متفرق مضامین

صحابہؓ کا قول اور عمل

یہ ایسا شاندار ایمان کا مظاہرہ ہے کہ جس کی مثال صحابۂ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے سِوا کسی اَور جگہ بہت کم مل سکتی ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پرفرمایا:

کیا اسلام کے خلاف چلنے والی سلطنتیں قائم رہ گئیں؟ سب سے بڑی عظمت رکھنے والے روسی حکمران تھے مگر آج وہ کہاں ہیں؟ وہ شاہی محلوں اور بادشاہی درباروں میں نظر نہیں آئیں گے، دنیاوی جاہ و جلال رکھنے والوں کی مجالس میں نظر نہ آئیں گے، سیاسی جماعتوں میں نظر نہ آئیں گے بلکہ ہوٹلوں میں برتن مانجتے ہوئے، شراب خانوں میں شراب پِلاتے ہوئے اور قحبہ خانوں میں فحش کی بِکری کرتے ہوئے نظر آئیں گے کیا اُن کے قوانین نے، اُن کی حکومت نے، ان کی دولت و ثروت نے، اُن کی عزت کو قائم رکھا؟ اور کیا خدا تعالیٰ کا قانون توڑ کر وہ اپنی عزت محفوظ رکھ سکے ؟ پس یادرکھو یہ محض خیال اور وہم ہے کہ فلاں چیز عزت محفوظ رکھ سکے گی اور فلاں چیز خاندان کو تباہی سے بچا لے گی۔ عزت خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہی مل سکتی ہے اور اُسی کی فرمانبرداری میں قائم رہ سکتی ہے۔ …

اگر ہم وہ جرأت نہیں دکھا سکتے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے صحابہ نے بدر کے موقع پر دکھائی۔ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے اس خیال سے کہ مدینہ والوں نے یہ اقرار کیا تھا کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو لڑیں گے باہر جا کر نہیں لڑیں گے، صحابہ سے مشورہ پوچھا مہاجرین یکے بعد دیگرے کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ ہم لڑائی کے لئے تیار ہیں لیکن آپؐ اپنا سوال دہراتے چلے گئے تا انصار بھی بولیں۔ تب انصار میں سے ایک صحابی کھڑے ہوئےاور انہوں نے کہا یا رسول اللہ! آپؐ نے بار بار دریافت فرمایا اور صحابہ نےجواب دیا مگر پھر بھی آپ سوال کو دہراتے چلے جا رہے ہیں اس سے مجھے خیال ہوتا ہے کہ شاید آپؐ انصار سے دریافت فرما رہے ہیں۔ غالباً آپؐ کے مد نظر وہ معاہدہ ہے جو ہم نے آپؐ کے تشریف لانے پر کیا تھا کہ مدینہ پر حملہ ہو گا تو ہم آپؐ کے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کریں گے لیکن مدینہ سے باہر جا کر لڑنا ہمارے لئے ضروری نہ ہو گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے فرمایا ہاں۔ اس پر اس صحابی نے کہا یا رسول اللہؐ! وہ اُس وقت کی بات ہے جب ہم نے آپؐ کو اچھی طرح نہ پہچانا تھا لیکن اب تو ہم آپؐ کو خوب پہچان چکے ہیں اس لئے ہم کہتے ہیں یا رسول اللہ! یہ سامنے سمندر ہے اگر آپ حکم فرمائیں کہ اس میں گھوڑے ڈال دو تو ہم ایک لمحہ کا توقف بھی نہیں کریں گے اور اگر دشمن آپؐ پر حملہ کرے تو وہ آپؐ تک نہیں پہنچ سکے گا جب تک ہماری لاشوں پر سے گزر کر نہ آئے گا۔ ہم آپؐ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی اور جب تک جان میں جان رہے گی دشمن کو آپ تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ یہ تو ان کا قول تھا مگر عمل سے بھی انہوں نے اس کو درست ثابت کر دیا۔ دنیا میں بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو منہ سے تو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر عمل سے انہیں پورا نہیں کرتے۔ انصار نے (اللہ تعالیٰ کی بڑی بڑی رحمتیں اور برکتیں اُن پر ہوں) جو کہا اُسے اپنے عمل سے پورا بھی کر دیا۔

ہمیشہ میرا قلب اس صحابی کا ذکر آنے پر اس کے لئے دعائیں کرنے میں لگ جاتا ہے جس نے اُحد کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم سے اخلاص کا ایسا قابلِ رشک نمونہ پیش کیا کہ رہتی دنیا تک اس کی مثال قائم رہے گی۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ احد کی جنگ میں جب کفار میدان سے چلے گئے اور مسلمان اپنے زخمیوں اور شہیدوں کی تلاش میں نکلے تو ایک انصاری نے دیکھا کہ ایک دوسرے انصاری بہت بُری طرح زخمی ہو کر میدانِ جنگ میں پڑےہیں اور چند منٹ کے مہمان معلوم ہوتے ہیں۔ وہ صحابی ان کے پاس گئے اور کہا اپنے گھر والوں کو کوئی پیغام دینا چاہو تو دے دو، مَیں پہنچا دوں گا۔ اُس وقت اس صحابی نے جو جواب دیا وہ نہایت ہی شاندار تھا۔ اِس حالت میں کہ وہ موت کے قریب تھے اور اپنی موت کے بعد اپنی بیوی بچوں کی حالت کا نظارہ اُن کی آنکھوں کے سامنے تھا اُنہوں نے جو ایمان کا نمونہ دکھایا وہ بتاتا ہے کہ انصار نے جو کہا سچے دل سے کہا تھا اور اُسے پورا کر کے دکھادیا۔ انہوں نے کہا میں پہلے ہی اس بات کی انتظار میں تھا کہ کوئی دوست ملے تو اس کے ذریعہ اپنے رشتہ داروں کو پیغام بھیجوں، اچھا ہوا تم آگئے۔ پھر کہا وہ پیغام یہ ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے رشتہ داروں اور میرے دوستوں سے کہہ دینا کہ جب تک ہم زندہ تھے ہم نے اپنی جانیں قربان کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی حفاظت کی مگر اب ہم اِس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اور یہ قیمتی امانت تمہارے سپرد کرتے ہیں امید ہے کہ آپ ہم سے بھی بڑھ کر اِس کی حفاظت کریں گے۔ یہ کہا اور جان اپنے پیدا کرنے والے کے سپرد کر دی۔ یہ ایسا شاندار ایمان کا مظاہرہ ہے کہ جس کی مثال صحابۂ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کے سِوا کسی اور جگہ بہت کم مل سکتی ہے۔

(خطابات شوریٰ جلد دوم صفحہ 11تا13)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close