سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام اور فارسی زبان

(ڈاکٹر کاشف علی۔ مربی سلسلہ ربوہ)

’’آپؑ کی عادت میں یہ امر بھی داخل تھاکہ اگر آپ کو کوئی شخص نظم میں خط لکھتاتو آپؑ اس کا جواب قلم برداشتہ نظم ہی میں لکھ دیتے…‘‘

مقدمہ

اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے:

وَمَا اَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ(ابراہیم:5)

ہم نے ہر نبی کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجاہے تاکہ وہ ان کے لیےمختلف امور کھول کر بیان کرسکے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چونکہ الله تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی نیابت اور غلامی میں اسلام کی شان و شوکت کو دوبارہ قائم کرنےاور لوگوں کو زندہ خدا دکھانے کے لیے قدیم پیشگوئیوں کے مطابق امام مہدی اور مسیح موعود کا خطاب دے کر مبعوث فرمایا ہے۔اس لیے آپ کا پیغام اور آپ کا دائرہ عمل بھی کسی ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ پوری دنیا تک محیط ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماًفرمایاکہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ پس آپ کا پیغام دنیا کی ہرزبان میں پہنچنا ہے ان شاءاللہ۔ یہ ایک اٹل تقدیر ہے جس کو دنیا کی کوئی طاقت تبدیل نہیں کرسکتی ۔ لیکن اسلامی لٹریچر اور اسلامی دنیا میں عربی زبان کے بعد فارسی زبان کا ایک بہت اہم کردار ہے۔اس مختصر مضمون میں خاکسار کوشش کرے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فارسی زبان میں جو علمی فن پارے تحریر فرمائے ان کا مختصر جائزہ آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ واللّٰہُ المُسْتَعَان۔

جائزہ پیش کرنے سے پہلےاس بات کا ذکرضروری معلوم ہوتا ہے کہ فارسی زبان بولنے والوں کی تعداد آج دنیا میں تقریباً گیارہ کروڑ ہے اورحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں ہندوستان میں بھی فارسی رائج تھی کیونکہ کئی صدیوں تک یہاں پر فارسی ہی حکومت وقت کی زبان رہی ہے اس لیے اس وقت کے علما ءاپنی تالیفات علمی حلقہ جات کے لیے فارسی میں بھی لکھاکرتے تھے۔لیکن انگریزوں کےاس خطہ میں آنے کے بعدیہ زبان اپنی رونق کھوتی چلی گئی اور اب تو بالکل ہی فارسی زبان جاننے والے افراد انگشت شمار ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فارسی زبان کی تعلیم

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اگرچہ باقاعدہ کسی ادارہ یا سکول میں نہیں گئے جہاں سے فارسی زبان سیکھیں لیکن آپ کی فارسی منثور اور منظوم تحریرات بھی فصاحت و بلاغت کےلحاظ سے اپنی مثال آپ ہیں۔حضور اقدسؑ اپنی فارسی تعلیم کے بارے میں فرماتے ہیں:

‘‘جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خوان معلّم میرے لئے نوکر رکھا گیا۔جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔’’

(کتاب البریّہ، روحانی خزائن جلد13صفحہ180)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا فارسی میں خط کتابت کرنا

حضرت اقدس علیہ السلام بعثت سے قبل اکثرفارسی میں ہی خطوط لکھا کرتے تھےبطور مثال سیالکوٹ میں قیام کے دوران آپ علیہ السلام نے اپنے والد ماجد کی خدمت میں فارسی میں خط لکھا کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں نوکری چھوڑ کر اپنا وقت دنیا کے کاموں کی بجائے دینی کاموں میں صرف کرسکوں۔

(حیات احمد جلد اوّل صفحہ112تا114)

اسی طرح ایک اور مثال یہ ہے کہ حضور اقدس علیہ السلام نے لالہ بھیم سین کو ایک تبلیغی خط فارسی میں لکھا جس میں مسئلہ ویدانت و بت پرستی کی تردید سورہ فاتحہ سے کرکے دکھائی۔

(حیات احمد جلد اوّل صفحہ253)

