سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

آخری حربہ دعا ہے : حضرت مسیح موعودؑ کی معجزانہ قبولیتِ دعا کے واقعات

(عطاء الوحید باجوہ۔ مربی سلسلہ ربوہ)

سیدنا و امامنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 20؍مارچ2020ء میں موجودہ عالمی وباء کے بارے میں رہنمائی فرماتے ہوئے جہاں حکومتی ہدایات پرعمل کرنے کی تاکید فرمائی وہاں یہ بھی فرمایا:

’’آخری حربہ دعا ہے‘‘

اس تناظر میں قارئین کرام کی خدمت میں دعا کے مضمون کی اہمیت و فضیلت کے حوالے سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے چند قبولیت دعا کے واقعات پیش ہیں جو حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی تصنیف لطیف حقیقۃ الوحی میں تحریر فرمائے ہیں۔

دعا کا قبول ہونا بھی ایک بڑا نشان

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے قبولیت دعا کے اعجاز سے نوازا تھا۔چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں :

‘‘یاد رہے کہ خدا کے بندوں کی مقبولیت پہچاننے کے لئے دعا کا قبول ہونا بھی ایک بڑا نشان ہوتا ہے بلکہ استجابتِ دعا کی مانند اور کوئی بھی نشان نہیں کیونکہ استجابتِ دعا سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بندہ کو جنابِ الٰہی میں قدر اور عزت ہے۔ اگرچہ دعاکا قبول ہوجانا ہر جگہ لازمی امر نہیں کبھی کبھی خدائے عزّ و جلّ اپنی مرضی بھی اختیار کرتا ہے لیکن اِس میں کچھ بھی شک نہیں کہ مقبولین حضرت عزت کے لئے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ بہ نسبت دوسروں کے کثرت سے اُن کی دُعائیں قبول ہوتی ہیں اور کوئی استجابتِ دعا کے مرتبہ میں اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ ہزارہا میری دعائیں قبول ہوئی ہیں…’’

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ334)

جو منگے سو مر رہے مرے سو منگن جا

دعا کیا چیز ہے اور قبولیت دعا کے لیے کس کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے اس حوالے سے آپؑ نے ایک شعر تحریر فرمایاہے جس میں دعا کی فلاسفی بیان کی گئی ہے کہ خداتعالیٰ کے حضور دعا کرنا اور مرنا برابر ہے۔ آپؑ تحریر فرماتے ہیں :

’’اس درگاہ بلند میں آساں نہیں دُعا             

جو منگے سو مر رہے مرے سو منگن جا‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ287)

کوئی صورت جان بری کی دکھائی نہیں دیتی تھی

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :

’’ سردار نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا لڑکا عبد الرحیم خاں ایک شدید محرقہ تپ کی بیماری سے بیمار ہو گیا تھا اور کوئی صورت جان بری کی دکھائی نہیں دیتی تھی گویا مردہ کے حکم میں تھا۔ اُس وقت میں نے اُس کے لئے دعا کی تو معلوم ہوا کہ تقدیر مبرم کی طرح ہے تب میں نے جناب الٰہی میں عرض کی کہ یاالٰہی میں اس کے لئے شفاعت کرتا ہوں۔ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ نے فرمایا  

مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاذْنِہٖ

یعنی کس کی مجال ہے کہ بغیر اذن الٰہی کے کسی کی شفاعت کر سکے تب میں خاموش ہو گیا بعد اس کے بغیر توقف کے یہ الہام ہوا  

اِنَّکَ اَنْتَ الْمَجَازُ

یعنی تجھے شفاعت کر نے کی اجازت دی گئی تب میں نے بہت تضرّع اور ابتہال سے دعا کرنی شروع کی۔ تو خدا تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی اور لڑکا گویا قبر میں سے نکل کر باہر آیااور آثار صحت ظاہر ہوئے اور اس قدر لاغر ہو گیاتھا کہ مدّت دراز کے بعد وہ اپنے اصلی بدن پرآیاؔ اور تندرست ہو گیا اور زندہ موجود ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 229تا230)

تمہاری دعا سے ایک لڑکا پیدا ہوگا

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :

’’…میرے مخلص دوست مولوی نوردین صاحب کا ایک لڑکا فوت ہوگیا تھااوروہی ایک لڑکا تھا اُس کے فوت ہونے پر بعض نادان دشمنوں نے بہت خوشی ظاہر کی اِس خیال سے کہ مولوی صاحب لاولد رہ گئے تب میں نے اُن کے لئے بہت دعا کی اور دعا کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ اطلاع ملی کہ

تمہاری دعا سے ایک لڑکا پیدا ہوگا

اور اِس بات کا نشان کہ وہ محض دعا کے ذریعہ سے پیدا کیا گیا ہے یہ بتایا گیا کہ

اُس کے بدن پر بہت سے پھوڑے نکل آئیں گے۔

چنانچہ وہ لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عبد الحیّ رکھا گیا اور اُس کے بدن پر غیر معمولی پھوڑے بہت سے نکلے جن کے داغ اب تک موجود ہیں۔ اور یہ پھوڑوں کا نشان لڑکے کے پیدا ہونے سے پہلے بذریعہ اشتہار شائع کیا گیا تھا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ230)

میں نے اپنے ہاتھ سے اُس کی نصف قید کاٹ دی

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :

