاروبار کرنے والے افراد کی بڑی تعداد اس دوران دیوالیہ ہو گئی۔

ہسپانوی انفلوئنزا کی چند وبائیں 1920ء کی دہائی میں بھی پھیلیں لیکن وہ اتنی مہلک نہیں تھیں ۔

(یہ اعداد و شمار درج ذیل ویب سائٹس سے لیے گئے ہیں ۔
http://ww1centenary.oucs.ox.ac.uk/body-and-mind/the-spanish-influenza-pandemic-and-its-relation-to-the-first-world-war/
https://www.history.com/news/why-was-it-called-the-spanish-flu
https://dunya.com.pk/index.php/special-feature/2018-10-21/22470)

مسیح کے زمانہ میں فلو کے وائرس کے متعلق آنحضرتﷺ کی پیشگوئی

آنحضرتﷺ نے جہاں مہدی کے آمد کے متعلق بہت سی پیشگوئیاں بیان فرمائی ہیں وہاں یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کے زمانہ میں ایک ایسی بیماری پھیلے گی جس کا تعلق ناک کے کیڑے(virus) سے ہو گا۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں

وَيُحْصَرُ نَبِيُّ اللّٰهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ حَتّٰى يَكُونَ رَأْسُ الثَّوْرِ لِأَحَدِهِمْ خَيْرًا مِنْ مِائَةِ دِينَارٍ لِأَحَدِكُمْ الْيَوْمَ فَيَرْغَبُ نَبِيُّ اللّٰهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ فَيُرْسِلُ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ النَّغَفَ فِي رِقَابِهِمْ فَيُصْبِحُونَ فَرْسَى كَمَوْتِ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ ثُمَّ يَهْبِطُ نَبِيُّ اللّٰهِ عِيسَى وَأَصْحَابُهُ إِلَى الْأَرْضِ فَلَا يَجِدُونَ فِي الْأَرْضِ مَوْضِعَ شِبْرٍ إِلَّا مَلَأَهُ زَهَمُهُمْ وَنَتْنُهُمْ

(صحیح مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال)

اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ علیہ السلام اپنے ساتھیوں سمیت گھیر لیے جائیں گے(یعنی خوراک کی اس قدر قلت ہو جائے کہ) ایک بیل کا سر آج کے سو دینار کے مقابلے میں سستا اور اچھا لگے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کے نبی عیسیٰ اور آپ کے ساتھی اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرتے ہوئے توجہ فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ عذاب کے طور پر ان کی گردنوں میں نغف بھیجے گا۔ جس کی وجہ سے وہ یک دم ہلاک ہو جائیں گے۔ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھی ہم وار میدانوں میں اتریں گے لیکن تمام زمین میں ایک بالشت جگہ بھی لاشوں اور بدبو سے خالی نہیں ہو گی۔

یہ پیشگوئی صحیح مسلم کی ایک لمبی حدیث سے لی گئی ہے جس میں آنحضرتﷺ نے دجال کے حالات اور مسیح ابن مریم کے اس کو شکست دینے کا ذکر فرمایا ہے۔ فرمایا ہے کہ پہلے تو مسیح موعود اور ان کے ساتھیوں کو دشمن گھیریں گے دجال اور ان کے ہم نوا مسیح موعود اور ان کے ساتھیوں کو سخت تکالیف دیں گے اور مسیح موعودؑ ان کی تکالیف پر خدا کے حضور دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک ایسا عذاب نازل کرے جس کا تعلق ’’نغف‘‘ سے ہو گا۔ نغفعربی زبان میں اس کیڑے کو کہتے ہیں جو ناک سے داخل ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے جانور یا انسان کو زکام ہو جاتا ہے۔ گویا کہ پیشگوئی کے رنگ میں فرمایا تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں فلو کا وائرس عذاب کے طور پر دنیا کو ہلاک کرے گا اور اس کی وجہ سے لاشوں کے ڈھیر لگ جائیں گے اور ایسے وقت میں عیسیٰ اور ان کے ساتھی میدانوں میں اتریں گے اور دُکھی انسانیت کی خدمت کا فریضہ سر انجام دیں گے۔

یہ پیشگوئی اب تک دنیا میں کئی شکلوں میں آ چکی ہے کبھی انسانی فلو کی شکل، کبھی برڈ فلو کی شکل اور کبھی سوائن فلو کی شکل میں ۔ 1918ء میں یہ بیماری نہایت خوفناک شکل میں پھیلی جس سے دو کروڑ آدمی دنیا بھر میں مر گئے۔ 1957ء کے فلو میں صرف امریکہ میں 45ملین افراد متاثر ہوئے اور دنیا بھر میں 20 لاکھ لوگ مر گئے۔ پھر 1969ء میں ایشین فلو اور 1976ء میں ہانگ کانگ فلو نے شدید تباہی مچائی۔ 2004ء میں برڈ فلو اور 2009ء میں سوائن فلو نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا۔

(ماخوذ ازاداریہ ہفت روزہ بدر قادیان 27؍اگست 2009ء )

حضرت مصلح موعودؓ اس پیشگوئی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

’’صحتِ عامہ کے متعلق ایک بات یہ بھی رسول اللہﷺ نے بیان فرمائی ہے کہ اس وقت ایک بیماری ہو گی جو ناک سے تعلق رکھے گی۔ جس سے کثرت سے لوگ مر جائیں گے۔ یہ بیماری بھی پیدا ہو چکی ہے جسے طبی اصطلاح میں انفلوئنزا کہتے ہیں ۔ اس بیماری سے 1918ء میں دو کروڑ آدمی دنیا بھر میں مر گئے۔ حالانکہ پنج سالہ جنگ عالمگیر میں صرف ساٹھ لاکھ کے قریب آدمی مرا تھا۔ گویا کل دنیا کی آبادی کا ڈیڑھ فیصدی حصہ اس بیماری سے فنا ہو گیا اور دنیا کو یہ بیماری قیامت کا یقین دلا گئی۔ کیونکہ لوگوں نے دیکھ لیا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اُس کے لئے دنیا کا خاتمہ کر دینا کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔‘‘

(دعوة الامیر، انوار العلوم جلد 7صفحہ 412)

انفلوئنزا۔ صداقت حضرت مسیح موعودؑ کا نشان

اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو صداقت کا ایک بڑا نشان

الامراض تشاء و النفوس تضاع

عطا فرمایا۔

(الہام 2؍مارچ 1900ء۔ تذکرہ صفحہ 289)

یعنی کہ امراض پھیلائے جائیں گے اور جانیں ضائع کی جائیں گی۔

حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی بعثت کی علامات میں سے ایک علامت کثرت سے وبائی امراض کا پھوٹنا اور کثرت سے لوگوں کا متاثر ہونا بیان فرمایا ہے۔ یہ الہام طاعون کی وبا سے خاص نہیں ۔ امراض جمع کا صیغہ ہے۔ اس امر کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ الہام مذکورہ بالا 1900ء میں ہیضہ کی وبا ظاہر ہونے سے قبل بھی ہوا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے نئے نئے امراض کا پھوٹنا اور اس انفلوئنزا کی وبا کو حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت اور آپ کے الہامات کا مصداق ٹھہرایا۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ

’’قرآن کریم نے ہی یہ قانون مقرر فرمایا ہے کہ اس وقت تک عذاب نہیں آتا جب تک کہ رسول نہ آئے۔ ( بنی اسرائیل: 16) پس اب جبکہ عذاب آگیا ہے اور عذاب بھی ایسا ہے جو عالمگیر ہے تو معلوم ہؤا کہ خدا کا رسول آچکا ہے اور رسول بھی کوئی معمولی رسول نہیں بلکہ وہ بھی تمام دُنیا کے لئے رسول ہے اور اس کا تعلق صرف ایک خطۂ زمین سے نہیں بلکہ تمام روئے زمین کے باشندوں کے ساتھ ہے کیونکہ اس وقت تباہی ساری دُنیا پر پھیلی ہوئی ہے اس لئے وہ رسول بھی ساری دُنیا کے لئے ہے اور یہ ہم نہیں کہتے بلکہ خدا کہتا ہے۔

پس غور کرو کہ یہ کیسا خوفناک وقت ہے۔ ایک عذاب ابھی پیچھا نہیں چھوڑتا کہ دوسرا اس سے بھی سخت آ موجود ہوتا ہے۔ طاعون ابھی گئی نہیں کہ اس کے علاوہ ایک اور نہایت خطرناک مرض نمودار ہو گیا ہے جس نے طاعون کا کام سنبھال لیا ہے۔ چونکہ طاعون کو لوگوں نے اب معمولی بیماری سمجھ لیا تھا اس لئے خدا نے ایک اور مرض بھیجا جو طاعون سے الگ ہے۔ اﷲ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جب دوزخیوں کی جلدیں جل جائیں گی تو ان کی جلدوں کو ہم بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کو چکھ سکیں ۔ (النساء:57)

وہاں تو جلدیں بدلی جائیں گی لیکن یہاں عذاب بدلے جارہے ہیں تاکہ لوگ ایک عذاب کے عادی ہو کر اسے معمولی نہ سمجھ لیں اور اس سے بے پرواہ نہ ہو جائیں ۔ پس فی الحال طاعون چلا گیا۔ چنانچہ اخباروں میں شائع ہو رہا ہے کہ آجکل طاعون سے چونکہ کوئی کیس نہیں ہوتا یا شاذ و نادر ہوتا ہے اس لئے یہاں سے چلا گیا اور اس کی بجائے خدا نے ایک نئے مرض کو بھیج دیا اور اس بات سے خدا تعالیٰ نے اپنے اس رسول کے ذریعہ جسے اس نے ان عذابوں سے پہلے بھیجا، آگاہ کر دیا تھا کہ مَیں نئے نئے امراض بھیجوں گا چنانچہ اب وہ بھیج رہا ہے اور اس نئے مرض سے قریباً 800موتیں روزانہ صرف بمبئی میں ہوئی ہیں اور علاقہ کی حالت تو اور بھی خراب ہے۔ پھر پنجاب کے ہر قریہ، ہر قصبہ اور ہر شہر میں اس نے طوفان مچا رکھا ہے۔ اس کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے پاکر بہت عرصہ قبل دی تھی۔ چنانچہ آپ کو الہام ہؤا تھا

أَلْاَمْرَاضُ تُشَاعُ وَالنُّفُوْسُ تُضَاعُ۔ (تذکرہ صفحہ 347، ایڈیشن چہارم)

کہ امراض پھیلائے جائیں گے اور جانیں ضائع کی جائیں گی۔ یہ الہام آپ نے آج سے پچیس سال قبل شائع فرمایا تھا۔ پس آج وہ پورا ہو رہا ہے۔ جبکہ نئی نئی قسم کی وبائیں دُنیا میں پھیل رہی اور انسانوں کو ہلاک کر رہی ہیں ۔‘‘

(خطبہ جمعہ 11؍اکتوبر 1918ءبحوالہ الفضل 2؍ نومبر 1918ء)

