نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضرو غائب

مکرم منیر احمدجاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اطلاع دیتے ہیںکہ12؍مارچ2020ء کو نماز ظہر سے قبل حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد مبارک (اسلام آباد،ٹلفورڈ،یوکے) کے باہر تشریف لا کرمکرمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ عمر فاروق صاحب (ارلز فیلڈ ۔یوکے)کی نمازِ جنازہ حاضر اورکچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔

نمازِ جنازہ حاضر

مکرمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ عمر فاروق صاحب (ارلز فیلڈ ۔یوکے)

9؍مارچ 2020ء کو69سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ حضرت حکیم عمر دین صاحب صحابی حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی پوتی تھیں۔صوم وصلوٰۃ کی پابند، قرآن کریم کی باقاعدہ تلاوت کرنے والی ایک نیک دین داربزرگ خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ اخلاص ووفا کا تعلق تھا۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔

نماز جنازہ غائب

-1مکرم تیمور شاہ صاحب(سینٹ پیٹرزبرگ۔ رشیا)

24؍جنوری 2020ءکو وفات پا گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔آپ نے 2000ءکے اوائل میں احمدیت قبول کی۔ آپ کا تعلق پاکستان میں وزیرستان کے علاقہ بنوں سے تھا۔80ءکی دہائی میں حصول تعلیم کی غرض سے رشیا آئے اور یہاں سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کی۔ لمبے عرصہ کے مطالعہ اور تحقیق کے بعد آپ نے احمدیت قبول کی ۔ قرآن کریم کا بہت مطالعہ کرتے تھے ۔ بہت سا حصہ زبانی بھی یاد کیا ہوا تھا۔ ترجمہ بھی جانتے تھے اور مختلف تفاسیر میں خاص دلچسپی رکھتے تھے ۔مبلغین سے بھی اس حوالہ سے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے رہتے تھے ۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے شامل ہیں۔

-2مکرم چوہدری شاہ محمدصاحب(ساہیوال ضلع سرگودھا )

11؍جنوری 2020ءکو 85سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔مرحوم نے خلافت ثالثہ کے شروع میں احمدیت قبول کی اور تادم آخر نہایت استقامت کے ساتھ جماعت اور خلافت سے وابستہ رہے۔ اپنے پورے خاندان میں اکیلے احمدی تھے ۔آپ نے صدر جماعت ساہیوال ضلع سرگودھا کے طور پر لمبا عرصہ خدمت کی توفیق پائی۔ جماعتی مہمانوں کی خدمت بہت شوق سے کیا کرتے تھے۔ ساہیوال میں مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں جگہ کی خرید سے لے کر تعمیر تک کا تمام کام مخالفت کے باوجود مکمل کروایا۔مرحوم اللہ تعالی کے فضل سے موصی تھے ۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ پانچ بیٹیاں اوردو بیٹے شامل ہیں۔

-3مکرمہ شریفاں بیگم صاحبہ( دار الشکر شمالی ربوہ)

23؍اکتوبر2019ءکو70سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحومہ پیدائشی احمدی تھیں۔ مکرم ڈاکٹر صوفی علی محمد صاحب مرحوم سابق معلم وقف جدید کی بیٹی تھی ۔محلہ میں جماعتی کاموں میں دلچسپی لیتیں اورچندہ جات کی ادائیگی میں فعال تھیں۔

-4مکرم سخاوت احمد خان صاحب (معلم سلسلہ جماعت میلار ۔ ضلع بلاری کرناٹک ۔انڈیا)

15؍جنوری2020ءکو55سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے ۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ 2001ء میں زندگی وقف کرکے جامعۃ المبشرین میں داخل ہوئے اور 2004ءمیں بطور معلم سلسلہ خدمت سلسلہ کا آغاز کیا اور 15سال سے زائد عرصہ صوبہ کرناٹک میں خدمت کی توفیق پائی۔مرحوم انتہائی مخلص نیک اور خدمت دین کا جذبہ رکھنے والے خادم سلسلہ تھے ۔ بڑی محنت ، اطاعت اور فرمانبرداری کے ساتھ اپنے مفوضہ فرائض انجام دیتے رہے۔ نماز باجماعت کے پابند، تہجدگزار ،مہمان نواز اور افسران اور انچارج مبلغین کا احترام کرنے والے تھے۔ مرحوم کے ذریعہ کئی احباب و مستورات کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی ۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔

-5مکرم عارف الحق صاحب( معلم سلسلہ کرتنیا پاڑہ۔ بنگال)

10؍جنوری 2020ء کو مختصر علالت کے بعد 49سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔مرحوم 2001ءمیں بیعت کرکے جماعت میں داخل ہوئے اور 2003ء میں جامعۃ المبشرین سے معلم کی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد بطور معلم نہایت اخلاص اور محنت کے ساتھ17سال تک خدمت سرانجام دیتے رہے ۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا شامل ہے جو کہ وقف نو کی بابرکت تحریک میں شامل ہے۔

-6مکرم ذوالفقار صاحب( چک نمبر58/3نکڑا ڈیرہ نمبرداراں ۔تحصیل کمالیہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ)

27جنوری 2020ءکو وفات پا گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔آپ کا جماعت کے ساتھ پیار کا گہرا تعلق تھا۔ بہت نیک، صالح اور صوم وصلوٰۃ کے پابند تھے۔مرکز کی طرف سے آئے ہوئے مہمانوں کا بہت احترام کیا کرتے تھے۔ مرحوم اللہ کے فضل سے موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چار بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں ۔

-7مکرمہ سارہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم عبدالقدیر گنائی صاحب ( بھدر واہ ضلع ڈوڈہ صوبہ جموں وکشمیر)

30؍ جنوری 2020ءکو 83سال کی عمر میں بعارضۂ قلب وفات پا گئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔آپ نے اپنے میاں کے ساتھ مل کر شدید مخالفت کا بڑی ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا۔مرحومہ صوم و صلوٰۃ کی پابند تھیں ۔نا خواندہ ہونے کے باوجود بھرپور رنگ میں تبلیغ کرتیں اور حسب توفیق مالی قربانی اور جماعتی کاموں میں بھی پیش پیش رہتی تھیں۔ خلافت کے ساتھ اخلاص و وفا کا تعلق تھا ۔حضورانور کے خطبات انتہائی عقیدت کے ساتھ سنتیں اوران پر عمل کرنے کی کوشش کرتیں۔مرحومہ نے بڑی محنت اور مشقت کی زندگی گزاری اور دعاؤں اور محنت کے ساتھ اپنے بچوں کی اچھے رنگ میں تربیت کی۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں ۔ آپ مکرم مولوی عنایت اللہ صاحب (ایڈیشنل نا ظراصلاح وارشاد تعلیم القرآن وقف عارضی قادیان) کی ساس تھیں۔

-8مکرم مفتاح الاسلام صاحب ( میلا پالیم صوبہ تامل ناڈو۔انڈیا)

یکم جنوری 2020ء کو 85سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔1982ء میں احمدیت قبول کی جس کے بعد آپ کو ہندوؤں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن کبھی پائے ثبات میں لغزش نہیں آئی۔مرحوم کو تبلیغ کا بے حد شوق تھا۔ بے شمار لوگوں کو پیغام حق پہنچانے کی توفیق ملی ۔پیشہ کے اعتبار سے ایک آرٹسٹ تھے اور جو لوگ آپ کے پاس ہنر سیکھنے آتے تھے انہیں بھی تبلیغ کرتے تھے ۔جس کی وجہ سے ان میں سے کئی لوگ احمدیت میں داخل ہوئے۔مرحوم دعاگو ،پرہیزگار ،دیانتدار،نرم مزاج اور ایک مخلص باوفاانسان تھے۔مرحوم نے مقامی مجلس میں زعیم انصاراللہ کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں ۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمی

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close