’’اسی شرمپت کا ایک بھائی بسمبرداس نام ایک فوجداری مقدمہ میں شائد ڈیڑھ سال کے لئے قید ہو گیا تھا تب شرمپت نے اپنی اضطراب کی حالت میں مجھ سے دعا کی درخواست کی۔ چنا  ؔنچہ میں نے اس کی نسبت دُعاکی تو میں نے بعد اس کے خواب میں دیکھا کہ میں اُس دفتر میں گیا ہوں جس جگہ قیدیوں کے ناموں کے رجسٹر تھے اور اُن رجسٹروں میں ہر ایک قیدی کی میعاد قید لکھی تھی تب میں نے وہ رجسٹر کھولا جس میں بسمبرداس کی قید کی نسبت لکھا تھا کہ اتنی قید ہے اور میں نے اپنے ہاتھ سے اُس کی نصف قید کاٹ دی اور جب اس کی قید کی نسبت چیف کورٹ میں اپیل کیا گیا تو مجھے دکھلایا گیا کہ انجام مقدمہ کا یہ ہوگا کہ مثل مقدمہ ضلع میں واپس آئے گی اور نصف قید بسمبرداس کی تخفیف کی جائے گی مگر بری نہیں ہوگا۔ اور میں نے وہ تمام حالات اُس کے بھائی لالہ شرمپت کو قبل از ظہور انجام مقدمہ بتلا دئے تھے اور انجام کار ایسا ہی ہوا جومیں نے کہا تھا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ232)

آخر میری دعا سے رہائی ہوگی

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :

’’ شیخ مہرعلی ہوشیارپوری کی نسبت پیشگوئی۔ یعنی خواب میں میں نے دیکھا کہ اُس کے گھر میں آگ لگ گئی اور پھر میں نے اُس کو بجھایا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آخر میری دعا سے رہائی ہوگی یہ تمام پیشگوئی میں نے خط میں لکھ کر شیخ مہرعلی کو اس سے اطلاع دی بعد اس کے پیشگوئی کے مطابق اس پر قید کی مصیبت آئی۔ اور پھر قید کے بعد پیشگوئی کے دوسرے حصہ کے مطابق اُس نے رہائی پائی۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ232)

وہ شفایاب ہوگیا

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :

’’ بشیر احمد میرا لڑکا آنکھوں کی بیماری سے ایسا بیمار ہو گیا تھا کہ کوئی دوا فائدہ نہیں کر سکتی تھی اور بینائی جاتے رہنے کا اندیشہ تھا۔ جب شدت مرض انتہا تک پہنچ گئی تب میں نے دُعا کی تو الہام ہوا

بَرّق طفلی بشیر

یعنی میرا لڑکا بشیر دیکھنے لگا۔تب اسی دن یا دوسرے دن وہ شفا یاب ہو گیا۔ یہ واقعہ بھی قریباً سو آدمی کو معلوم ہو گا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ240)

بظاہر سبیل رہائی معلوم نہیں ہوتی تھی

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :

’’ ایک دفعہ قانون ڈاک کی خلاف ورزی کا مقدمہ میرے پر چلایا گیا جس کی سزا پانچ سو روپیہ جرمانہ یا چھ۶ ماہ قید تھی اور بظاہر سبیل رہائی معلوم نہیں ہوتی تھی تب بعد دعا خواب میں خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ مقدمہ رفع دفع کر دیا جائے گا اس مقدمہ کا مخبر ایک عیسائی رلیا رام نام تھا جو امرتسر میں وکیل تھا اور میں نے خواب میں یہ بھی دیکھا کہ اُس نے میری طرف ایک سانپ بھیجا ہے اور میں نے اُس سانپ کو مچھلی کی طرح تل کر اُس کی طرف واپس بھیج دیا ہے۔ چونکہ وہ وکیل تھا اس لئے میرے مقدمہ کی نظیر گویا اُس کے لئے کار آمدتھی اور تلی ہوئی مچھلی کا کام دیتی تھی چنانچہ وہ مقدمہ پہلی پیشی میں ہی خارج ہو گیا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ248)

وہ ایک ہفتہ میں اچھا ہو گیا

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :

’’ایک دفعہ ایک آریہ ملا وامل نام مرض دق میں مبتلا ہو گیا اور آثار نو میدی ظاہر ہوتے جاتے تھے اور اُس نے خواب میں دیکھا کہ ایک زہریلا سانپ اُسکو کاٹ گیا وہ ایک دن اپنی زندگی سے نو مید ہو کر میرے پاس آکر رویا میں نے اُس کے حق میں دعا کی تو جواب آیا قلنا یا نارکُونی بردًا وسلامًا یعنی ہم نے تپ کی آگ کو کہا کہ سرد اور سلامتی ہو جا۔ چنانچہ بعد اس کے وہ ایک ہفتہ میں اچھا ہو گیا ۔اور اب تک وہ زندہ موجود ہے۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۲۲۷ مگر یقین ہے کہ اُس کی گواہی کے لئے بھی حلف کی ضرورت پڑے گی۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ277)

نبض دیکھی تو بخار کا نام و نشان نہ تھا

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :

’’ جن دنوں میں ۴؍اپریل ۱۹۰۵ء کا زلزلہ واقع ہوا تھا۔ اُس وقت چونکہ خداتعالیٰ کی طرف سے مجھ کو خبر ملی تھی کہ اسی زلزلہ پر حصر نہیں اور بھی زلزلے آئیں گے۔ اِس لئے میں مصلحتاً باغ میں مع عیال و اطفال اوراکثر اپنی جماعت کے لوگوں کے چلا گیا تھا اور وہاں ایک بڑے میدان میں دو خیمے لگا کر ہم بسرکرتے تھے اُنہیں دنوں میں میرے گھر کے لوگ سخت بیمار ہو گئے تھے کسی وقت تپ مفارقت نہیں کرتا تھا اور کھانسی ساتھ تھیؔ۔ میرے مخلص دوست مولوی حکیم نور دین صاحب علاج کرتے تھے مگر فائدہ محسوس نہ ہوتا تھا یہاں تک نوبت پہنچی کہ نشست و برخاست سے عاری ہو گئی چارپائی پر بٹھا کر خیمہ میں شام کے وقت عورتیں لے جاتی تھیں اور صبح چارپائی پر باغ میں لے آتی تھیں اور دن بدن جسم لاغر ہوتا جاتا تھا۔ آخر میں نے توجہ سے دُعاکی تب الہام ہوا انّ مَعِیَ ربّی سَیھدین یعنی میرا رب میرے ساتھ ہے عنقریب وہ مجھے بتلا دے گا کہ مرض کیا ہے اور علاج کیا ہے اس الہام سے چند منٹ بعد ہی میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ بیماری بباعث حرارتِ جگر ہے اور دل میں ڈالا گیاکہ کتاب شفاء الاسقام کا نسخہ اس کے لئے مفید ہوگا سو وہ نسخہ بنایا گیا اور وہ قرص تھے۔ جب تین یا چار قرص کھائے گئے تو ایک دن صبح کیوقت میں نے خواب میں دیکھا کہ عبد الرحمن نام ایک شخص ہمارے مکان میں آیا ہے اور وہ کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ بخار ٹوٹ گیا۔ اور یہ عجیب قدرت الٰہی ہے کہ ایک طرف یہ خواب دیکھی گئی اور دوسری طرف جب میں نے نبض دیکھی تو بخار کا نام و نشان نہ تھا پھر یہ الہام ہوا۔

تو در منزل ماچو بار بار آئی

 خداا برِ رحمت ببارید یانے

اس پیشگوئی کی بھی ایک جماعت گواہ ہے جس کا جی چاہے دریافت کر لے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ289تا290)

دس دن کے بعد میں موج دکھاتا ہوں

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :

’’تصنیف براہین احمدیہ کے زمانہ میں جبکہ لوگوں کا میری طرف کچھ رجوع نہ تھا اور نہ دنیا میں شہرت تھی روپیہ کی سخت ضرورت پیش آئی۔ اس کے لئے میں نے دعا کی تب یہ اؔلہام ہوا دس دن کے بعد میں موج دکھاتا ہوں الا انّ نصر اللّٰہ قریب۔ فی شائل مقیاس۔ دن وِل یو گو ٹو امرت سر۔ یعنی  دس دن کے بعد روپیہ ضرور آئے گا پہلے اس سے کچھ نہیں آئے گا خدا کی مدد نزدیک ہے اور جیسے جب جننے کے لئے اُونٹنی دُم اُٹھاتی ہے تب اُس کا بچہ جننا نزدیک ہوتا ہے ایسا ہی مددِ الٰہی بھی قریب ہے۔ اور پھر انگریزی فقرہ میں یہ فرمایا کہ دس دن کے بعد جب روپیہ آئے گا تب تم امرت سر میں بھی جاؤگے۔ یہ پیشگوئی میں نے تین ہندوؤں یعنی شرمپت، ملاوامل، بشنداس کوجو آریہ ہیں سُنا دی اور اُن کو کہہ دیا کہ یاد رکھو کہ یہ روپیہ ڈاک کے ذریعہ سے آئے گا اور دس دن تک ڈاک کے ذریعہ سے کچھ بھی نہیں آئے گا۔ اور علاوہ ان ہندوؤں کے اور بہت سے مسلمانوں کو یہ پیشگوئی قبل از وقت سُنا دی اور خوب مشہور کر دی۔ کیونکہ اس پیشگوئی میں دو پہلو بہت عجیب تھے۔ ایک یہ کہ قطعی طور پر حکم دیا گیا تھا کہ دس ۱۰دن تک کچھ نہیں آئے گا اور گیارھویں دن بلا توقف اور بلا فاصلہ روپیہ آئے گا۔ دوسرا پہلو یہ عجیب تھا کہ روپیہ آنے کے ساتھ ہی کچھ ایسا اتفاق پیش آجائے گا کہ تمہیں امرت سر جانا پڑ ے گا۔ پس یہ عجیب نمونہ قدرتِ الٰہی ظاہر ہوا کہ الہام کے دن سے دس ۱۰دن تک ایک پیسہ بھی نہ آیا اور مذکورہ بالا آریان ہر روز ڈاکخانہ میں جاکر تفتیش کرتے رہے اور اُن دِنوں میں ڈاکخانہ کا سب پوسٹ ماسٹر بھی ہندو تھا۔ جب گیار۱۱ھواں دن چڑھا تو اِن آریوں کے لئے ایک عجیب تماشے کا دن تھا اور وہ بہت خوشی  سے اِس بات کے اُمید وار تھے کہ یہ پیشگوئی جھوٹی نکلے تب بعض ان میں سے ڈاکخانہ میں گئے اور غمگین صورت بنا کر واپس آئے اور بیان کیا کہ آج محمد افضل خان نام ایک سپرنٹنڈنٹ بندوبست راولپنڈی نے ایک سو دس روپیہ بھیجے ہیں اور ایسا ہی ایک شخص نے  ۲۰ روپیہ بھیجے غرض اُس دن ایک سو تیس روپے آئے جن سے وہ کام پورا ہو گیا‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ292تا293)

