متفرق مضامین

رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں قادیان اور ربوہ کی رونقیں (قسط سوم)

(ذیشان محمود۔ مربی سلسلہ ربوہ)

خلافتِ ثانیہ(ربوہ)

قادیان سے ربوہ ہجرت کے بعد ربوہ کی بے آب و گیاہ وادی میں رمضان کا نظارہ دور اول کی یاد تازہ کر دیتا تھا۔ ربوہ کا پہلا رمضان شدید گرمیوں میں آیا۔ ماہِ رمضان میں ہجرت، پھر نئے مرکز کا قیام اور بے سرو سامانی کی حالت نے خدا تعالیٰ سے دعاؤں میں رقت پیدا کر دی۔ ذیل میں ابتدائی ایام کا نقشہ اس دور کے اخبارات سے درج ہے۔ جسے پڑھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان بزرگوں اور خدا کے بندوں کی قربانیوں کا پھل اب ہم آسائشوں کے سایہ اور دنیاوی نعمتوں کی فراوانی میں سکون سے کھا رہے ہیں۔

ربوہ کے رمضان کا روح پرور نظارہ

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ مرکز سے محبت اور ربوہ کے رمضان کا روح پرور نظارہ کے عنوان سے تحریر کرتے ہیں کہ

‘‘میں سفر کا بہت کچا ہوں یا یوںسمجھ لیجئے کہ مرکز کا سخت دلدادہ ہوں۔ قادیان کے زمانہ میں میری ساری عمر قادیان میں اور ربوہ میں گزری ہے اور بہت کم باہر رہا ہوں اور رمضان کا مہینہ تو میں نے خاص طور پر ہمیشہ مرکز میں گزارا ہے۔والشاذ کالمعدوم۔ لیکن اس سال ایسا اتفاق ہوا کہ ام مظفر کی بیماری کے تعلق میں مجھے اس رمضان کے ابتدائی چند دن لاہور میں گزارنے پڑے اور میں نے یوں محسوس کیا کہ گویا ایک مچھلی کو تالاب سے باہر نکال کر میدان میں پھینک دیا گیا ہے۔ بے شک میں تین چار سال سے ڈاکٹری مشورہ کے ماتحت روزہ نہیں رکھتا اور فدیہ ادا کر کے خدائے رحیم و کریم کی رعایت سے فائدہ اٹھاتا ہوں مگر رمضان میں صرف روزے کا ہی سوال نہیں ہوتا بلکہ اس مبارک مہینہ میں کثیر التعداد کے اجتماع کی وجہ سے روزے سے محروم انسان بھی کئی قسم کی برکتوں سے حصہ پاسکتاہے اور پالیتا ہے اور پھر خدا کے فضل سے ہمارے مرکز میں کسی ایک فرد کا انفرادی روزہ نہیں ہوتا بلکہ بعض محروم الصوم لوگوں کے باوجود گویا سارے شہر کا اجتماعی روزہ ہوتا ہے اور مرکز کی فضاء اور مرکز کے زمین و آسمان روزے کی گوناگوں برکات سے گونجتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور تلاوتِ قرآن اور درس قرآن اور درسِ حدیث اور نوافل اور تراویح اور صلوٰة تہجد اور صلوٰة ضحٰی اور تحیّات دعا و سلام اور درود اور ذکر الٰہی سے مرکز کے روزوشب اس طرح معمور نظر آتے ہیں جس طرح کہ ایک برسنے والا گھنا بادل پانی کے قطروں سے معمور ہوتا ہے۔ او ریہ دلکش روحانی کیفیت رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کی دلآویزی کے ذریعہ گویا اپنے کمال کو پہونچ جاتی ہے۔ اللّٰھم زِدْ فَزِدْ۔ ’’

(الفضل 14؍مارچ 1961ء)

ربوہ کا ابتدائی رمضان

ربوہ کے ابتدائی رمضان کے متعلق حضرت خلیفة المسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں کہ

‘‘ہم نے اپنے قادیا ن کے ماحول میں یہی دیکھا کہ چھوٹے بچے بھی جو 8، 9سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں جو شوق سے روزہ رکھنا چاہتے ہیں اُن کوکبھی روکا نہیں گیا تھا۔ کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ تمہاری صحت کمزور ہو جائے گی تم رک جاؤ۔ ہاں اگر کوئی زیادہ ہی جوش دکھائے اور کہے کہ میں نے سارے مہینے کے رکھنے ہیں تو اُسے پیار سے سمجھایا جاتا تھا کہ نہ کرو۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بعض دفعہ کچی عمر میں زیادہ نیکی کرنے سے نیکی سے ہی متنفر ہو جاتا ہے۔ وہاں بھی صحت کی خرابی کا خطرہ نہیں تھا۔ غالباً وجہ یہ ہوتی تھی کہ بچہ کہیں زیادہ جوش میں نیکی کرکے، نیکیوں سے نہ جائے کہیں اور نیکیوں کے خلاف ایک قسم کی بےرغبتی نہ پیدا ہوجائے۔ بہرحال ہم نے بچپن میں رکھے ہوئے ہیں۔7، 8سال کی عمر سے شروع میں دو تین پھر 7، 8بلوغت سے پہلے پندرہ بیس تک پہنچ جایا کرتے تھے اور بلوغت کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے جہاں تک مجھے یاد ہے روزے رکھنے کی توفیق ملی۔ سختیوں میں بھی، نرمیوں میں بھی، چھوٹے دنوں میں بھی، زیادہ دنوں میں بھی لیکن کوئی ایسا نقصان مجھے یاد نہیں جس نے ہمیشہ کے لئے صحت پر بُرا اثر چھوڑا ہو۔

