یادِ رفتگاں

محترم سید یوسف سہیل شوق صاحب

(فخر الحق شمس)

مخلص خادم سلسلہ ، دانشور، سینئرصحافی، منجھے ہوئے قلم کار اور نائب مدیر روزنامہ الفضل ربوہ

جما عت احمدیہ کے مخلص اور دیرینہ خادم، منجھے ہوئے قلم کار، سینئر صحافی، بائیس سال تک بطور نائب مدیرروزنامہ الفضل تاب ناک خدمات سر انجام دینے والے اور صحافت میں میرے استادمحترم سید یوسف سہیل شوق صاحب کو ہم سے بچھڑے ہوئے 18سال ہو گئے ہیں ۔ وفات سے صرف ایک سال پہلے کینسر کی موذی بیماری تشخیص ہوئی تھی ۔ آپریشن کے ذریعے ٹیومر نکالا گیا اور کیمو تھراپی کا علاج بھی تا وفات جاری رہا ۔ دنیا کا ہر ممکن علاج کیا گیا لیکن خدا تعالیٰ کی تقدیر غالب آئی اور یہ نافع الناس اور ہر دلعزیز وجود اپنی زندگی کی 51بہاریں دیکھنے کے بعد اللہ کو پیارا ہو گیا۔

آپ کے اوصاف،اعلیٰ اخلاق اور سیرت کے بےشمار روشن پہلو اب بھی زبان زد عام ہیں۔ آ پ کی بلند آہنگ شخصیت کے تہ در تہ پہلو گننے اور احاطہ تحریرمیں لانے مشکل ہیں۔ پھر بھی خاکسار کوشش کرے گا کہ آپ کی اکثر جہتیں یہا ں جمع کردوں تاکہ یہ خوبصورت اور دل نواز شخصیت پوری طرح ابھر کر سامنے آجائے ۔ آپ نہایت دریا دل، نرم خو، ملنسار اور غیروں سے بھی مروت کرنے والے تھے۔ آپ کی طبیعت بہت سادہ اور بے نمود تھی، پرخلوص اور بے ساختہ انداز کے مالک اور عاجز انسان تھے، خاکساری کے پردوں میں چھپے ہوئے بے نفس اور اپنے کام میں مگن رہتے تھے۔ نیکی،تقویٰ اور حقوق العباد ادا کرنے کی خوبیاں آپ کے اندر اللہ کا خاص تحفہ تھیں۔کسی بھی کام کے لیے انکار آپ کی سرشت میں نہ تھا۔آپ اپنے شعبے کے لوگوں، دوستوں، ملنے جلنے والوں اور اپنے خاندان کے ہر ممبر کے دل میں جاگزیں ہو گئے تھے۔ایک فقرہ میں اگر کہا جائے تو مناسب ہوگاکہ آپ خلوص، وفا،محبت اور عجز و نیاز کے پیکر اور تصنع سے مبرا تھے۔ قلم کے دھنی اور گفتگو میں ایک رچاؤ رکھتے تھے ۔ شاعری سے فطری مناسبت تھی سوچ کے زاویے نستعلیق تھے۔حفظ مراتب کا خوب خیال رکھتے تھے۔اطاعت اور انکساری فطرت ثانیہ تھی، آپ میں اکرام ضیف کا عمدہ وصف پایاجاتا تھا۔درویش صفت،دوسروں کے ہمدرد، نفع رساں اور انسان دوست واقع ہوئے تھے۔آپ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے جماعتی چندے اور صدقہ و خیرات بڑی پابندی اور فراخ دلی سے ادا کیا کرتے تھے۔آپ نے خاموشی سے کئی ضرورت مندوں کے لیے ماہوار رقم مختص کی ہوئی تھی،آپ اکثر یوں بات کرتے جیسے التجا کر رہے ہوں ۔ آپ کو تاریخ کے مطالعہ کا بہت شوق تھا ۔ اسی لیے آپ کی تحریر و تقریر ٹھوس مواد پر مشتمل ہوتی تھی۔شعروشاعری کے دلدادہ اور صحافت پر عبور رکھتے تھے۔

