سیرت صحابہ کرام ؓ

صحابہ ٔرسول کریم ﷺ کی شان اور مقام ومرتبہ

(نذیر احمد خادم ۔ربوہ)

’’اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :

‘‘خدا تعالیٰ نے صحابہؓ کی تعریف میں کیا خوب فرمایا ہے۔

مِنَ الۡمُؤۡ مِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیۡہِ فَمِنۡھُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحۡبَہٗ وَمِنۡھُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ(الاحزاب:24)

مومنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو سچا کردکھایا جو انہوں نے خدا کے ساتھ کیا تھا۔ سو اُن میں سے بعض اپنی جانیں دے چکے اور بعض جانیں دینے کو تیار بیٹھے ہیں۔ صحابہ ؓکی تعریف میں قرآنِ شریف سے آیات اکٹھی کی جائیں تو اس سے بڑھ کر کوئی اُسوہ حَسنہ نہیں۔ ’’

(ملفوظات جلد 4صفحہ 355۔ ایڈیشن 2003ء )

پھر فرمایا:

‘‘قرآن شریف صحابہؓ کی تعریف سے بھرا پڑاہے۔’’

(ملفوظات جلد 4صفحہ 672۔ ایڈیشن 2003ء )

ایک اور جگہ فرمایا:

‘‘قرآن شریف ان کی تعریف سے بھرا ہوا ہے۔ اسے کھول کر دیکھو۔’’

(ملفوظات جلد 4صفحہ 423۔ ایڈیشن 2003ء )

صحابہ ؓکی شان از روئے قرآن شریف

اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کی ایک تعمیل تفسیر صغیر اورحضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒکا ترجمۃالقرآن ہے۔ان میں رسول کریم ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں نازل ہونے والی آیات کی تفصیل و تشریح بیان فرما ئی گئی ہے۔

اسی طرح ہر دو تراجم کی فہرست مضامین میں بطور خاص صحابہ رضوان اللہ علیہم کے زیر عنوان صحابہ ٔرسول کریم ﷺ کے فضائل ومناقب پر مشتمل تمام آیات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ان دونوں تراجم قرآن میں بیان فرمودہ تشریح و تبیین نہایت ایمان افروز ، روح پرور اور بیش قیمت علمی خزانہ ہے جس سے قارئین کرام بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

تفسیر صغیر از حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

٭…وَ لَا عَلَی الَّذِیۡنَ اِذَا مَاۤ اَتَوۡکَ لِتَحۡمِلَہُمۡ قُلۡتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحۡمِلُکُمۡ عَلَیۡہِ ۪ تَوَلَّوۡا وَّ اَعۡیُنُہُمۡ تَفِیۡضُ مِنَ الدَّمۡعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوۡا مَا یُنۡفِقُوۡنَ (التوبۃ:92)

‘‘اور نہ لوگوں پر (کوئی الزام ہے ) جو تیرے پاس اُس وقت آئے جب جنگ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس لیے کہ تُو اُن کو کوئی سواری مہیّا کردے۔ تو تُونے جواب دیا کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تمہیں سوار کرائوں اور ( یہ جواب سُن کر) وہ چلے گئے اور (اس ) غم سے اُن کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے کہ افسوس اُن کے پاس کچھ نہیں جسے (خدا کی راہ میں ) خرچ کریں۔ ’’

٭…وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍۙ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ تَحۡتَہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ( التوبہ:100)

‘‘اور جو مہاجرین اور انصار میں سے سبقت لے جانے والے ہیں اور وہ لوگ بھی جو کہ کامل اطاعت دکھاتے ہوئے ان کے پیچھے چلے۔ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ اس نے ان کے لیے ایسی جنّتیں تیار کی ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیںوہ اُن میں ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ’’

٭…لَقَدۡ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ فِیۡ سَاعَۃِ الۡعُسۡرَۃِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا کَادَ یَزِیۡغُ قُلُوۡبُ فَرِیۡقٍ مِّنۡہُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّہٗ بِہِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ( التوبہ:117)