شاید ربوہ کے ابتدائی سالوں میں جب ربوہ بنا تھا جو گرمیاں وہاں پڑی تھیں اُن کے نتیجے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ کچھ نقصان ہوتا تھا۔ مگر وہ اس طرح کہ شدید گرمی تھی اور124درجے(51.1oC۔مرتب) تک ٹمپریچر صبح شام ٹھہر ہی جایا کرتاتھااور بجلی نہیں تھی،کوئی پنکھا نہیں تھاتونقصان جو پہنچتا تھا وہ اس طرح پہنچتا تھاکہ بعض لوگ چادریں بھگو کر اُن میں لپٹ کر وقت گزارتے تھے اور اُس سے اعصاب پر بُرا اثر پڑتا تھا۔ پس وہ براہ راست گرمی کی سختی کے نتیجے میں نہیں بلکہ گرمی کے غلط علاج کے نتیجے میں ہوتا تھا۔ میں اس لئے وضاحت کررہاہوں کہ بعض لوگ جنہوں نے وہ تجربے کئے ہوئے ہیں کہ شاید کہہ دیں کہ نہیں فلاں وقت تو ہمیں نقصان پہنچا تھا۔ پہنچا تھا مگر اپنی غلطی کی وجہ سے۔ عام طریق پر جو روزہ رکھا جائے اُس سے سختی برداشت کی جائے۔ دائمی نقصان نہیں ہوا کرتا۔ سوائے اس کے کہ بیمار رکھ لے۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ5؍ مارچ 1993ء مطبوعہ خطبات طاہرجلد 12صفحہ191)

124 درجے کی گرمی

پھر فرمایا کہ

‘‘رمضان جب گرمیوں میں آتاہے تو وہ واقعی موت کے قریب پہنچانے والی بات ہے۔ ہم نے خود بہت سخت رمضان ربوہ کے ابتدائی دنوں میں کاٹے ہیں۔ ایسے سخت رمضان تھے وہ کہ آپ یہاں بیٹھ کے تو اس کا تصور کر ہی نہیں سکتے۔ بعض دفعہ ایک ایک ہفتے تک ایک سو بیس درجے سے اوپر درجہ حرارت رہتا تھا۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے 124 درجہ حرارت (51.1oC۔مرتب) تقریبا ًدن رات رہتا تھا کیونکہ دن کو دھوپ پڑتی تھی اور رات کو پہاڑیاں ریڈی ایشن (Radiation)کرتی تھیں اور دن کی جذب کی ہوئی گرمی وہ سورج کی قائم مقامی میں واپس چھوڑ رہی ہوتی تھیں اور ہم ٹمپریچر دیکھتے تھے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا نہ دن کو نہ رات کو حالانکہ عرب میں بہت گرمی ہوتی ہے لیکن رات بہت ٹھنڈی ہو جاتی ہے اس لئے کچھ Relief مل جاتا ہے۔ تو روزہ اس طرح کھولتے تھے کہ نیم مردہ کی حالت ہوتی تھی اور بعض لوگ چادریں بھگو بھگو کر اوپر لیتے تھے، پنکھے بھی نہیں تھے، بڑی سخت گرمیاں تھیں۔ بجلی کوئی نہیں تھی، مکان تھوڑے تھے اور مٹی بہت اڑتی تھی۔ عجیب قسم کی بلائیں تھیں جو گھیرے ہوئے تھیں۔ لیکن اللہ نے اس زمانے میں بھی بچوں کو اور بڑوں کو خوب توفیق دی اور اپنے فضل سے ان بد اثرات سے بھی بچا لیا۔’’

(خطبہ جمعہ 4 مارچ 1994ء مطبوعہ خطبات طاہر جلد13صفحہ170)

رمضان میں مسجد مبارک ربوہ کی مرکزیت

پھر مکرم مولانا ابو العطاء صاحب فاضل ربوہ کے ابتدائی سالوں میں ربوہ میں رمضان کے ماحول کی بابت پر سوز الفاظ میں ایک مضمون تحریر فرمایا۔ جس کا ایک حصہ ہدیۂ قارئین ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ

‘‘اس شہر کے لئے رمضان المبارک کی آمد کا پیغام زندگی رکھنے والے بستان کے لئے بھر پور بہار کا پیغام ہوتا ہے ۔ اس بستی پر ایک خاص نورانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور سعادت مند روحوں میں اس کیفیت سے بہرہ اندوز ہونے کا خاص ولولہ موجزن ہوجاتاہے۔

