کورونا وائرس اور انسانی نسل کُشی کی مہم

(آصف محمود باسط)

بعض جدید مباحث کا مختصر جائزہ

انسانی آبادی قدیم زمانوں سے ہی مفکرین اور ریاستوں کے اربابِ اختیار کے لیے ایک اہم اور بنیادی مسئلہ رہی ہے۔ تمام مسائل کا محور انسان ہی رہا اور یوں انسانی معاشرے کے سبھی مسائل انسانی آبادی کے گرد گھومتے رہے ہیں۔

قدیم ترین تہذیبوں کے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ ان زمانوں میں بھی آبادی کی کمی بیشی حکام کی ترجیحات میں سے رہی۔

یونانی فلسفیوں کا زمانہ:

معلوم تاریخ کا جائزہ لیں تو یونانی فلسفیوں نے پہلے پہل تخلیقِ ارض و سما پر غور و فکر کیا اور کائنات کے سربستہ راز معلوم کرنے کی کوشش کی، مگر پھر اپنی توجہ کو انسان کی طرف مبذول کیا کہ انسان ہی انہیں کائنات کی بنیادی اکائی کے طور پر نظر آیا۔

فرد کے انفرادی مسائل سے معاشرتی مسائل پر غور و فکر کیا جانے لگا اور پھر معاشرتی سطح پر خیر و شر کے مباحث میں حکومتی مسائل در آئے۔ ان مسائل کو پہلی مرتبہ سنجیدگی سے دیکھنے والا یونانی فلسفی افلاطون تھا۔

افلاطون کی کتب Republic اور The Laws ریاستی مسائل پر نہایت طویل اور سیر حاصل مباحث پر مبنی ہیں۔ اگرچہ عام طور پر افلاطون کی تصوراتی ریاست کو Utopia کہہ کر ایک خام خیال کے طور پر مسترد کردیا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ افلاطون نے ریاستی مسائل کے ایسے زاویوں پر بحث اٹھائی جو آج تک کی ریاستوں کے لئے غور طلب مسائل کا درجہ رکھتے ہیں۔ ( افلاطون کے مجوزہ حل سے اتفاق یا اختلاف اپنی جگہ)۔

افلاطون کی ریاست پر سب سے بڑی تنقید یہ ہے کہ وہ صحت مند ریاست کے لئے صحت مند اور مفید انسانوں کے علاوہ کسی کو زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیتا۔ اس کی رائے میں ریاست کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ کمزوراور غیر مفید بچوں کو پیدا ہوتے ساتھ قتل کروادے۔

ارسطو نے بھی اپنے استاد کے اس نظریہ کی تائید کی اور نسل کُشی کی اس صورت کو مستحسن قراردیا۔

قبل مسیح کے ان مفکرین کے نظریات عیسوی زمانوں تک محیط رہے۔ سلطنت روم بھی آبادی کی روک تھام اور ہموار تقسیم کے لئے کوشاں رہی۔ اس سلطنت کی بہت سی فتوحات آبادکاری اور آبادی کی ہموار تقسیم کے لیے کی جاتی رہیں۔

مذہب کی مداخلت:

عیسائیت کے غلبے کے بعد ان نظریات کو مذہبی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور نسل کشی کی کسی بھی صورت کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔

بڑھتی ہوئی آبادی اور گھٹتے ہوئے وسائل میں توازن کی بحث ہمیشہ برقرار رہی۔ انگریز عیسائی پادری Thomas Malthus نے اس بحث کو اپنی کتاب The Principles of Population  میں اٹھایا۔ اس نے ثابت کیا کہ اگر آبادی یونہی بڑھتی رہی تو وسائل گھٹتے گھٹتے ناکافی رہ جائیں گے اور انسانی آبادی کا پیٹ پالنا ممکن نہ رہے گا۔ اس نے نشاندہی کی کہ قحط، وبائیں اور جنگیں آبادی کے گھٹنے کا باعث تو ضرور ہیں، مگر آبادی اس قدر تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ آبادی کو روکنے کے لئے دیگر ذرائع پر بھی غور کرنا ہوگا۔ اس  مقصد کے لئے اس نے خاندانی منصوبہ بندی، جنسی خواہشات کی تکمیل سے حتی المقدور اجتناب اور شادی میں تاخیر کی تجاویز پیش کیں۔

