حضرت مصلح موعود ؓ

صداقتِ احمدیت (قسط نمبر02)

از: حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

اثرات تعلیم رسولؐ و تعلیم انبیاؑء

اب ہم ان انبیاء علیہم السلام کی تعلیموں کے نتائج کا موٹا سا مقابلہ کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے اور انہوں نے بنی اسرائیل کو تبلیغ کی۔کسی قوم اور جماعت کی فرمانبرداری اور اطاعت کا پتہ مشکلات اور مسائل کے وقت ہی لگا کرتا ہے ۔قصہ مشہور ہے کہ ایک پوربیا مرگیا اور اس کی بیوی نے ماتم شروع کیا کہ ہائے فلاں سے اس نے اتنا روپیہ لینا تھا وہ کون لے گا ایک دوسرا پوربیا بولا ‘‘اری ہم ’’ پھر اس نے کہا فلاں جائیداد کا کون انتظام کرے گا اسی نے کہا ‘‘اری ہم ’’۔ اسی طرح کہتے کہتے جب اس نے یہ کہا کہ اس نے فلاں کا اتنا روپیہ دینا تھا وہ کون دے گا؟ تو کہنے لگا مَیں ہی بولتا جاؤں کوئی اَور بھی بولے گا یا نہیں ۔ تو ایسے تو بہت لوگ ہوتے ہیں جو لینے اور فائدہ اٹھانے کے وقت آگے بڑھتے ہیں لیکن مشکل کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں اس لیے اصل قربانی اور محبت کا پتہ مشکلات کے وقت ہی لگتا ہے۔

ایک واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام

حضرت موسیٰؑ کی جماعت کا واقعہ قرآن میں آتا ہے اور بائبل میں بھی مذکور ہے ۔اس لیے جب کہ نہ مسلمان اس کا انکار کرتے ہیں اور نہ عیسائی تو پھر اور کسی کو اس کا انکار کرنے کا کیا حق ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰؑ کو ایک ایسی قوم سے مقابلہ آپڑا جو بڑی زبردست اور طاقتور تھی تو حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیاری کا حکم دیا ۔مگر ا ن کی قوم نے یہ دیکھ کر کہ ہمارا دشمن بڑا طاقتور ہے کہا کہ اس سے ہم کس طرح مقابلہ کرسکتے ہیں ۔حضرت موسیٰؑ نے کہا تم خدا کا نام لے کر چلو تو سہی خدا ہمیں مدد دے گا۔ اس کے جواب میں انہوںنے کہا۔ اے موسیٰؑ ! ہم تو اس دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے ہرگز نہ جائیں گے۔ تیرا خدا اورتُو جااور جا کر لڑو ۔بائیبل سے ثابت ہے کہ حضرت موسیٰؑ کی جماعت کا ایک بہت قلیل حصہ مقابلہ کے لئے تیار ہوا اور باقی ساری کی ساری قوم پیچھے رہ گئی ۔

(استثناء باب 1آیت 26تا33برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی انارکلی لاہور مطبوعہ 1922ء)

اس سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی جماعت کے اکثر حصہ کی حالت یہ ہوئی کہ اس نے ان کو کہہ دیا کہ تُو اور تیرا خدا جا کر لڑو ہم نہیں جائیں گے ۔

ایک واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

ان کے بعد ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف آتے ہیں۔ وہ دنیا میں آئے اور انہوں نے لوگوں کی اصلاح کی جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔ مگر اس وقت ہمیں مقابلہ کر کےیہ دیکھنا ہےکہ ان کا کام رسول کریم ﷺ کے مقابلہ میں کیسا تھا۔ ان کی جماعت میں بھی یہی نظر آتا ہے کہ جب دشمن نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پکڑنا چاہا تو اس وقت ان کے بڑے حواری سے جس کو انہوں نے اپنی جماعت کے امام بنایا ہوا تھا جب پوچھا گیا کہ تُو عیسیٰ علیہ السلام کو جانتا ہے۔ تو اس نے یہ دیکھ کر کہ میں بھی پکڑا جاؤں گا کہا کہ میں تو اس پر لعنت کرتا ہوں (متی باب 26آیت 74برٹش اینڈ فارن بائیبل سوسائٹی انارکلی لاہور مطبوعہ 1922ء) تو بجائے اس کے کہ وہ اس وقت یہ کہتا ہے کہ ہاں میں اسے جانتا ہوں جو اس کا حال ہوگا وہی میرا ہوگا وہ کہتا کہ میں اسے جانتا ہی نہیں اور پھر اس پر بس نہیں کرتا بلکہ لعنت کرتا ہے ۔