ربوہ کی آبادی چند ہزار نفوس کی ہے اور کئی میل تک پھیلی ہوئی ہے۔ مختلف مساجد اور مختلف محلےہیں اور ہر محلے میں ایسے روحانی انسان موجود ہیں جو اپنی اپنی جگہ ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن مسجد مبارک کو ربوہ میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ نظارت اصلاح و ارشاد کے زیرِ اہتمام رمضان المبارک کے ایام میں مسجد مبارک ذکر الٰہی کا بے نظیر گہوارہ ہوتی ہے۔ اسی مسجد میں سلسلہ کے علماء سارے قرآن مجید کا روزانہ درس دیتے ہیں اور عشاق قرآن جوق در جوق درس سننے کے لئے حاضر ہوتے ہیں۔ احادیث نبویہ کا درس ہوتا ہے۔ دیگر وعظ و تدریس کا بھی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ وہ سماں کتنا پر کیف ہوتا ہے جب کہ ربوہ کی ساری آبادی تہجد اور سحری سے فارغ ہو کر ذرا سا انتظار کرتی ہے تو مسجد مبارک کے خوش نوا مؤذن کی لاؤڈ سپیکر پر ترنم ریز اذان فضائے ربوہ میں گونجتی ہے اور اللہ اکبر کے الفاظ سے ساری فضاء میں ایک ارتعاش پیدا ہوجاتا ہے اور ہر دل مؤذن کا ہمنوا ہوکر کہتا ہے کہ واقعی اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اس کی عظمت کے سامنے سب ہیچ ہیں ۔ خود یہ ربوہ ، یہ احمدی جماعت کا مرکز ذاتِ باری کی عظمت پر ایک زندہ دلیل ہے۔ ورنہ معاندین نے اس جماعت اور اس مرکز کو تہس نہس کرنے اور مٹانے میں کونسا دقیقہ فروگذاشت کیاتھا۔

مؤذن اپنی لَے میں ساری اذان سنا دیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی بالغ مرد اپنے اپنے محلہ کی مسجدوں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں ۔ ظہر وعصر کی نمازیں ذرا مصروفیت کے دوران ہوتی ہیں پھر جونہی غروب آفتاب قریب ہوتا ہے ۔ روزہ دار منتظر ہوتےہیں کہ اذانِ مغرب کے ساتھ اذنِ افطار دیا جائے کہ یکایک پھر مسجد مبارک سے لاؤڈ سپیکر پر خوش الحان موذن اذان کی ندا بلند کرتا ہے اور ہر گھر میں روزہ دار ‘‘اَللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ وَ عَلٰی رِزْقِکَ أَفْطَرْتُ’’کہہ کر روزہ افطار کر دیتے ہیں۔

مسجد مبارک میں نمازیوں کا زیادہ ہجوم ہوتا ہے ۔ عشاء کی نماز کے بعد ربوہ کی جملہ مساجد میں تراویح ہوتی ہیں۔ مسجد مبارک اس بارے میں بھی ممتاز ہوتی ہے یہاں پر تقریباً تمام محلوں سے احباب کا خاصہ طبقہ تراویح میں حافظ شفیق احمد صاحب کی قراءت سننے کے لئے حاضرہوتا ہے۔ جیسا کہ فجر کی نماز کے بعد حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کے درسِ بخاری سننے کے لئے خاص حاضری ہوتی ہے۔

رمضان المبارک کا آخری عشرہ رمضان کی روحانی برکات کے عروج کا زمانہ ہے۔ یہ دس دن خاص الخاص عبادت کے ہوتے ہیں۔اس عشرہ میں اسلامی شریعت میں اعتکاف کی عبادت بھی مسنون ہے اور صالحین امت اہتمام سے وقت نکال کر اسے بجا لاتے رہے ہیں۔ ربوہ کی یہ چھوٹی سی نو آباد بستی اعتکاف کے متعلق بھی امتیاز رکھتی ہے۔ اعتکاف میں مومن دھونی رمانے والے فقیر کی طرح سائلانہ حیثیت میں خدا کے گھر یعنی مسجد میں ڈیرہ ڈال دیتا ہے۔ زمین پر سوتا ہے اور عاجزانہ طور پر اپنے محبوب آقا کے جذبات ِمحبت سے اپیل کرتا ہے اور اسلام اور جماعت مسلمین کے علاوہ اپنی ضرورتوں کے لئے بھی دعائیں کرتا ہے۔ مسجد مبارک ربوہ میں ایسے معتکف بوڑھوں، جوانوں اور مستورات کی غیر معمولی تعداد ہوتی ہے … یہ اعتکاف کرنے والے جب راتوں کی تنہائیوں میں زاری کرتےہیں اور عاجزانہ التجاؤں اور دعاؤں کو بارگاہِ ایزدی میں پیش کرتے ہیں۔ دن کے سارے اوقات میں جس طرح ذکر الٰہی، نماز اور دعا میں مشغول رہتےہیں وہ ایسا ایمان پرور نظارہ ہے کہ انسانی روح میں بےانداز بالیدگی پیدا ہوتی ہے۔ میں نے ایک نظر یہ دیکھا کہ کچھ چینی نوجوان ، کچھ افریقن نوجوان، سندھی اور کشمیری بزرگ ، بھارت اور ٹرینی ڈاڈ کے نوجوان اور پھر مغربی پاکستان کے مختلف اضلاع اور ربوہ کے بوڑھے صحابی اور ادھیڑ عمر اصحاب کس والہانہ انداز میں اسلام کی ترقی اور جماعت کےعروج اور حضرت امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ بنصرہ و حرسہ بعینہ الساھرة کے لئے دعائیں کرتےہیں ۔ میں نے کہا :اے کاش! ہمارے مخالفوں میں خدا ترس ہوں اور اس نظارہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور اس زاری کو اپنے کانوں سے سنیں تا انہیں معلوم ہوکہ احمدی جماعت کس روحانی ماحول میں پرورش پا رہی ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی کس قدر روحانی برکات اس جماعت کے شامل حال ہیں۔ بعض واقعات قلبی آنکھ سے ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہیں لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔’’