تین اعضاء پر رحمت نازل کی گئی

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :

’’ایک دفعہ بباعث مرض ذیابیطس جو قریباً بیس۲۰ سال سے مجھے دامن گیر ہے آنکھوں کی بصارت کی نسبت بہت اندیشہ ہوا کیونکہ ایسے امراض میں نزول الماء کا سخت خطرہ ہوتا ہے تب خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے مجھے اپنی اس وحی سے تسلی اور اطمینان اور سکینت بخشی اور وہ وحی یہ ہے نَزَلْتُ الرَّحْمَۃ عَلٰی ثلٰث۔ العین وعلی الاُخریین یعنی تین اعضاء پر رحمت نازل کی گئی۔ ایک آنکھیں اور دو اور عضو اور اُن کی تصریح نہیں کی۔ اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ پندرہ بیس۲۰ برس کی عمر میں میری بینائی تھی ایسی ہی اس عمر میں بھی کہ قریباً ستر۷۰ برس تک پہنچ گئی ہے وہی بینائی ہے سو یہ وہی رحمت ہے جس کا وعدہ خدا تعالیٰ کی وحی میں دیا گیا تھا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ319)

غیر مترقب طورپر ترقی ہو گئی

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :

’’… ایک میرے مخلص سیّدناصر شاہ نام جو اَب کشمیر بارہ مولہ میں اورسیئر ہیں وہ اپنے افسروں کے ماتحت نہایت تنگ تھے اورکئی آدمی اُن کی ترقی کے حارج تھے بلکہ اُن کی ملازمت خطرہ میں تھی۔ ایک دفعہ انہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ میں استعفا دے دیتا ہوں تا اِس ہر روزہ تکلیف سے نجات پائوں۔ مَیں نے اُن کو منع کیا مگر وہ اس قدر ملازمت سے عاجز آگئے تھے کہ انہوں نے بار بار نہایت عجز و انکسار سے عرض کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہؔ میری جان ایک بلا میں گرفتار ہے اور حد سے زیادہ اصرار کیا اور کہا کہ میرے لئے ترقی عہدہ کی راہ بند ہے بلکہ ایسا نہ ہو کہ کسی ظالم کے ہاتھ سے فوق الطاقت مجھے ضرر پہنچ جائے تب میں نے اُن کو کہا کہ کچھ دن صبر کرو میں تمہارے لئے دعا کروں گا اوراگر پھر بھی مشکلات پیش آئیں تو پھر اختیار ہے۔ بعد اس کے میں نے جناب الٰہی میں اُن کے لئے دعا کی اور حضرت عزت سے اُن کی کامیابی چاہی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بجائے اس کے کہ پہلی ملازمت بھی خطرہ میں تھی غیر مترقب طورپر ترقی ہو گئی‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ334تا335)

مقدمہ فوجداری سے رہائی

قبولیت دعاکا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ایک مرتبہ مستری نظام الدین نام ایک ہماری جماعت کے شخص نے سیالکوٹ اپنی جائے سکونت سے میری طرف خط لکھا کہ ایک خطرناک مقدمہ فوجداری کا میرے پر دائر ہو گیا ہے اور کوئی سبیل رہائی معلوم نہیں ہوتی سخت خوف دامن گیر ہے اور دشمن چاہتے ہیں کہ میں اس میں پھنس جاؤں اور بہت خوش ہو رہے ہیں اور میں نے اِس وقت ظاہری اسباب سے نومید ہو کر یہ خط لکھا ہے اور میں نے اپنے دل میں نذر کی ہے کہ اگر میں اِس مقدمہ سے نجات پا جاؤں تو مبلغ پچاس روپے خدا تعالیٰ کے شکریہ کے طور پر آپ کی خدمت میں ارسال کروں گا۔

تب وہ خط اُس کا کئی لوگوں کو دکھلایا گیا اور بہت دُعا کی گئی اور اس کو اطلاع دی گئی چند دن گذرنے کے بعد اُس کا پھر خط مع پچاس روپیہ کے آیا اور لکھا کہ خدا نے مجھے اُس بلا سے نجات دی۔

پھر چند ہفتہ کے بعد ایک اور خط آیا جس میں لکھا تھا کہ سرکاری وکیل نے پھر وہ مقدمہ اُٹھایا ہے اِس بنیاد پر کہ فیصلہ میں غلطی ہے اور صاحب ڈپٹی کمشنر نے ایڈوکیٹ کی بات قبول کرکے فیصلہ کو انگریزی میں ترجمہ کراکر اور سفارش لکھ کر صاحب کمشنر بہادر کی خدمت میں بھیج دیا ہے اِس لئے یہ حملہ پہلے سے زیادہ خطرناک اور بہت تشویش دِہ ہے اور میں نے اس حالت بے قراری میں پھر اپنے ذمہ یہ نذر مقرر کی ہے کہ اگر اب کی دفعہ میں اِس حملہ سے بچ جاؤں تو مبلغ پچاس روپیہ پھر بطور شکریہ ادا کروںگا۔ میرے لئے بہت دعا کی جائے یہ خلاصہ دونوں خطوں کا ہے جن کے بعد دعاکی گئی۔