‘‘ اللہ نے نبی اور مہاجرین اور انصار پر بڑا فضل کیا ہے (یعنی ان لوگوں پر) جنہوں نے اُس (نبی) کی تکلیف کی گھڑی میں جبکہ ان میں سے ایک گروہ کے دل کسی قدر شک میں پڑگئے تھے اتباع کی۔ پھر اُس نے اُن (کمزوروں ) پر بھی فضل کردیا۔ وہ ان (مومنوں) سے یقینا ًمحبت کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔’’

٭…وَ قُلۡ رَّبِّ اَدۡخِلۡنِیۡ مُدۡخَلَ صِدۡقٍ وَّ اَخۡرِجۡنِیۡ مُخۡرَجَ صِدۡقٍ وَّ اجۡعَلۡ لِّیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ سُلۡطٰنًا نَّصِیۡرًا (بنی اسرائیل:81)

‘‘اور کہہ ( کہ ) اے میرے ربّ! مجھے نیک طور پر (دوبارہ مکہ میں ) داخل کر اور ذکرنیک چھوڑنے والے طریق پر (مکہ سے ) نکال اور اپنے پاس سے میرا کوئی مددگار (اور) گواہ مقرر کر۔’’

نوٹ حاشیہ ۔اس آیت کے آخری حصہ پر حضور ؓنے نوٹ تحریر فرمایاہے :‘‘ اس میں حضرت ابوبکرؓ کی طرف اشارہ ہے اور دُعا سکھائی ہے کہ اے اللہ مجھے اپنے پاس سے سچائی کا گواہ اور مددگار عطا فرما۔’

٭…وَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ ۚ (الکھف:29)

‘‘اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ رکھ جو اپنے ربّ کو اس کی خوشنودی چاہتے ہوئے صبح وشام پکارتے ہیں اور تیری نظریں ان کو پیچھے چھوڑ کر آگے نہ نکل جائیں۔ ’’

حاشیہ میں حضورؓ تحریرفرماتے ہیں:

‘‘ یعنی صحابہ ؓکی قربانیوں کو بھولیو نہیں۔ ’’

٭…وَ تَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیۡنَ(الشعراء:220)

‘‘ اور اس وقت بھی جبکہ تو (نماز باجماعت کے لیے ) سجدہ کرنے والی جماعت میں اِدھر اُدھر پھر رہا ہوتا ہے۔ ’’

حاشیہ میں حضورؓ تحریرفرماتے ہیں:

‘‘ قرآن مجید کے کئی بطن ہیں اور ایک بطن کے لحاظ سے تَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیۡنَ کے وہ معنے بھی ہیں جو ترجمہ میں کیے گئے ہیں۔

٭…وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّا۔فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا۔ فَالتّٰلِیٰتِ ذِکۡرًا۔ (الصافات:2-4)

‘‘(میں ) شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں اُن نفوس کو جو (دشمنانِ صداقت کے سامنے ) صفیں باندھے کھڑے ہیں۔ اور جو بُرے کام کرنے والوں کو ڈانٹتے ہیں۔ اور ذکر الٰہی ( یعنی قرآن) کو پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں۔ ’’

آیت 2کی تشریح میں حضورؓ تحریر فرماتے ہیں:

‘‘ یعنی صحابہ کرام ؓ۔ ان کے حالات سے کفار مکہ کا مقابلہ کرو تو اسلام کی سچائی خود ظاہر ہوجائے گی۔ ’’

٭…وَ اِنَّا لَنَحۡنُ الصَّآفُّوۡنَ(الصافات:166)

‘‘اور ہم سب خدا کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہیں ’’

حاشیہ میں حضورؓ تحریرفرماتے ہیں:

‘‘ یعنی محمد رسول اللہ ﷺاور صحابۂ کرام جو نماز باجماعت ادا کرتے تھے۔’’

٭…لَقَدۡ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحۡتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ عَلَیۡہِمۡ وَ اَثَابَہُمۡ فَتۡحًا قَرِیۡبًا۔(الفتح:19)

‘‘اللہ مومنوں سے اس وقت بالکل خوش ہوگیا جب کہ وہ درخت کے نیچے تیری بیعت کررہے تھے اور اُس نے اس (ایمان) کو جو اُن کے دلوں میں تھا خوب جان لیا سو اس کے نتیجہ میں اس نے انکے دلوں پر سکینت نازل کی اور ان کو ایک قریب میں آنے والی فتح بخشی۔ ’’