اسی طرح حضور اقدس علیہ السلام بعثت سے قبل بھی ہمیشہ حضرت محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زندہ نبی اور اسلام کے زندہ دین ثابت کرنےکے لیے ہر دم تیار رہتے تھے بطورمثال عرض ہے کہ ایک بار مولوی اللہ دتہ صاحب از لودہی ننگل نے حضور اقدس سے بحث و مباحثات کے بعدحضور اقدس کی خدمت میں ایک منظوم خط فارسی میں لکھا اور کچھ سوالات کیےحضرت اقدس نے بھی اس کو منظوم صورت میں جواب دیا اوراس خط سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے آقا و مولاحضرت محمد مصطفےٰؐ سے کس قدر بے انتہا محبت تھی اور آپ آنحضرت ﷺکوزندہ نبی یقین کرتے تھے ،آپ کے فیضان کو اپنی ذات میں محسوس کرتے تھےاور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے جلال کے اظہار کے لیے ہر دم آمادہ رہتے تھے۔

(حیات احمد جلد اوّل صفحہ328)

بعثت کے بعد حضور علیہ السلام کے مکتوبات اور اشتہارات فارسی زبان میں

مسیحیت اور مہدویت کے اعلان کے بعد بھی حضور اقدس علیہ السلام نے کئی مکتوبات اور اشتہارات فارسی میں تحریر فرمائے جن میں اپناپیغام لوگوں تک پہنچایا۔بطور مثال عرض ہے کہ امیر کابل کو حضور اقدس علیہ السلام نے فارسی میں خط لکھا اور اس میں اپنا دعویٰ اور اس کےدلائل مختصراً بیان کرکے اس کو اسلام کی نصرت کے لیے قدم بڑھانے کی دعوت دی۔یہ خط حضور نے شوال 1313ہجری میں تحریر فرمایا۔

اس کے علاوہ حضور اقدس علیہ السلام نے فارسی میں بعض اشتہارات بھی تحریر فرمائے جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار طاعون کے عنوان کے ساتھ عربی اردو و فارسی تین زبانوں میں 10؍دسمبر 1901ءکو تحریرفرمایا جو الحکم میں 24؍د سمبر1901ءکو شائع ہوا۔اس اشتہار میں حضور اقدسؑ نے طاعون سے بچنے کے لیے خدا کی طرف رجوع کرنے اور اللہ تعالیٰ کے فرستادہ کی اطاعت کا جوا اٹھانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔

(مجموعہ اشتہارات جلد3صفحہ228تا246ایڈیشن2019ء)

اسی طرح ایک دفعہ ایک اہل تشیع نے حضور اقدس کی خدمت میں خط لکھا کہ حاجی محمد رضا تہرانی نجفی ایران سے لاہور تشریف لائے ہیں اور وہ آپ سے بحث و مباحثہ کرنا چاہتے ہیں۔اس پر حضورؑنے فارسی میں اشتہار بعنوان‘‘اشتہار واجب الاظہار’’ شائع فرمایااور اس میں اپنے عقائداور مختصر دلائل لکھ کر شائع کیے اور ان کو دعوت دی کہ اگر ان کے پڑھنے کے بعد بھی ان کو کوئی شک و تردید باقی رہے توطالب حق بن کراپنے شکوک و شبہات کو قادیان آکر دور کرواسکتے ہیں۔

(مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ194تا 209ایڈیشن2019ء)

اسی طرح ملکہ برطانیہ کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقع پر حضور علیہ السلام نے 20؍جون تا 22؍ جون 1897ء ایک جلسہ منعقد کروایا اور اس میں مختلف زبانوں میں دعائیں لکھ کر جلسہ میں پڑھی گئیںجن میں فارسی زبان بھی شامل تھی۔اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے حضور ؑنے یہ بیان فرمائی کہ

‘‘اورفارسی میں اس لئے کہ وہ گذشتہ اسلامی بادشاہوں کی یادگار ہےجنہوں نے اس ملک میں تقریباً سات سو برس تک فرمانروائی کی ہے۔’’

(مجموعہ اشتہارات جلددوم صفحہ307)

بعثت سے قبل آپ کا اغلب فارسی میں ہی شعر کہنا

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے منظوم کلام لکھنے کے لیے ایک خاص ملکہ عطا فرمایا تھاجس کی مثال نہیں ملتی ۔اس سلسلے میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلویؓ روایت بیان کرتے ہیں کہ

‘‘حضرت مسیح موعود علیہ السلام نظم کو نثر کی طرح جلدی جلدی روانی کے ساتھ لکھا کرتے تھے۔ خواہ وہ اردو کی ہو یا فارسی و عربی کی۔’’

( رجسٹر روایات،رجسٹر نمبر2(غیرمطبوعہ) روایت از حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی رضی اللہ عنہ صفحہ 4)