(روزنامہ الفضل ربوہ 2؍مئی 1957ء)

خلافتِ ثالثہ

پھر مکرم مولانا ابو العطاء صاحب فاضل ربوہ نے ہی خلافتِ ثالثہ کے پہلے رمضان میں اہالیانِ ربوہ کی رمضان میں عبادات اور دینی ماحول کا نقشہ کھینچتے ہوئے ایک اور مضمون بعنوان ‘‘بَلْدَةٌ طَیّبَةٌ وَ رَبٌّ غَفُوْ رٌ۔ ایمان افروز زندگی کا ایک منظر’’ تحریر فرمایا۔ جس کا ایک حصہ ہدیۂ قارئین ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ

‘‘رمضان مسلمانوں کے شہر کے لئے خاص خیر و برکت کا موجب ہوتاہے مگر رمضان کی جو شان جماعت احمدیہ کے مرکز میں ہوتی ہے اور جس طرح سے رمضان کی غیر معمولی برکات کا انتشار ربوہ کے در و دیوار پر نظر آتا ہے وہ ایک بے مثال ایمان افروز منظر ہے اور انسان کی رگ و پے میں حرارتِ ایمان کی زبردست لہر دوڑانے کاموجب ہے۔

عید کا چاند دیکھنے کے لئے تو ہر جگہ اہتمام کیا جاتا ہے ہر چھوٹے بڑے کی نگاہ افقِ آسمان پر لگی ہوتی ہے مگر رمضان کا چاند دیکھنے کے لئے جن مقامات میں خاص اہتمام کیا جاتا ہے ان میں سے ایک ہماری پیاری بستی ربوہ بھی ہے۔ دوست بڑے شوق سے مغرب کی نماز سے پہلے اور نماز کے بعد آسمان کی طرف توجہ سے دیکھتے ہیں۔ چاند نظر آنے پر ایک بشاشت چہروں پر دوڑ جاتی ہے اور ایک دوسرے کو مسرت سے چاند دیکھ لینے کی خبر دیتے ہیں ۔ گھروں میں فوراً چہل پہل شروع ہو جاتی ہے اور نئے پروگرام جاری ہو جاتے ہیں۔ عشاء کی نماز کے بعد ربوہ کی دس بارہ مساجد میں قرآن مجید سننے کے لئے تراویح کاسلسلہ جاری ہوجاتا ہے اور حفاظ بڑی محبت سے خدائے قدوس کا زندہ کلام لوگوں کو سناتے ہیں ۔ ربوہ کے سننے والوں میں ایک بڑی کثرت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو کلا م اللہ کے معنے جانتے اور اس کے مطالب سے آگاہ ہوتے ہیں…پس یہ تراویح اس شہر میں اور ہی رنگ رکھتی ہیں صرف الفاظ ہی نہیں سنے جاتے جن کی رسائی صرف کانوں تک ہو بلکہ اس کے معانی اور مطالب دلوں پر وارد ہوتے ہیں۔

تراویح کے علاوہ راتوں کا کچھ ابتدائی حصہ گھروں میں ذکرِ خداا و رسول میں گزرتا ہے پھر آرام کیا جاتا ہے بہت سے شب بیدار بزرگ تو آدھی رات کے بعد فوراً ہی تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ کا منظر پیش کرتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک اکثریت آخری شب میں اپنے رب کے حضور گریہ کناں سنائی دیتی ہے۔ گھروں کی روشنیاں بتا رہی ہیں کہ اہلِ خانہ تہجد کی ادائیگی اور روزہ کی تیاری میں مصروف ہیں۔ اس وقت بھی کچھ لوگ مساجد میں جاکر تنہائی میں نوافلِ تہجد ادا کرتے ہیں۔ ہر جگہ دعاؤں پر زور ہے۔ آہ و بکا جاری ہے…۔