محتر م شوق صاحب مورخہ 26؍نومبر1950ء کو ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد کانام محترم ڈاکٹر سید محمد جی احمدی صاحب تھا۔ آپ کے دادا حضرت سید محمد حسین شاہ صاحبؓ نے 1905ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔ جو سابق مختار عام صاحبزادگان حضرت مسیح موعودؑ اور سابق سیکرٹری دفتر تحریک جدید قادیان بھی تھے۔ محتر م سید منصور احمد بشیر صاحب سابق مبلغ سلسلہ سیرالیون، یوگنڈا اور کینیڈا آپ کے ماموں تھے۔آپ کے پڑنانا حضرت غلام دستگیرصاحبؓ اور ان کے بھائی حضرت سید محمد اشرف صاحب ؓبھی صحابہ حضرت مسیح موعود ؑ میں شمار ہوتے ہیں۔

آپ نے 1977ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے صحافت کا امتحان پاس کیا ۔1975ء تا مار چ 1979ء لاہور کے بعض اخبارات میں بطور پریکٹس کام کرتے رہے۔ راولپنڈی میں روزنامہ حیات کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر بھی رہے۔ کچھ عرصہ روزنامہ مساوات میں بھی کام کیا۔ آپ کو سپریم کورٹ میں بھٹو کیس کی اپیل کی سال بھر روزنامہ مساوات کے لیے رپورٹنگ کا بھی موقع ملا۔ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے ارشاد پر اپریل 1979ء میں آپ نے اپنی زندگی وقف کی اور خدمت دین کا سلسلہ شروع کیا۔مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کی عاملہ میں مہتمم امور طلباء اور مہتمم تجنید رہے۔ بطور ایڈیٹر ماہنامہ خالداور سیکرٹری اشاعت لوکل انجمن احمدیہ ربوہ خدمات سرانجام دیں۔اس دوران آپ نے ماہنامہ خالد کے سیدنا ناصر نمبر، تشحیذالاذہان کے حضرت خلیفہ ثالث نمبر اور ماہنامہ انصاراللہ کے حضرت چوہدری ظفراللہ خان نمبر کی تیاری میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ان رسائل کے تاریخی خصوصی نمبرز کو اب بنیادی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔

آپ کی نماز جنازہ مورخہ 23؍نومبر2001ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز جمعہ مسجد اقصیٰ ربوہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی (خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز)نے پڑھائی۔ اور اسی دن رات ساڑھے آٹھ بجے تدفین بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔سخت سردی اور رات کا وقت ہونے کے باوجود احباب کی کثیر تعداد اس خادم سلسلہ کی تدفین میں شامل ہوئی۔ہر شخص دکھی اور ہر دل مغموم تھا۔

روزنامہ الفضل میں خدمات کے علاوہ آپ دعوت الی اللہ کے میدان میں اپنا اکثر وقت وقف کرنے والے پر جوش داعی الی اللہ تھے۔آپ نے اس سلسلہ میں دور و نزدیک کے اضلاع بھکر، ملتان، لاہور، خوشاب، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، جھنگ، حافظ آباد، فیصل آباد اور گجرات کے بہت سے دورے کیے اور کئی بیعتیںکرائیں۔آپ نے اپنا موٹر سائیکل اور کار صرف دعوت الی اللہ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔آپ اپنے محلہ کے سیکرٹری دعوت الی اللہ، زعیم انصاراللہ اور آپ کی اہلیہ محترمہ چاند سلطانہ صاحبہ لجنہ اماء اللہ کی صدر تھیں۔ اسی لیے آپ کے گھر پر اکثر میٹنگز ہوتیںاور دعوت الی اللہ کے پروگرام بنتے رہتے۔آپ نے خدمت دین کے ہر میدان میں اپنا وقف تاحیات نبھانے کی توفیق پائی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے ارشاد پر آپ ایک لمبا عرصہ بطور سیکرٹری بورڈ الفضل رہے۔ایڈیٹر خالد ہونے کی وجہ سے آپ پر دو مقدمات زیر سماعت تھے۔

آپ جادہ صحافت کے پرشوق راہی تھے اور صحافت کی گل و گلزار، پر بہار اور پرخار وادی آپ کے دل کی شروع سے ہی آماجگاہ بنی ہوئی تھی، اسی لیے تو جوانی کے زمانہ میں ہی ایم اے جرنلزم کر ڈالا اور بالآخر ڈگری لینے اور صحافت کے نظریاتی اور کتابی علم سے اپنے آپ کو آراستہ کرنے کے بعد آپ اس وسیع وعریض وادی میں جا اترے اور قدم بقدم آگے بڑھتے رہے۔ وہ اس وادی کی سرسبزی اور شادابی سے ہی لطف اندوز نہیں ہوئے بلکہ اس کے خارزار سے بھی آشنائی حاصل کی اور پھر عمر بھر کے لیے یہیں کے ہو رہے ۔