ایک واقعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم

ان واقعات کے مقابلہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیارکردہ جماعت کو دیکھتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وطن مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کرتے ہیں اور مدینہ ا ٓکر مدینہ والوں کے ساتھ یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ اگر دشمن مدینہ پر حملہ کرے گا تو مدینہ والے اس کے مقابلہ میں لڑیں گے اور اگر باہر جاکر لڑنا پڑا تو ان پر لڑنا فرض نہ ہوگا لیکن جب احد کی لڑائی کا وقت آیا اور دشمن نےمدینہ پر حملہ کرنا چاہا تو صحابہؓ میں مشورہ ہوا اور یہ قرار پایا کہ مدینہ سے باہر نکل کر لڑیں تاکہ لڑائی کے لیے کھلا میدان مل جائے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ دشمن کی تعداد اتنی کثیر تھی کہ مسلمان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے ۔ دشمن کے پاس تین ہزار تجربہ کار سپاہی تھےاور مسلمانوں کےصرف ایک ہزار آدمی تھے جن میں سے اکثر لڑائی سے ناواقف تھے ۔کیونکہ مدینہ کے لوگ لڑائی کرنا نہ جانتے تھے ۔ وہ زمینداری اور زراعت میں مصروف رہتے تھے اور جس طرح ہمارے ملک میں رواج ہے کہ غلطی سے پیشوں کی وجہ سے لوگوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے اسی طرح ان کو حقیرسمجھا جاتا تھا اور ان کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ کیا لڑیں گے۔ یہ لوگ بھی اس ایک ہزار کی تعداد میں شامل تھے۔ پھر اس میں تین سو لوگ ایسے تھے جو منافق تھے اور جن کو سب مسلمان جانتے تھے کہ ہمیں گالیاں دیتے اور برا بھلا کہتے ہیں ۔ اس لیے مسلمان سمجھتے تھے کہ ہماری تعداد دشمن کے مقابلہ میں بہت تھوڑی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ میں کھڑے ہوکر فرمایا کہ مشورہ دو باہر جا کر دشمن کا مقابلہ کریں یا اندر سے ہی۔ آخر فیصلہ ہوا کہ باہر جا کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ آپ نے بدر کے موقعہ پر بھی فرمایا تھا کہ ہاں مشورہ دو ۔ جس سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ انصار بولیں کہ ان کا کیا ارادہ ہے کیونکہ ان سے معاہدہ تھا کہ اگر باہر جا کر دشمن کا مقابلہ کرنا پڑا تو وہ نہ جائیں گے۔ اس پر ایک انصاری اٹھا اور اس نے کہا یارسول اللہؐ !کیا آپ کا یہ مطلب ہے کہ ہم بولیں ہم نے جب آپ کو خدا کا رسول مان لیا تو اب کیا ہے اگر آپ ہمیں کہیں گے کہ سمندر میں گھوڑے ڈال دو تو ہم ڈال دیں گے (سیرت ابن ہشام عربی جلد 2 صفحہ 267مطبوعہ مصر 1936ء)ہم موسیٰ ؑکی جماعت کی طرح نہ کہیں گے کہ جاتُو اور تیرا خدا جا کر لڑو۔ بلکہ جب تک دشمن ہماری لاشوں کو روند کر آپ تک نہیں آئے گا ہم اسے نہیں آنے دیں گے

(سیرت ابن ہشام عربی جلد 2 صفحہ 226ء مطبوعہ مصر 1936ء)