ان نوافل سے فارغ ہو کر احمدی مرد اور احمدی عورتیں اسلامی حکم کے مطابق سحری کھاتے ہیں۔ سحری ختم ہوتے ہی مسجد مبارک کے پُر شوکت لاؤڈ سپیکر سے مؤذن خدائے بزرگ وبرتر کی کبریائی کا اعلان کرتے ہوئے اذان شروع کرتا ہے۔ یہ آواز ربوہ کی میلوں پھیلی کھلی آبادی کے ہر گوشے میں سنی جاتی ہے…۔

ربوہ کا رمضان المبارک جاندار اور حقیقی طور پر ثمر دار رمضان ہوتا ہے۔ فجر کی اذان سن کر لوگ رواں دواں مسجدوں کی طرف چل پڑتے ہیں اور ذکر الٰہی میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ نماز کے بعد ہر مسجد میں قرآن مجید ،احادیث نبویہ اور دیگر بابرکت کتب کے درس ہوتے ہیں اور ہر مسجد ایک بقعۂ نور اور علم و عرفان کی درسگاہ ہوتی ہے بالخصوص مرکزی مسجد مبارک کی تو بالکل نرالی شان ہوتی ہے جہاں خود خلیفۂ وقت پانچوں نمازیں پڑھاتے ہیں۔ ان نمازوںکا روحانی لطف غیر معمولی ہوتا ہے۔ جسے خشوع و خضوع کی خاص حالت ہوتی ہے۔ نماز فجر کے بعد…ہمارے محسن استاد حضرت میر محمد اسحاق صاحب ؓکے چھوٹے صاحبزادے اور ہمارے قابلِ فخر شاگرد سید محمود احمد صاحب فاضل احادیثِ نبویہ کا درس دیتے ہیں۔ جس عشق و محبت ِرسول ﷺ میں ڈوبے ہوئے انداز میں یہ سادہ درس ہوتاہے وہ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ مختصر وقت ہوتا ہے۔ مختصر اور تھوڑے الفاظ ہوتے ہیں۔ مگر دل میں کھب جانے والے…ربوہ میں اس طرح اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھرپور ذکر سے راتیں معمور ہیں ۔

نمازِ فجر کے بعد گھروں سے تلاوت قرآن مجید کی آوازوں سے روح میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے اور اسلام کے دورِ اول کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

طلوعِ دن کے بعد اداروں اور مدرسوں میں کاروبارِ زندگی شروع ہوتا ہے بازاروں میں بھی خرید و فروخت ہوتی ہے مگر رمضان کی وجہ سے قدرے تخفیف ہوتی ہے۔

زوالِ شمس کے ساتھ ہی مسجد مبارک سے پھر اذان بلند ہوتی ہے اور ظہر کے بعد عصر تک ایک اور محفل روحانیت پوری آب و تاب سے سجتی ہے۔ یہ قرآن پاک کے درس کی مجلس ہے۔ لوگ بڑی کثرت کے ساتھ اس میں شامل ہوتے ہیں۔ وسیع و عریض مسجد اپنے صحن سمیت بھر جاتی ہے۔ مستورات کے لئے پردہ کا انتظام ہوتا ہے۔ خواتین بھی ذوق و شوق سے اور بکثرت شامل ہوتی ہیں۔ یہ درس ماہِ رمضان میں سارے قرآن مجید کا ہوتا ہے۔ پانچ پانچ پارے سلسلہ کے علماء بطور درس بیان کرتےہیں پہلے ایک پارہ کی تلاوت ہوتی ہے پھر اس کا ترجمہ اور مختصر تفسیر بیان کی جاتی ہے اور وقت کے مناسبِ حال قرآنی حقائق ذکر کئے جاتے ہیں…

یہ درس انتیس رمضان کو مکمل ہوا کرتاہے اور آخری تین سورتوں کا درس پہلے تین سالوں میں صحت کے وقت خود سیدنا حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ دیا کرتے تھے اور اس سال ہمارے موجودہ امام دیں گے۔ یہ درس سارے قرآن مجید کے درسوں کا آخری معراج ہوتا ہے اور اس کے بعد تمام سامعین اپنے امام کی اقتداء میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزانہ اور پوری تضرعات سے اجتماعی دعا کرتے ہیں ۔ یہ روحانی طور پر ایک زریں موقعہ ہوتا ہے جو دلوں کو دھو کر نئی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔ ایک مزید بات ہے کہ اس موقعہ پر ربوہ کے ہزار ہا باشندوں کے علاوہ بہت سے احباب دوسرے شہروں سے بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان سب کی دعاؤں کا مرکزی نقطہ غلبۂ اسلام اور قرآن مجید کی اشاعت کے لئے درد مندانہ التجا ہوتی ہے۔