بعد اس کے شاید ایک دو ہفتہ ہی گذرے تھے کہ پھر مستری نظام الدین کا خط آیا جو بجنسہ ذیل میں لکھاجاتا ہے:۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰ رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

مسیحنا و مہدینا حضرت حجۃ اللہ علی الارض۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔ اللہ تعالیٰ نے حضور کی خاطر پھر دوبارہ خاکسار پر رحم فرمایا اور اپیل فریق مخالف کی کمشنر صاحب لاہور نے نامنظور کرکے کل واپس کردی فالحمدللّٰہ والمنتہ خاکسار دو ہفتہ کے اندر حضور کی قدم بوسی کے لئے حضور کی خدمت میں پچاس روپیہ نذرانہ جو پہلے مانا ہوا ہے لے کر حاضر ہوگا۔

حضور کا ناکارہ غلام

خاکسار نظام الدین مستری شہر سیالکوٹ متصل ڈاک خانہ‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ336تا337)

دعا کی برکت سے شاہ نواز کا اپیل منظور ہو گیا

’’سردار خان برادر حکیم شاہ نواز خان جو ساکن راولپنڈی ہیں۔ میری طرف لکھتے ہیں کہ ایک مقدمہ میں اُن کے بھائی شاہ نواز خان کی مع ایک فریق مخالف کے عدالت میں ضمانت لی گئی تھی جس میں حضرت صاحب سے یعنی مجھ سے بعد اپیل دعا کروائی گئی تھی اور ہر دو فریق نے اپیل کیا تھا۔ چنانچہ دعا کی برکت سے شاہ نواز کا اپیل منظور ہو گیا اور فریق ثانی کی اپیل خارج ہو گئی۔ قانون دان لوگ کہتے تھے کہ اپیل کرنا بے فائدہ ہے کیونکہ بالمقابل ضمانتیں ہیں یہ دعا کا اثر تھا کہ دشمن کی ضمانت قائم رہی اور شاہ نواز ضمانت سے بَری کیا گیا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ337)

بہت دُعا کی گئی آخر دُعا منظور ہوئی

’’میاں نور احمد مدرس مدرسہ امدادی بستی وریام کملانہ ڈاک خانہ ڈب کلاں تحصیل شور کوٹ ضلع جھنگ کے متواتر خطوط میرے نام اس بارہ میں پہنچے تھے کہ اُن کے عزیز دوست مسمّی قاسم و رستم ولعل وغیرہ پر ایک جھوٹا مقدمہ مسمّی پٹھانہ کملانہ نے کیا ہوا ہے اور مقدمہ خطرناک ہو گیا ہے دعاکی جائے پس جبکہ کثرت سے ہر ایک خط میں عاجز انہ طور پر دعا کے لئے اُن کا اصرار ہوا تب میرے دل کو اس طرف توجہ ہو گئی کیونکہ میں نے واقعی طور پر ان کی حالت کو قابِل رحم پایا    ؔ اِس لئے بہت دُعا کی گئی آخر دُعا منظور ہوئی چنانچہ ۱۲؍ستمبر ۱۹۰۶ء کو اُسی میاں نور احمد کا خط مجھ کوبذریعہ ڈاک جو فتح یابی مقدمہ کی نسبت تھا پہنچا جو ذیل میں لکھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے:۔

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ

حضرت مرشد نا و مولانا جناب مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ بعد ادائے آداب غلامانہ عرض ہے کہ جو مقدمہ جھوٹا پٹھانہ کملانہ نے ہمارے غریب دوست مسمّی قاسم ورستم و لعل وغیرہ پر دائر کیا ہوا تھا وہ مقدمہ خدا کے فضل سے آپ کی دعائوں کی برکت سے ۳۱؍اگست ۱۹۰۶ء کو فتح ہو گیا ہے آپ کو مبارک ہو۔ سبحان اللہ خدائے پاک نے اپنے پیارے امام کی دُعائوں کو قبول فرمایا اور سر فراز کیا اور ہمارے ایمان میں ایزادی ہوئی ہم اس احکم الحاکمین کے فضلوں کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔

 راقم بندہ نور احمد مدرس مدرسہ امدادی بستی وریام کملانہ

                                                                                                                                                ڈاکخانہ ڈب کلاں تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ337تا338)