حاشیہ میں حضورؓ تحریرفرماتے ہیں:

‘‘ بیعت حدیبیہ کا ذکر ہے جبکہ صحابہ ؓ موت کی قسم کھا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کررہے تھے۔ ’’

٭…مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕوَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰٮہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا ۫ سِیۡمَاہُمۡ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِؕ ذٰلِکَ مَثَلُہُمۡ فِی التَّوۡرٰٮۃِ ۚۖۛ وَ مَثَلُہُمۡ فِی الۡاِنۡجِیۡلِ ۚ۟ۛ کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا۔( الفتح :30)

‘‘محمدؐ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں وہ کفار کے خلاف بڑا جوش رکھتے ہیں ، لیکن آپس میں ایک دوسرے سے بہت ملاطفت کرنے والے ہیں جب تو انہیں دیکھے گا انہیں شرک سے پاک اور اللہ کا مطیع پائے گا۔ وہ اللہ کے فضل اور رضا کی جستجو میں رہتے ہیں ، اُن کی شناخت اُن کے چہروں پر سجدوں کے نشان کے ذریعہ موجود ہے۔ یہ اُن کی حالت تورات میں بیان ہوئی ہے اور انجیل میں اُن کی حالت یوں بیان ہے کہ وہ ایک کھیتی کی طرح (ہوں گے ) جس نے پہلے تو اپنی روئیدگی نکالی۔ پھر اس کو (آسمانی اور زمینی غذا کے ذریعہ سے ) مضبوط کیا اور وہ روئیدگی اور مضبوط ہوگئی۔ پھر اپنی جڑ پر مضبوطی سے قائم ہوگئی یہاں تک کہ زمیندار کو پسند آنے لگ گئی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کفار اُن کو دیکھ دیکھ کر جلیں گے۔ اللہ نے مومنوں اور ایمان کے مطابق عمل کرنے والوں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ان کو مغفرت اور بڑا اجر ملے گا۔ ’’

حاشیہ میں حضورؓ تحریرفرماتے ہیں:

نوٹ نمبر 1:

‘‘ اس آیت میں انجیل والوں کے مقابل کے اسلامی حصہ کی مثال بیان کی گئی ہے جو مسیح محمدی کی جماعت ہے۔ ’’

نوٹ نمبر2:

‘‘ اس آیت میں اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جو متی باب13آیت 3 تا 9 میں ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ ‘‘ ایک بونے والا بیج بونے نکلا اور بوتے وقت کچھ دانے راہ کے کنارے گرے اور پرندوں نے آکر انہیں اُچک لیا اور کچھ پتھریلی زمین پر گرے۔ جہاں ان کو بہت مٹی نہ ملی اور گہری مٹی نہ ملنے کے سبب سے جلد اُگ آئے اور جب سورج نکلا تو جل گئے اور جڑھ نہ ہونے کے سبب سے سوکھ گئے اور کچھ جھاڑیوں میں گرے۔ اور جھاڑیوں نے بڑھ کر اُن کو دبالیا۔ اور کچھ اچھی زمین میں گرے اور پھل لائے۔ کچھ سوگنا کچھ ساٹھ گنا۔ کچھ تیس گنا۔’’ قرآن مجید کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ امت محمدیہ میں آنے والے مسیح کی قوم بھی ایسی ہی ہوگی۔ جیسے اچھی زمین میںبویا ہوا دانہ اور اللہ تعالیٰ اس میںایسی برکت پیدا کرے گا کہ ایک ایک دانہ سے ساٹھ ساٹھ ستّر ستّر بلکہ سوسوگنا پیدا ہوگا۔ مگر یہ فوراً نہیں ہوگا بلکہ تدریج کے ساتھ ہوگا۔ ’’

وَ الَّذِیۡنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الۡاِیۡمَانَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ یُحِبُّوۡنَ مَنۡ ہَاجَرَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَا یَجِدُوۡنَ فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ حَاجَۃً مِّمَّاۤ اُوۡتُوۡا وَ یُؤۡثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَوۡ کَانَ بِہِمۡ خَصَاصَۃٌ ؕ۟ وَ مَنۡ یُّوۡقَ شُحَّ نَفۡسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ (الحشر:10)