لیکن آپؑ کے شعر کہنے کا مقصد کبھی بھی ادب برائے ادب نہیں تھا بلکہ آپ نے ادب کو معانی کے سمندر میں سمونے کا غیرمعمولی معجزہ دکھایا ہے ورنہ آپ کا اشعار کے متعلق شعار یہ تھا کہ

کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق

اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بعثت سے قبل اپنی ڈائری میں اکثر فارسی اشعار لکھا کرتے تھےجو کہ 1916ء میں پہلی بار درمکنون کے نام سے شائع ہوئے۔ اس بارہ میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ

‘‘جب آپؑ قادیان میں تنہائی اور تخلیہ کی زندگی بسر کر رہے تھےتو قدرت کے اس گراں مایہ جو ہر کا ظہور بھی کبھی کبھی ہوتا تھا۔اور اس کے مختلف محل ہوتے تھے۔کبھی آپ محض اپنے ان نیک اور اعلیٰ پاکیزہ جذبات اورامنگوں کا جو حضرت احدیت کی محبت و اخلاص میں رکھتے تھےاظہار کرتےاور کبھی آنحضرت ﷺ کے ساتھ اپنے اخلاص کا اظہار فرماتےاور کبھی مختلف مذاہب باطلہ کی تردید میں بھی قلم اٹھاتےاور دشمنان اسلام کے اعتراضات کے جوابات دیتے۔آپؑ کی عادت میں یہ امر بھی داخل تھاکہ اگر آپ کو کوئی شخص نظم میں خط لکھتاتو آپؑ اس کا جواب قلم برداشتہ نظم ہی میں لکھ دیتے…مگر یہ شعر گوئی کبھی اور کسی حال میں آپ کا شاعرانہ مشغلہ نہ تھی۔قادیان کے ان ایام کے کلام کا ایک بہت بڑا حصہ دیوان کی صورت میں مگر بے ترتیب میرے پاس موجود تھا۔میں ایک مرتبہ بیمار ہوا۔یہ حضرت خلیفہ اوّل اللہ ان سے راضی ہو کے عہد خلافت کی بات ہے۔میں نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو اس حالت اضطراب میں اپنے پاس آنے کی تکلیف دی۔اور آپؓ اپنی شفقت سے تشریف لائے اس موقعہ پر میں نے وہ مجموعہ جو نہایت گراں مایہ تھا۔آپؓ کی خدمت میں پیش کر دیا۔جو بعد میں در مکنون کے نام سے شائع ہوا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس کلام کا حصہ ہےجو آپ نے سیالکوٹ سے واپس آنے کے بعد لکھا۔ممکن ہےکہ اس میں سیالکوٹ کے لکھے ہوئے بعض شعر بھی ہوںمگر جہاں تک میری تحقیقات ہے،بیشتر حصہ قادیان کے انہیں ایام کا کلام ہے۔یہ امر تو کچھ واقعات سے ثابت ہےاور کچھ پتہ بعض اشعار کے متعلق تاریخ کے اندراج سے بھی چلتا ہے۔مثلاً ‘‘بیان توحید و رد شرک’’ پر کچھ اشعار صفحہ 641 و صفحہ 741پر درج ہیں۔ان اشعار کو لکھتے لکھتے ایک موقعہ پر اس طرح لکھا ہے:12ستمبر 1871ءاس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظم ستمبر1867ء میں لکھی ہے۔اسی طرح بعض دوسرے مقامات سے بھی پتہ چلتا ہےکہ یہ مجموعہ در حقیقت 1867ء سے 1868ء تک کے مختلف اوقات کے کلام کا ہےگو ایک نظم پر 1881ء کی تاریخ بھی ہے بہت ممکن ہے کہ اس کے سوا اور بھی کلام آپ کا اس عہد کا ہو…ان ایام کی شعر گوئی مشغلہ بیکاری اور تفریح نہ تھابلکہ جیسا کہ ابھی اوپر لکھ چکا ہوں۔آپ نے تکلف سے کبھی شعر کہا ہی نہیں یہ ایک فطرتی اور قدرتی رو ہوتی تھی۔اور آپ کے کلام میں خدا تعالیٰ کی حمد آنحضرت ﷺ کی نعت یا بعض دوسرے مطالب عالیہ ہوتے تھے۔مثلاً سالک کیا ہوتا ہے،رضائے الٰہی کی حقیقت اور مقام کیا ہے،منزل عشق اور حقیقت عشق کیا ہے؟ایسا ہی ترک دنیا اور مناظر قدرت سے کیا سبق ملتا ہے؟طریق محبت اور مذاہب باطلہ کی تردید کا احسن طریق کیا ہے؟غرض آپؑ کے ان ایام کے کلام میں اسی قِسم کےمطالب ہوتے تھے۔اور یہ مقصد زندگی کے کسی حصہ میں آپؑ سے فوت نہیں ہوا۔کہ اپنی زبان کو تحمید الٰہی میں نعت نبی ﷺ مدح فرقان مجید اور ابطال باطل سے رطب اللسان رکھیں۔