گو یا اُن کو نئے سرے سے زندہ کیا

’’میرے ایک صادق دوست اور نہایت مخلص جن کا نام ہے سیٹھ عبد الرحمن تاجر مدراس اُن کی طرف سے ایک تار آیا کہ وہ کاربنکل یعنی سرطان کی بیماری سے جو ایک مہلک پھوڑا ہوتا ہے بیمار ہیں چونکہ سیٹھ صاحب موصوف اوّل درجہ کے مخلصین میں سے ہیں اِس لئے انکی بیماری کی وجہ سے بڑا فکر اور بڑا تر دّد ہوا قریباً نو بجے دن کا وقت تھا کہ میں غم اور فکر میں بیٹھا ہوا تھا کہ یک دفعہ غنودگی ہو کر میرا سر نیچے کی طرف جُھک گیا اور معاً خدائے عزّوجلّ کی طرف سے وحی ہوئی کہ آثارِ زندگی۔ بعد اس کے ایک اور تار مدراس سے آیا کہ حالت اچھی ہے کوئی گھبراہٹ نہیں۔ لیکن پھر ایک اور خط آیا کہ جو اُن کے بھائی صالح محمد مرحوم کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھاجس کا یہ مضمون تھا کہ سیٹھ صاحب کو پہلے اِس سے ذیابیطس کی بھی شکایت تھی۔ چونکہ ذیابیطس کا کاربنکل اچھا ہونا قریباً محال ہے اِس لئےدوبارہ  غم اؔور فکر نے استیلا کیا اور غم انتہا تک پہنچ گیا اور یہ غم اس لئے ہوا کہ میں نے سیٹھ عبد الرحمن کو بہت ہی مخلص پایا تھا اور انہوں نے عملی طور پر اپنے اخلاص کا اول درجہ پر ثبوت دیا تھا اور محض دلی خلوص سے ہمارے لنگر خانہ کے لئے کئی ہزار روپیہ سے مدد کرتے رہے تھے جس میں بجز خوشنودیء خدا کے اور کوئی مطلب نہ تھا اور وہ ہمیشہ صدق اور اخلاص کے تقاضا سے ماہواری ایک رقم کثیر ہمارے لنگر خانہ کے لئے بھیجا کرتے تھے اور اس قدر محبت سے بھرا ہوا اعتقاد رکھتے تھے کہ گویا محبت اور اخلاص میں محو تھے اور اُن کا حق تھا کہ اُن کے لئے بہت دعا کی جائے آخر دل نے اُن کے لئے نہایت درجہ جوش مارا جو خارق عادت تھا اور کیارات اور کیا دن میں نہایت توجہ سے دعا میں لگا رہاتب خدا تعالیٰ نے بھی خارق عادت نتیجہ دکھلایا اور ایسی مہلک مرض سے سیٹھ عبد الرحمن صاحب کو نجات بخشی گو یا اُن کو نئے سرے سے زندہ کیا چنانچہ وہ اپنے خط میں لکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کی دُعا سے ایک بڑا معجزہ دکھلایا ورنہ زندگی کی کچھ بھی اُمید نہ تھی اپریشن کے بعد زخم کا مندمل ہونا شروع ہو گیا اور اس کے قریب ایک نیا پھوڑا نکل آیا تھا جس نے پھر خوف اورتہلکہ میں ڈال دیا تھا مگر بعد میں معلوم ہواکہ وہ کاربنکل نہیں آخر چند ماہ کے بعد بکلّی شفا ہو گئی۔ میں یقینا جانتا ہوں کہ یہی مُردہ کا زندہ ہونا ہے۔ کاربنکل اور پھر اس کے ساتھ ذیابیطس اور عمر پیرانہ سالی اِس خوفناک صورت کو ڈاکٹر لوگ خوب جانتے ہیں کہ کس قدر اس کا اچھا ہونا غیر ممکن ہے ہمارا خدا بڑا کریم و رحیم ہے اور اس کی صفات میں سے ایک احیاء کی صفت بھی ہے‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ338تا339)