اپنی زندگی وقف کرنے کے بعد آپ نے دین کے ایک وفا شعار خادم کے طور پر وہ مقام حاصل کیا جس کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔جب آپ اسسٹنٹ ایڈیٹر الفضل مقر ر ہوئے اس وقت محتر م مسعود احمد دہلوی صاحب 25سال تک الفضل کے نائب ایڈیٹر رہنے کے بعد اپریل 1971ء سے الفضل کے ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔ شوق صاحب کی غورو پرداخت اور عملی تربیت کی ذمہ داری حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے دہلوی صاحب کے سپرد کی اور دہلوی صاحب شوق صاحب کے استاد مقرر ہو گئے۔ حضر ت خلیفۃالمسیح الثالث ؒنے دہلوی صاحب کو ہدایت فرمائی کہ ان کی قلمی کاوشوں،مضامین اور تحریروں کو پالش کر کے الفضل میں شائع کریںتاکہ سیاسی تقاضوں کے زیر اثر قومی اخبارات میں کام کرنے کی وجہ سے اردو صحافت کا جو روایتی انداز آپ کی تحریروں میں آگیا تھا،اس کی بجائے جماعتی صحافت کا سنجیدہ اورپروقار رنگ آپ پر چڑھ سکے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے خاص طور پر یہ بات شوق صاحب کے ذہن نشیں کرانے پر زور دیا کہ علمی مضامین لکھتے وقت استدلال میں رخنہ پڑے نہ جھول آئے ۔حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے ارشاد پر آپ نے یہ سب باتیں جو دہلوی صاحب سے سیکھی تھیں بعد میں خاکسار کو بھی سکھائیں۔آپ کی علمی صلاحیتوں کو ایک زمانہ مانتا تھا۔صحافت کے میدان کارزار میں بہت دسترس رکھتے تھے۔ اپنے کام میں ہمہ وقت مستعد رہتے تھے۔الفضل میں اشاعت کے لیے آپ تمام خطبات کے خلاصے خود تیار کیا کرتے تھے۔آپ خطبہ کے وقت ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے اور ایم ٹی اے پر Liveخطبہ سنتے ساتھ ساتھ بہت تیزی سے نوٹس لیتے جاتے اور پھر ان نوٹس کی مدد سے خطبہ کا خلاصہ تیار کرتے اور صبح بروقت دفتر لے آتے ۔جوساتھ ہی کتابت یا کمپوزہو کر چھپائی کے مراحل میں چلا جاتا، بعض دفعہ ان کو خطبہ دو یا تین دفعہ سننا پڑتا ۔ رات دیرتک اپنے کام میں مگن رہتے،اپنی اس ذمہ داری کو ہر حال میں نبھاتے ۔اگر کسی وقت ربوہ سے باہر ہوتے تو وہاں سے ہی خلاصہ خطبہ دفتر فیکس کردیا کرتے ۔ سردی، گرمی یا بارش کے موسم کی پروا کیے بغیر آپ نے اپنی اس ڈیوٹی کو خوب نبھایا۔

آپ نے سینکڑوں تقاریب کی رپورٹنگ کی۔ تقریب اور اس کے ماحول کا نقشہ اس خوبصورتی سے کھینچتے تھے کے پڑھنے والے کے سامنے پورا منظر آجاتا۔صحافت میں رپورٹنگ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ جو صحافی اس میں ماہر ہوتا ہے اس کی بہت شہرت ہوتی ہے ۔آپ کی شہرت کی وجہ اس فن میں اعلیٰ پائے کی مہارت تھی۔ملکی اخبارات میں تجربہ اور محترم دہلوی صاحب کی ٹریننگ نے چار چاند لگا دیے تھے۔ مسلسل محنت اور پریکٹس کی وجہ سے آپ کے قلم میں بہت روانی آگئی تھی،جو لکھتے وہ neatاور فائنل شکل میں ڈھل جاتا ۔ بچوں اور بڑوں کے لیے تقریر لکھنے کا فن بھی آپ کو خوب آتا تھا۔خاکسار نے بارہا آپ کو تقریر لکھتے دیکھا، برجستہ انداز میں قلم برداشتہ لکھتے جاتے،ایسے لگتا تھا کہ ان کی سوچوں میں ایک فلم چل رہی ہے۔جس کے ساتھ ساتھ قلم رواں دواں ہے۔ آپ کے ہاتھ کی لکھی تقریریں مواد کے لحاظ سے انعام کی حقدار ٹھہرتی تھیں، ٹھوس معلومات اور حوالہ جات سے مزین آپ کی لکھی ہوئی تقریریں بہت مشہورہوتی تھیں۔ اسی لیے تو ہر چھوٹا بڑا آئے روز آپ سے تقریر لکھوانے آپ کے دروازے پر آ موجود ہوتا،آپ کے قلم سے نکلی جملہ تحریریں اپنے اندر برجستگی اور عجیب شان رکھتی تھیں۔