تمام انبیاء کے نشان کا مجموعہ

حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓفرماتےہیں کہ

’’غرض وہ تمام حرکتیں آپؑ کے مقابلہ میں کی گئیں جو پہلے نبیوں کے مقابلہ میں کی گئی تھیں ۔ جن سے ثابت ہؤا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بروز ہیں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم وارث ہیں تمام انبیاء کی صفات کے، لیکن جہاں یہ ثابت ہؤا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے بروز ہیں وہاں یہ بھی پتہ لگ گیا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مخالف بروز ہیں پہلے تمام انبیاء کے مخالفین کے۔ اور چونکہ اُنہوں نے تمام وہ شرارتیں کیں جو پہلے انبیاء کے مقابلہ میں کی گئیں اِس لئے اﷲ تعالیٰ نے انہیں ہر ایک رنگ کے عذابوں کا نمونہ دکھایا۔ نوح ؑکے وقت کا عذاب اُس نے دکھایا، ابراہیمؑ کے مخالفوں کو جو عذاب دیئے گئے تھے وہ یہاں آئے، اسمٰعیلؑ و اسحاق ؑ و یوسف ؑ کے مخالفوں کے عذاب کے نمونے یہاں دکھائے گئے۔ غرض جس قدر قومیں گزری ہیں اُن کو جو عذاب دیئے گئے تھے وہ سب عذاب اِس زمانہ میں بھیجے گئے تا لوگوں کی آنکھیں کھلیں ۔ زلزلوں اور آندھیوں نے مُلکوں کو تہہ و بالا کر ڈالا، آسمان سے پتھر برسے، زمین کے پرخچے اُڑ گئے۔ دُور کی بات تو الگ رہی یہاں سے پچاس میل کے فاصلے پر کانگڑہ ہے۔ وہاں یہ نظارے دیکھنے میں آئے۔ پھر طوفان آئے اور ایسے آئے کہ ہزاروں لاکھوں غرق ہو گئے۔ قحط پڑے اور ایسے پڑے کہ ہٹنے میں ہی نہیں آئے۔ بیماریاں پڑیں اور ایسی پڑیں کہ ان کے نام تک کسی نے پہلے نہیں سُنے تھے۔ طاعون پھُوٹی، ہیضہ پھیلا، بخارآیا مگر لوگوں نے کہا کہ طاعون آیا ہی کرتی ہے، ہیضہ پھیلا ہی کرتا ہے، بخاراہؤا ہی کرتے ہیں ، انفلوئنزا پہلے بھی پھیل چُکا ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ ڈاکٹر بتلا رہے ہیں کہ اِس قسم کا انفلوئنزا جو ایسا زہریلا ہو کبھی نہیں آیا جیسا کہ گزشتہ ایّام میں گزرا ہے۔

اب ایک نیا بخار پھیلا ہے جس کا نام قحط کا بخار رکھا گیا ہے۔ اِس کی یہ کیفیت ہے کہ ایک ہفتہ چڑھتا ہے پھر اُترجاتا ہے۔ ہفتہ بعد پھر چڑھتا ہے۔ اِسی طرح کئی کئی دورے کرتا ہے۔ اِس سے لوگ مر بھی جاتے ہیں اور بچ بھی رہتے ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں طاعون، انفلوئنزا اور بخار، ہیضے وغیرہ پہلے بھی پھیلتے تھے کیا ہؤا اگر اب پھیل گئے؟ مگر ہم کہتے ہیں کہ ہم تسلیم کرتے ہیں پہلے بھی یہ امراض پڑے مگر نہ تو موجودہ شکل میں پہلے پڑے ہیں نہ تمام کے تمام ایک وقت اور ایک زمانہ میں آئے۔ کوئی بتلا سکتا ہے کہ وہ کون سا زمانہ تھا جس میں یہ تمام آفتیں اور تمام ہلاکتیں جمع ہوئی تھیں ؟ ہر گز نہیں ۔ اِس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ چونکہ پہلے بھی بیماریاں آیا کرتی تھیں اِس لئے اب بھی آئی ہیں بلکہ یہ خدا کا خاص عذاب ہے جو لوگوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے آیا ہے اِسے اتفاقیہ اور عام طور پر آنے والی بلاؤں کی طرح نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ فلاں سڑک پر ایک آدمی آئے گا تو دوسرا کہہ سکتا ہے کہ آدمی آیا ہی کرتے ہیں کیا ہؤا اگر آئے گا۔ مگر جب وہ یہ کہہ دے کہ ایک ایسا آدمی آئے گا جس کا قد اتنا ہو گا، رنگ و شکل ایسی ہو گی، ٹوپی ایسی، کوٹ و قمیص ایسا، پاجامہ ایسا ہو گا، چھڑی ایسی ہو گی، اس کے بوٹ ایسے ہوں گے تو اس کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ ایسے آدمی آیا ہی کرتے ہیں ۔ پس اگر اِس زمانہ میں صرف ایک نشانی ہو تو کہہ دو کہ ایسا ہوتا آیا ہے لیکن سب باتوں کا ایک زمانہ میں جمع ہونا ایسا ہے کہ جس کی پہلے نظیر نہیں ملتی۔ پس اِدھر یہ مجموعہ عذابوں کا ہے اور اُدھر اُن کے متعلق پیشگوئیاں موجود ہیں ….۔

غرض آج چونکہ خدا ہماری جماعت کی قہری نشانوں سے مدد فرما رہا ہے اِس لئے ہماری جماعت کا فرض ہے کہ ان نشانوں سے فائدہ اُٹھائے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار ہا فرمایا ہے کہ خدا جس بات کے ہونے کی خبر دیتا ہے اس کے لئے اگر انسان کوشش کریں تو وہ خدا کے منشاء کے خلاف نہیں ہوتی۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 16؍مئی 1919ء، مطبوعہ الفضل 27؍مئی 1919ء)

وبا سے متعلق رؤیا

حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کو اللہ تعالیٰ نے اس وبا سے متعلق قبل ازیں خبر دے دی تھی۔ یہ رؤیا13؍دسمبر 1914ء کے اخبار الفضل میں شائع ہوچکی ہے جو درج ذیل ہے۔ حضورؓ نے دیکھا کہ

’’جیسی اس مسجد (مسجد اقصیٰ) میں بیچوں بیچ ایک نالی جاتی ہے اِسی طرح کی ایک نہر ہے اور وہ بہت دُور تک چلی جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اِس میں بڑا پانی ہے مگر بندوں کی وجہ سے اس کے اندر ہی بند ہے۔ اس کے اردگرد ایک نہایت خُوبصورت باغ ہے۔ مَیں اس میں ٹہل رہا ہوں اور ایک اور آدمی بھی میرے ساتھ ہے۔ ٹہلتے ٹہلتے نہر کی پرلی طرف مَیں نے چودھری فتح محمد صاحب کو دیکھا اتنے میں ایک شخص آیا اور میرے ساتھ میرے گھر کی مستورات بھی ہیں اس نے مجھے کہا کہ گھر کی مستورات کو پردہ کی تکلیف ہوتی ہے انہیں کہہ دیں صرف باغ میں ٹہلیں ۔ مَیں جب اس جگہ سے ہٹ کر دوسری طرف گیا ہوں تو مجھے بڑے زور سے پانی کے بہنے کی سرسر آواز آئی۔ اس وقت میں جس طرح پُرانے مقبرے بنے ہوتے ہیں ویسے مکان میں کھڑا ہوں ۔ وہ مقبرہ اس طرح ہے جس طرح بادشاہوں کی قبروں پر بنے ہوتے ہیں ۔ مَیں اس کی چھت پر چڑھ گیا ہوں اور اس کی کئی چھتیں اونچی نیچی ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ بنی ہوئی ہیں ۔ مجھے پانی کی سرسرکی جو آواز آئی تو میں نے اسی نہر کی طرف دیکھا۔ یا تو وہ ایسا خوبصورت نظارہ تھا کہ پرستان نظر آتا تھایا ہر جگہ پانی پھرتا جاتا تھا۔ عمارتیں گرتی جاتی تھیں ، درخت دبے جاتے تھے، گاؤں اور شہر تباہ ہوئے جاتے تھے، پانی میں لوگ ڈوب رہے تھے، کسی کے گلے گلے، کسی کے مُنہ تک، کسی کے سر کے اوپر پانی چڑھا جاتا تھا اور ڈوبنے والوں کا بڑا درد ناک نظارہ تھا۔ یکلخت وہ پانی اس مکان کے بھی قریب آگیا جس میں مَیں کھڑا تھا اور اس کی دیواروں سے ٹکرانا شروع ہو گیا۔ آگے پیچھے کی آبادی کو تباہ و برباد ہوتا دیکھ کر بے اختیار میرے مُنہ سے نکل گیا ’’نوح کا طوفان‘‘ پھر پانی اس مکان کی چھت پر چڑھنا شروع ہؤا اس کے ارد گرد جو دیوار تھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پانی اسے توڑ کر اندر آنا چاہتا ہے اور لہریں دیوار کے اوپر سے نظر آتی تھیں ۔ اس وقت میں نے گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا مجھے کہیں آبادی نظر نہیں آتی تھی اور پانی ہی پانی نظر آتا تھا۔ جب پانی چھت پر بھی آنے لگا تو مَیں نے گھبرا ہٹ میں پُکار پُکار کر اس طرح کہنا شروع کیا۔

اَللّٰھُمَّ اھْتَدَیْتُ بِھَدْیِکَ وَاٰمَنْتُ بِمَسِیْحِکَ

اس وقت مجھے ایسا معلوم ہؤا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دوڑے چلے آتے ہیں اور گویا لوگوں سے فرماتے ہیں کہ یہی فقرہ پڑھو تب تم اس عذاب سے بچ جاؤ گے۔ مجھے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نظر نہیں آئے لیکن یہ میرا خیال تھا کہ آپ لوگوں کو یہ فرما رہے ہیں ۔ اتنے میں مَیں نے دیکھا کہ پانی کم ہونا شروع ہؤا اور چھت گیلی گیلی نظر آنے لگی۔ اسی گھبراہٹ میں میری آنکھ کھل گئی۔‘‘

(الفضل 13؍دسمبر 1914ء)

حضورؓ اس رؤیا کے بارہ میں فرماتےہیں کہ

’’مجھے وہ درجہ تو حاصل نہیں ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حاصل تھا۔ آپ خدا کے نبی اور رسول تھے لیکن آپ کی نیابت سے جو درجہ حاصل ہے اس کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اب سے قریباً چار سال پہلے اس بیماری کے متعلق بذریعہ رؤیا اطلاع دی تھی۔ وہ رؤیا میں نے اسی مسجد میں درس کے وقت لوگوں کو سُنا دی تھی اور شائع بھی ہو چکی ہے…۔

اس رؤیا میں جو طوفان دکھایا گیا ہے اس سے جنگ یورپ تو مراد ہو نہیں سکتی کیونکہ اس وقت جنگ ہو رہی تھی اور چوہدری صاحب ولایت میں تھے۔ پھر پانی سے مُراد وبا ہوتی ہے۔ اب جبکہ چوہدری صاحب بھی یہاں آگئے ہیں تو یہ وبا شروع ہوئی ہے جو دکھلائی گئی تھی۔ پس اس سے نجات پانے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو اس زمانہ کے رسول ہیں مانا جائے کیونکہ اس نبی کے انکار کے باعث ہی یہ عذاب آیا ہے اور یاد رکھنا چاہئے یہ عذاب ایسے ہیں جیسے ماں غصّہ سے بچہ کو تھپڑ مارتی ہے جبکہ وہ غلطی کرتا ہے لیکن جب وہ غلطی کو چھوڑ دیتا ہے تو اس کو پیار کرتی ہے۔ پس خدا کے نبی پر جو خدا کی طرف بُلاتا ہے ایمان لاؤ تاکہ نجات پاؤ۔ اگر ایسا کرو گے تو وہی خدا جو اب طرح طرح کے عذاب نازل کر رہا ہے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے گا اور اپنے انعامات سے مالا مال کر دے گا۔ احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت جب آئے گی تو شریروں پر آئے گی۔ پس جب تک نیک بندے ہوں گے خدا ہلاک نہیں کرے گا۔ آجکل یہ مرض اس شدّت سے پھیلا ہؤا ہے کہ جس کی انتہا نہیں ۔ کثرت سے گھروں کے گھر بیمار پڑے ہیں مگر افسوس ہے کہ بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو دوسرے کی مصیبت کو دیکھ کر نصیحت پکڑتے ہیں ۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ11؍ اکتوبر 1918ء، مطبوعہ الفضل 2؍نومبر 1918ء)