‘‘اور (اسی طرح وہ مال اُن لوگوں کے لیے بھی ہے ) جو مدینہ میں پہلے سے رہتے تھے اور (مہاجرین کے آنے سے پہلے) ایمان قبول کرچکے تھے اور ان سے محبت کرتے تھے جو اُن کی طرف ہجرت کرکے آئے اور اپنے دلوںمیں اس (مال) کی کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے جو اُن کو دیا گیا تھا اور وہ باوجود اس کے خود غریب تھے مہاجرین کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے تھے اور جن لوگوں کو اپنے نفس کے بخل سے محفوظ رکھا جائے ایسے تمام لوگ بامراد ہونے والے ہیں۔ ’’

وَ الۡمُرۡسَلٰتِ عُرۡفًا۔ فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا۔ وَّ النّٰشِرٰتِ نَشۡرًا۔ فَالۡفٰرِقٰتِ فَرۡقًا۔ فَالۡمُلۡقِیٰتِ ذِکۡرًا۔(المرسلٰت:2-6)

‘‘مَیں شہادت کے طور پر اُن ہستیوں کو پیش کرتا ہوں جو پہلے آہستگی سے چلائی جاتی ہیں۔ پھر وہ تیزی سے چلنے لگ جاتی ہیں۔ اور مَیں دنیا میں پھیلا دینے والی ہستیوں کو بھی شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں۔ اور حق وباطل میں فرق کردینے والی ہستیوں کو۔ اور خدا کا کلام سنانے والی ہستیوں کو۔’’

وَ النّٰزِعٰتِ غَرۡقًا ۙ۔ وَّ النّٰشِطٰتِ نَشۡطًا۔ وَّ السّٰبِحٰتِ سَبۡحًا۔ فَالسّٰبِقٰتِ سَبۡقًا ۙ۔ فَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا ۘ۔ (النزعٰت:2-6)

‘‘مَیں ان ہستیوں کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں جو پوری توجہ سے علوم دینیہ کو کھینچتی ہیں۔ اور ان (ہستیوں ) کو جو خوب اچھی طرح گرہ باندھتی ہیں۔ اور اُن (ہستیوں ) کو جو دُور دُور نکل جاتی ہیں۔پھر (مقابلہ کرکے اپنے مدّمقابل سے ) خود آگے نکل جاتی ہیں۔پھر (دنیا کا) کام (چلانے ) کی تدبیروں میں لگ جاتی ہیں۔ ’’

نوٹ آیت نمبر 2:

‘‘ ان آیات میں مؤنث کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے کہ یہاں صحابہؓ کی جماعتوں کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ وہ اخلاق فاضلہ کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے زور لگاتے تھے۔ مفسرین کہتے ہیں کہ ان آیات میں فرشتوں کا ذکر ہے مگر مَیں نے فرشتوں کی جگہ صحابہؓ مراد لیے ہیں۔ کیونکہ واؤ قسم کے لیے آتی ہے اور قسم گواہی کے لیے ہوتی ہے اور فرشتوں کی گواہی کو نہ مومن سمجھ سکتے ہیں نہ کفار۔ ہاں صحابہؓ کی گواہی کو مومن اور کافر دونوں سمجھ سکتے ہیں۔ پس اس جگہ صحابہ ؓ ہی کا ذکر ہے اور ترجمہ میں مَیں نے انہی کا ذکر کیا ہے۔’’

نوٹ آیت نمبر 3:

‘‘یعنی اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کرتے ہیں۔’’

نوٹ آیت نمبر 4:

‘‘ یعنی صحابہؓ کی جماعتیں جو تبلیغ اسلام کے لیے ملک در ملک پھرتی تھیں۔ ’’

نوٹ آیت نمبر 5:

‘‘یعنی صحابہ ؓ میں نیکی میں ایک دوسرے سے بڑھنے کا مادہ پایا جاتا تھا جس کی وجہ سے وہ نیکی میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش میں کوئی دِقّت محسوس نہیں کرتے تھے اور ان کی تمام کوششیں ایسی ہی تھیں جیسے تیرنے والے کو تیرنے میں پانی کی وجہ سے سہولت ملتی ہے۔’’