آپ مقرر بھی بہت اچھے تھے، بعض دفعہ بغیر تیاری کے سٹیج پر آتے اور ایسی روانی ، سلاست اور ہچکچاہٹ کے بغیر فی البدیہ تقریر کرتے کہ سامعین متاثر ہو جاتے، جماعتی پروگراموں اور مشاعروں میں آپ کی میزبانی بہت مشہور تھی۔ آپ کو بولنے میں بہت دسترس حاصل تھی۔دوران میزبانی اپنی بات کو شعروں اور موزوں الفاظ کے چناؤ سے بہت دلچسپ بنا دیتے۔ اس کے علاوہ شاعری، مضمون نگاری اور رپورٹنگ میں اچھوتا انداز آپ کی پہچان تھی۔تقریبات کی رپورٹ لکھنے کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ایک ایک تفصیل اس طرح لکھا کرو کہ پڑھنے والا سمجھے کہ وہ ان واقعات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ آپ اپنی رپورٹوں میں ایسا انداز ہی رکھتے تھے۔ گلشن احمد نرسری کی پھولوں کی نمائش ہو یا گھٹیالیاں اور تخت ہزارہ کے واقعات کی رپورٹیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ وہ ان کے برجستہ قلم کا شاخسانہ تھیں۔

جب ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کی وفات ہوئی تو برادرم حافظ راشد جاوید صاحب اور خاکسار سے فرمانے لگے کہ ان کا جنازہ بڑا ہوگا اس لیے میرے ساتھ رپورٹنگ میں معاونت کریں۔چنانچہ ہم تینوں استاد شاگردوں نے مل کر ڈاکٹر صاحب کے جنازہ کو ربوہ لانے ،دارالضیافت میں میت کا آخری دیدار کرنے، نماز جنازہ کی ادائیگی اور تدفین کے واقعات کی رپورٹنگ اکٹھے کی۔ نماز جنازہ کے وقت مجھ سے پوچھا کہ نظر گھما کے دیکھو کہ کتنے افراد اس وقت یہاں موجود ہیں، میں نے اپنے خیال کے مطابق اندازہ لگایااور بتادیاکہ اتنےہزار احباب موجود ہیں۔ اس پر انہوں نے مجھے بہت پیارے انداز اور شفقت سے تعداد کا اندازہ معلوم کرنے کا طریق بھی سمجھایا۔

جب آپ رپورٹنگ کررہے ہوتے تو ایک ہاتھ میں کاغذ اور دوسرے میں قلم تھامے اپنے مخصو ص انداز میں نوٹس لیتے جاتے، ایسے وقت آپ پر محویت طاری ہوتی تھی اور قلم اتنی تیز چلتی کہ زبانی باتوں کو پیچھے چھوڑجاتی۔رپورٹنگ کرنے اور نوٹس لینے کے بارے میں آپ نے مجھے بہت کچھ سکھایا، صحافت اور ابلاغیات میں رپورٹنگ کو بہت اہمیت حاصل ہے ایک صحافی کی کامیابی کا انحصار رپورٹنگ پر ہوتا ہے۔ آپ کو اس شعبے میں بہت مہارت حاصل تھی۔آپ نے ملکی اور جماعتی صحافت کے دونوں میدانو ں میں اپنے اعلیٰ فن کامظاہرہ کیا۔ بلا مبالغہ آپ جماعتی صحافت کے روشن ستارے تھے، جو روز روز طلوع نہیں ہوا کرتے۔