لالہ شرمپت رائے نے مجھ سے یہ بھی بیان کیا تھا کہ کبھی کبھی حضور میری درخواست پر بھی کوئی نظم لکھ دیا کرتے تھے۔مگر ان کی عادت تھی کہ وہ اس میں اپنے مذہب کی بحث لے آتے تھے… لالہ شرمپت رائے کا یہ قول بتاتا ہےکہ آپؑ کو اپنے مذہب کے لئے کس قدر غیرت اور اس کی تائید اور اشاعت کے لئے کس قدر جوش تھا۔اورآپؑ یہ چاہتے تھے کہ خدا کی وہ مخلوق جو اس نعمت سے دور ہےاسلام کی طرف آجاوے۔اور اس مقصد کے لئے جو طریقہ بھی موزوں اور جو موقعہ بھی میسر آتا تھا۔آپؑ اس کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔لالہ شرمپت رائے صاحب کے اس قول کی تصدیق آپؑ کے عمل سے ہم نے خود بھی مشاہدہ کی ہے۔ایک مرتبہ لالہ شرمپت رائے صاحب اور دوسرے بعض ہندوؤں نے فونوگراف سنناچاہا۔فونو گراف اول ہی اول قادیان میں حضرت نواب محمدعلی خان صاحب نے منگوایاتھا۔یہ لوگ نواب صاحب سے براہ راست تو درخواست کرنے کی جرأت نہ کر سکتے تھے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر انہیں پورا اعتماد تھاکہ وہ منگوادیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور آپ نے اس تقریب کے لئے فوراً ایک نظم لکھی جو:

آواز آرہی ہے یہ فونو گراف سے

ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف وگزاف سے

سے شروع ہوتی۔اور ایک ریکارڈ میں پنڈت لیکھرام کے متعلق پیشگوئی کی نظم:

عجب نوریست در جان محمدؐ

عجب لعلیست در کان محمدؐ

بھروادی۔اور ان سب کو بلا کر یہی ریکارڈ سنائے گئے… غرض آپ اپنی ان ایام کی شعر گوئی سے بجز اس کے اور کوئی مطلب نہ رکھتے تھے۔یہ کلام عام طور پر فارسی میں ہوتا تھا۔اور کبھی کبھی اردو کے اشعار بھی کہتے تھے مگر بہت ہی کم۔لیکن ان اشعار میں بھی آپ کا مقصد وہی امور ہوتے تھےجن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔اور کسی کسی شعر سے اس طبقہ اور گروہ کا بھی پتہ لگتا ہےجس میں آپؑ اس وقت رہتے تھے۔مثلا ًفرماتے ہیں۔

کوئی راضی ہو یا ناراض ہووے

رضا مندی خدا کی مدعا کر

اس شعر میں اس کیفیت کو کس خوبی سے بیان کیا ہے جو اس وقت لاحق حال تھی۔نیز اس سے صاف معلوم ہوتا ہےکہ خدا کی رضا مندی کے حصول کے لئے آپؑ کسی کی ناراضگی یا رضامندی کی پرواہ ہی نہیں کرتے تھے۔اس کی تائید میں ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں

دلبر کی راہ میں یہ دل ڈرتا نہیں کسی سے

ہوشیار ساری دنیا اک باولا یہی ہے

اس عہد کے کلام کی جو یاداشتیں ملتی ہیں۔ان سے ایک یہ امر بھی ظاہر ہوتا ہےکہ بعض اشعارناقص چھوڑ دئیے گئے ہیں۔کسی جگہ پہلا مصرعہ موزوں ہو گیا ہےمگر دوسرا مصرعہ رہ گیا ہے۔اور کہیں دوسرا مصرعہ لکھا ہےپہلا نہیں ہے اس سے آپؑ کی اس عادت کا بھی پتہ چلتا ہےکہ جذبات کی موج جب جوش میں آتی اور اس حالت میں جو نکل جاتا اسے لکھ دیتےاورپھر کبھی اس کی ضرورت نہیں سمجھی کہ شاعروں کی طرح گھنٹوں مصرعہ کے لئے فکر کرتے رہیں اور جب تک وہ تیار نہ ہو وےقرار نہ آوے۔آپؑ اس کے بعد نظراٹھا کر بھی نہیں دیکھتے تھےکیا لکھ دیا ہے۔کبھی تخلص کا استعمال کر لیتے تھےاور کبھی نہیں۔ان ایام میں آپ فرخ تخلص کرتے تھے۔’’

(حیات احمد، صفحہ298تا302)

حضرت یعقوب علی صاحب عرفانی رضی اللہ عنہ اپنی اسی کتاب حیات احمد میں ہی ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:

‘‘زمانہ بعثت سے پہلے آپ فارسی میں عموماًنظم لکھا کرتے۔اور اس میں آپ نے عجیب وغریب دیوان لکھا۔جو آپ کی پاک زندگی کا ایک مشاہد عدل ہےکیونکہ اس میں بجز حقائق قرآن مجید اور آنحضرت ﷺ کی نعت اور حمد الٰہی اور مختلف مذاہب کی تردید کے اور کچھ نہیں پایا جاتا۔ ’’

(ایضاً ص89)

یہ کلام جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا کہ آپ کی وفات کے آٹھ سال بعد دسمبر 1916ءمیں ‘‘درمکنون ’’ کے نام سے پہلی دفعہ طبع ہوا۔

درمکنون میں تقریباً تین ہزار چار سو اشعار ہیں ۔اگر کسی نے حضور اقدس علیہ السلام کے بعثت سے قبل کے افکار اور احساسات کو جاننا اور پرکھنا ہوتو اس کے لیے درمکنون کا مطالعہ بہترین ہے۔ یہ اشعار فصاحت و بلاغت سے سرشاراور معانی کےموتیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور یقیناً ان اشعار کو پڑھنے والا ہر منصف انسان اللہ تعالیٰ کی یہ گواہی کہ ‘‘در کلامِ تو چیزے است کہ شعراء را درآں دخلے نیست’’ یعنی تیرے کلام میں ایسی بات ہے جس سے دوسرے شعرا عاری ہیں،کو اظہر من الشمس سچا پائے گا۔

دعویٰ مہدویت و مسیحیت کے بعد فارسی کلام

بعثت کے بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنے منظوم و منثور تحریرات میں صرف ایک ہی کوشش کی کہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو جو اس نے آپ کو دے کر مامور فرمایا ہے لوگوں تک کھول کھول کراور مختلف پیراؤں میں پہنچادیں اور ان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے اداکرنے پر متوجہ فرمادیں۔حضور اقدسؑ نےفارسی میں مندرجہ ذیل کتابیں تحریر فرمائیں:

٭…مکتوب عربی بنام علما /مکتوب احمد

یہ کتاب حضرت اقدس علیہ السلام نے عربی زبان میں فارسی ترجمہ کے ساتھ باعمل، اہل علم اور فقرا منقطعین کے نام 1896ءمیں لکھی اور اس میں اپنا دعویٰ اور تائیدات الٰہی اور نشانات جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے دکھائے تحریر فرمائے۔یہ کتاب210صفحات پر مشتمل ہے۔

٭…حقیقت المہدی

مولوی محمد حسین بٹالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارے میں جب انگریزی گورنمنٹ میں آپ کے دعویٰ مہدویت کے متعلق غلط الزامات اور بہتانات لگائے اور آپ کو گورنمنٹ کا باغی کہا تو حضور علیہ السلام نے یہ رسالہ تحریر فرمایا اوربتایاکہ مہدی موعود کے متعلق ان علماء کےعقائد خطرناک ہیں اوریہ لوگ خونی مہدی کے منتظر ہیں جبکہ میں تو دین میں کسی قسم کے زور وجبر کو جائز نہیں جانتا اورفرمایا کہ یہ لوگ گورنمنٹ کے ساتھ منافقانہ رویہ رکھ رہے ہیں۔گورنمنٹ کے افسران کے سامنے اپنے اصل عقائد سے الٹ باتیں بیان کرتے ہیں اور جب اپنے علما ءاورعوام میں جاتے ہیں تو وہی خطرناک عقائد ان کے سامنے بیان کرتے ہیں۔ آ پؑ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اپنا عقیدہ لکھ کر عربی اور فارسی میں شائع کردیں جو اسلامی ممالک میں شائع ہو تو اس طرح ان کی منافقانہ کارروائی کھل کر سامنے آجائے گی اور میں بھی اپنا عقیدہ دو نوںزبانوں میں لکھ کر شائع کردیتا ہوں ۔چنانچہ حضور علیہ السلام نے یہ کتاب عربی میں تصنیف فرمائی اور خود ہی اس کا فارسی میں ترجمہ بھی کیا ۔یہ کتاب 24صفحات پر مشتمل ہے اور 21؍فروری 1899ء کو طبع ہوا۔