قادیان میں انفلوئنزا

اس وبا نے ساری دنیا میں جنگ کی تباہی سے زیادہ تباہی پھیلادی۔ ہندوستان پر بھی اس مرض کا سخت حملہ ہوا۔ اگرچہ شروع میں اموات کی شرح کم تھی۔ لیکن تھوڑے ہی دنوں میں بہت بڑھ گئی اور ہر طرف ایک تہلکہ عظیم برپا ہوگیا۔

قادیان میں انفلوئنزا کا اثر موسمی بخار کی صورت میں ماہِ ستمبر 1918ء میں شروع ہوا اور بڑھتا چلا گیا۔ اکتوبر 1918ء میں انفلوئنزا کی وبا شدت اختیار کر گئی اور قادیان بھی مکمل طورپر اس وبا کی لپیٹ میں آ گیا۔ ماہِ نومبر کے اخیر میں الحکم کی رپورٹ کے مطابق قادیان میں انفلوئنزا سے بالکل آرام ہو گیا۔

(الحکم 21؍نومبر 1918ء)

حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓپر وبا کا اثر اور علاج

حضرت مصلح موعودؓ 1918ء کے موسمِ گرما ڈاکٹرز کے مشورہ کے بعد ڈلہوزی تشریف لے گئے تھے اور اگست کے اخیر میں واپس تشریف لائے۔ طبیعت میں بہتری تھی لیکن ہنوز مکمل صحت مند نہ تھے۔ قادیان میں وبا کے اثر دکھانے پر آپؓ شدید علیل ہوئے۔ پھر اس وبا کا اتنا شدید حملہ ہوا کہ حضورؓ نے 19؍ اکتوبر 1918ء کو وصیت بھی لکھ دی جس میں اپنے بعد انتخابِ خلافت کے لیے گیارہ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی نامزد فرما دی…۔

حضور کے ارشاد کی تعمیل میں دوسرے روز ہی یہ وصیت دفتر ترقی اسلام کے میگزین پریس قادیان سے شائع کر دی گئی۔

(تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 209)

حضور ؓکو انتڑیوں میں نقص کے باعث کمزوری تھی اس کے ساتھ ان ایام میں بخار کاا تار چڑھاؤ جاری رہا۔ ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب پٹیالوی کو خدا نے ان ایام میں حضرت خلیفة المسیح کی خدمت کا خاص موقع دیا۔

(الفضل 2؍نومبر 1918ء)

حضورؓ کو انفلو انزا کی وجہ سے ہر وقت حرارت رہتی تھی۔ اور ضعف قلب کا عارضہ بھی لاحق ہو گیا تھا حضور ؓکی بیماری پر حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحبؓ اور حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب تار دے کر بلوائے گئے۔ حضرت میر صاحب تو قادیان پہنچنے کے دوسرے تیسرے روز خود انفلوئنزا میں مبتلا ہو گئے۔ مگر حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب کو قریباً سوا تین ماہ حضورؓ کی خدمت میں رہ کر تیمارداری اور علاج کا موقعہ ملا۔ رات کو حضور ؓکے پاس صرف حضرت ڈاکٹر صاحب ہی ہوتے۔ اکثر کھانا بھی حضور ؓکے ساتھ کھاتے تھے۔ حضور ؓنے انہیں پہلا حکم یہ دیا کہ میری اجازت کے بغیر کمرہ سے باہر نہ جائیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے حضور کا بول و براز ٹیسٹ (test)کرانے کے لیے لاہور کے پتھالوجیکل ڈیپارٹمنٹ میں بھجوایا جہاں ڈاکٹر عبدالغنی صاحب کڑک کام کرتے تھے۔

تشخیص کا نتیجہ سامنے آنے پر حضرت ڈاکٹر صاحب نے ایک نئی ایجاد شدہ دوا کے چھ ٹیکے منگوائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ نئی قسم کا ٹیکہ حضور کے لگایا بھی جائے یا نہیں ۔ اس بارے میں بعض احباب متامل تھے کہ مبادا کوئی بری علامت پیدا ہو جائے مگر حضرت ڈاکٹر صاحب کو یقین تھا کہ یہ علاج انشاء اللہ ضرور کارگر ہو گا۔ اس لیے آپ نے پسند کیا کہ بطور تجربہ ایک ٹیکہ آپ کے لگا کر نتیجہ دیکھ لیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد جب کوئی بری علامت ظاہر نہ ہوئی۔ پھر تو حضور کے بھی ٹیکہ لگایا گیا۔ دوسرے ٹیکہ کے بعد حضور ؓکی بیماری ختم ہو گئی اور تیسرے ٹیکہ کی ضرورت نہ رہی۔

( تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 245)

حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحبؓ حضور کے علاج کے تفصیلی حالات بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :

’’1918ء میں انفلوئنزا کی سخت وبا پھوٹی اور سخت موتا موتی لگی۔ قادیان میں بھی اس کا زور ہوا اور کئی احباب کی موت کا موجب بنی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی پر بھی اس مرض کا سخت حملہ ہوا۔ یہاں تک کہ اپنی حالت کے پیش نظر حضور نے وصیت بھی لکھوا دی تھی۔ حضور کا علاج یونانی اور انگریزی دونوں طریقوں سے کیا جارہا تھا۔ مفتی فضل الرحمن صاحب اور مولوی غلام محمد صاحب امرتسری یونانی اور حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب انگریزی علاج کررہے تھے۔ لیکن ایک مرحلہ ایسا آگیا کہ دوسرے ڈاکٹر کی ضرورت پڑ گئی ایسی ضرورت کے وقت بیک وقت دوتار حضرت میاں بشیر احمد صاحبؓ کی جانب سے دیئے گئے ایک تار حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ کو پانی پت دیا گیا اور دوسرا تار خاکسار راقم ڈاکٹر حشمت اللہ کو پٹیالہ دیا گیا۔

خاکسار کو جمعہ کی نماز کے وقت تار ملا۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے میں قادیان جانے کے لئے گھر سے فوراً تیار ہو گیا اور حصول رخصت کے لئے اپنے سول سرجن کی خدمت میں حاضر ہوا۔ صاحب سول سرجن نے بمشکل دو دن کی رخصت منظور کی ایک تو اس وجہ سے زیادہ دن کی رخصت نہ دی کہ ایک عظیم ہسپتال کے اہم کام میرے سپرد تھے دوسرے اس وجہ سے کہ انفلوئنزا کی وباء کی وجہ سے ڈاکٹروں کی ہر جگہ اشد ضرورت تھی۔ تاہم میں نے دو دن کی رخصت کو ہی غنیمت جانتے ہوئے اسی شام کو قادیان کی راہ لی اور اگلے روز دو تین بجے قادیان پہنچ گیا۔ قریب چار بجے کے مجھے حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں لے جایا گیا اس وقت حضور زمین پر کئے ہوئے بستر پر، جو دالان میں تھا، جہاں حضرت مسیح موعود رہا کرتے تھے، لیٹے ہوئے تھے مجھے دیکھ کر حضور خوش ہوئے اور اپنی بیماری کا حال بیان فرمانے لگ گئے۔ بیان کے دوران اتفاق سے اہل پیغام کا (غالباً ان کی ایذا رسانی) کا ذکر آگیا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے حضور کا بیان ختم ہونے پر میں نے آپ کا طبی معائنہ کیا اور بشرح صدر بتلایا کہ پھیپھڑے اور دل خداتعالیٰ کے فضل سے بالکل محفوظ ہیں اور دونوں نہایت عمدہ ہیں یہ سن کر حضور کو بہت تسلی ہوئی اور حضور کا چہرہ پُررونق نظر آنے لگا۔ حضور نے میری چار پائی اسی دالان میں لگوا دی اور میری دو دن کی رخصت میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کو پٹیالہ بھیج کر تین ماہ کی توسیع کروادی علاج معالجہ کا سلسلہ جاری ہو گیا اور خداتعالیٰ کے فضل سے صحت میں روز بروز ترقی ہوتی چلی گئی۔ میری رہائش رخصت کے اختتام تک اسی دالان میں رہی اور حضور بھی اسی کمرہ میں قیام فرما رہے۔ رات کو صرف میں ہی حضور کے پاس سوتا تھا اور ہم دونوں اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے….۔

غرض میری تین مہینے کی رخصت خاص خدمت انجام دیتے ہوئے ختم ہوئی اور جس روز میں پٹیالہ کو واپس روانہ ہورہا تھا اس روز حضور نے میرے شکریے اور اعزاز میں بہت سے احباب کو دعوت طعام دی اور مجھے قصبہ کے باہر تک چھوڑنے کے لئے تشریف لائے۔‘‘

(روزنامہ الفضل 10؍مئی 1964ء
بحوالہ روزنامہ الفضل ربوہ 20؍مارچ 2007ء)

قادیان کے حالات

حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓ فرماتے ہیں کہ

’’ہندوستان میں جب انفلوئنزا (Influenza)پھیلا تو اکثر گھر ایسے تھے کہ جن کے سارے کے سارے افراد اس میں مبتلا ہو گئے۔ پھر کئی گھر ایسے تھے کہ ان میں بعض افراد بیمار ہو گئے اور بعض تندرست رہے۔ اور کچھ ایسے بھی تھے کہ جن میں کوئی بھی بیمار نہ ہوا۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 5؍جنوری 1945ء
مطبوعہ الفضل 10؍جنوری 1945ء)

الحکم اور الفضل کا کردار

افرادی قوت کم ہونے کی وجہ سے الفضل اور الحکم کے چند شمارے بھی تعطل کا شکار رہے۔

اس وبا کے قادیان میں اثر دکھانے سے قبل ہی الحکم نے 28؍اگست 1918ء کی اشاعت کے ذریعہ احبابِ جماعت کو لکھنؤ میونسپلٹی کی جاری کردہ ہدایات شائع کر کے متنبہ کیا۔ میل جول میں احتیاط، صفائی اور جراثیم کش ادویات کا استعمال کرنے کے ہدایت کی۔

29؍اکتوبر سے الفضل نے باقاعدہ طور پر اس وبا کے بارہ میں احتیاطی تدابیر، دوا کی طرف توجہ دلائی۔ نیز سب سے بڑھ کریہ کہ ایک احمدی کے لیے خلیفة المسیح اور مرکز کے حالات سے باخبر رہنا ضروری ہوتاہے جس فریضہ کو الفضل اور الحکم نےخوب نبھایا۔

وبائی نزلہ کے متعلق ہدایات

الفضل نے جو احتیاطی تدابیر یا دوائیں کارگر ثابت ہوئیں ان کی اشاعت سے پورے ہندوستان کو آگاہ کیا۔

چنانچہ درج ذیل ہدایات اس وقت الفضل میں دی گئیں جو بہت کار آمد ثابت ہوئی ہیں :

’’1: حفظ ماتقدم: کھلی ہوا میں رہو۔ اور مریضوں سے پرہیز کرو۔ سوتے وقت کھڑکیاں کھلی رکھو۔ بھیڑ میں شامل ہونے سے احتراز کرو۔ اعتدال اور تندرستی کے تمام اصولوں پر کاربند رہو۔