شوق صاحب سے میر ا پہلا تعارف تب ہوا جب میں جامعہ احمدیہ کے پہلے سال میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔اس دور میں میرا کچھ کر گزرنے کا شوق آہستہ آہستہ جوان ہو رہا تھا،جماعتی خدمت کرنے کی امنگیں رنگ پکڑ رہی تھیں۔کیونکہ لکھنے پڑھنے اور علمی میدانوں میں تحقیق کرنے کا جذبہ مجھے وراثت میں ملا تھا۔ میرے دادا محتر م میاں محمد یامین صاحب اور والد محتر م حافظ مبین الحق شمس صاحب انہی میدانوں کے تو شاہ سوار تھے۔اُن دنوں جامعہ احمدیہ ربوہ کے ہال میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کی ماہر شخصیات کے لیکچرز طلباء کی علمی صلاحیتوں کو صیقل کرنے کے لیے ہوتے رہتے تھے ۔ اُس دن بھی ہماری کلاس میں اعلان ہو ا کہ مضمون نویسی کے تعارف اور لکھنے کے طریقوں کے بارے میںاہم معلومات پر مبنی ایک مفید لیکچر کا اہتمام ہورہا ہے اس لیے تمام طلباء ہال میں آجائیں۔کچھ دیرکے بعد ہم ہال میں بیٹھے آنے والے مہمان کا انتظار کر رہے تھے کہ اتنے میں درمیانے قد۔دراززلفیں اور لمبی گھنی داڑھی کے ساتھ ایک شخص بڑے وقار سے ہال میں داخل ہوا، پہلی نظر میں ہی اس وجیہ اور بارعب شخص نے ہمارے دل میں گھر کر لیا۔سٹیج سیکرٹری نے تعارف کرایا تو آپ محتر یوسف سہیل شوق صاحب تھے۔جب لیکچر شروع ہوا تو آپ کی میٹھی اور کراری آواز اور لیکچر کے مندرجات سے آپ کی شخصیت کے پردے اٹھتے چلے گئے ۔میں نے دل میں سوچا ان سے دوبارہ ملاقات ضرور کرنی ہے کیونکہ انہوں نے وہ سب باتیں بتائی ہیںجن کا مجھے بہت شوق اور جنون ہے۔اس کے بعد آپ ایک دو دفعہ کوئز پروگرام کی کمپیئر نگ کے لیے بھی جامعہ تشریف لائے ۔ آپ کی طلسمی شخصیت میر ی سوچوں میںبس چکی تھی۔ بس یہاں سے آپ سے تعلق کا آغاز ہوا جوپھر استاد شاگرد کے رشتہ میں ڈھل گیا۔

بعد میں جب بھی دفتر الفضل جانا ہوتا تو آپ ایک بڑی سی میز جس پر سبز رنگ کا لیدر لگا ہوا تھا،اس کے پیچھے کرسی پر تشریف رکھے ہوتے تھے۔جب مجھ پر نظر پڑتی تو پرتپاک انداز میں اٹھ کر استقبال کرتے حال احوال پوچھتے اور پھر ساتھ ہی 7×10 انچ کے نیوز پرنٹ کاغذوں پر فاؤنٹین پن سے لکھنے میں مگن ہو جاتے لیکن یہ نہیں بھولتے تھے کہ میں سامنے بیٹھا ہوںاور ساتھ ساتھ لکھنے کے دوران سر اٹھائے بغیر مجھ سے باتیں جاری رکھتے. باتوں میں چاشنی اور نپے تلے الفاظ کا چناؤ خوب ہوتا ۔یہ خوبی کی بات تھی کہ ان باتوں کے درمیان آپ کا قلم کسی بھی جگہ رکتا یا آہستہ نہیں ہوتا تھا۔کام میں حرج ڈالے بغیر آپ کو باتیں جاری رکھنے اور مہمان کو خوش کرنے کا فن آتا تھا۔ان کے عقب میں لکڑی کے ریکس میں پرانے الفضل کی جلدیں رکھی ہوتی تھیں۔ایک نظر میں آپ بھی انہی قدیم اخباروں کا حصہ ہی لگتے تھے۔میں ان سے ایک دن کہہ بیٹھا کہ یہ آپ نے اپنے پیچھے قدیم جلدوں کو کیوں سجا رکھا ہے؟ فرمانے لگے، فخر! بات یہ ہے کہ ایک صحافی اسی قسم کے ماحول میں بیٹھ کر یکسوئی کے ساتھ کام کر سکتا ہے، ایسی جلدیں اور اخباروں کا ذخیرہ اس کو کام کرنے کے لیے متحرک رکھتے ہیں، جس ماحول سے میری طبیعت لکھنے کی طرف مائل ہو اور قلم خود بخود چلتی جائے وہ میں کیسے بدل سکتا ہوں۔سالک سے لے کر ثاقب تک اور روشن دین تنویر سے لے کر مسعود دہلوی تک تمام سینئر صحافی ایسے ہی ماحول میں پروان چڑھے ہیں۔ان جلدوں کی موجودگی کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وقت پر حوالہ تلاش کرنے میں آسانی ہوتی ہے اور کہیں اٹھ کر جانا نہیں پڑتا۔ آپ کے گھر کی بیٹھک میںبھی اسی قسم کا ماحول بنا ہوا تھاجہاں الفضل کی جلدوں کے علاوہ بہت سی نایاب کتب بھی سجی ہوتی تھیں۔