٭…البلاغ/فریاد درد/ترغیب المومنین

یہ کتاب حضور علیہ السلام نے مئی 1898ء میں تحریر فرمائی۔اس کے دو حصے ہیں،ایک حصہ اردو زبان میں اور دوسرا عربی میں ہے جس کے ساتھ فارسی ترجمہ بھی دیا گیا ہے۔یہ کتاب 25صفحات پر مشتمل ہے۔

٭…خطبہ الہامیہ

11؍اپریل 1900ء کو حضور علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے عید الاضحی کے موقع پر عربی زبان میں خطبہ ارشاد فرمایا۔ یہ خطبہ ایک علمی معجزہ تھا جو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور نشان دیاگیا۔ اس کتاب میں الہامی حصہ کے نیچے رواں اردو اور فارسی ترجمہ دیا گیا ہے۔

٭…اعجاز المسیح

حضور علیہ السلام نے اسلامی علما ءکو عربی میں تفسیرنویسی کا چیلنج دیا اور خود اعجازی رنگ میں سورہ فاتحہ کی عربی میں تفسیر تحریر فرمائی جس کے ساتھ رواںفارسی ترجمہ بھی شامل ہے۔

٭…نجم الہدیٰ

یہ کتاب حضورعلیہ السلام نے ایک ہی دن میں عربی زبان میں تحریر فرمائی ۔ اس کی اشاعت اردو اور فارسی ترجمہ کے ساتھ تین کالمز میں20؍نومبر 1898ء کوہوئی۔یہ کتاب 149 صفحات پر مشتمل ہے۔

٭…لجۃالنور یہ کتاب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے 1900ء میں نہایت فصیح و بلیغ عربی زبان میں اسلامی ممالک عرب، شام ، بغداد ، عراق ، خراسان وغیرہ کے متقی بندوں اور صالح علماء و مشائخ کے لیے تحریر فرمائی ۔لیکن آپ علیہ السلام کے وصال کے بعد فروری 1910ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے عہد با سعادت میں فارسی ترجمہ کے ساتھ شائع ہوئی ۔اس کتاب کےکل 166صفحات ہیں

٭…التبلیغ

یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے پہلی عربی تصنیف ہے جو حضورؑ نے تصنیف فرمائی اس سے قبل عربی میں آپ نے کوئی کتاب یامضمون تحریر نہیں فرمایا تھا۔ یہ کتاب حضورؑ کا مکتوب ہے جو آپ نے پنجاب اور ہندوستان اور ممالک عرب اور فارس اور روم اور مصر اور ایران اور ترکستان اور دیگر بلاد کے پیرزادوں اور سجادہ نشینوں اور بدعتی فقیروں اور زاہدوں اور صوفیوں اور خانقاہوں کے گوشہ گزینوں کی طرف لکھا اور اس کو فارسی ترجمہ کے ساتھ فروری 1893ء میں شائع فرمایا۔یہ کتاب 177 صفحات پر مشتمل ہے۔

٭…مواہب الرحمان

یہ کتاب حضور علیہ السلام نے عربی میں تصنیف فرمائی اور پھر فارسی ترجمہ کے ساتھ جنوری 1903ء میںشائع فرمایا۔ اس کتاب میں حضور ؑنے اس اعتراض کا تفصیل سے جواب عنایت فرمایا ہے جو آپ پر طاعون کے حوالے سے کیا جاتا کہ آپؑ نےطاعون کا ٹیکہ نہ لگوانے کا فرما کر اسباب کو ترک کیا ہے اور وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرۃ:196) کے خلاف عمل کیا ہے۔اس کتاب میں حضورؑ نے اپنے عقائد اور تعلیمات اور نشانات کا ذکر فرمایا۔یہ کتاب 144صفحات پر مشتمل ہے۔