نوٹ آیت نمبر 6: ‘‘ یعنی دنیا کی اصلاح اور ترقی ان کا مقصدِ زندگی ہوتا ہے۔’’

٭…عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی۔ اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی۔(عبس:2-3)

‘‘(کیا) چیں بہ جبیںہوگیا اور مُنہ موڑ لیا؟۔(صرف) اس بات پر کہ اس کے پاس (ایک )نابینا(جسے واقف لوگ جانتے ہیں )آیا۔’’

٭…بِاَیۡدِیۡ سَفَرَۃٍ۔ کِرَامٍۭ بَرَرَۃٍ۔(عبس:16-17)

‘‘وہ (صحیفے لکھنے والوں اور دُور دُور ) سفر کرنے والوںکے ہاتھوں میں (ہیں)(ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ) جو معزز ہیں اور اعلیٰ درجہ کے نیکوکار ہیں۔’’

نوٹ آیت نمبر 16:

‘‘یعنی صحابہؓ قرآن مجید کو لے کر دُور دُور جائیں گے۔’’

نوٹ آیت نمبر 17:

‘‘یعنی قرآن مجید کی برکت سے صحابہؓ بڑی بڑی عزتیں پائیں گے اور نیکیوںمیں ترقی کریں گے۔’’

٭…وَ اِلَی الۡجِبَالِ کَیۡفَ نُصِبَتۡ۔(الغاشیہ:20)

‘‘اورپہاڑوں کو (نہیں دیکھتے ) کہ کس طرح گاڑے ہوئے ہیں۔ ’’

نوٹ آیت نمبر 20:

‘‘پہاڑ کے معنے بڑے آدمی کے بھی ہوتے ہیں۔ چونکہ پہلے صحابہ ؓ کا ذکر ہے اس لیے اس جگہ بھی پہاڑ سے مراد مسلمانوں کے بڑے آدمی لیے جائیں گے اور اس آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ کیا وہ صحابہ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح گاڑے ہوئے ہیں یعنی باوجود دشمنوں کی خطرناک کوششوں کے اپنی جگہ سے نہیں ہلتے۔’’

٭…وَ الۡعٰدِیٰتِ ضَبۡحًا۔ فَالۡمُوۡرِیٰتِ قَدۡحًا۔ فَالۡمُغِیۡرٰتِ صُبۡحًا۔ فَاَثَرۡنَ بِہٖ نَقۡعًا۔ فَوَسَطۡنَ بِہٖ جَمۡعًا۔ (العادیات:2-6)

‘‘مَیں شہادت کے طور پر اُن جماعتوں کو پیش کرتا ہوں جو گھوڑوں پر چڑھ کر اس طرح بے تحاشا دوڑتی ہیں کہ اُن کے گھوڑوں کے منہ سے آوازیں نکلنے لگ جاتی ہیں۔ نیز ان گھوڑ سواروں کو جن کے مرکب چوٹ مار کر چنگاریاں نکالتے ہیں۔ پھر صبح ہی صبح حملہ کرنے والوں کو۔ جس کے نتیجہ میں اس (صبح کے وقت) میں غبار اُڑاتے ہیں۔ اور لشکر میں گھس جاتے ہیں۔ ’’

نوٹ آیت نمبر 2:

‘‘اس آیت میں اسلام کی صداقت کے ثبوت میں صحابہؓ کو پیش کیا گیا ہے گو الفاظ گھوڑوں کے مناسب حال رکھے ہیں مگر چونکہ گھوڑا خود نہیں چلتا بلکہ اس کو سوار چلاتا ہے اس لیے اس سے مراد گھوڑوں پر چڑھنے والی جماعتیں ہیں یعنی صحابہ ؓ جو جہاد کرتے تھے۔’’

نوٹ آیت نمبر 4:

‘‘ اس آیت نے سارا راز ظاہر کردیا۔ کیونکہ اس جگہ پر صبح کے وقت حملہ کرنے کا ذکر ہے۔ اور ایسی احتیاط کرنا گھوڑے کاکام نہیں بلکہ سوار کا کام ہے پس ثابت ہوگیا کہ اس جگہ پر صحابہؓ کا ذکر ہے نہ کہ خالی سواریوں کا۔’’