جب مجھے جماعت کی طرف سے ابلاغیات میں بی اے اور پھر ایم اے کرنے کا حکم ملاتو میں اس وقت مظفر گڑھ میں بطور مربی سلسلہ متعین تھا۔ربوہ آکر پہلے میں نے بی اے کی تیاری شروع کردی کیونکہ صحافت اور ابلاغیات کی الف ب سے آگے کچھ معلوم نہ تھا، اس لیے رہنمائی کے لیے شوق صاحب کی اقامت گاہ پر حاضر ہوا۔ انہوں نے مسکراتے چہرے کے ساتھ دروازہ کھولا اور بیٹھک میں بٹھایا میں نے بتایا کہ مجھے صحافت میں بی اے کرنے کے لیے ربوہ بلایا گیا ہے اور ساتھ ہی میں نے صحافت کو سمجھنے کے لیے کچھ سوال کیے۔ جس پر ان کو لکھنے کے میدان میں میری دلچسپی اور شوق کے بارے میں علم ہو گیا۔ جب میں نے اجازت چاہی تو فرمانے لگے کہ نوٹ بک اور قلم لے کر کل آجانامزید کچھ بتاؤں گا ۔یہ سن کر میں بہت خوش ہوا کہ ان سے سیکھنے کا اور موقعہ مل گیا۔بس پھر میں نے ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا اور صحافت اور اس کی تاریخ پر ڈیڑھ دو ماہ تک روزانہ شام کے وقت ان کی بیٹھک میں ہماری ملاقاتیں ہونا شروع ہو گئیں ۔وہ مجھے پڑھاتے جاتے اور ساتھ ساتھ میں نوٹس لیتا جاتا۔ کسی کتاب سے مدد لیے بغیر آپ ہر سینئر صحافی، ادیب،کالم نویس اور اخبار نویسوں کے بارے میں مجھے بہت سی نایاب اور بنیادی معلومات بتاتے جو کسی بھی نصابی کتاب سے ملنا مشکل تھیں۔یہ سب میرے لیے ایک قیمتی سرمایہ سے کم نہ تھا جو بعد میں میرے خوب کام آیا۔اس طرح مجھے بی اے صحافت میں فرسٹ ڈویژن مل گئی الحمد للہ۔اور پھر آپ کے یہ نوٹس ایم اے ابلاغیات میں بھی میرے بہت کام آئے۔ برصغیر پاک و ہند کی صحافت پر آپ کو عبور ہی نہیں بلکہ مکمل دسترس حاصل تھی۔آپ نے مجھے صحافت کی تاریخ خاص طور پر مسلم صحافت کی تفصیلات نوٹ کرائیں اور درج ذیل موضوعات پر سیر حاصل معلومات دیں۔1857ء میں مسلم صحافت کے حالات۔ انگریزی،فارسی، اردو صحافت کا ارتقاء۔سر سید احمد خان کی جدید صحافت۔ اخبار سائینٹیفک سوسائٹی۔ تہذیب الاخلاق اور اردوئے معلی کے شروع ہونے کی وجوہات ۔ مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد علی جوہر،مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافت کے اہم پہلو۔اس دور میںجاری ہونے والے نئے اخبارات احسان، انقلاب اور دیگر رسائل و جرائد کا تعارف ۔تحریک پاکستان میں مسلم صحافت کا کردار، قیام پاکستان کے بعد اردو صحافت کی ترقی نئے حالات اور چیلنجز کا مقابلہ ۔اخبار امروز، کوہستان، نوائے وقت اور مشرق وغیرہ کا اجراء اور استحکام پاکستان میں کردار ۔ الغرض آپ بغیر رکے ان موضوعات کی تفصیل بیان کرتے جاتے درمیان میں جب کبھی میں کوئی سوال کرتا تو بڑی شفقت اور تفصیل سے اس کا جواب عنایت فرماتے ایسی نشستیں روزانہ گھنٹوں جاری رہتیںاس دوران کبھی وقفہ کرکے ا ٹھتے اور اندر تشریف لے جاتے کچھ دیر بعد ہاتھ میں ٹرے لیے نمودار ہوتے اور چائے اور بسکٹ وغیرہ سے توا ضع کرتے ۔

