متفرق مضامین

توبہ و استغفار: گناہوں سے بچنے اور ان کی بخشش کا ذریعہ

(ھبۃ الکلیم۔ اوفا، رشیا)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے کہ بخدا میں اللہ تعالیٰ سے دن میں سترمرتبہ سے بھی زیادہ توبہ واستغفار کرتا ہوں

استغفار کے معنی جہاں اپنے کیے ہوئے گناہوں کی خدا تعالیٰ کے حضور بخشش مانگنا  ہے وہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نکتہ بھی بیان فرمایا ہے کہ استغفار کا ایک مطلب  اللہ تعالیٰ سے حفاظت طلب کرنا اور یہ دعائیں مانگنا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کی بشری کمزوریوں کو ڈھانپ لے۔اس لحاظ سے استغفار بھی دعا ہی ہے اور جب انسان اپنے گناہوں سے، اپنی کمزوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے دعا کرتا ہے تو ایک رقّت اور جوش پیدا ہوتا ہے اور ہونا چاہیے۔ دل میں ایک دَرد پیدا ہوتا ہے۔ صرف اَسْتَغْفِرُ اللّٰہ، اَسْتَغْفِرُ اللّٰہ کے الفاظ کا ورد رکھنے اور توجہ اللہ تعالیٰ کی بجائے کہیں اور رہنے سے اس کا مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔

توبہ اور استغفار کے بغیر معرفت الٰہی اور رضائے الٰہی کا حصول ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرنے کا ذریعہ توبہ و استغفار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر اپنے بندوں کو کثرت سے توبہ کرنے اور اِستغفار کرنے کی نصیحت فرما ئی ہے تا کہ انسان شیطان کے ناپاک حملوں سے بچ کر خدا تعا لیٰ کی حفاظت میں آ جائے اور آئندہ ان تمام گناہوں سے توبہ کر لے جن میں وہ کبھی مبتلا رہا ہواور جواللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بن سکتے ہیں۔ قرآن کریم میں ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَمَا کَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ وَ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ  (سورۃ الا نفال: 34)

’’اور اللہ تعالی ان کو ایسی حالت میں عذاب نہیں دے گا جب وہ استغفار کررہے ہوں گے۔‘‘

سورۃ ھود میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنَّنِیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ ۙوَّ اَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یُمَتِّعۡکُمۡ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی…(سورۃ ھود : 3تا4)

…کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ میں یقیناً تمہارے لئے اس کی طرف سے ایک نذیر اور ایک بشیر ہوں۔نیز یہ کہ تم اپنے ربّ سے استغفار کرو پھر اس کی طرف توبہ کرتے ہوئے جھکو تو تمہیں وہ ایک مقررہ مدت تک بہترین سامانِ معیشت عطا کرے گا …

’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ہمہ وقت استغفار کرتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ ہر تنگی کے وقت اس کے نکلنے کے لیے راہ پیدا کر دیتا ہے اور ہر غم سے نجات دیتا ہے اور اسے اس راہ سے رزق عطا فرماتا ہے جس کا وہ گمان بھی نہ کر سکے‘‘۔ 

(ابوداؤد۔ کتاب الوترباب فی الاستغفار)

پھر ایک اور روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

’’ تم اس شخص کی خوشی کے بارے میں کیا کہتے ہو جس کی اونٹنی بے آب و گیاہ جنگل میں گم ہو جائے اور اس اونٹنی پر اس کے کھانے پینے کا سامان لدا ہوا ہو وہ اس کو اتنا ڈھونڈے وہ اس کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک جائے اور پھر کسی درخت کے تنے کے پاس سے گزرے اور دیکھے کہ اس کی اونٹنی کی لگام کسی درخت کی جڑوں سے اٹکی ہوئی ہے۔ تو صحابہ ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ! وہ شخص تو بہت خوش ہو گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخدا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے اپنی گمشدہ اونٹنی مل جائے‘‘۔

 (بخاری کتاب الدعوات باب التوبہ)

خدا تعالیٰ سے سچی محبت اور دردمندانہ التجاؤں کو دربارِ الٰہی میں پیش کرنے کی سعادت ہمیں سب سے بڑھ کر آنحضرتﷺ کی ذات ِمبارک سے ملتی ہے۔ با وجود اس کےکہ خداتعالیٰ نےقرآن کریم میں آپﷺ کے متعلق فرمایا تھا

لِیَغۡفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنۡ ذَنۡۢبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ

یعنی ’’تاکہ اللہ تجھے تیری ہر سابقہ اور ہر آئندہ ہونے والی لغزش بخش دے‘‘ لیکن پھر بھی آپﷺ خدا تعالیٰ کے حضور جھکے رہتے  اور خدا تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے رہتے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے کہ بخدا میں اللہ تعالیٰ سے دن میں سترمرتبہ سے بھی زیادہ توبہ واستغفار کرتا ہوں‘‘۔ 