میں نے چاہا تھا کہ ربوہ کے رمضان المبارک میں ایمان افروز منظر کی ایک جھلک قارئین تک پہنچاؤں مگر مجھے اعتراف ہے کہ میں اس میں قاصر رہا ہوں اور سچ یہ ہے کہ روحانی زندگی کے بہت سے پہلو الفاظ کی حد بندیوں میں آ ہی نہیں سکتے۔ بھلا آپ ہی بتائیں کہ میں اس کیفیت کو کس طرح الفاظ میں بیان کرو ںجو دنیا جہاں سے اس نرالے منظر کو دیکھ کر قلبِ مومن میں پیدا ہوتی ہے کہ ربوہ کی مساجد میں ڈیڑھ سو کے قریب مرد و زن کپڑوں کے خیمے بنائے دھونی رمائے پڑے ہیں۔ دن رات اللہ تعالیٰ کے ذکرمیں مشغول ہیں ۔ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں ۔ تسبیح و تحمید میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ تضرع و زاری سے نوافل ادا کرتے ہیں۔ اکیلی مسجد مبارک میں سوا سَو معتکف ہیں۔ ان میں جوان بھی ہیں، بوڑھے بھی ہیں، پاکستانی بھی ہیں اور بعض دوسرے ممالک کے بھی ہیں۔ ربوہ کے بھی ہیں اور دوسرے شہروں سے بھی آئے ہوئے ہیں ۔ بعض تھوڑے پڑھے ہوئے بھی ہیں اور بعض دنیوی اور دینی علوم کے اعتبار سے بڑے بڑے عالم ہیں۔

کتنا پُر کیف منظر ہے کہ سارے کے سارے قرآنِ پاک ہاتھوں میں تھامے تلاوت کر رہے ہیں۔ دل بریاں ہیں اور آنکھیں گریاںہیں۔ تھک جاتےہیں تو تسبیح و تحمید کرتے ہوئے صحنِ مسجد میں ذرا چل لیتے ہیں۔ آدھی رات کے بعد ذرا ان کے خیموں کے باہر کان دھریں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ اُبلتی ہنڈیا کی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت یہ اپنی ، اپنے بھائیوں ، اپنی بہنوں اور اپنے بچوں بچیوں کی حاجات کی حاجت روائی کے لئے بھی بارگاہِ احدیت میں دست بدعا ہوتے ہیں…

یہ ربوہ کے رمضان المبارک کی ایک جھلک ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اس بابرکت مہینہ کی جملہ برکات سے حصۂ وافر عطا فرمائے اور اس کی آغوشِ رحمت ہمیں حاصل ہو۔ اللھم آمین یا رب العالمین۔

( روزنامہ الفضل ربوہ 22؍جنوری 1966ء)

رمضان میں تفسیر صغیر سے استفادہ کی تحریک

1968ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے ان الفاظ میں احباب ِجماعت کو تفسیرِ صغیر جیسی نعمت سے استفادہ کرنے کی نصیحت فرمائی:

’’پھر تفسیرِ صغیر ہے۔یہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی کی ہوئی قرآنِ کریم کی تفسیرہے جو علوم کا سرچشمہ اور تمام انوار کا سورج ہے۔مجھ پر یہ اثر ہے کہ بہت سے نوجوان اس تفسیر کی یا اس ترجمہ کی جس کے ساتھ تفسیری نوٹ ہیں، اہمیت نہیں سمجھتے۔میں بہت سے پڑھے لکھے دوستوں کو جو جماعت میں شامل نہیں یہ بھجواتا رہتا ہوں ۔جس کے ہاتھ میں بھی یہ تفسیری نوٹ گئے ہیں جو تفسیر ِصغیر کے نام سے شائع ہوئے ہیں اس نے اتنا اثر لیا ہے کہ آپ اس کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔لیکن رمضان کے درس کے موقع پر مسجد میں جو قرآن ہاتھوں میں پکڑے ہوتے ہیں ان کی اکثریت تفسیرِ صغیر کی نہیں ہوتی بلکہ دوسرے مطبعوں کے شائع کردہ قرآنِ کریم ہوتے ہیں ۔جماعت کو خاص طور پر اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔ اگر ہم قرآنِ کریم کے علوم صحیح طور پر سیکھنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے اور نوجوان اس سے محبت کرنے لگیں ۔اور ان کے دل کاشدید تعلق قرآنِ کریم کے نورسے ہو جائے تو ہر نوجوان بچے کے باپ یا گارڈین کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ہاتھ میں تفسیرصغیر کو دیکھے اور اگر نہ دیکھے تو اس کا انتظام کرے۔’’

(تقریر جلسہ سالانہ12؍جنوری 1968ء)