آپ کو اردو صحافت اور ابلاغیات کے ارتقاء، تاریخ اور ترقی کے مراحل کی تفصیلات ازبر تھیں۔ میں نے جب ان سے اسباق لینا شروع کیے تو مجھ پر ان کے صحافتی علم کا جو سب سے پہلا تاثر تھا وہ یہ کہ آپ ما ضی کے اخبارات ہی کی معلومات جاننے والے روایتی جرنلسٹ ہیں۔ آپ کو جرنلزم اور اس کے جدید رحجانات کے بارے میں شاید معلوم نہیں ہوگا۔یہ تاثر ایک دن میری زبان پر سوال کی صورت میں آہی گیا، ابھی میرا سوال پورا ہوا نہیں تھا کہ آپ نے جواب دینا شروع کر دیا۔ اس جواب کا خلاصہ میں یہاں اپنی زبان میں درج کرتا ہوں۔اس سے ان کی جدید صحافت اور میڈیا میں سوچ کے اچھوتے زاویوں پر روشنی پڑتی ہے ۔ آپ نے مجھے سمجھایا کہ

دیکھو گذشتہ صدی کے دوران بے شمار سائنسی ایجادات ہوئیں۔بالخصوص ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی ایجاد نے اخبارات ورسائل کے بعد میڈیا کی ترقی میں انقلاب برپا کر دیا۔ مغربی اقوام نے الیکٹرا نک میڈیا سے خوب فائدہ اٹھایا ۔ آج مختلف قوموں کے مابین میڈیا جنگ جاری ہے اور میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کی ثقافتوں پر حملے کیے جارہے ہیں ۔ میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ ہر قوم اس میدان میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتی ہے۔انہوں نے بتایا میڈیا ملکی و قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔اب بھی میڈیا سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے مزید کاوشوں کی ضرورت ہے۔ میڈیا کو ملکی و قومی مفاد اور مذہبی و معاشرتی اقدار کے فروغ اور ثقافتی یلغار کو روکنے کے لیے درست اور مثبت سمت میں چلانے کی اشد ضرورت ہے۔اس کے ساتھ ساتھ میڈیا سے وابستہ افراد کی تعلیم و تربیت بھی انتہائی ضروری ہے۔ اسی چیزکو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے کئی کالجوں اور نجی شعبے میں قائم ہونے والی یونیورسٹیوں کو بھی ابلاغیات میں پوسٹ گریجویٹ کلاسز شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔ میڈیا سے وابستہ افراد اور طلباء کے لیے اپنے اپنے شعبہ سے متعلق ان بنیادی معلومات کا جاننا ضروری ہے جو ان کے روزمرہ استعمال میں آتی ہیں۔

پاکستان میں میڈیا کی تعلیم اور ترقی کے بارے میں انہوں نے بتایاکہ یہاں میڈیا نے انتہائی تیزی سے ارتقائی منازل طے کی ہیں ۔ یہ ایک خوش آئند امر ہے اور اس پس منظر میں یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وسائل محدود ہونے کے باوجود پاکستانی میڈیا مستقبل میں زیادہ مؤثرکردار ادا کرے گا۔انہوں نے بتایا اب کمیونیکیشن نے باقا عدہ سائنس کی حیثیت حاصل کر لی ہے کچھ عرصہ پہلے تک ابلاغیات میں ایم اے کی کلاسز صرف چند یونیورسٹیوں میں ہوتی تھیںطلباء کی کثیر تعداد کے اس فیلڈ میں بڑھتے رحجان کے پیش نظر اب کئی سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں اور کالجوں نے بھی ایم اے ابلاغیات اور ایڈوانس کمیونیکشن سٹڈیز میں ڈپلومہ کلاسز شروع کی ہیں۔دانشور اور اساتذہ نئی تحقیق کی طرف گامزن ہیںاور ہر صبح کا سورج اپنی کرنوں کے ساتھ میڈیا میں دھنک رنگ کی آمیزش سے اسے نئے روپ دے رہا ہے۔دوسرے شعبوں کی طرح ماس کمیونیکیشن بھی ایک مکمل مضمون اور علم بن چکا ہے۔اور اب یہ اسی شعبہ کا دور کہلاتا ہے، اس نے دنیا کو عالمی گاؤں میں تبدیل کرکے رکھ دیا۔میڈیا اب انسانوں کی عادت بن چکا ہے۔ٹیکنالوجی نے مختلف ذرائع ابلاغ میں اتنی وسعت پیدا کردی ہے کہ اب دنیا کا کوئی گوشہ ان کی دسترس سے باہر نہیں ہے ۔