٭…درثمین فارسی

مذکورہ بالا وہ فارسی کتب ہیں جن میں سے اکثر حضور اقدس علیہ السلام نے تحریر فرمائیں یا اپنی نگرانی میں ان کے تراجم تیار کروائے۔،ان کے علاوہ حضور ؑنے اپنی متعدد کتب میں اپنے مفاہیم و مطالب کو شعر کے قالب میں بھی بیان فرمایا ہے ۔ان فارسی نظموں کو جمع کرکے ایک مجموعہ کی شکل میں درثمین فارسی کے عنوان سے شائع کیا جا چکا ہے۔اس کا اردو ترجمہ حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔یہاں اس نکتہ کا بیان خالی از لطف نہ ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فارسی منظوم کلام،آپ کےعربی اور اردو دونوں زبانوں کے منظوم کلام سے زیادہ ہے۔فارسی میں تقریباً حضور علیہ السلام نے نو ہزار کے قریب اشعار لکھےہیں۔

فارسی میں زبانی تبلیغ کے چند نمونے

حضرت اقدس علیہ السلام فارسی جاننے والے لوگوں کے لیے فارسی میں بھی تقریر فرمایا کرتے تھے ۔دو روایات بطور نمونہ پیش ہیں۔

حضرت میاں نظام الدین صاحب نظام رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ

‘‘حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جب جہلم تشریف لے گئے تھے تو بندہ بھی حضور کی غلامی میں تھا۔ حضرت اقدس کوٹھی کے ایک کمرہ میں فارسی میں تقریر فرما رہے تھے۔ بندہ اس وقت حضرت مرحوم شہید اکبر حضرت سیدعبداللطیف صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ بندہ تو اتنی فارسی اس وقت جانتا ہی نہ تھا کہ حضرت اقدس کے کلمات طیبات کو سمجھ سکے مگر شہید اکبر زار زار رو رہے تھے اور فرماتے تھے کہ من بنزدیک تو ذرّہ بے مقدارم۔ تھوڑی دیر کے بعدحضور علیہ السلام کو کوئی حاجت پیدا ہوئی تو حضور اندر تشریف لے گئے تو مرحوم سیدصاحب بھی اٹھنے لگے۔ جونہی کہ آپ اٹھنے کو تھے تو مفتی محمدصادق صاحب نے فارسی میں کہا۔ صاحبزادہ صاحب آپ تشریف رکھیں حضرت اقدس ابھی پھر واپس آنے والے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا ہزار سال کی عبادت سے یہاں بیٹھنے کو بہتر جانتا ہوں۔ یہ ان کی فارسی گفتگو کا مفہوم تھا جو اپنے کانوں سے سنا تھا۔’’ (رجسٹر روایات، رجسٹر نمبر1(غیرمطبوعہ)روایت از حضرت میاں نظام الدین صاحب نظام رضی اللہ عنہ صفحہ132)

اسی طرح حضرت میاں شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ

‘‘حضرت اقدس علیہ السلام جب جہلم تشریف لے گئے تو راستے میں میرے تایا میاں چراغ دین صاحب کے مکان پر واقعہ لاہور پر ایک رات ٹھہرے تھے۔اس رات حضور نے بزبان فارسی ایک گھنٹہ تقریر فرمائی تھی جو کہ دو معزز پٹھانوں کو تبلیغ کے لئے کی گئی تھی اور وہ شہر سے حضور کو ملنے کے لئے آئے تھے۔’’

( رجسٹر روایات، رجسٹر نمبر9 (غیرمطبوعہ)روایت از حضرت میاں شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ صفحہ142)

ایران سے ایک بزرگ کا قادیان آنا

جس طرح افغانستان سے حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہیدرضی اللہ عنہ اپنے کشف و الہام کی بناپر قادیان آئے اسی طرح ایران سے بھی بعض لوگ الہام یا کشف کی بنا پر قادیان پہنچے۔بطور نمونہ ایک مثال پیش ہے۔