نوٹ آیت نمبر 5:

‘‘یعنی جب وہ حملہ کرتے ہیں تو صرف سڑکوں پر سے ہی چنگاریاں نہیں نکلتیں بلکہ ایک ایسا شور پڑجاتا ہے کہ جس گائوں پر انہوںنے حملہ کیا ہوتا ہے اس کے لوگ گھبرا کر نکل آتے ہیں اور تمام جوّ میں غبار اُڑنے لگتا ہے۔’’

نوٹ آیت نمبر 6:

‘‘یعنی یہ سواروں کی جماعت جو حملہ کرتی ہے اس قبیلہ کے لوگوں کو دیکھ کر جن پر حملہ کیا گیا ہے ڈر نہیں جاتی بلکہ دلیری کے ساتھ ان کے اندر گھس جاتی ہے جس کے نتیجہ میں لڑائی دست بدست ہونے لگ جاتی ہے۔’’

اضافی آیات بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

٭…وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا۪ وَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ کُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِہٖۤ اِخۡوَانًا ۚ وَ کُنۡتُمۡ عَلٰی شَفَا حُفۡرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَکُمۡ مِّنۡہَا ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمۡ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ(اٰل عمران:104)

‘‘اور اللہ کی رسّی کو سب کے سب مضبوطی سے پکڑلو اور تفرقہ نہ کرو اور اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں کو آپس میں باندھ دیا اور پھر اس کی نعمت سے تم بھائی بھائی ہوگئے۔ اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر (کھڑے ) تھے تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ شاید تم ہدایت پاجائو۔ ’’

٭…اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدۡ نَصَرَہُ اللّٰہُ اِذۡ اَخۡرَجَہُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ثَانِیَ اثۡنَیۡنِ اِذۡ ہُمَا فِی الۡغَارِ اِذۡ یَقُوۡلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ۚ فَاَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلَیۡہِ وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوۡدٍ لَّمۡ تَرَوۡہَا وَ جَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا السُّفۡلٰی ؕ وَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الۡعُلۡیَا ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ (التوبہ:40)

‘‘ اگر تم اس (رسول) کی مدد نہ بھی کرو تو اللہ (پہلے بھی ) اس کی مدد کرچکا ہے جب اسے اُن لوگوں نے جنہوں نے کفر کیا ( وطن سے ) نکال دیاتھا اس حال میں کہ وہ دو میں سے ایک تھا۔ جب وہ دونوں غار میں تھے۔ اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر یقینا ًاللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پس اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل کی اور اس کی ایسے لشکروں سے مدد کی جن کو تم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اور اس نے ان لوگوں کی بات نیچی کردکھائی جنہوں نے کفر کیا تھا۔ اور بات اللہ ہی کی غالب ہوتی ہے اور اللہ کامل غلبہ والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔ ’’

٭…وَ نَزَعۡنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ۔(الحجر:48)

‘‘اور ہم ان کے دلوں سے جو بھی کینےہیں نکال باہر کریں گے۔ بھائی بھائی بنتے ہوئے تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ ’’

٭…رِجَالٌ ۙ لَّا تُلۡہِیۡہِمۡ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ ۪ۙ یَخَافُوۡنَ یَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الۡقُلُوۡبُ وَ الۡاَبۡصَارُ۔(النور:38)

‘‘ایسے عظیم مرد جنہیں نہ کوئی تجارت اور نہ کوئی خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے یا نمازکے قیام سے یا زکوٰۃ کی ادائیگی سے غافل کرتی ہے۔ وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل (خوف سے ) اُلٹ پَلٹ ہورہے ہوں گے اور آنکھیں بھی۔ ’’

٭…مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕوَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰٮہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا ۫ سِیۡمَاہُمۡ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِؕ ذٰلِکَ مَثَلُہُمۡ فِی التَّوۡرٰٮۃِ ۚۖۛ وَ مَثَلُہُمۡ فِی الۡاِنۡجِیۡلِ ۚ۟ۛ کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا۔( الفتح :30)