20۔25سال پہلے میڈیاکی ترقی کے بارے میں کہی ہوئی یہ باتیں آج کے دور میں من وعن پور ی ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ شوق صاحب نے کس مہارت سے جدید دور کے میڈیا کا نقشہ کھینچا تھا۔یہ آپ کے اندر کے کامیاب صحافی اور دانشور ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مارچ 2000ء میں میرا تقرر دفتر الفضل میں فرمایا۔ایک دن سر راہ آپ سے ملاقات ہوئی ۔ آپ اپنی مشہور زمانہ موٹر سائیکل پر اپنے گھر سے تشریف لا رہے تھے۔دفتر الفضل کے سامنے جب مجھے دیکھا تو موٹر سائیکل روکی اور خوشی سے لبریز آواز میں فرمانے لگے فخر! تمہارا تقرر الفضل میں ہوگیا ہے۔یہ ہمارے ادارے میں ایک خوشگوار اضافہ ہے۔اب ہمیں جہاں کام میں آسانی ہوگی وہاں تم بھی اپنی علمی پیاس بجھاسکو گے۔الفضل میں ہماری رفاقت لگ بھگ صرف ایک سال ہی رہی۔اس دوران آپ نے مجھے عملی جرنلزم کے بہت سے نکات سمجھائے، آپ کی بتائی ہوئی کئی باتوں پر میں آج تک عمل کر رہاہوں ۔ الفضل کا قائمقا م اخبار روزنامہ المتکلم لاہور سے آپ ہی نے جاری کیا ۔ اخبار کی ڈمیاں بنانا، اور سول سیکریٹریٹ لاہور کی پریس لاز برانچ میں جمع کرانے کے تمام مراحل اور طریق کار آپ نے مجھے سمجھائے اور مجھے ساتھ لاہور لے بھی گئے۔ لاہور میں جملہ امور سرانجام دینے کے علاوہ آپ نے اپنے یونیورسٹی کے کلاس فیلوز اور دوست صحافیوں سے ملاقات بھی کرائی۔ان میں اثر چوہان، منو بھائی، حسن نثار، ہارون رشید اور کئی سینئر صحافی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ثاقب زیروی صاحب اور راجہ غالب صاحب وغیرہ سے بھی میرا تعارف کرایا۔

آپ کی بیماری کے دوران جب آپ فضل عمر ہسپتال میں داخل تھے تو میں اکثر آپ کی طبیعت پوچھنے جاتا۔ پہلے تو الگ کمرے میں علاج ہوتا رہابعد میں وارڈ میںشفٹ کردیا گیا ۔ وفات سے ایک یا دو دن پہلے شام کے وقت میں آپ کو ملنے وارڈ میں گیاتو آپ آنکھیں بند کیے آرام کر رہے تھے، آکسیجن لگی ہوئی تھی، آپ کی اہلیہ صاحبہ ساتھ بیٹھی تھیں، انہوں نے آپ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا آنکھیں کھولیں اور دیکھیں کون آیا ہے۔ انہوں نے آنکھیں کھولیں اور سامنے مجھے دیکھاچند سیکنڈ کے وقفے کے بعد ہی اچانک بیماری کی وجہ سے قدرے کمزور ہونے والے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی، اپنا منہ موڑتے ہوئے اپنی اہلیہ کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے اونچی آواز میں کہنے لگے یہ اب الفضل میں آگیا ہے مجھے کوئی فکر نہیں ۔ یہ میرا جاں نشیں ہے، اس نے میرا سارا کام سنبھال لیا ہے ۔ یہ کہتے ہوئےآپ بہت مطمئن ہو گئے تھے اور طمانیت کی لہر ان کے چہرے پر دوڑ گئی تھی۔ کچھ دیر بعد تھک کر خاموش ہوگئے تو میں واپس چلا آیا،یہ ان کے ساتھ میری آخری ملاقات تھی۔دو دن کے بعد اطلاع ملی کہ آ پ دنیا کے جھمیلوں کو الوداع کہہ کر اس دار فانی سےکوچ کر کے اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس خادم دین وجود کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ جملہ پسماندگان کو آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close