مابہ الامتیاز کی بین شہادت

یہ تھا پھل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کا اور درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اب دیکھ لو کس کے پھل اعلیٰ ہیں ۔ آیا موسیٰؑ کے جنہوں نے کہہ دیا تھا کہ تُو اور تیرا خدا جا کر لڑو ہم نہیں جائیں گے ۔یا عیسیٰ ؑکے جس کے خاص حواری نے ان پر لعنت کی تھی ۔ یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جنہوں نے باوجود باہر جاکر نہ لڑنے کا معاہدہ کیا ہوا تھا یہ کہا کہ اگر دشمن آپ تک پہنچے گا تو ہماری لاشوں کو روند کر ہی پہنچے گا ۔جیتے جی ہم اسے آپ تک نہ آنے دیں گے ۔ کوئی کہہ سکتا ہے جوش میں آ کر لوگ اس طرح کہہ ہی دیا کرتے ہیں لیکن جب مصیبت آ پڑتی ہے تب یہ جوش قائم نہیں رہتا ۔ مگر انہوں نے یہ زبان سے ہی نہ کہا بلکہ لڑائی میں بھی گئے اور خدا تعالیٰ نے ان کے دعویٰ کو سچا کرنے کے لیے ایسے اسباب پیدا کر دیے کہ رسول کریم ﷺ دشمن کے نرغے میں گِھر گئے اور ایسے خطرناک طورپر گھر گئے کہ عام خبر مشہور ہوگئی کہ آپؐ شہید ہوگئے ہیں ۔ اس وقت ان لوگوں کی کیا حالت ہوئی اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک انصاری حضرت عمرؓ سے جنہوں نےسر نیچے ڈالا ہوا تھا آکر پوچھتے ہیں کیا ہوا ؟ وہ کہتے ہیں رسول کریم ﷺشہید ہوگئے ۔یہ سن کر وہ انصاری کہتے ہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے چلے گئے ہیں تو ہمارے یہاں رہنے کا کیا فائدہ ۔ چلو ہم بھی چلیں اور لڑ کر مر جائیں ۔ یہ کہہ کر وہ گئے اور لڑ کر مارے گئے اور اس سختی سے لڑے کہ جب ان کی لاش کو دیکھا گیا تو اس پر ستر زخم لگے ہوئے تھے(سیرت ابن ہشام عربی جلد 3 صفحہ 88مطبوعہ مصر 1936ء) پھر اور اخلاص کا نمونہ دیکھئے۔ جب دشمن تیر پر تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مار رہا تھا۔ تو چند صحابہؓ آپؐ کے گرد کھڑے ہوگئے جن کی پیٹھیں تیروں سے چھلنی ہوگئیں۔ کسی نے ایک صحابیؓ سے پوچھا جب تم پر تیر پڑتا تھا تو کیا تم اُف بھی نہ کرتےتھے ۔ انہوں نے کہا میں اُف اس لیے نہ کرتا تھا کہ کہیں میرا جسم نہ ہل جائے اور تیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جا پڑے۔

اخلاص مستورات مومنین ؓ

یہ تو لڑنے والوں کا حال تھا جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ مرد بہادر ہوا ہی کرتے ہیں۔ مگر یہ اخلاص مردوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ عورتوں میں بھی ایسا ہی پایا جاتا تھا۔ یہی لڑائی جس میں مشہور ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے جب ختم ہوئی اور لوگ مدینہ کو واپس لوٹےتو ادھر مدینہ کے بچے اور عورتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر دیوانہ وار باہر نکلے ۔ لڑائی سے واپس آنےو الے لوگ آگے آگے جا رہے تھے ان میں سے ایک سے ایک عورت بے تحاشا آکر پوچھتی ہے کہ رسول اللہ ؐکا کیا حال ہے؟اس کے دل میں چونکہ رسول کریم ﷺ کے متعلق اطمینان اور تسلی تھی اس نے اس بات کو معمولی سمجھ کر کہا تمہارا باپ مارا گیا ۔عورت نے کہا مَیں نے پوچھا ہے کہ رسول اللہ ؐ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا تمہارا بھائی مارا گیا ہے۔ عورت نے کہا میں یہ پوچھتی ہوں کہ رسول اللہؐ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا تیرا خاوند بھی مارا گیا ہے ۔ عورت نے کہا کہ میری بات کا تم کیوں جواب نہیں دیتے۔ مَیں پوچھتی ہوں کہ رسول اللہؐ کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا رسول اللہ ؐ زندہ ہیں ۔ یہ سن کر اس عورت نے کہا شکر ہے خدا کا ۔ اگر رسول اللہؐ زندہ ہیں تو ہمیں اَور کسی کی پروا نہیں۔

(سیرت ابن ہشام اردو حصہ دوم صفحہ 84مطبوعہ لاہور1975ء)