اسحاق کا تپ اُتر گیااور گلٹیوں کا نام و نشان نہ رہا

’’اس کے بعد خدا تعالیٰ نے ایک اور خوشی کا نشان مجھے عطا فرمایا اور وہ یہ ہے کہ میں نے ان دنوں میں ایک دفعہ دعا کی تھی کہ کوئی تازہ نشان خدا تعالیٰ مجھے دکھاوے تب جیسا کہ ۳۰؍اگست ۱۹۰۶ء کے اخبار بدر میں شائع ہو چکا ہے یہ الہام مجھے ہواآج کل کوئی نشان ظاہر ہوگا یعنی عنقریب کوئی نشان ظاہر ہونے والا ہے۔ چنانچہ وہ نشان اس طرح پر ظہور میں آیا کہ میں نے کئی دفعہ ایسی منذر خوابیں دیکھیں جن میں صریح طور پر یہ بتلایا گیا تھا کہ میر ناصر نواب جو میرے خُسر ہیں اُن کے عیال کے متعلق کوئی مصیبت آنے والی ہے چنانچہ ایک دفعہ میں نے گھر میں بکرے کی ایک ران لٹکائی ہوئی دیکھی جو کسی کی موت پر دلالت کرتی تھی اور ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبد الحکیم خان اسسٹنٹ سرجن اس چوبارہ کے پاس باہر کی طر ؔف چوکھٹ کے ساتھ لگ کر کھڑا ہے جس میں مَیں رہتا ہوں تب کسی شخص نے مجھ کو کہا کہ عبد الحکیم خان کو والدۂ اسحاق نے گھر کے اندر بُلایا ہے (والدہ اسحاق میرناصر نواب صاحب کی بیوی ہیں اور اسحاق اُن کا لڑکا ہے) اور وہ سب ہمارے گھر میں ہی رہتے ہیں تب میں نے یہ بات سُن کر جواب دیا کہ میں عبد الحکیم خان کو ہر گز اپنے گھر میں آنے نہ دوںگا۔ اِس میں ہماری بے عزتی ہے۔ تب وہ آنکھوں کے سامنے سے گم ہو گیا اندر داخل نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ علم تعبیر میں معبّریـن نے یہ لکھا ہے جس کا بار ہا تجربہ ہو چکا ہے کہ اگر کسی کے گھر میں دشمن داخل ہو جائے تو اُس گھر میں کوئی مصیبت یا موت آتی ہے اور چونکہ آجکل عبد الحکیم خان سخت دشمن جانی اور ہمارے زوال کا رات دن منتظر ہے اِس لئے خدا تعالیٰ نے اُسی کو خواب میں دکھلایا کہ گویا وہ ہمارے گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے اور والدۂ اسحاق یعنی میر ناصر صاحب کی بیوی اُس کو بلاتی ہیں اور بلانے کی تعبیر یہ لکھی ہے کہ ایسا شخص محض اپنی بعض دینی غفلتوں کی وجہ سے جن کا علم خدا تعالیٰ کو ہے مصیبت کو اپنے گھر میں بلاتا ہے یعنی اس کی موجودہ حالت اس بات کو چاہتی ہے کہ کوئی بلا نازل ہو یہ ظاہر ہے کہ انسان معاصی اور گناہوں سے خالی نہیں ہے اور انسانی فطرت بجز خاص لوگوںکی لغزش سے محفوظ نہیں رہ سکتی اور وہ لغزش چاہتی ہے کہ کوئی تنبیہ نازل ہو اِس میں تمام دنیاشریک ہے پس اِس خواب کے یہی معنی تھے کہ اُن کی کسی لغزش نے دشمن کو گھر میں بلانا چاہا مگر شفاعت نے روک لیا۔میں نے خواب میں عبد الحکیم خان کو گھر کے اندر داخل ہونے سے روک دیا یعنی وہ فضل خدا تعالیٰ کا جو میرے شامل حال ہے اُس نے دشمن کو شماتت کے موقعہ سے باز رکھا۔ غرض جب اس قدر مجھے الہام ہوئے جن سے یقیناً میرے پر کُھل گیا کہ میر صاحب کے عیال پرکوئی مصیبت درپیش ہے تو میں دعا میںلگ گیا اور وہ اتفاقاً مع اپنے بیٹے اسحاق اور اپنے گھر کے لوگوں کے لاہور جانے کو تھے میں نے اُن کو یہ خوابیں سُنادیں اور لاہور جانے سے روک دیا۔ اور انہوں نے کہا کہ مَیں آپ کی اجازت کے بغیر ہر گز نہیں جائوں گا جب دوسرے دن کی صبح ہو  ؔئی تو میر صاحب کے بیٹے اسحاق کو تیز تپ چڑھ گیا اور سخت گھبراہٹ شروع ہو گئی اور دونوں طرف بُنِ ران میں گلٹیاں نکل آئیں اور یقین ہو گیا کہ طاعون ہے کیونکہ اِس ضلع کے بعض مواضع میں طاعون پھوٹ پڑی ہے تب معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا خوابوں کی تعبیر یہی تھی اور دل میں سخت غم پیدا ہوا اور میں نے میر صاحب کے گھر کے لوگوں کو کہہ دیا کہ میں تو دعا کرتا ہوں آپ توبہ و استغفار بہت کریں کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ نے دشمن کو اپنے گھر میں بلایا ہے اور یہ کسی لغزش کی طرف اشارہ ہے اور اگرچہ میں جانتا تھا کہ موت فوت قدیم سے ایک قانونِ قدرت ہے لیکن یہ خیال آیا کہ اگر خدانخواستہ ہمارے گھر میں کوئی طاعون سے مر گیا تو ہماری تکذیب میں ایک شور قیامت برپا ہو جائے گا اور پھر گو میں ہزار نشان بھی پیش کروں تب بھی اس اعتراض کے مقابل پر کچھ بھی اُن کا اثر نہیں ہوگا کیونکہ میں صدہا مرتبہ لکھ چکا ہوں اور شائع کر چکا ہوں اور ہزار ہا لوگوں میں بیان کر چکا ہوں کہ ہمارے گھر کے تمام لوگ طاعون کی موت سے بچے رہیں گے۔ غرض اُس وقت جو کچھ میرے دل کی حالت تھی میں بیان نہیں کر سکتا۔ میں فی الفور دعا میں مشغول ہو گیا اور بعد دعا کے عجیب نظارۂ قدرت دیکھا کہ دو تین گھنٹہ میں خارق عادت کے طور پر اسحاق کا تپ اُتر گیااور گلٹیوں کا نام و نشان نہ رہا اور وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ پھرنا۔ چلنا کھیلنا دوڑنا شروع کر دیا گویا کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی تھی۔ یہی ہے احیائے موتی۔ ‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ340تا342)

وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بَری ہو گیا

’’نواب محمد حیات خان جو ڈویژنل جج تھا کسی فوجداری الزام میںمعطل ہو گیا تھا اور کوئی صورت اُس کی رہائی کی نظر نہیں آتی تھی تب اُس نے مجھ سے دعا کی درخواست کی اور میں نے دعا کی تب میرے پر خدا نے ظاہر کیا کہ وہ بری ہو جائے گا اوریہ خبر اُس کو اور بہت سے لوگوں کو قبل از وقت سنا دی گئی جیسا کہ براہین احمدیہ میں مفصل درج ہے آخر وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بَری ہو گیا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ345)