خلافتِ رابعہ

ربوہ اور ناروے کا تقابل

خلافتِ رابعہ کا پہلا رمضان بھی جولائی کے تپتے ماہ میں آیا اور اہالیانِ ربوہ نے صبر و رضا کا وہ نمونہ پیش کیا کہ اپنے خدا کے خلیفہ کو راضی کر لیا۔ حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے رمضان المبارک کے بعد ناروے(Norway) میں ایک خطبہ جمعہ میں اہلِ ربوہ کے اس ابتلاء میں سرخرو ہونے کا اس طرح ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘پس یہ(ناروے) وہ دنیا ہے جہاں کائنات کا ذرہ ذرہ اس آیت کے بیان کے مطابق حقیقتاً اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گاتے ہوئے ان کانوں کو سنائی دیتا ہے جو ان کے سننے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ان آنکھوں کو دکھائی دیتا ہے جو دیکھنے کی طاقت رکھتی ہیں۔ ہاں ایک چیز جو حمد سے کلیۃً خالی اور عاری دکھائی دیتی ہے اور وہ یہاں بسنے والے انسانوں کے دل ہیں۔ میں نے حیرت سے اس نظارہ کو دیکھا اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ ان جنتوں میں ایسے سینے ہیں جو صحرا بسینہ ہیں۔ وہ ویرانوں کو اپنے سینوں میں سمیٹے پھرتے ہیں۔ ان وادیوں میں، اس حسن کے نظاروں میں ایسے دل ہیں جو خدا کی یاد سے کلیۃً عاری ہو کر ویرانوں کا منظر پیش کررہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی میری توجہ ربوہ کے ان بسنے والوں کی طرف مبذول ہوئی جنہوں نے ابھی کچھ دن پہلے ایک نہایت ہی کڑے رمضان کا زمانہ گزارا۔ ان میں سے اکثر غریب لوگ ہیں۔ ان کے پاس آسائش کے سامانوں کا تو کیا ذکر روزمرہ کی زندگی کی ادنیٰ ضرورتیں بھی میسر نہیں۔ دن بھر مکھیاں انہیں ستاتی ہیں اور رات کو مچھروں کا شکار رہتے ہیں۔ دن کو دھوپ کی گرمی اور رات کو مچھروں کی ایذا سے نہ ان کو دن کو نیند آ سکتی ہے نہ رات کو نیند آتی ہے۔ بڑی مشکل کی زندگی بسر کرتے ہوئے بھی ان کے سینوں میں خدا بسا ہوا ہے۔ وہ ان تکلیفوں سے کلیۃً بے نیاز ہیں اور رمضان کی کڑی آزمائش میں بڑی شان کے ساتھ پورے اترنے والے لوگ ہیں۔ میں نے دیکھا ان مسجدوں میں جن میں شدید گرمی کے باعث اندر داخل ہوتے ہوئے بھی پسینے آتے تھے، نہ وہ دن کو ٹھنڈی ہوتی تھیں نہ رات کو ٹھنڈی ہوتی تھیں۔ روزہ داروں کے بدن کے پانی سوکھ جاتے تھے لیکن پھر بھی خدا کی محبت میں ان کے آنسو سجدہ گاہوں کو تر کر دیتے تھے۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ 6؍اگست 1982ء مطبوعہ خطبات طاہر جلد 1صفحہ92تا93)

اہلِ ربوہ کی رمضان میں کیفیت

حضورؒ رمضان کے آخری جمعہ پر احباب جماعت کی حالت نیم بسمل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

‘‘کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس رمضان کو اس طرح کما یا کہ راتوں کو اٹھ کر خدا کے حضور گریہ و زاری کی اور سجدہ گاہوں کو آنسوؤں سے تر کر دیا اور ان کے شور اور اضطراب اور آہ وبکا کی آوازیں خدا تعالیٰ کی راہ میں بلند ہوئیں اور بعض دفعہ اس شدت کے ساتھ بلند ہوئیں کہ تمام ماحول تک وہ آوازیں پہنچیں۔

ابھی چند دن پہلے ایک رات میری چھوٹی بچی گھبرا کر مجھ سے پوچھنے لگی کہ ابا یہ کیا ہو گیا ہے، اس قدر رونے کی آوازیں آرہی ہیں، یہ کیا قیامت ٹوٹی ہے۔ لفظ قیامت تو اس نے استعمال نہیں کیا لیکن چہرے پر ایسا خوف تھا کہ خدا جانے یہ کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ اس طرح لگتا ہے سارا ربوہ رو رہا ہے۔ میں نے اسے بڑے پیار سے سمجھا یا کہ بیٹی اللہ کی رحمت نازل ہو رہی ہے، یہ اللہ کے بندے ہیں جو اپنی گریہ وزاری کے ساتھ اسکے عرش کو ہلا دیں گے۔ تمہیں جس قوت اور جس زور کے ساتھ یہ آواز سنائی دے رہی ہے اس سے بہت زیادہ زورکے ساتھ آسمان کے ملکوتی وجودوں کو یہ آواز سنائی دے رہی ہے، پھر اس سے بہت زیادہ عظمت اور شدت کے ساتھ اللہ کی رحمت کو یہ آواز سنائی دے رہی ہے اس لئے یہ تو ر وحانی انقلاب پیدا ہونے کے سامان ہیں، تم گھبراؤ نہیں، آؤ میں تمہیں باہر لے جا کر دکھا تا ہوں کہ یہ کیسی آوازیں ہیں۔ میرے ساتھ وہ باہر نکلی اور اس پر عجیب روحانی کیفیت طاری ہو گئی۔ اس نے کہا ابا یہ اللہ میاں کے سامنے رورہے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں سب اللہ میاں کے سامنے رو رہے ہیں۔