‘‘محمد رسول اللہ اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کفار کے مقابل پر بہت سخت ہیں (اور) آپس میں بے انتہا رحم کرنے والے۔ تُو انہیں رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے دیکھے گا۔ وہ اللہ ہی سے فضل اوررضا چاہتے ہیں۔ سجدوں کے اثر سے ان کے چہروں پر ان کی نشانی ہے۔ یہ اُن کی مثال ہے جو تورات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال ایک کھیتی کی طرح ہے جو اپنی کونپل نکالے پھر اُسے مضبوط کرے پھر وہ موٹی ہوجائے اور اپنے ڈنٹھل پر کھڑی ہوجائے ، کاشتکاروں کو خوش کردے تاکہ ان کی وجہ سے کفار کو غیظ دلائے۔ اللہ نے ان میں سے اُن سے ، جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے ، مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ ’’

اس آیت کے تحت حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ نوٹ تحریرفرماتے ہیں:

‘‘اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی جو صفات بیان فرمائی گئی ہیں ان کو آپ ؐکی ذات تک محدود نہیں رکھا بلکہ فوراً فرمایا وَالَّذِیۡنَ مَعَہٗ یعنی آپؐ کی خوبیاں ان لوگوں میں بھی سرایت کریں گی جو آپؐ کے ساتھ ہیں۔خوبیوں میں سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ۔اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ کفار پر اپنی سخت دلی کی وجہ سے شدید ہوں گے بلکہ کفرکا اثر قبول نہ کرنے کے لحاظ سے انہیں شدید کہا گیا ہے۔ لیکن ان کے دل رحمت سے بھرئے ہوئے ہوں گے جس کی وجہ سے مومن ایک دوسرے سے رحمت اور تلطّف کا سلوک کرنے والے ہوں گے۔ اور ان کے جہاد کی غرض محض رضائے باری تعالیٰ ہے نہ کہ دنیاوی مال کمانا۔ چنانچہ وہ اللہ کے حضور رکوع کرتے ہوئے اور سجدہ کرتے ہوئے جھکیں گے اور اس سے فضل یعنی ایسا دنیاوی مال طلب کریں گے جس کے ساتھ رضائے باری تعالیٰ بھی ہو۔ یہ ان کے جہاد کے وہ مرکزی پہلو ہیں جو تورات میں ان کے متعلق بیان کئے گئے تھے۔ ’’

٭…لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ؕ وَ یُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۔(المجادلہ:23)

‘‘تو کوئی ایسے لوگ نہیں پائے گا جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے ایسے لوگوں سے دوستی کریں جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرتے ہوں، خواہ وہ اُن کے باپ دادا ہوں یا اُن کے بیٹے ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے ہم قبیلہ لوگ ہوں۔ یہی وہ (باغیرت) لوگ ہیں جن کے دل میں اللہ نے ایمان لکھ رکھا ہے اور ان کی وہ اپنے امر سے تائید کرتا ہے اور وہ انہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں وہ اُن میں ہمیشہ رہتے چلے جائیں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ یہی اللہ کا گروہ ہیں۔ خبردار! اللہ ہی کا گروہ ہے جو کامیاب ہونے والے لوگ ہیں۔ ’’

نوٹ میں حضورؒ تحریرفرماتےہیں:

‘اَیَّدَھُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ میں ھُمۡ کی ضمیر صحابہؓ کی طر ف جاتی ہے اور فرمایا گیا ہے کہ صحابہؓ پر روح القدس اُترتا تھا۔ اس پہلو سے عیسائیوں کے لئے اس فخر کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ حضرت مسیح ؑپر روح القدس اُترتا تھا۔ وہ تو حضرت محمد رسول اللہﷺ کے غلاموں پر بھی اُترتا تھا اور ان کا مددگار ہوتا تھا۔ ’’

٭…لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُہٰجِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اَمۡوَالِہِمۡ یَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا وَّ یَنۡصُرُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ۔(الحشر:9)

‘‘اُن درویش مہاجرین کے لئے بھی ہے جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور اپنے اموال سے (الگ کئے گئے )۔ وہ اللہ ہی سے فضل اور اس کی رضا چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی ہیں وہ جو سچے ہیں۔’’(جاری ہے)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close