اس بات کو وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس نے عورتوں کا جزع فزع دیکھا ہو کہ اگر کسی عورت کا ایک دن کا بچہ بھی مر جاتا ہے تو کس قدر روتی ہے ۔ مگر اس عورت کا سارے کا سارا خاندان کہ جس پر اس کا آسرا تھا مارا جاتا ہے وہ کہتی ہے کہ اگر رسول اللہؐ زندہ ہیں تو کوئی حرج نہیں۔ یہ رسول کریم ﷺ کی قوتِ قدسیہ تھی جس نے مردوں اور عورتوں میں ایسا اخلاص بھر دیا اور یہ آپؐ کے سب سے افضل ہونے کا ثبوت ہے جو اَور کوئی قوم اپنے نبی کے متعلق پیش نہیں کر سکتی۔ پس ثابت ہو گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب انبیاء ؑ سے افضل ہیںاور آپؐ کا درجہ ہر بات میں دوسروں سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپؐ نے جو جماعت تیار کی اس کے مردوں، عورتوں حتیٰ کہ بچوں میں ایسا اخلاص اورمحبت پائی جاتی ہے جس کا نمونہ اَور کہیں نہیں مل سکتا۔

دو مسلم بچوں کی بہادری

بدر کی لڑائی میں دو پندرہ پندرہ برس کے لڑکوں نے بڑی کوشش سے رسول کریم ﷺ سے لڑائی میں شامل ہونے کی اجازت حاصل کی۔ ایک صحابیؓ کہتے ہیں کہ لڑائی کے وقت یہ دونوں لڑکے میرے دائیں بائیں کھڑے تھے اور میں یہ خیال کررہا تھا کہ آج مَیں کس طرح لڑوں گا۔ میرے ساتھ اگر بہادر سپاہی ہوتے تو مَیں لڑ سکتا۔ اب کیا کروں گا۔ میں ابھی اسی خیال میں تھا کہ ایک لڑکے نے مجھے کہنی ماری اور جب مَیں اس کی طرف متوجہ ہوا تو اس نے پوچھا ابوجہل کہاں ہے جو رسول کریم ؐ کو بہت دکھ دیا کرتا تھا؟ مَیں ابھی اس کوجواب نہیں دینے پایا تھا کہ دوسرے نے آہستہ سے پوچھا تاکہ دوسرا نہ سن لے۔ چچا! ابوجہل کون سا ہے؟ میرا دل چاہتا ہے کہ مَیں اس کو ماروں۔ یہ صحابی عبدالرحمٰنؓ بن عوف تھے جو بڑے بہادر اور جری تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ خیال میرے دل میں بھی نہ تھا کہ میں ابوجہل کو ماروں۔ مگر میں نے ابھی ابوجہل کی طرف اشارہ ہی کیا تھا کہ دونوں لڑکے میرے دائیں اور بائیں سے چیل کی طرح جھپٹے اور دشمن کے لشکر میں گھس کر ابوجہل کو جا مارا۔

(بخاری کتاب المغازی باب فضل من شہد بدرا)

دیکھو یہ پندرہ پندرہ برس کے لڑکے تھے۔ اس نور کے بغیر جو ان کو حاصل تھا اس عمر کے لڑکے کیا کرتے ہیں۔ یہی کہ شہر کے لڑکے انگریزی کھیلیں کھیلتے ہیں اور گاؤں کے لڑکے دیہاتی کھیلیں۔ مگر وہ اپنی جان کی کھیل کھیلتے ہیں اور ایسی بہادری سے کھیلتے ہیں کہ بڑے بڑے بہادر حیران ہو جاتے ہیں۔

یہ نظارہ ایک عقلمند اور سمجھدار انسان کو بہت بڑے نتیجہ پر پہنچاتا ہے اور وہ یہ کہ محمد ﷺ سب انبیاء سے افضل تھے اور کوئی آپؐ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پھر قرآن بھی یہی کہتا ہے اور خود رسول کریم ﷺ بھی یہی فرماتے ہیں کہ میں سب انسانوں کا سردار ہوں؟ جب ہم اس نتیجہ پر پہنچ گئے تو معلوم ہوا کہ جو نبی سب سے افضل ہے وہی سب سے خدا کا پیارا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں خداتعالیٰ رسول ؐاللہ سے پیار اور محبت کے متعلق فرماتا ہے۔

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (اٰل عمران: 32)

محمد تو ہمارا ایسا محبوب ہے کہ جو اس کی فرمانبرداری کرے وہ بھی ہمارا محبوب ہو جاتا ہے۔

(……باقی آئندہ )

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close