مگر یہ سب تجاویز عیسائی مذہب  کی رائج تعلیمات کے اندر رہتے ہوئے پیش کی گئی تھیں۔

لامذہب معاشرے میں انسانی آبادی کا مسئلہ:

جوں جوں ریاست پر چرچ کا قبضہ کمزور ہوتا گیا، آبادی کی روک تھام کے ایسے ذرائع پر بھی غور کیا جانے لگا جن کا عیسائی تعلیمات کے تابع ہونا ضروری نہ تھا۔

چارلز ڈارون نے جو نظریہ Natural Selection کا پیش کیا، اس میں اس نے ثابت کیا کہ ارتقا کے عمل میں بہت سے جاندار ختم ہوتے گئے۔ وہی باقی رہ گئے جن کے genes دنیا کی بدلتی ہوئی آب و ہوا کے ساتھ ڈھل گئے۔

 یوں survival of the fittest کے اس نظریہ کو دیگر سائنسدانوں اور ماہرین عمرانیات (demographers)  نے اس نظریہ کو انسانی آبادی کے لئے بھی روا سمجھا اور یہ نتیجہ نکالا کہ انسانی معاشرےمیں توازن برقرار رکھنے کے لیے،یعنی اسے stabilise کرنے کے لیے، انسانی آبادی کی روک تھام ضروری ہے۔

نسل ’’کُشی‘‘ یا  نسلی ’’پاکیزگی‘‘؟

اس کے بعد انسانی نسل کشی کی جو صورتیں سامنے آئیں وہ آبادی کے مسائل کو حل کرنے سے زیادہ ’’نسلی پاکیزگی‘‘ کی غرض سے نظر آتا ہے۔ یہ نظریات eugenics کے نام سے موسوم ہوئے اور انسانی نسل کو ہر لحاظ سے ’’پاکیزہ‘‘ اور’’بہترین ‘‘رکھنے کی کوششیں سامنے آئیں۔

اس سلسلہ میں سب سے اہم کام Francis Galton کا سامنے آیا اور اسی نے اس ’’نسلی پاکیزگی‘‘ کو eugenics کی اصطلاح سے موسوم کیا۔

۱۸۸۳ء میں سامنے آنے والے اس کی تحریرات میں بچوں کی ’’معیاری پیدائش‘‘ اور اس کے نتیجہ میں ’’معیاری نسلِ انسانی‘‘ کے نظریات کو فروغ ملا۔

فرانسس گالٹن خود تو انگلستان کے رہنے والے تھے مگر ان کے نظریات کا سب سے زیادہ اثر امریکی مفکرین نے قبول کیا۔ مشہور مفکر Charles Davenport نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پہلی مرتبہ Eugenics (یعنی نسلی پاکیزگی) کو ایک منظم تحریک کی شکل دی۔ یوں امریکہ میں Eugenics Record Office اور American Breeders Association کا قیام بھی عمل میں آیا۔ امریکی صدر روزویلٹ اس تحریک کے بڑے حامیوں میں سے تھے اور انہیں اس بات سے اتفاق تھا کہ قابل، ذہین اور صحت مند انسانوں کو ہی افزائشِ نسل کا حق ہونا چاہیے بلکہ انہیں زیادہ بچے پیدا کرنے چاہئیں۔ جبکہ کند ذہن اور معاشرے پر ’’بوجھ‘‘ بننے والوں کی نسل کُشی کرنے میں بھی انہیں کوئی ہرج نظر نہ آتا تھا۔

عصرِ جدید میں نسلِ انسانی پر جدید مباحث:

یہی نسلی ’’پاکیزگی‘‘ کے نظریات بعد میں Nazi تحریک کی بنیاد بنے۔نازی تحریک میں یہ عنصر اتنی شدت کے ساتھ موجود تھا کہ بعد میں اس تحریک کے ردِ عمل میں اٹھنے والی تحریکات جو اسی کے جتنی متازعہ تھیں،کی اساس بھی اسی عنصر پر رکھی گئی۔

دورِ حاضر میں انسانی آبادی کا مسئلہ عالمی سطح پر پائے جانے والے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ مفکرین، ماہرینِ عمرانیات اور سائنسدان، سبھی نت نئے نظریات پیش کرتے آئے ہیں۔ آج بھی کرتے ہیں۔