پس رمضان رونے والوں کو ایسی لذتیں بخش گیا ہے کہ باہر والے اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے، چنانچہ وہ جنہوں نے خشک دل خشک نگاہوں اور دنیا کے خوفوں کے ساتھ یہ وقت گزارا ہے ان کو کیا پتہ کہ رمضان کیسی کیسی بر کتیں اور لذتیں لے کر آیا اور ایسی روحانی کیفیتیں پیچھے چھوڑ گیا ہے کہ وہ سارا سال انسانی وجود کو لذت سے بھرا رکھیں گی اس لئے ان کے لئے یہ وداع کا جمعہ ایک بہت ہی درد ناک جمعہ بن جا تا ہے۔ کئی ان میں سے سوچتے ہوں گے کہ ہم بیمار ہیں خدا جانے اگلا سال ہم پر ایسا آتا ہے کہ نہیں کہ دوبارہ ہم اللہ تعالیٰ سے یہ بر کتیں حاصل کر سکیں، دوبارہ خدا کے حضور گریہ وزاری کر سکیں۔ کچھ بوڑھے ہیں ان کو علم نہیں لیکن جوانوں کو بھی کب علم ہے۔ اللہ کی تقدیر کا تو کسی کو علم نہیں کہ کون کس زمین پر کس وقت اٹھا یا جائے، سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا، اس لئے ہر وہ شخص جو نیکی کا طالب ہے جو اللہ کے حضور گریہ وزاری کے ساتھ حاضر ہونے کی تمنا رکھتا ہے اس کے لئے یہ جمعہ ایک درد ناک وداع کا جمعہ ہے۔’’

(خطبہ جمعہ فرمودہ8؍جولائی 1983ءمطبوعہ خطبات طاہر جلد 2صفحہ368)

27ویں کولیلۃ القدر

حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں کہ

‘‘حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام نے ستائیسویں رات کولیلۃالقدر کی رات کے طور پر دیکھا اور اُس وقت سے جماعت میں خصوصیت کے ساتھ ستائیسویں رات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے لیلۃالقدر کی تلاش میں۔یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ ہرلیلۃالقدر ستائیسویں ہی کو ہو گی۔مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس دور میں جب خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام کو ستائیسویں رات کی خوشخبری دی ہے تو بعید نہیں کہ اکثر لیلۃالقدر کے جلوے ستائیسویں کی رات کو ظاہر ہوں۔

چنانچہ جو ہمارا گزشتہ تجربہ ہے۔تجربہ ان معنوں میں کہ زبان خلق جو قادیان میں کہا کرتی تھی۔جب بھی رمضان کے آخری عشرے میں ہم داخل ہوا کرتے تھے تو بعض راتوں کے متعلق آپس میں گفتگو ہوا کرتی تھی اوراپنے اپنے تجارب بیان کیے جاتے تھے۔تو ان معنوں میں جو ہمارا تجربہ ہے۔اُس کی رو سے اکثر راتیں ستائیس کی ہی ہوا کرتی تھیں جن کے متعلق عموماً یہ مشاہدہ تھا کہ وہ لیلتہ القدر سے ملتے جلتے اثرات ظاہر کر گئی ہے۔چنانچہ بہت غیر معمولی دنوں میں تحریک پیدا ہوتی تھی دعا کے لیے اور قبولیت دعا کے ساتھ جو قلبی تحریکات کا تعلق ہے،قلبی احساسات کا تعلق ہے۔وہ ایسی باتیں تو نہیں ہیں جو صحیح معنوں میں بتائی جاسکیں لیکن خلاصۃً انسان یہ ضرور کہہ سکتا ہے کہ آج دل پر ایسی کیفیات گزری تھیں جو عام کیفیات سے مختلف ہیں۔جوغیر معمولی درجہ رکھتی تھیں،غیر معمولی مقام رکھتی تھیں۔اس پہلو سے بھی اکثر یہ دیکھا گیا کہ ستائیسویں رات کو سب سے زیادہ عبادت کرنے والوں کولیلۃالقدرکی سی کیفیات کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملالیکن اس کے علاوہ بھی ہوتا تھا۔بعض دفعہ مجھے یاد ہے بڑی کثرت کے ساتھ پچیس کی رات کو یہ تجربات ہوئے بعض دفعہ تئیس کی رات کو تجربات بھی اس قسم کے ہوئے۔چنانچہ یہ کہنا کہ ایک ہی رات کے لیے مخصوص ہے لیلۃالقدر یہ تو بہرحال غلط ہے۔مختلف راتوں میں یہ خدا تعالیٰ کے جلوے جگہ بد لتے رہتے ہیں اپنے اظہار کے لیے لیکن بالعموم ہمارایہ مشاہدہ ہے کہ ستائیسویں کی رات اس پہلو سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔’’

(خطبہ جمعہ 13؍مئی 1988ءمطبوعہ خطبات طاہر جلد7صفحہ334)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

  1. جزاکم اللہ و احسن الجزاء

    بہت ہی روح پرور مضمون پڑھنے کو ملا، لفظ لفظ اپنے ساتھ اس زمانے میں لے گیا اور ایسا لگ رہا تھا کہ ہر موقع پہ خود موجود ہوں۔
    اللہ پاک ہمیں ہر رمضان ایسا ہی رمضان بنا دے اور ہم ایسے ہی عمل کرنے والے ہوں۔ آمین ثم آمین

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close