2: بیماری کی علامات: یہ بیماری درد سر اور بخار سے شروع ہوتی ہے۔ کمر جسم کی ہڈیاں اور تمام اعضاء میں درد ہوتا ہے۔ آنکھوں اور ناک سے پانی بہتا ہے۔ گلے میں درد ہوتاہے اور اکثر کھانسی بھی اٹھتی ہے۔

3: علاج: مریضوں کو بحالتِ بیماری بستر میں گرم رہنا چاہیئے، خوراک سوا دودھ اور شوربے کے اور کچھ نہ دینا چاہیے۔ بخار کی وجہ سے خوراک میں کمی نہیں کرنے چاہیئے۔ گلے ہوئے چاول دینا چنداں ضرر رساں نہیں ۔ بشرطیکہ بد ہضمی اور اسہال کی شکایت نہ ہو۔ بحالت بخار سرد پانی سے غسل کرنا خطرناک ہے۔

اگر مندرجہ بالا ہدایات پر عمل کیا جائے تو بیماری کے پیچیدہ ہونے کا امکان نہیں ہوتا۔‘‘

(الفضل 9؍نومبر 1918ء)

صلوٰة الحاجة کی ادائیگی

ان ایام میں سات دن متواتر صبح 9 اور 10 بجے کے درمیان آبادی سے باہر دو رکعت صلوٰة الحاجة پڑھی جاتی رہی۔ نماز کے بعد امام الصلوٰة اونچی آواز میں مندرجہ ذیل دعا تین بار پڑھتے اور حاضرین آمین کہتے تھے۔ دعایہ ہے

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ العَظِیْمُ الْحَلِیْمُ. لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ رَبُّ العَرْشِ العَظِیْمِ۔ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، انِّیْ أَسْأَلُک مُوجِبَاتِ رَحْمَتِک وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِک، وَالْغَنِیْمَةَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ کُلِّ إثْمٍ، لَا تَدَعْ لِی ذَنْبًا إلَّا غَفَرْتَہٗ وَلَا ہَمًّا إلَّا فَرَّجْتَہٗ، وَلَا حَاجَةً ہِیَ لَک رِضًی إلَّا قَضَیْتہَا، یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ ۔

نیز یہ تحریک بھی کی گئی کہ بیرون جات کے احباب بھی ضرور آبادی سے باہر جنگل میں جا کر اسی طرح نماز پڑھیں اور دعا مانگیں ۔

(الفضل 29؍اکتوبر 1918ء)

مرضاء

حضرت مصلح موعودؓ، حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ، حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل ؓصاحب سمیت قادیان کی اکثر مردو زن اور اطفال و بچگان کو اس بیماری نے اپنی لپیٹ میں لیا۔ لیکن ان بزرگانِ نے بیماری کی شدید حملہ سے پیشتر خدمتِ خلق کا بے لوث اظہار کیا اور بیماری سے صحت یاب ہو کر پھر اسی طرح خلقِ خدا کی خدمت میں جت گئے۔

تعلیم الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ پر بھی حملہ ہوا اور یکے بعد دیگرے پچاس سے زائد طلباء بیمار ہوئے۔ لیکن ان کے علاج میں خدا کے فضل سے پوری سرگرمی او رتندہی سے کام لیا گیا۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، مولوی عبد المغنی صاحب اور جناب مفتی فضل رحمٰن صاحب طبیب نے کمال شفقت سے علاج کیا اور خدا تعالیٰ نے ان بزرگوں کی مساعی کو بار آور فرمایا اور ایک کے سوا سب بچے صحت پا گئے۔ مدرسہ احمدیہ بورڈنگ میں بھی طلباء بیمار ہوئے۔ اور ایک کے سوا سب شفا یاب ہوئے۔

(الحکم 7؍نومبر 1918ء )

اموات

قادیان کے اطراف میں وبا شدت اختیار کر گئی تھی۔ اردگرد کے دیہات اور قصبات میں چند اموات ہوئیں۔

حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ کی خورد سالہ لڑکی 26؍اکتوبر کو فوت ہو گئی۔

(الفضل 29؍اکتوبر 1918ء)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ؓکی صاحبزادی محمودہ خاتون 26؍ اکتوبر کو فوت ہو گئیں ۔ حسن از بھاگلپور بہار طالبِ علم تعلیم الاسلام ہائی سکول۔ مولوی عبد الجلیم صاحب ہزاروی طالب علم مدرسہ احمدیہ اور ماریشس سے پانچ طلباء بغرض دینی تعلیم قادیان تشریف لائے تھے۔ جن میں دو پیر محمد اور محمد الیاس جانبر نہ ہوسکے۔

(الحکم 7؍نومبر 1918ء )

عام تعطیل

مدرسہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول میں عام تعطیل کر دی گئی۔ نیز جملہ دفاتر کے زائد کارکنان کو بھی تیمارداری کی غرض سے رخصت دی گئی۔

جلسہ سالانہ کا التواء

جلسہ سالانہ حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓ کی مسلسل بیماری اور جنگی بخار(انفلوئنزا) کی عام شکایت پیداہوجانے کہ وجہ سے جلسہ سالانہ کے لیے تیاری نہ ہوسکنے کے سبب اپریل میں ایسٹر کی تعطیلات پر ملتوی کر دیا گیا۔ ( الفضل 23؍نومبر 1918ء) بعد ازاں اس سال کا جلسہ سالانہ 15؍تا 17؍ مارچ 1919ء کو منعقد ہوا۔

لیکن پھر بھی بہت سے احباب جن کو شاید بروقت اطلاع نہ مل سکی وہ قادیان تشریف لے آئے۔ حضورؓ نے احباب کے جمع ہونے پرباوجود ضعف کے ’’حقیقی زندگی‘‘ کے موضوع پر ایک خطاب فرمایا اور خدمتِ دین میں اپنی زندگیاں لگا دینے کی تحریک فرمائی۔ چنانچہ ایسے حالات میں بھی حضورؓ نےاحباب جماعت کے قادیان آنے کے مقصد کو ضائع نہ ہونے دیا۔

(الحکم 28؍دسمبر 1918ء)

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جلسہ سالانہ ملتوی ہونے پر مولوی محمد علی صاحب نے اعلان شائع کیا جس میں احمدیہ جماعت کو لاہور آنے کہ دعوت دی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ان کے اس اعلان کا جو جواب دیا جس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ کس طرح ایک شفیق باپ اپنے بچوں کا احساس کرتا ہے۔ فرمایا:

‘‘اگر آپ ان وجوہ کو مد نظر رکھتے اور حق جوئی آپ کے مد نظر ہوتی تو کبھی ایسا اعلان شائع نہ کرتے۔ جیسا کہ اخبارات میں شائع ہو چکا ہے۔ جیسا کہ اس سا ل ملتوی کرنے کی یہ وجہ ہے کہ (1) ابھی ملک میں ایک سخت وبا پڑ چکی ہے بلکہ بعض حصص ملک میں ابھی تک پڑی ہوئی ہے۔ پس خطرہ ہے کہ بیماری سے تازہ اٹھے ہوئے لوگ سفر کی تکلیف نہ برداشت کر سکیں یا اجتماع سے پھر کسی قسم کی تکلیف ہو جائے۔ (2) قحط سالہ کے اخراجات جن کے ساتھ بیماری کے اخراجات مل گئے ہیں ۔ پس ضروری سمجھا گیا کہ جب تک ایک عرصہ نہ گزر جاوے کہ لوگ اپنی صحت میں ترقی کر لیں اور جو بار خرچ ان پر پڑچکاہے وہ ہلکا ہو جاوے۔ اس وقت تک جلسہ نہ کیا جاوے۔

اب ان وجوہ کے اعلان کے باوجود آپ کا یہ لکھنا کہ اس موقع پر مبائعین اور میں یا میرا قائم مقام لاہور آویں ۔ اگرا یک چالاکی نہیں تو اور کیا ہے۔ آپ بڑی مہربانی سے کھانے کے متعلق تو دعوت دیتے ہیں مگر دوسری مضرتوں اور اخراجات کا کون ذمہ وار ہو گا۔’’

(الحکم 21؍دسمبر 1918ء)

حضورؓ کی انسداد وبا سکیم و اجلاس

حضرت مسیح موعودؑ کی طرح حضرت مصلح موعودؓ پر پہلے سے ضعف اور برد اطراف کے حملے ہوتے تھے پھر وبا کے سبب مزید طبیعت خراب ہو گئی۔ اس حالت میں بھی آپ کو ایک درد اور جماعت کے نظام اور اصلاح کی فکر تھی۔ آپؓ کو جب بھی افاقہ ہوتا آپ کی توجہ مخلوق کی بہتری اور بھلائی کی طرف رہتی یہاں تک کہ ایک روز رات کے دس بجے سے لے کر دن نکلنے تک برابر بیت الدعا میں مصروف رہے۔ اس سے اس ہمدردی اور دلسوزی کا پتہ لگتا ہے جو آپ کو مخلوق خدا سے تھی۔ خود بیمار ہیں اور ضعف قلب کے دورے ہو رہے ہیں مگر مخلوق کی حالت آپ پر ایک خاص کیفیت پیدا کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔

جب آپ کی طبیعت میں ذرا افاقہ ہوا تو اسی حالت میں آپ نے قادیان میں بیماری کے حملے کے متعلق انسدادی تدابیر کی ایک سکیم تیار فرمائی۔ اور اپنی جیب سے ایک معقول رقم عطا فرمائی تا کہ ادویات کی تقسیم کا انتظام ہو۔

(الحکم 7؍نومبر 1918ء )

8؍ اکتوبر1918ء کو حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓکے ارشاد پر مسجد اقصیٰ قادیان میں اس وبا کے حوالے سے ایک جلسہ ہوا۔ جس میں یہ امر زیرِ بحث آیا کہ اردگرد کے دیہات کے بیماروں کو خواہ وہ کسی مذہب و ملت کے ہوں طبی امداد پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔ اور غرباء میں دوائی مفت تقسیم کی جائے۔

چند ایک طبابت پیشہ اصحاب نے اپنی خدمات پیش کیں اور کئی ایک نے بطور تیماردار و خبر گیری کرنے کے لیے اپنے نام لکھائے۔

(الفضل 12؍اکتوبر 1918ء)

بعد ازاں حضور ؓ کی ہدایت کے ماتحت اس صیغہ کو وسیع کیا گیا اور دور دیہات میں طبی امداد بھیجنے کی تجاویز عمل میں لائی گئیں ۔

(الحکم 14؍نومبر 1918ء )

چندہ اور جدید شفاخانہ کا قیام

دوائیوں کے لیے چندہ بھی جمع ہوا جس میں حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ نے 25؍روپے عطا فرمائے اور آپ نے اپنے دونوں گھوڑوں پر طبیبوں کو دورہ کرنے کی اجازت دی۔

(الفضل 12؍ اکتوبر 1918ء)

بعض دوسرے احباب نے بھی آپ کی اس تحریک میں حصہ لیا ور حضرت نواب صاحب ؓنے ایک معقول رقم دی۔

(الحکم 7؍نومبر 1918ء )

اس سکیم کے ماتحت قادیان کے اطباء کو ہدایت کی گئی کہ قادیان اور اردگرد کے دیہات میں جہاں بیماری کا خطرناک حملہ شروع ہوگیا تھا علاج کریں اور ادویات تقسیم کریں ۔ چنانچہ اس سکیم کے موافق قادیان میں صدر انجمن کے ہسپتال اور ڈسپنسری کے علاوہ ایک جدید شفاخانہ خاص اسی مطلب کے لیےکھولا گیا۔ اور یہ تمام انتظام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ؓ کے سپرد تھا۔ اس شفاخانہ نے خدا کے فضل سے بہت بڑی مدد دی اور سینکڑوں جانوں کو بچا لیا۔