ایک گروہ populationist کہلاتا ہے جو اس بات کا حامی ہے کہ انسانی آبادی جس بھی رفتار پر بڑھ رہی ہے، اس میں تشویش کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کے نزدیک Malthus نے آبادی کے بڑھنے اور وسائل کے محدود ہونے کا جو مسئلہ پیش کیا تھا، وہ زرعی وسائل تک محدود تھا۔ دیگر ذرائع مثلاً مویشی Malthus کے نظریہ میں پیش نظر نہیں تھے۔ اسی طرح مصنوعی اجناس (genetically modified produce) بھی Malthus کے پیشِ نظر نہ تھیں۔ اگرچہ یہ ممکن بھی  نہ تھا کیونکہ 1783ء میں مصنوعی اشیائے خورونوش اس طرح تیار بھی نہیں ہو رہی تھیں جس طرح آج ہیں۔

وہ جو depopulation کے حامی ہیں، ان کا خیال ہے کہ انسانی آبادی کی روک تھام ضروری ہے۔ اِن دنوں مائکروسافٹ کے بانی Bill Gates کو اس مکتبہ فکر کا سرخیل خیال کیا جاتا ہے۔ اُن کی طرف سے حفاظتی ٹیکوں کے لئے دیے جانے والے کروڑوں ڈالر کے عطیات کو شک و شبہہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ فیاضی اور دریا دلی اصل میں انسانی نسل کُشی کی مہم کی پشت پناہی ہے۔ خدمت انسانیت تو محض ایک لبادہ ہے۔

اپنی صفائی میں Bill Gates اور اس کے ہم خیال یہ وضاحت پیش کرتے ہیں کہ وہ تو دراصل غریب ممالک میں شیرخوارگی کی اموات کو روکنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ صحت مند نسلیں پیدا ہوں اور دنیا کی آبادی پر غیرضروری بوجھ کم ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ غریب ممالک میں لوگ زیادہ بچے اس لئے پیدا کرلیتے ہیں کیونکہ یہ یقین نہیں ہوتا کہ ان میں سے کتنے بچ پائیں گے اور کتنے پیدا ہوتے ساتھ یا شیرخوارگی میں وفات پا جائیں گے۔ تاکہ بڑھاپے کے سہارے کے طور پر ان میں سے کچھ بچ جائیں،  لہذاوہ احتیاطا ًزیادہ بچے پیدا کرلیتے ہیں۔ Bill Gates کا کہنا ہے کہ ہم حفاظتی ٹیکوں سے نسل انسانی کو بیماریوں سے بچانا چاہتے ہیں تاکہ غریب ممالک میں شرح اموات کم ہو نہ کہ زیادہ۔ اور لوگوں کو بلا وجہ زیادہ بچے پیدا کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ سو ان کا دعویٰ ہے کہ وہ انسانی نسل کُشی کے نہیں انسانی آبادی کی فلاح و بہبود کے حامی ہیں۔

ایک اور اعتراض جو populationist  (یعنی انسانی آبادی کی بڑھوتری کے حامی) کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ مغربی طاقتوں نے انسانی آبادی کو کم کرنے کے لئے ایسے کیمیائی مادے غذائی اجناس میں شامل کردیے ہیں جن سے افزائشِ نسل کی صلاحیت مردوں اور عورتوں میں یکساں طور پر کم ہوتی جارہی ہے۔

مصنوعی غذائی اجناس بنانے والی صنعتوں کا جواب یہ ہے کہ  بڑھتی ہوئی آبادی کو غذا مہیا کرنے کے لئے غذائی اجناس مصنوعی طور پر پیدا کیے بغیر چارہ نہیں۔ اور انہیں ڈبوں اور پیکٹوں میں محفوظ کرنے کے لئے جو کیمیائی اجزا شامل کیے جاتے ہیں، وہ بامر مجبوری کیے جاتے ہیں تا کہ غذائی اجناس  اور اشیاکی ضرورت اور پیداوار (demand and supply) کا توازن برقرار رکھا جاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ اجزا مضرِ صحت ہیں تو بڑھتی آبادی کے حامیوں کو اعتراض نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس بے حساب بڑھتی آبادی کی ضرورت اسی طرح پوری ہو سکتی ہے۔ بالخصوص genetically modified سبزیوں اور پھلوں اور گوشت کی صورت میں۔

کورونا وائرس کے تناظر میں مباحث:

کورونا وائرس کی عالمی وبا میں جب ساری دنیا مغربی سائنسدانوں کی طرف نظر لگائے بیٹھی ہے، یہ بحثیں نئے سرے سے اٹھ رہی ہیں کہ مغرب حفاظتی ٹیکوں کی آڑ میں انسانی آبادی کی افزائشِ نسل کی قوت کو مزید کمزور کرنا چاہتا ہے۔

