کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

کبھی روحانیت صعود نہیں کرتی جب تک دل پاک نہ ہو

’’دنیا تو ایسی ہی ہے کہ

؎ کارِدُنیا کَسے تمام نکرد

اللہ تعالیٰ کا یہ ایک سربستہ راز ہے جو کسی پر نہیں کھلا کہ موت کس وقت آجاوے۔ پھر جب موت آگئی تو سب مال و اسباب یہاں کا یہاں ہی رہ جاتاہے اور بعض اوقات اُس کے وارث وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو اگر مرنے والا زندہ ہوتا توایک حَبّہ بھی ان کو دینا پسند نہیں کرتاتھا۔ پھر کیسی غلطی ہے کہ انسان اپنے مال کوایسی جگہ خرچ نہ کرے جو اس کے لیے ہمیشہ کے واسطے راحت اور آسائش کا موجب ہوجاوے ۔مَیں حیران ہوتاہوں جب یورپ کی طرف دیکھتاہوں کہ ایک عاجز انسان کوخدا بنانے کے لیے ان میں اس قدر جوش اورسرگرمی ہے اور ہم میں خداتعالیٰ کی عظمت اورجلال کے ظاہر کرنے کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔ یہ کس قدر بدقسمتی ہے۔

مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم کرلیں۔ اگر اُسے خوش کریں تو سب کچھ مل سکتاہے۔ مگر ان کی یہی تو بدقسمتی ہے کہ وہ اس کو نارا ض کررہے ہیں ۔مجھے بہت ہی افسوس ہوتاہے جب مَیں دیکھتاہوں کہ مسلمانوں کوخدا تعالیٰ نے ایک سچا دین اسلام عطا کیا تھا مگر انہوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ خداجانے یہ بے پروائی کیا نتیجہ پیدا کرے۔ دین کی کچھ بھی پروا اور غیرت نہیں۔ باہم اگر جنگ وجدل ہے تو اس میںشیخی ، ریا ،عُجب مقصود ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کا جلال اور اس کی عظمت ۔لیکن جو شخص ہر امرمیں اللہ تعالیٰ کو مقدم کرے اورا س کے دین کی حمیّت اور غیرت میں ایسا محو ہوکہ ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا ظاہر کرنا اس کا مقصود خاطر ہو۔ایسا شخص اللہ تعالیٰ کے دفتر میں صدیق کہلاتاہے۔
ہم جس طریق پر اسلام کو پیش کرسکتے ہیں دوسرا نہیں کرسکتا۔مگر مشکلات یہ ہیں کہ ہماری جماعت کا بہت بڑا حصہ غرباء کا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ باوجودیکہ یہ غرباء کی جماعت ہے تاہم مَیں دیکھتاہوں کہ ان میں صدق ہے اور ہمدردی ہے۔ اور وہ اسلام کی ضروریات سمجھ کرحتی المقدور اس کے لیے خرچ کرنے سے فرق نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ ہی کا فضل ساتھ ہوتو کام بنتاہے اورہم اس کے فضل کے امیدوار ہیں۔

جس طرح پر ایک طُوفان قریب آتاہو توانسان کوفکر ہوتاہے کہ یہ طوفان تباہ کردے گا اسی طرح پر اسلام پر طُوفان آرہے ہیں۔مخالف ہر وقت ان کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ اسلام تباہ ہوجاوے لیکن مَیں یقین رکھتاہوںکہ اللہ تعالیٰ اسلام کو ان تمام حملوں سے بچائے گا اور وہ اس طوفان میں بھی اس کا بیڑا سلامتی سے کنارہ پر پہنچا دے گا۔

انبیاء علیہم السلام کے حالات پر نظر کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ جب ان کو مشکلات نظر آتی تھیں تو بجُز اس کے اور کوئی صورت نہ ہوتی تھی کہ وہ راتوں کواُٹھ اُٹھ کر دعائیں کرتے تھے ۔ قوم تو صمٌّ بکمٌ ہوتی ہے۔ وہ ان کی باتیں سنتی نہیں بلکہ تنگ کرتی اوردکھ دیتی ہے۔ اس وقت راتوں کی دُعائیں ہی کام کیا کرتی تھیں۔ اب بھی یہی صورت ہے۔ باوجودیکہ اسلام ضعف کی حالت میں ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کی بحالی کے لیے پوری کوشش کی جاوے لیکن مَیں دیکھتاہوں کہ ہم جب سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ہر طرح سے ہماری مخالفت کے لیے سعی کی جاتی ہے۔ یہ میری مخالفت نہیں خداتعالیٰ سے جنگ ہے۔ مَیں تویہاں تک یقین رکھتاہوں کہ اگر میری طرف سے کوئی کتاب اسلام پرجاپان میں شائع ہوتویہ لوگ میری مخالفت کے لیے جاپان بھی جا پہنچیں ۔ لیکن ہوتا وہی ہے جو خداتعالیٰ چا ہتاہے۔

وہ شخص بڑا ہی مبارک اور خوش قسمت ہے جس کا دل پاک ہو اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے اظہارکا خواہاں ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو دوسروں پر مقدم کر لیتاہے ۔جو لوگ میری مخالفت کرتے ہیں ۔ان کا اورہمارا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے ہے ۔وہ ہمارے اور ان کے دلوں کوخوب جانتاہے اوردیکھتاہے کہ کس کا دل دنیا کے نمود اورنمائش کے لیے ہے اور کون ہے جو خداتعالیٰ ہی کے لیے اپنے دل میں سوز وگداز رکھتاہے۔

خوب یاد رکھوکہ کبھی رُوحانیت صعود نہیںکرتی جب تک دل پاک نہ ہو۔جب دل میں پاکیزگی اور طہارت پیدا ہوتی ہے تو اس میں ترقی کے لیے ایک خاص طاقت اور قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ پھراس کے لیے ہرقسم کے سامان مہیا ہوجاتے ہیںاور وہ ترقی کرتاہے۔ آنحضرت ﷺ کو دیکھو کہ بالکل اکیلے تھے اور اس بیکسی کی حالت میں دعویٰ کرتے ہیں۔

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعًا(الاعراف: 159)۔

کون اس وقت خیال کر سکتاتھاکہ یہ دعویٰ ایسے بے یارومددگار شخص کا بارآور ہوگا۔ پھر ساتھ ہی ا س قدر مشکلات آپ کو پیش آئے کہ ہمیں تو ان کا ہزارواں حصہ بھی نہیں آئے۔ وہ زمانہ تو ایسا زمانہ تھا کہ سکھا شاہی سے بھی بدترتھا۔اب تو گورنمنٹ کی طرف سے پورا امن اور آزادی ہے ۔اُس وقت ایک چالاک آدمی ہر قسم کی منصوبہ بازی سے جو کچھ بھی چاہتادُکھ پہنچا تا ۔مگر مکّہ جیسی جگہ میں اور پھرعربوں جیسی وحشیانہ زندگی رکھنے والی قوم میں آپؐ نے و ہ ترقی کی جس کی نظیر دُنیا کی تاریخ پیش نہیں کرسکتی۔

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 374-377 جدید ایڈیشن)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

ایک تبصرہ

  1. السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    الفضل انٹر نیشنل بہت ہی ان فارمیٹو ہے۔ جو لوگ کتابیں نہیں پڑھ سکتے اتنا ٹائم نہیں ہوتا انکے لئے بہت بہترین ہے۔
    والسلام

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close