(الحکم 7؍نومبر 1918ء )

دار چینی کے پانی کا استعمال

اس بیماری سے محفوظ رہنے کےلیے حضرت مصلح موعودؓ نے دار چینی کا پانی استعمال کرنے کی ہدایت فرمائی۔

اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ

’’اب دیکھو یہ 1918ءیا 1919ءمیں جو انفلوئنزا پھیلا تھا، وہ قادیان تک بھی پہنچا۔ بے شمار لوگ جاں بحق ہوئے۔ احتیاطی تدابیر جو حضرت مصلح موعود ؓنے فرمائیں وہ بھی ملتی ہیں ، جس طرح دارچینی والے پانی کا استعمال وغیرہ۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل 31؍مارچ 2020ء)

خدمتِ خلق کے نظارے

اس مضمون کے ابتداء میں آنحضرتﷺ کی بیان فرمودہ پیشگوئی کا دوسرا حصہ بھی بعینہ پورا ہواکہ

’’پھر اللہ کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھی ہم وار میدانوں میں اتریں گے لیکن تمام زمین میں ایک بالشت جگہ بھی لاشوں اور بدبو سے خالی نہیں ہوگی۔‘‘

(مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال)

یعنی وہ دُکھی انسانیت کی خدمت کا فریضہ سر انجام دیں گے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسیح الزمان مثیل عیسیٰ کا خلیفہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ میدان میں نکلا اور انسانیت کی خدمت میں ہمہ تن مصروفِ عمل رہے۔

ان ایام میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی ہدایت کے ماتحت جماعت احمدیہ نے شاندار خدمات انجام دیں اوربلا تمیز مذہب و ملت ہر قوم اور طبقہ کے لوگوں کی تیمارداری اور علاج معالجہ میں نمایاں حصہ لیا۔ احمدی ڈاکٹروں اور احمدی طبیبوں نے اپنی آنریری خدمات پیش کرکے نہ صرف قادیان میں مخلوق خدا کی خدمت کا حق ادا کیا بلکہ شہر شہر اور گاؤں گاؤں پھر کر طبی امداد بہم پہنچائی اور تمام رضاکاروں نے نرسنگ وغیرہ کی خدمت انجام دی اور غربا کی امداد کے لیے جماعت کی طرف سے روپیہ اور خورو نوش کا سامان بھی تقسیم کیا گیا۔ ان ایام میں احمدی رضا کاران صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کرکے دن رات مریضوں کی خدمت میں مصروف تھے اور بعض صورتوں میں جب کام کرنے والے خود بھی بیمار ہوگئے اور نئے کام کرنے والے میسر نہیں آئے بیمار رضاکار ہی دوسرے بیماروں کی خدمت انجام دیتے رہے اور جب تک یہ رضاکار بالکل نڈھال ہو کر صاحب فراش نہ ہوگئے انہوں نے اپنے آرام اور اپنے علاج پر دوسروں کے آرام اور دوسروں کے علاج کو مقدم کیا۔ یہ ایسا کام تھا کہ دوست دشمن سب نے جماعت احمدیہ کی بے لوث خدمت کا اقرار کیا اور تقریر و تحریر دونوں میں تسلیم کیا کہ اس موقع پر جماعت احمدیہ نے بڑی تندہی و جانفشانی سے کام کرکے بہت اچھا نمونہ قائم کردیا ہے۔

(سلسلہ احمدیہ صفحہ358)

اس مساعی کا تفصیل سے ذیل میں ذکر کیاجاتا ہے۔

صدر انجمن میں صیغہ جات کے قیام کی تفصیل

حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایات کے تحت ان وبائی ایام میں غرباء اور عوام کی مدد کرنے کے لیے باقاعدہ انتظام کیا گیا تھا۔ کام کو عمدگی اور باقاعدگی سے چلانے کے لیے تقسیم محنت کے اصول پر درج ذیل صیغے قائم کیے گئے۔

1: صیغہ فراہمی ادویات

2: صیغہ فراہمی ادویات برائے قصبہ قادیان: دار السلام، دار العلوم، دار الفضل، دار الضعفاء۔

3: صیغہ فراہمی ادویات برائے دیہات ملحقہ

4: صیغہ فراہمی خوراک و دیگر ضروریات۔ ان غرباء کے لیے جن کے تمام خاندان بیمار ہو گئے تھے یا وہ فراہم کے قابل نہ تھے۔

5: صیغہ فراہمی دودھ و میوہ جات

6: صیغہ تدفین

اس انتظامی تقسیم کے بعد عملی طریق اختیار کرنے کے لیے ایک کثیر تعداد رضاکاروں کی درکار تھی جس کے لیے ہائی سکول، مدرسہ احمدیہ، صدر انجمن کے فاتر کے سٹاف اور دوسرے احمدیہ احباب نے اپنی خدمات پیش کیں ۔ یہ تمام لوگ مختلف صیغہ جات کے آفیسروں کے ماتحت کام کرتے رہے۔ رات دن برابر کام کا سلسلہ جاری رہا۔ ادویات کی فراہمی کے لیے لاہور اور امرتسر سے کافی ذخیرہ منگوایا گیا۔ یونانی اور انگریزی طریق علاج کا سلسلہ جاری رہا۔ اور تیس (30) کے قریب دیہات میں لوگوں کی اس طرح پر مدد کی گئی۔ ہر صیغہ کا کام نہایت تسلی بخش رہا۔ تمام امداد مفت دی گئی۔

اس کام کی مفصل رپورٹ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور اور جناب سِول سرجن بہادر گورداسپور اور ہز اونر لیفٹنٹ بہادر پنجاب کو بھجوائی گئی جس پر انہوں نے خوشنودی کا اظہار کیا۔

(الحکم 14؍نومبر 1918ء )

حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓ کی اطباء کوہدایت

اس وبا کا سب سے پہلے خطرناک حملہ قادیان کے اردگرد کے دیہات اور قصبات پر ہوا۔ جہاں بہت کثرت سے لوگ بیمار ہوناشروع ہو گئے۔ اس کے متعلق جب حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کو اطلاع پہنچی تو آپ نے احمدی طبیبوں کو دیہات میں دورہ کر کے بیماروں کو مفت دیکھنے اور دوائی دینے کا ارشاد فرمایا۔ چنانچہ اطباء نے معہ اپنے مددگاروں کے دیہاتوں میں دورہ کر کے دوائی دینی شروع کر دی لیکن چند دن کے بعد قادیان میں بھی اسی بیماری کی شکایت پیدا ہوگئی۔

(الفضل 29؍اکتوبر 1918ء)

اطباء کی بے لوث خدمتِ خلق

ان ایام میں قادیان کے اطباء بڑی جانسوزی اور جانفشانی سے دن رات بیماروں کی گھر بہ گھر جا کر دیکھنے اور دوا تجویز کر کے دینے میں محنت شاقہ برداشت کر تے رہے۔ اور خاص کر جناب مفتی فضل الرحمٰن صاحب اور جناب مولوی غلام محمد صاحب تو بیماروں کے لیے وقف ہو گئے۔ بیماروں کے گھروں پر صبح شام جاتے ہیں ۔ نہات شفقت اور ہمدردی سے دوائی تجویز کرتے اور راتوں کو جاگ جاگ کر بیماروں کو دیکھتے رہے۔

(الفضل 29؍ اکتوبر 1918ء)

نومبر میں انفلوئنزا کے امدادی سلسلہ کا دائرہ وسیع کر کے دریائے بیاس تک پھیلا دیا گیا۔ اور کچھ طبیب علاج اور امداد کے لیے بھیجے گئے۔

(الحکم 21؍نومبر 1918ء )

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی خدماتِ جلیلہ

جدید شفاخانے کا تمام انتظام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ؓکے سپرد تھا۔ آپ نے رات 11اور 12 بجے تک عموماً اپنے ہاتھ سے کمپونڈری کا کام کیا اور اس کثرتِ کام کا نتیجہ تھا کہ آپ بھی بسترِ علالت پر گر گئے۔

(الحکم 7؍نومبر 1918ء )

ایڈیٹر الفضل لکھتے ہیں کہ

’’کئی دن اور رات حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ سینکڑوں بیماروں کے نسخے اپنے ہاتھ سے بنا بنا کر اس محبت اور الفت سے دیتے کہ دیکھ کر بے اختیار آپ کے دین و دنیا میں اعلیٰ سے اعلیٰ درجات پر فائز ہونے کے لئے دعائیں نکلتی تھیں اور آپ کی ہمدردی اور شفقت کو دیکھ کر اس برگزیدۂ خد اپر ہزاروں ہزار درود اور صلوٰة بھیجنے کی نہایت پر زور تحریک پیدا ہوتی تھی جو اپنے بے شمار برکات اور فیوض کے علاوہ ایسی پاک اور بے نفس ذریت ہمارے درمیان چھوڑ گیا ہے۔ حضرت صاحبزادہ موصوف کی اس شفقت اور ہمدردی کا نظارہ دیکھ کر جو جذبہ شکر گزاری میرے سینہ میں موجزن ہے۔ میں چاہتا تھا کہ وہی جذبہ بذریعہ الفاظ احباب کے سینہ میں بھی پیدا کردوں ۔ لیکن افسوس کہ میرے قلم میں اتنی طاقت نہیں کہ جو کچھ میری آنکھوں نے دیکھ کر سینہ تک پہنچایا اسے میرا قلم سینہ سے نکال کر احباب تک پہنچا سکے۔‘‘

(الفضل 29؍اکتوبر 1918ء)

احبابِ جماعت کی بے لوث خدمات

جن احبا ب کو خدا تعالیٰ نے ان ایام میں تندرستی عطا کر رکھی تھی انہوں نے بیماروں کی خبر گیری اور تیمارداری، دوائیوں کی تیاری اور نسخہ جات کے بنانے میں جس ہمدردی اور اخوت کا بےنظیر ثبوت دیا۔ جن احباب کے گھروں میں کھانا وغیرہ نہیں پک سکتا، ان کے ہاں کھانا پہنچایا۔ جہاں دوائی پہنچانے یا طبیب کے لیے جانے کی ضرورت ہوتی، وہاں طبیب لے جاتے۔ اس کے علاوہ دیگر ضروریات کے پورا کرنے میں بھی مدد کی جاتی۔

(الفضل 29؍ اکتوبر 1918ء)

مفت دوائی کا انتظام

ان ایام میں بیماروں کو دیکھنے اور دوائی دینے کا عمدہ اور اعلیٰ درجہ کا انتظام کیا گیا۔ نہایت احتیاط اور عمدگی سے دوائیں تیار کی جاتیں اور سارا دن اور رات کا ایک حصہ نہ صرف اہل قادیان کو بلکہ بیرونجات کے ہر مذہب و ملت کے لوگوں کو مفت دی جاتی۔

(الفضل 29؍اکتوبر 1918ء)

لنگر خانہ کی خدمات

بیماری کے ایام میں میاں نظام الدین صاحب مہتمم لنگر خانہ اور ان کے ماتحت عملہ نے نہایت تندہی اور عمدگی سے اپنے فرائض کو سر انجام دیا۔ جن گھروں میں بوجہ بیماری کھانا نہیں پک سکا۔ ان کے ہاں کھانا پہنچانا اور غریب بیماروں کے لیے دودھ وغیرہ کا انتظام کرنا، انہیں کے سپرد تھا جو بہت خوبی سے کیا گیا۔

(الفضل 2؍نومبر 1918ء)

حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ نے بھی لنگر خانہ میں مستقل اور بڑی تندہی سے خدمات سر انجام دیں ۔ اور آپ اسی خدمت کے دوران اس وبا کے اثر میں آگئے۔