اس کے لئے وہ امریکی صدر کے مشیر برائے سائنسی و طبی امور Dr Fauci (جو آجکل بھی روزانہ ان کی پریس کانفرنس میں موجود ہوتے ہیں) کا حوالہ دیتے ہیں جنہوں نے 2017ء ہی میں کہہ دیا تھا کہ ٹرمپ کے دور میں ’’ایک پر اسرار  وباپھیلے گی‘‘ اور یہ کہ ’’اس کے لیے تیاری ابھی سے شروع کر دینی چاہیے‘‘۔

سوال کیا جاتا ہے کہ یہ بات سائنسی مشیر کے علم میں کس طرح تھی؟

اگرچہ اس پر بھی بہت سی conspiracy theories موجود ہیں اور روز کوئی نئی تھیوری بھی سامنے آجاتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اس بارہ میں کچھ یقین سے نہیں کہا جاسکتا۔

تاہم، ایک حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اور ممکن ہے کہ Dr Fauci اور ان جیسے بہت سے دوسرے سائنسدانوں کی یہ پیشگوئی اسی حقیقت پر مبنی ہو۔

چین میں جانوروں کی منڈی کے حوالہ سے بہت طویل بحثیں بہت عرصے سے جاری ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کورونا وائرس بھی کسی جانور(غالباً ابابیل) سے انسانی جسم میں منتقل ہوا اور عالمی انسانی آبادی کے لئے ایک خطرناک وبا کی صورت اختیار کرگیا۔

موقر تحقیقی جریدہ Proceedings of the Royal Society of Biological Sciences  کےایک حالیہ شمارہ میں ایک تحقیق شائع ہوئی ہے جس میں ماہرینِ حیاتیات نے نظریہ پیش کیا ہے کہ انسانوں اور جانوروں کے باہمی تعلق کی نوعیت کو درست کیے بغیر اور اس میں حدود قیود لاگو کیے بغیراس طرح کے وائرسوں کے پھیلنے کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس بھی جانور سے انسان میں منتقل ہوا، اس سے پہلے بھی حالیہ وبائیں اسی طرح کے وائرس سے پھوٹیں جو انسان نے جانور سے حاصل کیا اور ’’ابھی جانوروں کے پاس ان وائرسوں کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے جو وہ انسان کو منتقل کرسکتے ہیں‘‘۔

پس انسانی آبادی اور نسل کُشی اور حفاظتی ٹیکوں کی بحثوں کے نتائج نکلیں نہ نکلیں، ایک نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ اسلام کی تعلیم کے مطابق زندگی گزاری جائے تو یقیناً دنیا کے تمام مسائل خودبخود حل ہوجائیں۔ اسلام درمیانی راہ کو پسند کرتا ہے۔ افراط و تفریط کو نہیں۔ جانوروں کے حقوق میں افراط و تفریط کرنے والے’’روشن خیال‘‘ موجودہ صورتحال پرجوابدہ ٹھہرتے ہیں۔ وہ روشن خیال جنہوں نے یا توہر طرح کا مکروہ، حرام اورغیر طیب جانور بھی کھا لیا، یا وہ جو vegan کہلائے اور ہر طرح کے جاندار کو کھانے سے مکمل گریز کرنے لگے۔

جانوروں سے غیر ضروری لاڈ پیار کرنے والے، انہیں اپنی تھالیوں میں کھلانے والے، ساتھ بستروں میں سلانے والے بھی جواب دہ ٹھہریں گے۔

رہی ڈاکٹر فاؤچی کی پیشگوئی، تو اس میں بھی سوال یہ ہے کہ ان کی 2017ء کی پیشگوئی پر تو لوگ حیرت زدہ ہو رہے ہیں کہ انہیں تین سال پہلے ہی کیسے پتہ چل گیا کہ وبا پھیلے گی۔ مگر ان پیشگوئیوں کی طرف اب بھی توجہ نہیں جو سو سال قبل ایک ملہم من اللہ نے خدا سے خبر پا کر کردی تھیں۔ اور پھر اس مجدد اعظم، مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام کے جانشین و خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمدایدہ اللہ تعالیٰ قریب دو دہائیوں سےان پیشگوئیوں سے دنیا کو مطلع فرما رہے ہیں۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
Back to top button
Close