درد گردہ سے شفاء

’’یہ نشان پہلے اِس سے میں نے اپنے رسالہ تذکرۃ الشہادتین کے اخیر میں لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو میں نے ارادہ کیا تھا کہ صاحبزادہ عبد اللطیف اور شیخ عبدالرحمن صاحب کی شہادت کے بارہ میں جو نہایت ظلم سے قتل کئے گئے ایک رسالہ لکھوں جس کا نام تذکرۃ الشہادتین تجویز کیا تھا لیکن اتفاقاً مجھے درد گردہ شروع ہو گیا اور میرا ارادہ تھا کہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ء تک وہ رسالہ ختم کر لوں کیونکہ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ء کو ایک فوجداری مقدمہ کے لئے جو ایک مخالف کی طرف سے میرے پر دائر تھا گورداسپور میں جانا ضروری تھا تب میں نے جنا ب الٰہی میں دعا کی کہ یا الٰہی میں شہید مرحوم عبد اللطیف کے لئے رسالہ لکھنا چاہتا ہوں اور درد گردہ شروع ہو گئی ہے مجھے شفا بخش اور اِس سے پہلے مجھے ایک دفعہ دس۱۰ دن برابر درد گردہ رہی تھی اور میں اس سے قریب موت ہو گیا تھا۔ اب کی دفعہ بھی وہی خوف دامنگیر ہو گیا میں نے اپنے گھر کے لوگوں کو کہا کہ میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہو تب میں نے اپنی شفا کے لئے اس سخت دردکی حالت میں دعا کی اور انہوں نے آمین کہی پس میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں جس کی قسم ہر ایک گواہی سے زیادہ اعتبارکےؔ لائق ہے کہ ابھی میں نے دعا تمام نہیں کی تھی کہ میرے پر غنودگی طاری ہوئی اور الہام ہوا  سَلامٌ قَولًا من ربّ رحیم مَیں نے اُسی وقت یہ الہام اپنے گھر کے لوگوں اور اُن سب کو جو حاضر تھے سُنادیا۔ اور خدائے علیم جانتا ہے کہ صبح کے چھ۶ بجے سے پہلے میں بکلّی صحت یاب ہو گیا اور اُسی دن میں نے آدھی کتاب تصنیف کر لی فالحمدللّٰہ علٰی ذالک‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ358تا359)

اُس کو دو بارہ زندگی حاصل ہوئی

’’جب ہم بہار کی موسم میں ۱۹۰۵ء میں باغ میں تھے تو مجھے اپنی جماعت کے لوگوں میں سے جو باغ میں تھے کسی ایک کی نسبت یہ الہام ہوا تھا کہ خدا کا ارادہ ہی نہ تھا کہ اُس کو اچھا کرے مگر فضل سے اپنے ارادہ کو بدل دیا۔ اِس الہام کے بعد ایسا اتفاق ہوا کہ سید مہدی حسین صاحب جو ہمارے باغ میں تھے اور ہماری جماعت میں داخل ہیں اُن کی بیوی سختؔ بیمار ہو گئی۔ وہ پہلے بھی تپ اور ورم سے جو مُنہ اور دونوں پیروں اور تمام بدن پر تھی بیمار تھی اور بہت کمزور تھی اور حاملہ تھی پھر بعد وضع حمل جو باغ میں ہوا اس کی حالت بہت نازک ہو گئی اور آثار نومیدی ظاہر ہو گئے اور میں اُس کے لئے دعا کرتا رہا آخر خدا تعالیٰ کے فضل سے اُس کو دو بارہ زندگی حاصل ہوئی۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ378)

جو دُعا کیجئے قبول ہے آج

’’‘ایک دفعہ خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ نے اپنے کسی اضطراب اور مشکل کے وقت میری طرف خط لکھا کہ میرے لئے دعا کریں چونکہ انہوں نے کئی دفعہ ہمارے سلسلہ میں خدمت کی تھی اس لئے اُن کے لئے دعا کی گئی تب منجانب اللہ الہام ہوا:۔

چل رہی ہے نسیم رحمت کی

جو دُعا کیجئے قبول ہے آج

اس دعا کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ مشکلات اُن کے دور کر دیئے …‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ393تا394)

میرا دل نہایت اضطراب میں پڑا

’’ایک دفعہ میری بیوی کے حقیقی بھائی سید محمد اسمٰعیل کا جو اس وقت اسسٹنٹ سرجن ہے۔ پٹیالہ سے خط آیا جس میں لکھا تھا کہ میری والدہ فوت ہو گئی ہے اور خط کے اخیر میں یہ بھی لکھا تھا کہ اسحاق میرا چھوٹا بھائی بھی فوت ہو گیا ہے اور تاکید کی تھی کہ خط کو دیکھتے ہی چلے آویں اور اتفاق ایسا ہوا کہ ایسے وقت میں وہ خط پہنچا کہ جب خود میرے گھر کے لوگ سخت تپ سے بیمار تھے اور مجھے خوف تھا کہ اگر اُن کو اِس خط کے مضمون سے اطلاع دی جائے گی تو اندیشہ جان ہے۔ تب میرا دل نہایت اضطراب میں پڑا اُس اضطراب کی حالت میں مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے اطلاع دی گئی کہ یہ خبر وفات صحیح نہیں اور میں نے اس الہام سے مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اور شیخ حامد علی اور بہت سے لوگوں کو ا طلاع دی اور پھر بعد اس کے شیخ حامد علی کو جو میرا ملازم ہے پٹیالہ ــ میںؔ بھیجا تو معلوم ہوا کہ درحقیقت  وہ خبر خلاف واقعہ تھی۔ سوچنے کا مقام ہے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے کسی کو اُمور غیبیہ پر اطلاع نہیں ہوتی اور یہ خدا تعالیٰ نے ایک ایسی غیب کی خبر دی جس نے خط کے مضمون کو ردّ کر دیا۔‘‘

(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ398)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے

اے مرے فلسفیو! زورِ دعا دیکھو تو

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close