حفاظتِ خاص کے پہرے کا آغاز

حفاظت خاص کے نظام کا باقاعدہ آغاز 1931ء میں ہوا۔ مگر انفلوئنزا کے ایام میں رضاکارانہ حیثیت میں بعض خدام نے حضور ؓکے پہرہ کی سعادت حاصل کی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓکے سب سے پہلے پہرہ دینے والے عبدالاحد خاں صاحب افغان تھے جو 1918ء میں حضور کو انفلوئنزا کی شکایت پیدا ہونے کے دنوں میں پہرے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ اسی زمانہ کے قریب قریب خان میر صاحب افغان اور نیک محمد خان صاحب غزنوی بھی گاہے گاہے یہ خدمت انجام دینے لگے۔

(تاریخ احمدیت جلد 5صفحہ 257)

سول سرجن گورداسپور کا دورہ قادیان

الفضل کے مطابق سردار بہادر سردار دیوان سنگھ صاحب انفلوئنزا کے متعلق دورہ کرتےہوئے قادیان تشریف لائے۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓسے نہایت پر تپاک اور محبت سے ملاقات کی اور حضورؓ کی بیماری پر رائے دی۔ آپ نے مدرسہ احمدیہ، ہائی سکول کا معائنہ کیا۔ بیماری کی موجودہ حالت کی بابت دریافت کیا اور ہر قسم کی امداد دینے کا وعدہ فرمایا۔

(الفضل16؍نومبر 1918ء)

آیة الکرسی اور معوذات پڑھنے کی تحریک

حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓ نے جماعت کو اس بات سے آگاہ کیا کہ یہ وبا خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعودؑ کی تائید کا ایک نشان ہے۔ احباب جماعت کو عبادات کی طرف توجہ دلائی اور بعض دعائیں التزاماً کرنے کا ارشاد فرمایا۔ حضور ؓ فرماتےہیں کہ

‘‘اسلام نے آفات سے بچانے کے لئے جو گُر بتایا ہے اس میں طاقت ہے کہ اگر انسان اس پر عمل کرے اور اس کی تکرار کرے تو بہت سے فتنوں سے بچ جاتا ہے۔ لوگوں کے جادو محض لکیریں اور ہندسے اور اشارات ہوتے ہیں مگر مَیں آج اسلام کا ایک ایسا کلمہ بتاتا ہوں جس پر عمل کرنے سے انسان بلاؤں سے بچ جاتا ہے۔ فرمایا:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

میں اﷲ تعالیٰ کا نام لے کر یہ عبارت پڑھتا ہوں جو تمام خوبیوں کا جامع ہے اور تمام نقصوں سے پاک ہے۔

الرَّحْمٰنِ : وہ ایسی ہستی ہے جو بغیر کوشش کئے انسان کے وہم و خیال میں بھی جو کچھ نہیں ہوتا دیتی ہے۔

الرَّحِيْمِ: بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب اس کے فضلوں کے ماتحت دیئے ہوئے سامانوں کو انسان استعمال کرے تو اپنے فضلوں کو دوبارہ اس پر نازل فرماتا ہے۔ مَیں ایسے خدا کا نام لے کر جو ایسی صفتوں اور ایسی شان والا ہے شروع کرتا ہوں ۔

آگے فرماتا ہے :

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ

مَیں پناہ مانگتا ہوں بِرَبِّ الْفَلَقِ اس خدا کی جو تمام مخلوقات کا ربّ ہے۔ فَلَقکے معنی ہیں ہر چیز جو خلق ہوئی۔ خدا تعالیٰ کے سوا تمام چیزیں اس میں داخل ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ مخلوق نہیں ہے بلکہ وہ خالق ہے۔ تو کس کی پناہ مانگتا ہوں ؟ اس ذات کی جو تمام مخلوق کا ربّ ہے۔ کوئی چیز خواہ وہ زمینوں میں ہو خواہ وہ آسمانوں میں اس کی ربوبیت سے باہر نہیں ۔ پس وہ ہستی جس کی ربوبیت کی تمام چیزیں پہلے بھی محتاج تھیں اب بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی ایسے خدا کی مَیں پناہ ڈھونڈتا ہوں ۔

کس بات سے پناہ ڈھونڈتا ہوں ؟

مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

ان تمام چیزوں کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہیں ۔ کہتے ہیں ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں مگر بہت سی مخلوق ہو گی جس کے پاؤں ہاتھی سے بڑے ہوں گے لیکن یہ کہہ دینے سے کچھ بھی باہر نہیں رہتا کہ جو کچھ خدا نے پیدا کیا ہے اس تمام کی بدی اور شر سے پناہ چاہتا ہوں ۔

پھر فرمایا

وَ مِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ

ایک عام بدی ہوتی ہے اور ایک خاص۔ بعض اوقات شر خاص رنگ میں جوش مارتا ہے جیسے بیماریاں وباء کے طور پر پھیلتی ہیں ۔ غَاسِقٍ رات کو کہتے ہیں اور وَقَبَ جب اس کی تاریکی پھیل جاتی ہے۔ اس لئے اس کا یہ مطلب ہؤا کہ مَیں نہ صرف معمولی مرضوں سے بلکہ ان سے جو عام طور پر پھیلنے اور تمام دُنیا میں چھا جاتے ہیں ان سے پناہ مانگتا ہوں ۔

پھر فرمایا

وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الْعُقَدِ

اور پناہ مانگتا ہوں ان سے جو گِرہوں میں بداثرات پھُونکنے والے ہیں ۔

وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ

اور پناہ چاہتا ہوں حاسد کے حسد سے۔

دُنیا میں ان چار باتوں سے ہی انسان کو واسطہ پڑتا ہے اور کوئی شر ان چار سے باہر نہیں رہ جاتا۔ دو وہ ہیں جو آفات و مصائب کے متعلق ہیں اور دو وہ ہیں جو ترقی و عروج کے متعلق ہیں ۔ ایک وقت انسان پر ایسا ہوتا ہے اور ایک وقت وہ ہوتا ہے جب وہ مصائب سے نکل کر ترقی کے میدان میں چلا جاتا ہے اور خوشی و خرمی کی زندگی بسر کرتا ہے۔ ایک وقت اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ آفات سے بچنا چاہتا ہے اور دوسرے وقت جب وہ مصائب سے نکل جاتا ہے تو اس آرام کے قیام کی خواہش کیا کرتا ہے۔ پہلا ادنیٰ درجہ ہے اور دوسرا اعلیٰ۔ ایک وقت میں جبکہ جہالت کی زندگی بسر کرتا ہے چاہتا ہے کہ جہالت دُور ہو کر اس کو علوم حاصل ہو جائیں اور جب علوم مِل جاتے ہیں تو ان کی حفاظت کی فکر ہوتی ہے کہ جو کچھ مَیں نے حاصل کیا ضائع نہ ہو جائے۔ اسی طرح ایک وقت جبکہ بیمار ہوتا ہے، کوشش کرتا ہے کہ بیماری دُور ہو جائے اور جب بیماری دُور ہو جاتی ہے تو قیام صحت اور افزائش طاقت کے لئے مقویات کا استعمال کرتاہے….۔

یہ دُعا ہے جو اسلام نے ہر ایک مومن کو سکھائی ہے۔ اگر اس کا ورد کیا جائے تو انسان بہت سی بلاؤں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نہیں سوتے تھے جب تک کہ ان دُعاؤں کو پڑھ نہ لیتے تھے۔ رسولِ کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا قاعدہ تھا کہ آپ جس وقت بستر پر تشریف لے جاتے تھے تو سورۃ اخلاص اور سورۃ فلق اور سورۃ الناس کو پڑھ کر دونوں بانہوں پر پھُونکتے اور جسم پر جہاں جہاں تک ہاتھ جاسکتا تھا ہاتھ پھیر لیتے اور ایسا ہی تین دفعہ کرتے اور اس کے ساتھ اور بھی بعض دُعائیں ملاتے تھے اور آیت الکرسی بھی پڑھتے تھے۔ ( بخاری کتاب التفسیر باب فضل المعوذات) یہ اس شخص کا دستور العمل تھا جس کے لئے اﷲ تعالیٰ کا وعدہ تھا

وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ(المائدۃ : 68)

اور جس کے لئے خدا کی حفاظت ہر طرف سے قائم تھی۔ اس سے خیال کر سکتے ہو کہ اَور لوگوں کے لئے ایسا کرنا کس قدر ضروری ہے۔ جو لوگ یہ دُعا نہیں پڑھتے اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت ہے مگر وہ لوگ اس سے واقف نہیں ۔ اگر جانتے تو ضرور پڑھتے لیکن میں آپ لوگوں کو آگاہ کرتا ہوں کہ قرآن کریم نے ہمیں مصائب و آفات سے بچنے کا یہ گُر بتادیا ہے اور اس سورۃ میں تمام جسمانی آفتوں کا ذکر ہے اور ان سے محفوظ رہنے کا طریق بتایا گیا ہے۔ رُوحانی آفات اور ان سے بچنے کا ذکر اگلی سورۃ میں ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 21؍مارچ1919ء
مطبوعہ الفضل 5؍اپریل 1919ء)

خدا سے مضبوط تعلق اور دعا کی تحریک

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ

’’پنجابی کا ایک مشہور فقرہ ہے ’’جے تُوں اُسدا ہو رہیں تاں سب جگ تیرا ہو‘‘۔ یعنی اگر تُو خدا کا ہو جائے تو تمام دُنیا تیری ہی خادم ہو جائے گی۔ پس اگر انسان خدا کے لئے ہو جائے اور خدا اس کا ہو جائے تو پھر تمام مخلوق اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ دُنیا میں بادشاہ سے جس کا تعلق ہو اور حکمران جس پر مہربان ہو لوگ اس کی خوشامدیں کرتے اور اسے نقصان پہنچانے سے ڈرتے ہیں ۔ پھر کیا اگر خدا ہمارا ہو جائے تو کوئی آفت ہمارا کچھ بگاڑ سکتی ہے؟ ہر گز نہیں ۔

پس اگر اَور لوگ بلاؤں اور آفتوں سے ہلاک ہوتے ہیں تو انہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان کو ان بلاؤں سے بچنے کا علم نہیں ہے لیکن تم پر اگر مصیبت آتی ہے، تم اگر آفتوں میں پڑتے ہو تو یہ بات قابلِ تعجب ہے کیونکہ تمہیں ان سے بچنے کا طریق بتایا گیا ہے۔ کچھ مصائب اور ابتلاء تو ترقی کے لئے ہوتے ہیں جن سے گزرنا تمہارے لئے ضروری ہے مگر الٰہی سلسلوں کے لئے وبائیں نہیں ہوتیں ۔ جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ طاعون احمدیوں میں وباء کے طور پر نہیں آئے گی۔ مختلف شکلوں میں فرداً فرداً تکلیفیں آتی ہیں مگر ایسی مصیبت جو تباہ کُن ہو خدا کی پیاری جماعت کو نہیں آیا کرتی۔ چونکہ تم خدا کی راہ میں قدم ماررہے ہو اور اس کے دین کی اعانت کر رہے ہو اس لئے تم یہ مت خیال کرو کہ تم بے بس اور بے کس ہو۔ اگر تمہارے ساتھ خدا ہے تو کوئی چیز تمہیں گزند نہیں پہنچا سکتی مگر اپنی حالت کو درست کرو۔ تمہیں سامانوں سے منع نہیں کیا جاتا بلکہ اس سے روکا جاتا ہے کہ بالکل سامانوں پر ہی نہ گر پڑو۔