حضرت مولوی عبدالعزیز صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

‘‘ایک بیّن نشان جو اغلباً اخبار بدرو الحکم میں شائع ہوچکا ہے اور ایک صاحب ایران کے رہنے والے جو خدا رسیدہ اور ملہم انسان تھے۔ ان کو خدا کی طرف سے الہام ہوا‘‘مقصود تو از قادیان حاصل می شود’’ اور کئی دفعہ ہوا۔ غرض اسی تلاش میں وہ صاحب پشاور پہنچے اور پشاور سے قادیان شریف تشریف لائے۔ جس روز وہ صاحب قادیان میں تشریف لائے تھےاسی روز مولوی صاحب بھی دارالامان میں موجود تھے اور یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ صاحب بڑے بازار میں بزبان فارسی عوام الناس سے پوچھ رہے تھے کہ مرزا صاحب کجا است؟ مسیح موعود کجا است؟ عوام آپ کی زبان کو نہ سمجھنے کی وجہ سے جواب نہیں دے سکتے تھے۔ اُدھر حضرت مسیح موعودؑ سیر کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے اور احباب منتظرین آپ کے ساتھ چل دئیے۔ جب حضور چند قدم باہر کو تشریف لے گئے تو خدا کی طرف سے آپ کو الہام ہوا کہ ‘‘آپ کی تلاش میں ایک شخص بازار میں پھر رہا ہے اور آپ باہر جارہے ہیں۔’’ حضور پیچھے کو لوٹ پڑے اور فرمایا:حکم ہوا کہ بازار کو چلو۔ چنانچہ بازار کی طرف چلے اور احباب بھی حضور کے ساتھ روانہ ہوئے۔ مولوی صاحب بھی ان میں شامل تھے۔ جب بڑے بازارمیں چوک کے پاس پہنچے تو وہ صاحب مل گئے اور معلوم کرکے حضور کے گلے سے چمٹ گئے۔ حضور کی آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے اور وہ صاحب بھی رونے لگے اور جملہ احباب حاضرین کی چیخیں نکل گئیں۔جب آنسو تھم گئے تو اس صاحب نے اپنی آمد کا سب ماجرا بیان کیا اور یہ عظیم الشان نشان دیکھ کر سب کے ایمان میں رونق پیدا ہوئی۔ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔’’

(رجسٹر روایات، رجسٹر نمبر4(غیرمطبوعہ)روایت از حضرت مولوی عبدالعزیز صاحب رضی اللہ عنہ صفحہ 16،15)

ہمارے آقا و مولاحضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےآنے والے مہدی و مسیح کے متعلق حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کرفرمایا تھا کہ

‘‘لوکان الایمان معلقا بالثریالنالہ رجل من ھؤلاء’’(صحیح بخاری، کتاب التفسیر،سورہ الجمعہ)

جب ایمان ثریا پر چلا جائے گا توان لوگوں میں سےایک آدمی یا کئی آدمی اس کو زمین پر واپس لائیں گے۔

اللہ تعالیٰ نےاپنے اس وعدہ کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی امام مہدی و مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ جو فارسی الاصل ہیں ایمان کو آسمان سے واپس لانے کی بنیاد ڈال دی ہے اور آپ کے بعد یہ مشن آپ کےخلفاء آگے بڑھا رہے ہیں۔ لہذا اب ایمان انہی فارسی الاصل افراد کے ساتھ وابستہ ہے۔جوبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اورآپ کے خلفاءسے دور ہوگا وہ درحقیقت ایمان سے دور ہوگا۔

فارسی الاصل افراد نے اسلام کی ترقی کے پہلےہزار سال میں جس طرح نمایاں خدمات بجالانے کی توفیق حاصل کی اسی طرح دَور آخرین میں بھی ان کا ایک خاص کردار ہے۔

اللہ کرے کہ اہل فارس بحیثیت قوم اپنے مقام کو سمجھیں اور امام وقت کے ساتھ جڑ کر ان سعادتوں کو پائیں جو امام وقت کے دامن سے وابستہ ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس طرح اپنے کلام کے ساتھ اردو زبان کو ایک زندہ و جاوید زبان بنادیا ہے اسی طرح آپ کے فارسی کلام کی وجہ سے فارسی بھی ایک نئے دور میں داخل ہوچکی ہے اور آپ کے کلام کی برکت سے فارسی بھی زندہ رہے گی اور آئندہ فارسی بولنے والی قومیں جب حق کو پہچان کر آپ پر ایمان لائیں گی تو ان میں سے عاشقان زار کی کوشش ہوگی کہ وہ اس کلام پر مختلف زاویوں سے تحقیق کرکے اس کی چھپی ہوئی خوبیاں دنیا کے سامنے پیش کریں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کوحضور اقدس علیہ السلام کے کلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close