(صحیح بخاری کتاب الدعوات۔ باب استغفار النبیؐ فی الیوم واللیلۃ)

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ گناہ سے سچی توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔ 

(رسالہ قشیریۃ باب التوبۃ)

اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ہمیں یہ خوشخبری بھی دی، فرمایا کہ میرے بندوں کو بتا دو کہ اگر میرا بندہ میری طرف ایک قدم چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دو قدم چل کر آتا ہوں۔ اگر میرا بندہ تیز چل کر میری طرف آتا ہے تو مَیں دوڑ کر آتا ہوں۔

 (صحیح البخاری کتاب التوحید باب یحذرکم اللہ نفسہ حدیث 7405)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ

 ’’استغفار ایک عربی لفظ ہے اس کے معنی ہیں طلب مغفرت کرنا کہ یا الٰہی ہم سے پہلے جو گناہ سرزد ہو چکے ہیں ان کے بد نتائج سے ہمیں بچا کیونکہ گناہ ایک زہر ہے اور اس کا اثر بھی لازمی ہے اور آئندہ ایسی حفاظت کر کہ گناہ ہم سے سرزد ہی نہ ہوں۔ صرف زبانی تکرار سے مطلب حاصل نہیں ہوتا پس چاہئے کہ توبہ استغفار منتر جنتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ اس کے مفہوم اور معانی کو مدنظر رکھ کر تڑپ اور سچی پیاس سے خدا کے حضور دعائیں کرو‘‘۔ 

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 609 الحکم 18؍ مئی 1908ء)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ

’’ استغفار کے معنی یہ ہیں کہ خدا سے اپنے گزشتہ جرائم اور معاصی کی سزا سے حفاظت چاہنا۔ اور آئندہ گناہوں کے سرزد ہونے سے حفاظت مانگنا۔ استغفار انبیاء بھی کیا کرتے ہیں اور عوام بھی‘‘۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 609 الحکم 18؍ مئی 1908ء)

استغفار کا حکم ایک ایسا حکم ہے جو خدا تعالیٰ نے خود بھی مومنوں کو دیا اور اپنے انبیاء کرام کے ذریعہ بھی کہلوایا ۔خدا تعالیٰ نے انبیاء کو توجہ دلائی کہ کثرت سے خود بھی استغفار کریں اور مومنوں کو بھی استغفار کی توجہ دلائیں۔

انسان کی فطرت ایسی بنائی گئی ہے کہ غلطیوں، کوتاہیوں کی طرف بہت جلد راغب ہو جاتا ہے۔ انسان بشر ہے کمزوریاں ظاہر ہو تی رہتی ہیں۔ شیطان ہر وقت تاک میں رہتا ہے ۔ انسان کی جب روحانی حالت کمزور ہو تی ہے تو شیطان فوراً حملہ کر دیتا ہے۔ شیطان سے انسان اسی وقت بچ سکتا ہے جب وہ مسلسل استغفار کرتا رہے ۔پس استغفار انسان کو آئندہ گناہوں سے بھی بچائے رکھتا ہے۔

حضرت مسیح موعودؑ کے پاس ایک شخص نے اپنی مشکلات کے لئے عرض کی توحضرت اقدسؑ نے  فرمایا :

’’استغفار کثرت سے پڑھا کرو اور نمازوں میں یٰا حَیُّ یٰاقَیُّومُ اَسْتَغِیْثُ بِرَحْمَتِکَ یٰااَرْحَم الرَّاحِمِیْنَ پڑھو۔‘‘ پھر اس نے عرض کی کہ استغفار کتنی مرتبہ پڑھوں؟ فرمایا: ’’کوئی تعداد نہیں۔ کثرت سے پڑھو یہاں تک کہ ذوق پیدا ہو جائے اور استغفار کو منتر کی طرح نہ پڑھو بلکہ سمجھ کر پڑھو، خواہ اپنی زبان میں ہی ہو ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اے اللہ ! مجھے گناہوں کے برے نتیجوں سے محفوظ رکھ اور آئندہ گناہوں سے بچا‘‘۔

( ملفوظات جلد 4 صفحہ 250)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ

’’ تم خدا سے صلح کر لو وہ نہایت درجہ کریم ہے۔ ایک دم کی گداز کرنے والی توبہ سے سترّبرس کے گناہ بخش سکتا ہے۔ اور یہ مت کہو کہ توبہ منظور نہیں ہوتی۔ یاد رکھو کہ تم اپنے اعمال سے کبھی بچ نہیں سکتے۔ ہمیشہ فضل بچاتا ہے، نہ اعمال۔ اے خدائے کریم و رحیم! ہم سب پر فضل کر کہ ہم تیرے بندے اور تیرے آستانہ پر گرے ہیں۔‘‘ 

(لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد20 صفحہ 174)

حضرت مصلح موعودؓ  فرماتے ہیں کہ

’’اگر تم اللہ تعالیٰ سے یگانگت پیدا کرنا چاہتے ہو اور تمہارے رستہ میں ایسی رکا وٹیں ہیں کہ جن کی وجہ سے خدا تک پہنچنا تمہارے لئے نا ممکن ہو گیا ہے تو اُ ن کو دور کرنے کا یہ طریق ہے کہ پہلے تم اپنے رب سے غفران (یعنی بخشش) ما نگو۔ یعنی گناہوں کی وجہ سے جو تمہارے دلوں پر زنگ لگ گئے ہیں اور وہ خد اتک تمہیں نہیں پہنچنے دیتے ان کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی اعا نت طلب کرو اور اس سے دعائیں کر و کہ وہ تمہارے زنگوں کو دور کردے۔‘‘ 

(تفسیر کبیر جلد3صفحہ 144) 

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ فرماتے ہیں :

’’استغفار تو ہر وقت ہی کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ جن کو توفیق دیتا ہے اور سمجھ عطا کرتا ہے وہ کوئی وقت بھی بغیر استغفار کے نہیں رہتے۔ بہت سی چیزوں کا انحصار عادت پر بھی ہوتا ہے اب ہم میں سے بہت  سے گھروں سے نکلتے ہیں۔ سودا لینے کے لئے بازار جاتے ہیں ۔ اِدھر ادھر کے پراگندہ خیالات ذہن میں رکھ کر بھی فاصلہ طے کر سکتے ہیں اور ہم استغفار کرتے ہوئے بھی فاصلہ طے کر سکتے ہیں ۔ایک سکینڈ بھی زیادہ وقت نہیں لگے گا ۔لیکن ایک صورت میں ہم اپنا وقت ضائع کر دیا اور دوسری صورت میں ہم نے اپنے وقت کا صحیح استعمال کیا۔تو یہ عادت ڈالنی چاہیے ہم میں سے ہر ایک کوکہ استغفار کو اپنا شعار بنائے خالی لفظ نہ ہوں جو اس کے منہ سے نکل رہے ہوں ۔بلکہ استغفراللہ کے ساتھ اس کا یہ احساس بھی پوری شدت کے ساتھ بیدار ہو ۔‘‘

(خطبات ِ ناصر جلد اول صفحہ 964)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

 ’’اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے مقصدِ پیدائش کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ دنیا اور اس کے کھیل کود اور اس کی چکا چوند تمہیں تمہارے اس دنیا میں آنے کے مقصد سے غافل نہ کر دے بلکہ ہر وقت تمہارے پیش نظر یہ رہنا چاہئے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنا ہے، اس کی عبادت کرنی ہے۔ اگر یہ مقصد تمہارے پیش نظر رہے تو یاد رکھو یہ دنیا خود بخود تمہاری غلام بن جائے گی۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اِس دنیا میں جہاں بھی ہم نظر ڈالتے ہیں شیطان بازو پھیلائے کھڑا ہے۔ اس کے حملے اور اس کے لالچ اس قدر شدید ہیں کہ سمجھ نہیں آتی اُن سے کیسے بچا جائے۔ ہر کونے پر، ہرسڑک پر، ہر محلے میں، ہر شہر میں شیطانی چرخے کام کر رہے ہیں۔ اور سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہو ان شیطانی حملوں سے بچنا مشکل ہے۔ جدھر دیکھو کوئی نہ کوئی بلا منہ پھاڑے کھڑی ہے۔ دنیا کی چیزوں کی اتنی اٹریکشن (Attraction) ہے، وہ اتنی زیادہ اپنی طرف کھینچتی ہیں اور سمجھ نہیں آتی کہ انسان کس طرح اپنے مقصد پیدائش کو سمجھے اور اس کی عبادت کرے۔ لیکن ہم پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص احسان ہے کہ اُس نے خود ہی ان چیزوں سے بچنے کے لئے راستہ دکھا دیا ہے کہ مستقل مزاجی اور مضبوط ارادے کے ساتھ استغفار کرو تو شیطان جتنی بار بھی حملہ کرے گا منہ کی کھائے گا اور اس کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔‘‘

(خطبہ جمعہ 20 ؍مئی 2005ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل3؍جون2005ءصفحہ5) 

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے ایک اور خطبۂ جمعہ میں فرماتے ہیں:

’’اپنے اندر پاکیزگی کے بیج کی پرورش کے لئے بہت زیادہ کوشش اور استغفار کی ضرورت ہے۔ تاکہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرے اور دل صاف کرے اور اس طرح ہمیں اپنے دل کی زمین کو تیار کرنا ہو گا اور اس میں اللہ تعالیٰ کا فضل مانگتے ہوئے نیکی کے بیج کی پرورش کرنی ہو گی جس طرح ایک زمیندار جب اپنی فصل کے لئے بیج کھیت میں ڈالتا ہے تو جڑی بوٹیوں سے صاف رکھنے کے لئے وہ بعض دفعہ بیج ڈالنے سے پہلے ایسے طریقے اختیار کرتا ہے جو جڑی بوٹیوں کو اگنے میں مدد دیتے ہیں، تاکہ جو بھی جڑی بوٹیاں ہیں وہ ظاہر ہو جائیں۔ اور جب وہ ظاہر ہو جائیں تو ان کو تلف کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو اسی طرح ہمیں بھی اپنے گناہوں کی جڑی بوٹیوں کے بیج کو بھی ظاہر کرنا پھر اس کو تلف کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے، اپنے گناہوں پر نظر رکھنی چاہئے۔ تاکہ نیکی کا بیج صحیح طور پر نشوونما پا سکے۔ جب نیکی کا بیج پھوٹتا ہے، بڑھنا شروع ہوتا ہے تو اس کی پھر اس طرح ہی مثال ہے کہ پھر شیطان بعض حملے کرتا ہے کیونکہ وہ بھی اپنی برائیوں کے بیج پھینک رہا ہوتا ہے یا کچھ نہ کچھ بیج برائی کا بھی دل میں رہ جاتا ہے تو جس طرح فصل لگانے کے بعد زمیندار دیکھتا ہے کہ بعض دفعہ فصل کے ساتھ بھی دوبارہ جڑی بوٹیاں اگنی شروع ہو جاتی ہیں تو پھر زمیندار کئی طریقے استعمال کرتا ہے۔ بوٹی مار دوائیاں پھینکتا ہے یا گوڈی کرتا ہے، زمین صاف کرتا ہے تاکہ ان بوٹیوں کو تلف کیا جائے تو اس طرح انسان کو بھی اپنے اندر نیکی کے بیج کو خالص ہو کر بڑھنے اور پنپنے کا ماحول میسر کرنے کے لئے استغفار کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا فضل مانگتے ہوئے اس کی پرورش کی کوشش کرتے رہنا چاہئے تو جب اس طریق سے اپنے اندر نیکیوں کے بیج کو ہم پروان چڑھائیں گے اور پروان چڑھانے کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ پھلے گا اور پھولے گا اور پھر بڑھے گا اور ہمارے تمام وجود پر نیکیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ اور ہر برائی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ختم ہو جائے گی۔‘‘

(خطبہ جمعہ 14 ؍مئی 2004ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل28؍مئی 2004ءصفحہ6)

حضرت خلیفۃ الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز استغفار کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:

’’استغفار کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل اور قُرب کی چادر میں لپٹنے کی دُعا مانگی جائے۔ جب انسان اس طرح دعا مانگ رہا ہو تو کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ دُعا نہ سنے اور انسان کی دنیا و آخرت نہ سنورے۔ اللہ تعالیٰ نے تو خود فرمایا ہے کہ اُدْعُوْ نِیٓ اَسْتَجِبْ لَکُم(المومن :61) کہ اللہ تعالیٰ سچے وعدوں والا ہے، وہ تو اس انتظار میں ہوتا ہے کہ کب میرا بندہ مجھ سے دعا مانگے۔ خود فرماتا ہے کہ تم مجھ سے مانگو مَیں دعا قبول کروں گا۔ اللہ تعالیٰ تو یہ کہتا ہے کہ کب میرا بندہ مجھ سے استغفار کرے، کب وہ سچے طور پر توبہ کرتے ہوئے میری طرف رجوع کرے اور مَیں اس کی دُعا سنوں۔‘‘

(خطبہ جمعہ 20 ؍مئی 2005ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل3؍جون2005ءصفحہ5) 

آج بھی ہمارے لیے پریشانیوں اور اداسیوں کے دن ہیں مگر یہ وقتی اور عارضی پریشانیاں ہیں ہمیں چاہیے کہ اپنے رب سے قوت حاصل کریں اور اس سے عاجزانہ دعائیں کریں کہ کوتاہیوں ، غفلتوں اورگناہوں کی پاداش میں اس وقت جو پریشانیاں پیدا ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے معاف فرمائے اور دنیا کی آنکھیں کھولے، انہیں اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے اور وہ صحیح راہ کی طرف آنے والے ہوں۔آمین۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close