جب مصائب عام ہوں تو ان کے دُور ہونے کے لئے دعائیں بھی عام ہی ہوتی ہیں ۔ ہاں ایسے وقت میں ہوشیار سب کو کر دیا جاتا ہے اور ہلاکتوں سے وہی بچائے جاتے ہیں جو ہوشیار ہو جاتے ہیں ۔ پس اِس وقت ہر ایک کو تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھو کہ کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ بہت لوگ مایوسی کے سبب سے ہلاک ہو جاتے ہیں مگر تم وہ ہو جنہوں نے خدا کے فضل کے دامن کو پکڑا ہے اس لئے تمہارے لئے کوئی مایوسی نہیں ہے۔ اگر تم پر خدانخواستہ کوئی مُشکل آئے تو مت یقین کرو کہ وہ تمہیں تباہ کرے گی کیونکہ تمہارا اس خدا سے تعلق ہے جو واقعی تمام ہلاکتوں سے بچا سکتا ہے۔ مایوسی تو ایسی بُری چیز ہے کہ انسان کو کافر بنا دیتی ہے۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:

اِنَّهٗ لَا يَايْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ۔
( یوسف : 88)

اﷲ کی رحمت سے نا اُمید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔ پس مایوسی ایسی چیز ہے کہ ایمان گھٹتے گھٹتے کُفر کی حد تک پہنچ جاتا ہے اس لئے تم کسی وقت میں اپنے آپ کو مایوس نہ ہونے دو اور خدا پر توکّل رکھو۔ پس اﷲ تعالیٰ کے فضلوں کا یقین اور اس کے فنا کا خوف ہو اور پھر دعاؤں پر زور دو جب یہ بات انسان میں پیدا ہو جائے تو پھر کوئی ہلاکت اس پر اثر نہیں کر سکتی۔ یہ دُعائیں ہیں جن کو استعمال کرو۔ ان کے ساتھ وہ دُعائیں بھی ہیں جو حضرت صاحب کو اﷲتعالیٰ نے بتائی ہیں ۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ21؍مارچ1919ء
مطبوعہ الفضل 5؍اپریل 1919ء)

احمدیوں کووبا سے مایوس نہ ہونے کی تلقین

حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓ نے سورہ یوسف میں حضرت یعقوب کے قول

وَ لَا تَايْـَٔسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا يَايْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ۔ (یوسف: 88)

سے جماعت کو تسلی دلائی اور بیماری کے آثار ظاہر ہونے پر مایوس ہونے اور اس مایوسی کے جسم پر پیدا ہونے والے اثر سے متعلق سائنسی نکتۂ نظر بھی بیان فرمایا:

‘‘مَیں مایوسی کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں سو یاد رکھو کہ مایوس نہ ہونے کا گُر اﷲ تعالیٰ نے ایسا تعلیم کیا ہے کہ اس کی وجہ سے انسان ہر میدان میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ ہماری جماعت کے ایک مخلص آدمی ہیں جو ایم۔ اے ہیں اور عربی میں بھی بہت قابل ہیں ۔ وہ کئی سال سے ایک بیماری میں مُبتلا تھے اور کسی کام کے کرنے کے قابل نہ رہے تھے۔ آخر وہ گھبرا گئے اور انہوں نے مجھے لکھا کہ اب میں اس حالت تک پہنچ گیا ہوں کہ اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔ مَیں اپنی ملازمت کو چھوڑ کر اپنے گھر بیٹھ جاؤں گا۔ مَیں نے ان کو اُس وقت خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ مَیں آپ کو ایک نسخہ لکھتا ہوں اگر آپ اس پر عمل کریں گے تو انشاء اﷲ ضرور فائدہ اُٹھائیں گے اور وہ یہ کہ سوتے وقت کثرت سے اس آیت کو پڑھیں اور دل میں جگہ دیں کہ

لَا تَايْـَٔسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَايَايْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ۔

پھر دیکھیں کیا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس پر جب انہوں نے عمل کیا تو آرام ہو گیا اور اب عمدگی سے اپنا کام کرتے ہیں اور اگر بالکل نہیں تو بہت حد تک ان کی تکلیف رفع ہو گئی۔ تو یہ آیت ان کے لئے شفاء کا موجب ہو گئی۔ اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کی آیتیں ٹونے کی طرح ہیں بلکہ یہ اس لئے ہیں کہ ان پر عمل کیا جائے اور ان کے مضامین کو اپنے دل میں جگہ دی جائے۔ بات یہ ہے کہ قدرت نے اُمید میں اس قسم کے سامان رکھے ہیں کہ اگر انسان مایوس نہ ہو تو کامیابی کے ذرائع پیدا ہو جاتے ہیں اور قدرت نے انسان کے وجود میں ایسی طاقتیں رکھی ہیں کہ جو تمام روکوں کو دُور کر دیتی ہیں ۔ اگرچہ ہم نہیں جانتے کہ وہ کیا ہیں ۔

دیکھو ! مایوس نہ ہونے سے دو نتیجے حاصل ہوتے ہیں ۔ ایک دینی اور دوسرا دنیاوی۔ دُنیا میں قاعدہ ہے کہ انسان جس پر سہارا لگاتا ہے وہ اس کی مدد کرتا ہے۔ پس اگر خدا جو سب سے بڑھ کر محسن ہے اگر اس پر انسان کو بھروسہ ہو تو پھر کیسے ضائع ہو سکتا ہے۔

دُنیا میں جتنی وبائیں پڑتی ہیں ان کی ایک وجہ مایوسی ہوتی ہے۔ چنانچہ انہی دنوں ایک عام بخار تھا جس کو قحط کا بخار کہا جاتا ہے۔ اس میں جو لوگ زیادہ مرے ہیں یہ نہیں کہ ان کو روٹی نہیں ملتی تھی بلکہ بناء یہ تھی کہ آئندہ کے متعلق ان کو قحط کو دیکھ کر جو مایوسی اور نااُمیدی ہو گئی تھی اس نے ان کے جسم کو مرض کے قبول کرنے کے قابل بنا دیا تھا ورنہ ان میں سے اکثر ایسے لوگ بھی تھے جو آسودہ حال یا کم از کم دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھانے کی مقدرت رکھتے تھے۔ اسی طرح اور سینکڑوں بیماریاں ہیں جن کا باعث مایوسی ہوتی ہے۔ لوگ خیال کرتے ہیں کہ اب ہم کیا کریں گے؟ اب کیا ہو گا؟ بھُوک سے مَر جائیں گے۔ حالانکہ جس وقت وہ یہ خیال کر رہے ہوتے ہیں اُس وقت ان کے پاس کھانے کو موجود ہوتا ہے۔ پچھلے دنوں جب انفلوئنزا پھیلا تو اس میں زیادہ مسلمان مرے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مسلمان چونکہ زیادہ غریب ہیں اس واسطے انہیں اپنی آئندہ حالت کے متعلق زیادہ مایوسی لا حق ہوئی اور ان کے جسموں نے اس مرض کو زیادہ قبول کیا اور وہ ہندوؤں کے مقابلہ میں زیادہ مَرے۔ پھر اس سے یورپین لوگ زیادہ مَرے جس کی وجہ یہ تھی کہ یورپ میں چار سال جنگ رہی۔ اس سے ہر ایک سلطنت کو یہی خیال تھا کہ ہماری حکومت گئی۔ اس لئے وہاں کے لوگوں کو جنگ کے صدمات نے بیماری قبول کرنے کے لئے تیار کر دیا تھا۔ پس قحط اس کا باعث نہیں ہوا بلکہ وہ مایوسی اس کا باعث ہوئی جو قحط کے خیال سے پیدا ہو گئی۔ کیونکہ قحط نے ان سب لوگوں کی جو اس سے مَرے یہاں تک حالت نازک نہیں کر دی تھی کہ وہ بھوکوں مَر گئے ہوں ۔ اگر اس طرح مَرے ہیں تو بہت تھوڑے مگر ایک مومن کی یہ شان نہیں ہے کہ اس قسم کی مایوسیوں کا شکار ہو۔ وہ ہر وقت اور ہر حالت میں خدا سے اُمید رکھتا ہے۔ پس مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا کیونکہ مایوس کافر ہوتا ہے اور نہ مومن کو محض اُمید ہی اُمید ہوتی ہے بلکہ مومن میں یہ دونوں باتیں جمع ہوتی ہیں ۔ حضرت خلیفہ اوّل فرمایا کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فرماتے تھے بلکہ سب کے سردار محمد صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ خدا کے غضب سے ڈرو مگر اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیونکہ محض خوف کُفر ہے۔ ایک ایسا شخص جسے ہر وقت یہی خیال ہو کہ خدا مجھے ہر گز نہیں چھوڑے گا، ضرور سزا دے گا اور کسی امر کے متعلق مایوسی کو اپنے دل میں جگہ دیتا ہے وہ اس کی رحمت کو بھُول جاتا ہے مگر تم یاد رکھو کہ کوئی بڑے سے بڑا سانحہ تمہیں مایوس نہ کرنے پائے۔ تم ہمیشہ یہ یقین رکھو کہ خدا ہے اور اس کی رحمت ہر مصیبت سے تمہیں نجات دے سکتی ہے۔ پس کوئی آفت نہ ہو جو تمہیں مایوس کر سکے، کوئی تکلیف نہ ہو جو تمہیں نااُمید کر سکے، کوئی دُکھ نہ ہو جو تمہیں نا اُمید کر سکے۔ تمہارا اُس خدا کے ساتھ تعلق ہے جو ہر ایک بڑی سے بڑی مصیبت اور روک کو دُور کرسکتا ہے۔ اگر تم یہ بات یاد رکھو تو تمہارے راستہ میں اگر مصائب کے پہاڑ بھی آجائیں تو وہ دُور کر دیئے جائیں گے۔ تمہیں ہر مقصد اور مُدعا میں کامیابی نصیب ہو گی۔

اﷲ تعالیٰ ہماری جماعت پر رحم کرے اور اسی نقطہ ایمان پرکھڑا کرے۔ جب ایسا ایمان حاصل ہو جائے گا تو خدا اپنی اصلی معرفت اور اپنی اصلی شان کے ساتھ تمہیں نظر آجائے گا…۔

مَیں نے مایوسی کے متعلق بتایا ہے کہ یہ ہلاکت کا باعث ہوتی ہے اور یہ ثابت شُدہ بات ہے کہ جس مریض کو یہ یقین ہو جائے کہ مَیں نہیں بچوں گا وہ نہیں بچ سکتا۔ ڈاکٹر اپنی کتابوں میں اس کو موت کی علامتوں میں سے ایک علامت بتاتے ہیں چونکہ انہوں نے علم النفس یعنی وہ علم جس سے قلبی کیفیات معلوم ہوتی ہیں نہیں پڑھا ہوتا کہ جذبات کا کیا اثر ہوتا ہے اس لئے انہوں نے اس کو علامت قرار دے دیا۔ ورنہ یہ علامت نہیں ۔ یہ خیال ہی جو کہ مایوسی ہے ان کی موت کا باعث ہوتا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 27؍جون 1919ء
مطبوعہ الفضل 8؍جولائی 1919ء)

تیمارداری کا فن سیکھنے کی تحریک

1920ء میں اس وبا نے جب دوبارہ سر اٹھانا شروع کیا تو حضرت مصلح موعودؓ نے احبابِ جماعت کو تیمارداری سیکھنے کی تلقین فرمائی۔ آپؓ نے فرمایا:

’’ابھی معلوم ہؤا ہے کہ وہ وباء جو پچھلی دفعہ مُلک میں پھیلی تھی اب پھر بڑھ رہی ہے۔ اس کا رُخ پنجاب کی طرف ہے۔ 1919ء میں بھی اس کی آمد آمد تھی لیکن خدا تعالیٰ نے اس وقت اس کو اپنے فضل و رحم سے دُور کر دیا تھا۔ اب بھی اﷲ تعالیٰ دُور فرمائے مگر یہ خداکے عذاب ہیں ۔ جب تک لوگ اسلام سے نفرت اور سچّائی کی مخالفت کرتے رہیں گے اﷲ تعالیٰ بھی اپنے حملے کرتا رہے گا اور جب تک لوگ مخالفت میں بڑھ رہے ہیں ہمیں اپنے مومنانہ جوش سے تمام بنی نوع کی ہمدردی میں مصروف رہنا چاہئے۔ یاد رکھو اسلام ہر انسان کو جان کی حفاظت کا حکم دیتا ہے اور ہر گز نہیں چاہتا کہ کوئی شخص اپنی جان ضائع کرے مگر بعض جگہ خداکا ہی حکم ہوتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو خطرے میں ڈال دیں ۔ بعض لوگ خطرے سے بچنے کے لئے کہہ دیا کرتے ہیں کہ قرآن میں آیا ہے

لَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرۃ : 196)۔

گو سیاق و سباق سے اس کے اور معنے نکلتے ہیں مگر یہ بھی سچ ہے کہ جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہئے لیکن قرآن یہ بھی تو کہتا ہے کہ اگر کوئی شخص موت کے خوف سے کتنی ہی کوٹھڑیوں میں چھپے تو موت وہاں بھی نہیں چھوڑتی۔ (النساء:79) دراصل اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ جہاں خطرے میں پڑنا مفید ہو وہاں خطروں میں پڑنے سے بچنا نہیں چاہئے۔ اس موقع پر مَیں قادیان والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تیمارداری اور بیماروں کی خدمت کرنا سیکھیں …..۔

تیمار داری کا بھی ایک فن ہے جو محنت سے آتا ہے اور ہر ایک کام کا یہی حال ہے کہ جب اس کے کرنے کے طریق نہ آتے ہوں عمدگی سے نہیں ہو سکتا….۔ تو ہر ایک کام سیکھنے سے آتا ہے اور اس پر محنت بھی ہوتی ہے۔ اسی طرح تیمارداری بھی سیکھنے سے آتی ہے۔ پس اوّل تو اﷲ تعالیٰ اس آنے والے خطرے سے محفوظ رکھے لیکن اگر آئے تو اس خدمت کے لئے تیار ہونا چاہئے اور عمدگی سے یہ خدمت کرنی چاہئے۔ پہلی دفعہ جب انفلوئنزا پڑا تو ہمیں معلوم ہؤا کہ ایک غیر احمدی عورت جس کے رشتہ دار بیمار تھے، غیر احمدیوں کے محلہ میں پانی پانی کرتی مَرگئی اور کسی نے اس کو پانی کا گھونٹ نہ دیا۔ یاد رکھو جو شخص ایسے وقت میں بالخصوص اپنے بھائیوں کی اور عموماً سب کی خدمت اخلاق و ہمدردی سے نہیں کرتا اس کو اﷲ تعالیٰ کے دروازے تک رسائی نہیں ہوتی۔‘‘

(خطبہ جمعہ 16؍اپریل1920ء
مطبوعہ الفضل 24؍مئی 1920ء)

انفلوئنزا میں خدمت بطور ثبوت

جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے پیار کرنے والی ایک جماعت ہے اور اس جماعت کے قیام کا مقصد بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے یہ بیان فرمایا کہ

مرا مقصود و مطلوب و تمنا خدمتِ خلق است

مئی 1934ء میں سکھوں کا قادیان سے قریب ایک بہت بڑا اجتماع ہوا۔ جس میں سردار کھڑک سنگھ صاحب نے جماعت احمدیہ کے خلاف اشتعال انگیز اور دل آزار تقریریں کیں ۔ جس پر حضور ؓنے ایک مضمون رقم فرمایا۔

آپ نے اپنے اس مضمون میں خاص طور پر گذشتہ واقعات کی روشنی میں اس غلط فہمی کا پوری طرح ازالہ کیا کہ احمدی سکھوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ اور جماعت کی جانب سے مختلف مواقع پر اپنے ہمسایوں اور خصوصاً سکھوں کی مدد کا حوالہ بھی دیا۔ حضورؓ نے تحریر فرمایا کہ

‘‘ہاں انہیں قسم دے کر پوچھئے کہ انفلوئنزا کے دنوں میں جبکہ میں اور میرے گھر کے سب لوگ تکلیف میں مبتلا تھے قادیان کا ہر گھر مریضوں کی چیخ و پکار سے ایک میدان جنگ کا نقشہ پیش کر رہا تھا اس وقت اپنے پاس سے دوائیں دے کر اور اطباء اور ڈاکٹروں کو فارغ کرکے ان کے علاج کے لئے چھ چھ سات سات میل تک باہر بھجوایا یا نہیں …‘‘

(الفضل 31؍مئی 1934ء)

حرفِ آخر

پس آج ایک صدی بعد بھی جماعت احمدیہ کی بے لوث اور پر خلوص خدمتِ انسانیت پر مخالفین احمدیت دشنام دہی اور خلقِ خدا کو اپنے بیانات اور تقاریر سے گمراہ کرتے رہتےہیں ۔ لیکن خدا تعالیٰ کی قائم کردہ یہ جماعت ان اعتراضات اور ناعاقبت اندیش مخالفین کی باتوں سے بے پروا ہمیشہ ہر طوفان، آفت، وبا، سیلاب اور زلزلے غرض ہر قسم کی زمینی و آسمانی آفات میں خدمتِ انسانیت میں پیش پیش رہی اور آج بھی ہے۔ اورآئندہ بھی ایک خاموش کارکن کی طرح ہمیشہ صفِ اول کے مجاہدین میں شامل ہوگی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں کہ

’’دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں اور ان میں احمدی بھی ہوں گے جن کے پاس احتیاط کے سامان میسر نہیں ، جن کو علاج کی سہولتیں نہیں ہیں ، کھانے پینے کی سہولتیں نہیں ہیں اللہ تعالیٰ ان پر بھی اور ہم سب پر بھی رحم فرمائے۔ ہم جماعتی طور پر کوشش کرتے ہیں کہ ان حالات میں خوراک وغیرہ ہر احمدی تک پہنچائیں لیکن پھر بھی ہو سکتا ہے، کمی رہ جاتی ہے بلکہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ خوراک یا علاج کی سہولتیں پہنچائیں ۔ احمدیوں کے گھر پہنچانے کی اس کوشش کے باوجود کمی رہ جاتی ہے بلکہ ہم تو یہاں تک کوشش کرتے ہیں کہ غیروں تک بھی یہ سب سہولتیں علاج کی سہولت یا خوراک وغیرہ کی سہولت جہاں ضرورت ہے پہنچے اور بے غرض ہو کر یہ خدمت خالصۃً ہمدردی کے جذبے سے ہم کرتے ہیں لیکن پھر بھی بعض متعصب میڈیا کے ذرائع یا نام نہاد علماء یہ الزام لگا دیتے ہیں کہ احمدی جو یہ خدمت کر رہے ہیں یا خوراک پہنچا رہے ہیں یا میڈیکل ایڈ دے رہے ہیں یہ اپنی تبلیغ کے لیے مدد کرتے ہیں تا کہ ان کی تبلیغ کے رستے کھلیں ۔ بہرحال ہمیں ان الزاموں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اللہ تعالیٰ ہماری نیتوں اور ہمارے جذبے کو جانتا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 10؍ اپریل 2020ء
مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل یکم مئی 2020ء)

حضرت مصلح موعودؓ نے اُس وقت بھی ہماری رہنمائی اور دعاؤں سے ہمارے اور آفات کے درمیان ایک مضبوط دیوار قائم کی اور آج بھی حضرت امیر المؤمنین خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز قبولیت دعا کے معجزات سے ہمارا ایمان اس زندہ خدا پر قائم کیے ہوئے ہیں ۔ اب ہمارا کام ہے کہ ان ہدایات پر پورا پورا عمل کریں ۔ اسباب سے بھی کام لیں لیکن دعا کو مقدم رکھیں ۔ اللہ کرے کہ ہم سب سے بڑھ کر خدمتِ خلق کرنے والےہوں ۔ آمین

حضور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

’’یہی انسانیت کی خدمت کے دن ہیں جس کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تلقین فرمائی ہے کہ ہمدردی کا جذبہ پیدا کرو۔ حقوق العباد کی ادائیگی کے یہی دن ہیں اور اس ذریعہ سے یہ خدا تعالیٰ کا قرب پانے کے بھی دن ہیں ۔‘‘

فرمایا :

’’پھر مَیں کہوں گا کہ آج کل دعاؤں ، دعاؤں اور دعاؤں پر بہت زور دیں ۔ اللہ تعالیٰ جماعت کو ہر لحاظ سے جماعت کے ہر فرد کو ہر لحاظ سے اور مجموعی طور پر جماعت کو بھی ہر لحاظ سے اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی دعائیں کرنے اور دعاؤں کی قبولیت سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 10؍ اپریل 2020ء
مطبوعہ الفضل انٹر نیشنل یکم مئی 2020ء)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

تبصرے 5

  1. السلام علیکم و رحمت اللہ
    مضمون بہت ہی بہترین انداز میں تحریر کیا گیا ہے ۔۔۔۔احتیاطی تدابیر اور دعاؤں کے علاوہ جو خدمت خلق کی توجہ دلائی گئ ہے بہت ضروری امر ہے ۔۔۔جزاکم اللہ ۔۔۔

    1. مکرم ذیشان محمودصاحب مربی سلسلہ ربوہ کا مضمون ’’انفلوئنزا 1920ء: حضرت مصلح موعودؓ کی بے مثال رہنمائی اور احمدیوں کی خدمتِ خلق کے قابلِ تقلید نظارے‘‘ کامطالعہ کرنے کی توفیق ملی ہے۔جس میں انفلوئنزا کےبارے میں تفصیل سے ذکرکرتے ہوئے ایسے موقعہ پر جماعت احمدیہ کی طرف سے کئ گی خدمت خلق کا ذکرکیاگیاہے۔ مسیح کے زمانے میں پھیلنے والی امراض ،فلواوروائرس کے متعلق آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی بھی درج کرکے نہایت مدلل طریق پر انفلوئنزاکو حضرت مسیح موعودکیؑ صداقت کا نشان ثابت کیاگیاہے۔
      وباکے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کی ایک رؤیا بھی بتائی گئی ہے جس سے کافی تفصیلات کا علم ہواہے۔اس موقعہ پر جماعت احمدیہ نے مخلوق خداکی جس رنگ میں بے لوث خدمات سرانجام دی ہیں وہ قابل قدرہیں۔ آج کے دورمیں بدقسمتی سے بعض ڈاکٹرزبھی کروناوائرس سے خوف کھاکرہسپتال بند کرچکے ہیں ۔یافرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کررہے ہیں ۔
      وبائی نزلہ کے متعلق ہدایات بھی اس مضمون میں درج ہیں۔جس سے قارئین بہت فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔آیت الکرسی اور معوذات پڑھنے کی تحریک کے ذکر سے دوبارہ اَب لوگوں کو اس طرف تحریک ہورہی ہے۔الحمدللہ کہ مضمون نگار نے مضمون کا حق اداکرتے ہوئے عمدہ رنگ میں تحریرکیاہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے کماحقہ استفادہ کرنے کی توفیق عطافرمائے اور مکرم ذیشان محمودصاحب کو اجرعظیم عطافرمائے۔آمین۔

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close